Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4443

4443 - أخبرنا أبو علي بن شاذان البغدادي بها أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان نا مطرف بن عبد الله الحارثي و حدثنا أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي رحمه الله إملاء أنا أحمد بن محمد بن إسحاق القلانسى نا محمد بن هشام نا مطرف بن عبد الله نا عبد الله بن عمر عن سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا رأى أحدكم أحدا في بلاء فليقل الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاه و فضلني على كثير من عباده تفضيلا و في رواية يعقوب إذا رأى أحدكم مبتلي فقال : الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاك به و فضلني عليك و على كثير من عباده تفضيلا كان شكر تلك النعمة

ہمیں خبر دی ابوعلی بن شاذان بغدادی نے بغداد میں ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو مطرف بن عبداللہ حارثی نے۔ اور ہمیں حدیث بیان کی ہے ابوالحسن محمد بن حسین بن داؤد علوی رحمۃ اللہ علیہ بطور املاء کے ان کو احمد بن محمد بن اسحٰق قلانسی نے ان کو محمد بن ہشام نے ان کو مطرف بن عبداللہ نے ان کو عبداللہ بن عمر نے ان کو سہیل بن ابوصالح نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جب تم اپنے میں کسی کو کسی مصیبت میں مبتلا دیکھو تو یوں دعا کرو۔ الحمدللّٰه الذي عافاني مما ابتلاك به. اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے اس تکلیف سے عافیت بخشی ہے جس میں آپ مبتلا ہیں اور مجھے اپنے بہت سے بندوں پر فضیلت بخشی ہے ۔ اور یعقوب کی ایک روایت میں ہے۔ کہ جب تم میں سے کوئی کسی مصیبت زدہ کو دیکھے تو یہ کہے۔ الحمدللّٰه الذي عافاني مما ابتلاك به و فضلنی علیک و على كثير من عباده تفضيلا۔ اگر یہ پڑھے تو اس نعمت کا شکر ادا ہو جاتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ، ← أحمد بن محمد بن إسحاق القلانسى ← أبو الحَسَن محمد بن الحُسَين بن داود العلوي إملاء ← مطرف بن عبد الله الحارثي و ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أبو علي بن شاذان البغدادي بها،

Hadith 4443

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4444

4444 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق عن معمر عن أيوب عن سالم بن عبد الله قال : كان يقال إذا استقبل الرجل شيء من هذا البلاء فقال الحمد لله الذي عافاني مما إبتلاك به و فضلني على كثير ممن خلق تفضيلا لم يصبه ذلك البلاء أبدا كائنا ما كان قال معمر : سمعت غير أيوب بذكر هذا الحديث قال : لم يصبه ذلك البلاء إن شاء الله

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ایوب نے ان کو سالم بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ کہا جاتا تھا کہ جب کوئی آدمی ان مصائب میں سے کسی کا سامنا کرے تو کہے: الحمدللّٰه الذي عافاني مما ابتلاک به و فضلنى على كثير ممن خلق تفضيلا. تو اس کو وہ مصیبت نہیں پہنچے کی کبھی بھی خواہ کچھ بھی ہو جائے۔ معمر نے کہا کہ میں نے سنا غیر ایوب سے وہ اس حدیث کو ذکر کرتا تھا۔ اور کہا کہ انشاءاللہ اس کو وہ مصیبت نہیں پہنچے گی۔

سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 4444

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4445

4445 - قال الشيخ أحمد رواه عمرو بن دينار قهرمان آل الزبير عن سالم عن ابن عمر عن عمر : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من رأى مبتلا قال فذكر نحو رواية أيوب لم يقل أبدا أخبرناه أبو عبد الله محمد بن الفضل بن نظيف بمكة نا أبو بكر بن أبي الموت نا علي بن عبد العزيز نا عارم نا حماد بن زيد عن عمرو بن دينار فذكره

شیخ احمد نے کہا کہ اس کو روایت کیا ہے عمر بن دینار قھر مان آل زبیر نے سالم سے اس نے ابن عمر سے اس کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا۔ جس کسی تکالیف میں گرفتار شخص کو دیکھے کہتے ہیں کہ پھر راوی نے اس دعا کو ذکر کیا جیسے ایوب کی روایت میں گذری ہے۔ لیکن ابدا ُکا لفظ نہیں کہا (یعنی ہمیشہ وہ تکلیف نہیں پہنچے گی) ہمیں اس کی خبر دی ہے ابوعبداللہ محمد بن فضل بن نظیف نے مکہ میں۔ ان کو ابوبکر بن ابوالموت نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے ان کو خازم نے ان کو حماد بن زید نے ان کو عمرو بن دینار نے۔ پھر مذکورہ دعا ذکر کی ہے۔

عمرو بن دينار فذكره ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَارِمٌ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أبو بكر بن أبي الموت ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ نَظَيفٍ بِمَكَّةَ، ← فذكر نحو رواية أيوب لم يقل أبدا ← من رأى مبتلا ← النبي صلى الله عليه و سلم ← عُمَرَ، ← ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← الشيخ أحمد رواه عمرو بن دينار قهرمان آل الزبير

Hadith 4445

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4446

4446 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي نا أبو بكر محمد بن علي النجار الحافظ أملاه علينا نا أحمد بن نصر اللباد أنا سعيد بن داود الزبيري نا عبد العزيز بن أبي حازم و عبد العزيز بن محمد الدراوردى قال : كنا جلوسا عند جعفر بن محمد بن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب فاستأذن سفيان الثوري فأذن له فدخل عليه ثم جلس فقال جعفر : يا سفيان قال ليبيك قال : إنك رجل يطلبك السلطان و أنا رجل تبعنى السلطان قال : غيره اتقي السلطان فقم غير مطرود و قال سفيان : تحدث فأقوم قال جعفر : أخبرني أبي عن جدي أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من أنعم الله عليه بنعمة فليحمد الله و من استبطأ الرزق فليستغفر الله و من حز به فليقل لا حول و لا قوة إلا بالله ثم قال سفيان فناداه جعفر فقال : يا سفيان قال : لبيك قال : خذهن ثلاث و أي ثلاث و أشار بأصابعه تفرد به الزبيري عنها هكذا و المحفوظ هذا الكلام من قول جعفر نفسه و قد روي من وجه آخر ضعيف نحو رواية الزبيري

ہمیں خبر دی ابوالحسن محمد بن حسین علوی نے ان کو ابوبکر محمد بن علی نجار حافظ نے انہوں نے کہا وہ ہمیں لکھوائی تھی۔ ان کو احمد بن نصر لباد نے ان کو سعید بن داؤد زبیری نے ان کو عبدالعزیز بن ابوحازم نے اور عبدالعزیز بن محمد دلاوردی نے وہ کہتے ہیں ہم لوگ بیٹھے ہوئے تھے جعفر بن محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابوطالب کے پاس لہذا سفیان ثوری نے آنے کی اجازت مانگی انہوں نے ان کو اجازت دی وہ ان کے پاس آئے اور بیٹھ گئے لہذا جعفر نے ان سے کہا اے سفیان انہوں نے جواب دیا کہ میں حاضر ہوں۔ فرمایا کہ تم وہ آدمی ہو جو بادشاہ کو تلاش کرتے اور ڈھونڈتے ہو۔ اور میں وہ آدمی ہوں بادشاہ جس کے پیچھے چلتا ہے۔ اور اس کے علاوہ دیگر راویوں نے کہا کہ بچ تو بادشاد سے اور اٹھ نہ ٹھکرایا ہوا۔ (یعنی اس سے پہلے کہ میں تجھے باہر نکل دوں)۔ سفیان نے کہا کہ آپ کوئی حدیث بیان کریں تو میں اٹھ جاؤں گا۔ جعفر نے فرمایا میرے والد نے مجھے خبر دی میرے دادا سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جس کو اللہ تعالیٰ کوئی نعمت عطا کرے اسے چاہئے کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرے اور جس کا رزق مؤخر ہو جائے اسے چاہئے کہ وہ استغفار پڑھے اور جس کو کوئی اور مشکل پیش آئے اسے چاہئے کہ وہ یہ پڑھے لا حول ولا قوة الا باللّٰه۔ اس کے بعد حضرت سفیان اٹھ گئے ان کو جعفر نے آواز دی اور کہا کہ اے سفیان بولے میں حاضر ہوں فرمایا کہ پکڑ لو ان کو یعنی محفوظ کر لو ان کو۔ اور کون سی تین ہیں اور ہاتھ سے اشارہ کیا یعنی اپنی انگلیوں کے ساتھ۔ زہری اس سے روایت کرنے میں متفرد ہے اس طرح اور یہ کلام محفوظ ہے بذات خود جعفر کے قول سے اور تحقیق یہ اور ضعیف طریق سے بھی مروی ہے زبیری کی روایت کی مثل۔

عبد العزيز بن أبي حازم و عبد العزيز بن محمد الدراوردى ← سَعِيدُ بْنُ دَاوُدَ الزُّبَيْرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ اللَّبَّادُ، ← أبو بكر محمد بن علي النجار الحافظ أملاه علينا ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ

Hadith 4446

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4447

4447 - و أخبرنا أبو منصور الدامغاني أنا أبو بكر الإسماعيلي نا أبو بكر محمد بن القاسم السمناني من حفظه نا الخليل بن خلد الثقفي السمناني نا عيسى بن قاضي الرى نا ابن أبي حازم قال : كنت عند جعفر بن محمد إذ جاء إذنه فقال سفيان الثوري بالباب فذكره بنحوه من رواية الزبيري

اور ہمیں خبر دی ہے ابومنصور دامغانی نے ان کو ابوبکر اسماعیلی نے ان کو ابوبکر محمد بن قاسم سمنانی نے اپنی یادداشت سے۔ ان کو خلیل بن خالد ثقفی سمنانی نے ان کو عیسیٰ بن قاضی ری نے ان کو ابن ابوحازم نے وہ کہتے ہیں کہ میں جعفر بن محمد کے پاس بیٹھا تھا۔ اتنے ان کا دربان آیا اور بولا کہ دروازے پر سفیان ثوری آئے ہیں۔ پھر ابوحازم نے زبیری کی روایت کے مطابق اس کو ذکر کیا ہے۔

سفيان الثوري بالباب فذكره بنحوه من رواية الزبيري ← كنت عند جعفر بن محمد إذ جاء آذنه ← ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، ← عيسى بن قاضي الرى ← الخليل بن خلد الثقفي السمناني ← أبو بكر محمد بن القاسم السمناني من حفظه ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أَبُو مَنْصُورٍ الدَّامِغَانِيُّ، ← و،

Hadith 4447

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4448

4448 - أخبرنا أبو القاسم الحرفي أنا أحمد بن سلمان الفقيه نا عبد الله بن أبي الدنيا نا محمد بن عبد الملك القرشي نا أبو عوانة عن المغيرة بن عامر قال : الشكر نصف الإيمان و الصبر نصف الإيمان و اليقين و الإيمان كله

ہمیں خبر دی ابوالقاسم حرفی نے ان کو احمد بن سلیمان فقیہ نے ان کو عبداللہ بن ابودنیا نے ان کو محمد بن عبدالملک قرشی نے ان کو ابوعوانہ نے مغیرہ بن عامر سے انہوں نے کہا کہ: شکر نصف ایمان ہے۔اور صبر نصف ایمان ہے، اور یقین پورا ایمان ہے۔

الشكر نصف الإيمان و الصبر نصف الإيمان و اليقين و الإيمان كله ← المغيرة بن عامر ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْقُرَشِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أبو القاسم الحرفي

Hadith 4448

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4449

4449 - أخبرنا أبو القاسم أنا أحمد بن سلمان نا عبد الله بن أبي الدنيا نا محمد بن علي بن الحسن عن بشر بن السري عن همام بن يحيى عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة : أن رجلا كان يأتي النبي صلى الله عليه و سلم فيقول النبي صلى الله عليه و سلم : كيف أصبحت ؟ فيقول الرجل : أحمد الله إليك فكان النبي صلى الله عليه و سلم يدعو له فجاء يوما فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : كيف أنت يا فلان قال : بخير إن شكرته فسكت النبي صلى الله عليه و سلم فقال الرجل : يا نبي الله كنت تساني فتدعو لي و إنك سألتني اليوم فلم تدع لي قال : إني كنت أسألك فتشكر الله و إني سألتك اليوم فشككت في الشكر

ہمیں خبر دی ابوالقاسم نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو عبداللہ بن ابودنیا نے ان کو محمد بن علی بن حسن نے ان کو بشر بن سری نے ان کو ہمام بن یحییٰ نے ان کو اسحٰق بن عبداللہ بن ابوطلحہ سے کہ ایک آدمی رسول اللہ کی خدمت میں آیا کرتا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پوچھتے کہ کیسے تم نے صبح کی؟ وہ آدمی یہ کہتا میں آپ کی طرف اللہ کا حمد و شکر کرتا ہوں۔ اور اللہ کا شکر آپ کی طرف کرتا ہوں۔ پس نبی کریم اس کے لئے دعا کیا کرتے تھے چنانچہ وہ حسب معمول ایک دن آیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حسب عادت اس سے پوچھا اے فلانے تم کیسے ہو؟ کہنے لگا کہ خیریت سے ہوں اگر میں اس کا شکر کروں پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ پھر اس آدمی نے کہا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھ سے ہمیشہ پوچھتے تھے۔ اور آپ مجھے دعا بھی دیتے تھے آج آپ نے مجھ سے پوچھا تو ہے مگر مجھے دعا نہیں دی۔ حضور نے فرمایا میں تم سے پوچھا کرتا تھا اور تم اللہ کا شکر کیا کرتے تھے اور میں نے جو آج پوچھا تو تم نے شکر کرنے میں شک واقع کر دیا تھا۔

إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أَبُو الْقَاسِمِ‏.‏

Hadith 4449

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4450

4450 - أخبرنا أبو زكريا بن إسحاق المزكي أنا أبو الحسن الطرائفي نا عثمان بن سعيد الدارمي نا القعنبي فيما قرأ على مالك عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة عن أنس بن مالك : أنه سمع عمر بن الخطاب و سلم عليه رجل فرد عليه السلام ثم سأل عمر رضي الله عنه الرجل كيف أنت ؟ فقال : أحمد الله إليك فقال عمر : ذاك الذي أردته منك

ہمیں خبر دی ابوزکریا بن ابواسحٰق مزکی نے ان کو ابوالحسن طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کوقعنبی نے اس میں جو اس نے پڑھی مالک کے سامنے اسحاق بن عبداللہ بن ابوطلحہ سے اس نے انس بن مالک سے کہ انہوں نے سنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے ایک آدمی سے پوچھا کہ تم کیسے ہو؟ اس نے کہا کہ میں اللہ کا شکر کرتا ہوں آپ کی طرف۔ حضرت عمر نے کہا یہی ہے وہ جو میں تجھ سے چاہتا تھا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أبو زكريا بن إسحاق المزكي

Hadith 4450

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4451

4451 - أخبرنا أبو القاسم الحرفي أنا أحمد بن سلمان نا عبد الله بن أبي الدنيا حدثني حمزة نا عبدان نا عبد الله أنا مسعر عن علقمة بن مرثد عن ابن عمر رضي الله عنه قال : لعلنا نلتقي في اليوم مرارا يسأل بعضنا ببعض لا نريد ذلك إلا ليحمد الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابوالقاسم حرفی نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو عبداللہ بن ابوالدنیا نے ان کو حمزہ نے ان کو عبدان نے ان کو عبداللہ نے ان کو مسعر نے ان کو علقمہ بن مرثد نے ان کو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ شاید کہ ہم دن میں بار بار ملیں تو ہم ایک دوسرے کی خیریت پوچھیں اس بات سے ہمارا کچھ بھی ارادہ نہ ہو اس کے سوا کہ بس اللہ کا شکر کیا جائے۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← مِسْعَرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَبْدَانُ ← حَمْزَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم الحرفي

Hadith 4451

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4452

4452 - أخبرنا أبو القاسم الحرفي نا أحمد بن سلمان نا عبد الله بن أبي الدنيا قال حدثت عن ابن أبي الحواري قال : جلس فضيل بن عياض و سفيان بن عيينة ليلة الصباح يتذاكران النعم فجعل سفيان يقول : أنعم الله علينا في كذا أنعم الله علينا في كذا فعل بنا كذا فعل بنا كذا

ہمیں خبر دی ابوالقاسم حرفی نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو عبداللہ بن ابوالدنیا نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی گئی ہے ابن ابوالحواری سے وہ کہتے ہیں کہ فضیل بن عیاض اور سفیان بن عیینہ ایک رات کو صبح تک بیٹھے ہم اللہ کی نعمتوں کا مذاکرہ کرتے رہے سفیان نے کہا کہ اللہ نے ہم لوگوں پر فلاں فلاں انعام کیا ہے۔ اللہ نے ہم لوگوں پر میرے بارے میں یہ احسان کیا ہے ہمارے ساتھ ایسا کیا ہمارے ساتھ ایسا کیا۔

ابْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم الحرفي

Hadith 4452

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4453

4453 - و أخبرنا أبو القاسم أنا أحمد نا عبد الله حدثني محمد بن الحسين نا عبد الله بن محمد عن سعيد بن عامر عن سلام بن أبي مطيع قال : أتانا الجريري و كان من مشايخ أهل البصرة و كان قدم من الحج فجعل يقول أبلانا الله عز و جل في سفرنا كذا و أبلانا في سفرنا كذا ثم قال : كان يقال إن تعداد النعم من الشكر

ہمیں خبر دی ابوالقاسم نے ان کو احمد بن عبداللہ نے ان کو حدیث بیان کی محمد بن حسین نے ان کو عبداللہ بن محمد نے ان کو سعید بن عامر نے ان کو سلام بن ابومطیع نے انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس جریری آئے اور تھے وہ اہل بصرہ کے مشائخ میں سے اور حج سے واپس آئے تھے اور بتانے لگے کہ اللہ نے ہمیں ہمارے سفر میں ایسے ایسے آزمایا پھر کہنے لگے کہ کہا جاتا تھا کہ نعمتوں کی گنتی شکر سے ہوتی ہے۔

سَلاَّمُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَحْمَدُ، ← أَبُو الْقَاسِمِ‏.‏ ← و،

Hadith 4453

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4454

4454 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا علي بن عيسى أنا الحسن بن محمد بن زياد نا أبو قدامة نا أبو عبد الرحمن المقري عن مالك بن أنس عن يحيى بن سعيد قال : كان يقال تعديد النعم من الشكر

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو علی بن عیسیٰ نے ان کو حسن بن محمد بن زیاد نے ان کو ابوقدامہ نے ان کو ابوعبدالرحمٰن مقری نے ان کو مالک بن انس نے ان کو یحییٰ بن سعید نے کہتے ہیں کہ کہا جاتا تھا کہ نعمتوں کا اضافہ شکر سے ہوتا ہے۔

كان يقال تعديد النعم من الشكر ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مالک بن أنس ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← أَبُو قُدَامَةَ، ← الحسن بن محمد بن زياد ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4454

chevron_left Previous
1234…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood