Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل العقل الذي هو من النعم العظام التي كرم بها عباده · حديث 4695

4695 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : قرأت بخط أبي عمرو المستملي سمعت أبا أحمد الفراء يقول : سمعت علي بن عثام يقول : إنما أخذ العقل من عقال الإبل و ذلك أنها تنزع من أوطانها فتشرد فترجع إلى أوطانها فكذلك يعقل صاحبه

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوعمر عقال الابل تحریر سے پڑھا انہوں نے سنا ابواحمد فراء سے انہوں نے سنا علی بن عثام سے وہ کہتے ہیں کہ عقل کا لفظ ماخوذ ہے عقال الابل کے محاورے سے اونٹ کے پیر کی رسی (جو اونٹ کو دور بھاگنے سے روکتی ہے) یا مطلق مہار جس کے ساتھ اونٹ ایک ٹھکانے سے دوسرے ٹھکانے کی طرف بھگایا جاتا ہے۔ عقل بھی ایسی ہی ہے جو عقل والے کو روکتی ہے اور کنٹرول کرتی ہے۔

عَلِيُّ بْنُ عَثَّامٍ ← ابا احمد الفراء ← بخط أبي عمرو المستملي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on the virtue of the mind, which is one of the great blessings with which he honored his servants · Hadith 4695

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل العقل الذي هو من النعم العظام التي كرم بها عباده · حديث 4696

4696 - قال عامر بن عبد قيس : إذا عقلك عملك عما لا ينبغي فأنت عاقل

کہا عامر بن عبد قیس نے جب تیری عقل تجھے تیرے نامناسب عمل سے روک دے تو پھر تو عقل مند ہے۔ 697 ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوعمرو بن سماک نے ان کو حنبل بن اسحاق نے ان کو ابوعبداللہ نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زہری نے میں نے سنا وہ کہتے تھے۔ علم کی مثل اللہ کی کوئی عبارت نہیں اور کہتے ہیں کہ کہا ایوب نے عقل دین میں بہترین چیز ہے۔

عامر بن عبد قيس إذا عقلك عملك عما لا ينبغي فأنت عاقل

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on the virtue of the mind, which is one of the great blessings with which he honored his servants · Hadith 4696

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل العقل الذي هو من النعم العظام التي كرم بها عباده · حديث 4697

4697 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمرو بن السماك نا حنبل بن إسحاق نا أبو عبد الله نا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري سمعته يقول : ما عبد الله بمثل العلم قال : و قال أيوب : العقل في الدين نعم الشيء هو

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوعمرو بن سماک نے ان کو حنبل بن اسحاق نے ان کو ابوعبداللہ نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زہری نے میں نے سنا وہ کہتے تھے۔ علم کی مثل اللہ کی کوئی عبارت نہیں اور کہتے ہیں کہ کہا ایوب نے عقل دین میں بہترین چیز ہے۔

أيوب العقل في الدين نعم الشيء هو ← و، ← «مَا عُبِدَ اللَّهُ بِمِثْلِ الْعِلْمِ» ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on the virtue of the mind, which is one of the great blessings with which he honored his servants · Hadith 4697

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل العقل الذي هو من النعم العظام التي كرم بها عباده · حديث 4698

4698 - سمعت أبا عبد الرحمن السلمي يقول : سمعت عمر بن أحمد بن أيوب يقول : سمعت الدريري يقول : سمعت عبد الرحمن ابن أخي الأصمعي عن عمه قال : قال الأحنف بن قيس العقل خير قرين و الأدب خير ميراث و التوفيق خير قرين

میں نے سنا ابوعبدالرحمٰن سلمی سے کہتے ہیں انہوں نے سنا عبدالرحمٰن بن رخی اصمعی سے اس نے اپنے چچا سے وہ کہتے ہیں کہ احنف بن قیس نے کہا عقل بہترین دوست ہے اور ادب بہترین میراث ہے اور توفیق بہترین ساتھی ہے۔

عَمِّہٖ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابن أَخِي الْأَصْمَعِيِّ؛ ← الدريري ← عُمَرَ بْنَ أَحْمَدَ بْنِ أَيُّوبَ، ← أبا عبد الرحمن السلمي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on the virtue of the mind, which is one of the great blessings with which he honored his servants · Hadith 4698

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل العقل الذي هو من النعم العظام التي كرم بها عباده · حديث 4699

4699 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني علي بن محمد الحسيني بمرو أخبرني أبو عبد الله الكوكبي أخبرني إلياس بن سلمة قال : كتب أبو دجانة أحمد بن محمد إلى جعفر بن يحيى البرمكي : و اعلم أن من سعادة المرء سلام عقله من الآفة و انتشار فضله في العامة و بالعقل و الفضل ينال الفجر و عن أهلنا ينتشر الصوت و الذكر فاسم بعملك إلى المنافع و ارتد لأياديك المواضع

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی علی بن محمد حسینی نے مرومیں ان کو ابوعبداللہ کوکبی نے ان کو خبر دی الیاس بن سلمہ نے وہ کہتے ہیں کہ ابودجانہ احمد بن محمد نے جعفر بن یحییٰ برکلی کی طرف خط لکھا۔ جان لیجئے کہ آدمی کی سعادت مندی میں سے ہے کہ اس کی عقل کسی بھی آفت سے محفوظ ہو۔ اور یہ بھی اس کی سعادت مندی میں سے ہے کہ اس کا علم و فضل عام لوگوں میں پھیل رہا ہو اور وہ علم و فضل اور عقل و شعور کے ساتھ فخر و مقام کو حاصل کر لے۔ ہمارے لوگوں سے تو آواز اور شہرت پھیلتی ہے پس اپنے عمل کے ساتھ فوائد کی طرف بڑھئے اور اپنے ہاتھوں کے لئے مقامات لوٹائیے۔

إلياس بن سلمة ← أبو عبد الله الكوكبي ← علي بن محمد الحسيني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on the virtue of the mind, which is one of the great blessings with which he honored his servants · Hadith 4699

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل العقل الذي هو من النعم العظام التي كرم بها عباده · حديث 4700

4700 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن علي الحاكم الاسفرايني أنا أبو محمد الحسن بن محمد نا أبو أحمد عبد الله بن قريش قال : وجدت في سماع الفرج بن اليمان نا عمر بن يزيد عن زياد بن علاقة عن جرير قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم يدعوا بهذا الدعاء اللهم متعني من الدنيا بسمعي و بصري و عقلي هذا إسناد ضعيف و روى من وجه آخر

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسن علی بن محمد بن علی حاکم اسفرائنی نے ان کو ابومحمد حسن بن محمد نے ان کو ابواحمد عبداللہ بن قریش نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے فرج بن یمان کے سماع میں پایا ہے کہ ہمیں خبر دی ہے عمر بن یزید نے ان کو زیاد بن علاقہ نے ان کو جریر نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر تشریف فرما ہوتے تو دعا فرماتے تھے۔ اے اللہ مجھے دنیا سے بہر مند فرما میری سماعت کے ساتھ میری بصارت کے ساتھ اور میری عقل و فہم کے ساتھ۔ یہ اسناد ضعیف ہے اور دوسرے طریقہ سے یہی مروی ہے۔

جَرِيرٌ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ، ← وجدت في سماع الفرج بن اليمان ← أبو أحمد عبد الله بن قريش ← أبو محمد الحسن بن محمد ← أبو الحسن علي بن محمد بن علي الحاكم الاسفرايني

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on the virtue of the mind, which is one of the great blessings with which he honored his servants · Hadith 4700

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل العقل الذي هو من النعم العظام التي كرم بها عباده · حديث 4701

4701 - أخبرنا أبو علي الحسن بن أحمد بن إبراهيم بن شاذان البغدادي نا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان نا عثمان يعني ابن الهيثم نا أبو المقدام هشام بن زياد عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا أوى إلى فراشه قال : اللهم متعني بسمعي و بصري و عقلي و اجعلها الوارث مني و انصرني على عدوي و أرني منه ثأري اللهم إني أعوذ بك من غلبة الدين و من الجوع فإنه بئس الضجيج قال : ثم يضطجع لفظ و عقلي غريب فيه تفرد به أبو المقدام و ليس بالقوي و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابوعلی حسن بن احمد بن ابراہیم بن شاذان بغدادی نے بغداد میں ۔ ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو عثمان یعنی ابن الھثیم نے ان کو ابو المقدام ہشام بن زیاد نے ہشام بن عروہ سے اس نے اپنے والد سے اس نے سیدہ عائشہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو یہ دعا فرماتے تھے۔ اے اللہ مجھے میری سماعت بصارت اور میری عقل کے ساتھ نفع اندوز فرما۔اور اسے مجھ سے وارث بنا اور میرے دشمن کے خلاف میری مددفرما۔ اور مجھے اس سے میر ابدلہ دکھا۔اے اللہ بیشک میں تیری پناہ چاہتا ہوں تیرے ساتھ قرض کے غلبہ سے اور بھوک سے بے شک وہ بری ساتھی ہے۔ کہتے ہیں کہ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ جاتے تھے۔اس روایت میں وعقلی کا لفظ غریب ہے اس میں ابوالمقدام کا تفرد ہے اور وہ قوی بھی نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أبو المقدام هشام بن زياد ← عثمان يعني ابن الهيثم ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أبو علي الحسن بن أحمد بن إبراهيم بن شاذان البغدادي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on the virtue of the mind, which is one of the great blessings with which he honored his servants · Hadith 4701

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل العقل الذي هو من النعم العظام التي كرم بها عباده · حديث 4702

4702 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان ببغداد أنا أبو سهل بن زياد القطان نا بشر بن موسى نا محمد بن الفضيل بن صالح نا حسين الجعفي عن محمد بن أبي إسماعيل قال : كنا نجالس منصور بن المعتمر إذا أراد أن يقوم اعتمد على يديه و قال : اللهم اجمع على الهدى أمرنا و اجعل التقوى زادنا و الجنة مآبنا و ارزقنا شكرا يرضيك عنا و ورعا يحجزنا عن معاصيك و خلقا نعيش به من الناس و عقلا ينفعنا به قال : فكان إذا قال : و عقلا ينفعنا به يأخذني الضحك فيقول : من أي شيء تضحك يا ابن أبي إسماعيل إن الرجل ليكون عنده و لا يكون له عقل فلا يكون عنده شيء قال الحليمي : و من أعظم فوائد نعم الله تعالى جده الاستدلال بها على المنعم فإن فيها الدليل عليه و على قدرته و علمه و حكمته و وجدانيته و قد نبه الله تعالى على ذلك في غير موضع من كتابه فإنه تبارك و تعالى امتن علينا بأن جعل لنا السمع و الأبصار و الأفئدة بعد أن أخرجنا من بطون أمهاتنا لا نعلم شيئا فذكر بعض الآيات التي وردت في ذلك ثم قال : و قال في آية آخرى : { و في أنفسكم أفلا تبصرون } فكان معنى ذلك في أنفسكم دلالات الحدث و هي الأحوال المتقلبة بهم من حيث لم ينفكوا عنها فإن تلك الأحوال إذا كانت أحداثا و لم يكونوا خلوا منها قط فواجب أن يعلموا أنهم أحداث و الحدث لا يخلو من محدث و قيل معنى ذلك أنكم تعلمون من أنفسكم أنكم لم تكونوا ثم كنتم فلا يخلو أحدكم من أن يكون هو الذي خلق نفسه أو أبواه خلقاه أو غيره و غيرهما فلا يمكن أن يكون خلق نفسه لأنه لو شاء أحد ما تمت قواه و كمل عقله أن يتم من نفسه عضوا ناقصا لم يقدر عليه فوجب أن يعلم أنه إذا كان نطفة مواتا من أن يقلب نفسه حالا فحالا أبعد و عنه أعجز ثم يعلم أنه إذا كان موجودا غير أنه ضعيف أو موات لا يقدر من أمره على شيء فهو إذا كان عدما من بعد ذلك أبعد و لا يمكن أن يكون أبواه فعلا لأن الأبوين في العجز الذي ذكرنا مثله فإذا استحال أن يكون فاعلا لنفسه و استحال أن يكون فاعلا لأبويه فحق أذا أنه فعل فاعل غيره و غير أبويه و إنما يراد الله بذلك الفاعل أفلا تبصرون ألا تدركون بعقولكم ما فيها من هذه الهداية فتهتدوا بها و لا يكفروا فإن قال قائل إن الفاعل هو الطبع قيل له و ما الطبع فإذا هذا الاسم نفسه يدل على أن للمسمى به فاعلا لأن الطبع لا يكون إلا فعل الطابع كما لا يكون الضرب إلا فعل الضارب فإن الطبيعة هي المطبوعة كما أن القتيلة هي المقتولة و الذبيحة هي المذبوحة و الصنيعة هي المصنوعة و المفعول في افتضاء الفعل كالفعل و إن قالوا الطبيعة قوة مخصوصة فذكروها و نعتوها قيل لهم القوة عرض لا بقاء لهها فيستحيل أن يؤلف الأجسام كما يستحيل على اللون أن يفعل ذلك و على الصوت و الطعم و لأن خلق الإنسان فعل سديد متقن فلا يمكن أن يكون صدر إلا من عالم حكيم و القوة لا تليق بها الحياة و لا القدرة و لا العلم و لا الحكمة فأين يمكن أن يكون الخلق وقع منها و إن وصفوا الطبيعة بهذه الصفات كانوا مشيرين بمن هي له إلا البارئ إلا أنهم يلحدون في اسمه فيسمون به غيره و يثبتونه و عندهم أنهم ينفونه و هذا نهاية الجهل فيقال لهم ما قال الله عز و جل لهم : { أفلا تبصرون } أي لا عقول لكم تدركون بها خطأ هذا القول و فساده فترجعوا عنه إلى ما يصح و يسلم على النظر و بالله التوفيق و قد ذكر الله تعالى في كتابه ما جعل الناس من نعمة و إنه إن نزع عنهم تلك النعم أو نزع بعضها فمن إله غير الله يأتيهم بها و في ذلك على نفي الشرك و بالله التوفيق

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل نے بغداد میں ۔ ان کو ابوسہل بن زیا دقطان نے ان کو بشر بن موسیٰ نے ان کومحمد بن فضل بن صالح نے ان کو حسین جعفی نے ان کو تجھ بن اسماعیل نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ منصور بن معتمر کے پاس بیٹھا کرتے تھے۔ وہ جب اٹھنا چاہتے تھے تو زمین پر اپنے ہاتھوں کا سہارا لیتے تھے اور یہ دعا کرتے تھے اے اللہ ہمارا معاملہ ہدایت پر مجتمع فرما۔ اور تقوی کو ہمارا زادراہ بنا۔ اور جنت کو ہمارا ٹھکانہ بنا۔ اور ہمیں شکر کرنے کی توفیق عطافرما جو تجھے ہم سے راضی کر دے اور ہمیں پرہیز گاری عطافرما جو ہیں تیری نافرمانی سے روک دے۔ اور ہمیں اخلاق عطافرما جس کے ساتھ ہم لوگوں سے عزت پائیں۔ اور ہمیں عقل عطا فرما جس کے ساتھ ہم فائدہ اٹھائیں۔ کہتے ہیں کہ ۔ وہ جب یہ کہتے تھے کہ ایسی عقل عطافرما جس کے ساتھ ہم فائدہ اٹھائیں۔ تو مجھے آ جاتی تھی تو وہ مجھ سے پوچھتے تھے کہ تم کس وجہ سے ہنس رہے ہو؟ اے ابن ابو اسماعیل بے شک آدمی کے پاس یہ بھی ہوتا ہے وہ بھی ہوتا ہے( سب کچھ ہوتا ہے) مگر اس کے پاس عقل نہیں ہوتی لہذااس کے پاس کوئی شئی نہیں ہوتی۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا۔ کہ اللہ کی نعمتوں کے اعظم فوائد میں سے ہے عقل کے ساتھ دلیل پکڑنا منعم پر بے شک اس میں اللہ کے بارے میں دلیل ہے اس کی قدرت پر اس کے علم پر اور اس کی حکمت پر اور اس کی وحدانیت پر اور تحقیق ہمیں اللہ نے اس بات پر کئی مقامات پر متنبہ فرمایا ہے اپنی کتاب میں بے شک اللہ تعالیٰ نے ہمارے اوپر احسان فرمایا ہے کہ اس نے ہمیں کان دیئے اور آنکھیں عطا کیں اور دل دیا اس کے بعد کہ اس نے ہمیں نکالا ہماری ماؤں کے پیٹوں سے جب کہ ہم کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے بعض آیات ذکر فرمائی ہیں۔ جو اس بارے میں آئی ہیں اس کے بعد فرمایا۔ کہ اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت میں ارشاد فرمایا ہے۔ وفی انفسکم افلا تبصرون. کہ تمہارے اپنے اندر اللہ کی قدرت وحدانیت کے دلائل میں کیا تم دیکھتے نہیں ہو۔ تو اس کا معنی ہے کہ تمہارے نفسوں میں حادث اور مخلوق ہونے کے دلائل ہیں اور یہ بہت سارے احوال ہیں جوان نفسوں کے ساتھ اس طرح لگے ہوئے ہیں کہ ان سے جدانہیں ہوتے۔ یہ احوال جب نو پیدا ہیں اور ان سے علیحدہ بھی نہیں ہیں قطعاً تو ضروری ہے کہ یہ جانا جائے کہ وہ احداث ہیں اور حدث محدث سے اور بنانے والے سے خالی نہیں ہوتی۔ اور کہا گیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ تم اپنے نفسوں سے جانتے ہو کہ تم لوگ نہیں تھے اس کے بعد تم پیدا ہو گئے۔ اور تم میں سے کوئی ایسا بھی نہیں کہ اس نے اپنے آپ کو خود پیدا کر لیا ہو یا اس کے ماں باپ نے اس کو پیدا کر لیا ہے یا کسی اور انسان نے پیدا کر لیا ہو۔ یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ کسی نے اپنے نفس کو خود پیدا کر لیا ہے کیونکہ اگر کوئی یہ چاہے بھی تو اس کی قوتیں پوری نہیں ہوسکتیں اور نہ ہی اس کی عقل ایسی کامل ہے کہ وہ اپنے نفس کے اور اپنے آپ کے عضو ناقص کو پورا کر سکے اس پر کوئی بھی قادر نہیں ہے لہذ اواجب ہے کہ وہ یہ جان لے کہ جب وہ نطفہ بے جان تھا اور اس بات سے عاجز تھا کہ اپنے آپ کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف تبدیل کرے یہ اس سے بعید تھا اور وہ اس سے عاجز تھا۔ پھر یہ جان لے کہ جب وہ موجود ہے قطع نظر اس سے کہ وہ ضعیف ہو یا بے جان ہو وہ اپنے کسی بھی معاملے میں کسی شئی پر قادر نہیں ہے۔ تو کیا حال ہوگا اس عاجزی کا اسوقت جب اس کے بعد پھر ایک دفعہ عدم ہوگا اور نہیں ہوگا۔ اور اس کے ماں باپ بھی عاجز ہوں گے کیونکہ ہم اسے ذکر چکے میں کہ وہ بھی اس کے بنانے سے عاجز ہوں گے جب یہ بات محال ہے کہ وہ اپنے آپ کا خالق اور بنانے والا ہو سکے تو یہ بھی محال ہے کہ اپنے والدین کا خالق اور بنانے والا ہو سکے؟ پھر اس وقت حق ہے کہ یہ یقین کر لے کہ پھر اس کے علاوہ کوئی اور فاعل اس کا بنانے والا ہے جو ا سکے سوا ہے اور اس کے ماں باپ کے سوا ہے۔ سوائے اس کے نہیں کہ اللہ نے اسی فاعل حقیقی کو ہی مرا دلیا ہے یہ کہہ کر کے:وفي انفسكم افلا تبصرون. یعنی کیا تم لوگ اپنی اپنی عقلوں کے ساتھ اس کا ادراک نہیں کر سکتے جواس میں ہدایت ہے لہذا تم اس کے ساتھ ہدایت حاصل کرو اور انکار نہ کرو۔ اگر کوئی کہنے والا یہ کہے کہ اصل میں فاعل و خالق طبع ہے۔ تو اس سے کہا جائے گا کہ طبع کیا ہے؟ اس لئے کہ یہ نام بذات خود دلالت کرتا ہے کہ جس چیز کا یہ نام رکھا گیا ہے اس کا بھی کوئی فاعل اور بنانے والا ہے۔ اس لئے کہ طبع اس کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا کہ وہ طابع کا فعل ہوتا ہے جیسی ضرب اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا کہ وہ ضارب کا فعل ہوتا ہے۔ اور طبیعت بمعنی مطبوعہ ہے جیسے قتیلہ بمعنی مقتولہ ہے ذبیحہ بمعنی مذبوحہ ہے۔ صنیعہ بمعنی مصنوعہ ہے۔ طبیعت بنائی ہوئی۔ قتل کی ہوئی۔ ذبح کی ہوئی بنائی ہوئی چیز کو کہتے ہیں۔ مفعول فاعل کو تقاضا کرنے میں فعل کی طرح ہوتا یعنی جیسے وہ فاعل کو اور کرنے والے کو تقاضا کرتا ہے یہ بھی کرتا۔ (یعنی جیسے کوئی فعل فاعل کے بغیر وجود میں نہیں آ سکتا ایسے ہی کوئی مفعول بھی نہیں آ سکتا۔) اور اگر یہ کہا جائے کہ طبیعت ایک قوت مخصوصہ ہوتی ہے چنانچہ اس کو ذکر کرتے ہیں اور اس کی وصف بیان کرتے ہیں۔ تو ان سے کہا جائے گا کہ قوت تو عرض ہوتی ہے جو بذات خود قائم بھی نہیں ہوتی نہ ہی اس کی کوئی بقا ہوتی ہے لہذا یہ محال ہے کہ وہ اجسام کو مرکب کرے اور ان کی تالیف و ترکیب کرے مثال کے طور پر رنگ کو لے لیجئے وہ بچارے اپنے وجود بقا کے لئے محتاج ہے کہ کسی اور شئی کے سہارا موجود ہو جائے لہذا اس کے لئے یہ محال ہے کہ وہ کسی شئی کا فاعل ہو سکے یا اس کو وجود عطا کر سکے۔ اسی طرح آواز ہے اور طعم اور ذائقہ ہے اس کے لئے یہ محال ہے کہ وہ کسی اور چیز کو وجود عطا کر سکے۔ اور دوسرے یہ کہ انسان کی تخلیق ایک درست فعل ہے۔ یقینی ہے جس کا صدور ممکن نہیں ہے مگر ایک عالم سے جو کہ حکمت والا ہے۔ اور وہی محض قوت یعنی طبیعت تو حیات اس کے لائق ہے اور نہ ہی قدرت اس میں ہے اور نہ ہی علم ہے اس میں نہ ہی حکمت لہذا کہاں سے ممکن ہوسکتا ہے کہ تخلیق اس سے واقع ہوئی ہو۔ یاواقع ہو سکے۔ اور اگر وہ قائلین طبیعت کو ان مذکورہ اوصاف سے متصف کریں تو وہ ان صفات خداوندی کو جو کہ صرف باری تعالیٰ کی ہیں، طبیعت میں ثابت کریں گے۔ ہاں مگر یہ کہ وہ اللہ کے نام میں الحاد اور کجروی کریں۔ اور اللہ کے نام کے ساتھ کسی اور کو موسوم کریں اور اللہ کا نام غیراللہ کے لئے ثابت کریں۔ اور اللہ سے اس کی نفی کریں جب کہ یہ انتہائی جہل ہے۔ لہذا ان سے کہا جائے گا جو اللہ نے ان کے لئے کہا ہے افلا تبصرون کیا تم دیکھتے نہیں ہو۔ یعنی تمہارے پاس وہ عقلیں نہیں ہیں جن کے ساتھ تم اپنے اس قول کے غلط ہونے کا ادراک کر سکو اور اس کے فاسد ہونے کو جان سکو اور پھر تم اس قول فاسد سے رجوع کرسکو انہیں قول کی طرف جو صحیح ہے اور درست ہے نظریاتی اعتبار سے۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ذکر فرمایا ہے۔ ان تمام نعمتوں کاوجود اس نے لوگوں کے لئے بنائی ہیں۔ اگر وہ پوری نعمتیں ان سے چھین لے یابعض چھین لے تو پھر دوسرا کون الہٰ ہے اور معبود ہے اللہ کے سوا جو ان کو ان کے پاس لے آئے اور ان کو دے دے لہذا اس میں شرک کی نفی پر دلیل موجود ہے۔

كنا نجالس منصور بن المعتمر إذا أراد ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إسْمَاعِيلَ ← حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ ← محمد بن الفضيل بن صالح ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on the virtue of the mind, which is one of the great blessings with which he honored his servants · Hadith 4702

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل العقل الذي هو من النعم العظام التي كرم بها عباده · حديث 4703

4703 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا محمد بن الفضل بن جابر السقطي نا حامد بن يحيى سنة إحدى و أربعين نا سفيان نا أبو الزرعا النهدي حدثني أبو الأحوص عن أبيه مالك الجشمي قال : أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر الحديث بطوله قال في آخره : أرأيت لو كان لك عبدان أحدهما يخونك و يكذبك حديثا و الآخر لا يخونك و يصدقك حديثا أيهما أحب إليك ؟ قال : قلت الذي لا يخونني و يصدقني حديثا قال : كذلك أنتم عبيد ربكم عز و جل

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو محمد بن فضل بن جابر سقطی نے ان کو حامد بن یحییٰ نے؁ ۴۱ ھ میں ان کو سفیان نے ان کو ابوالزرعا نہدی نے ان کو ابوالاحوص نے ان کو ان کے والد مالک جشمی نے وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ کے پاس آیا۔ پھر اس نے لمبی حدیث ذکر کی اور اس کے آخر میں اس نے کہا۔ آپ بتائیے کہ اگر آپ کے دو غلام ہوں ایک آپ کی خیانت بھی کرے اور آپ سے جھوٹ بھی بولے۔ اور دوسرا نہ تو آپ کی خیانت کرے اور نہ ہی آپ سے جھوٹ بولے ان دونوں میں سے کون سا آپ کو پسند ہوگا؟ کہتے ہیں کہ میں نے کہاوہ اچھا جو میری خیانت بھی نہ کرے اور سچ بولے۔ فرمایا کہ تم لوگ اپنے رب کے ایسے ہی غلام ہو۔

أبيه مالك الجشمي ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← أبو الزرعا النهدي ← سُفْيَانَ، ← حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ السَّقَطِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on the virtue of the mind, which is one of the great blessings with which he honored his servants · Hadith 4703

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في النوم الذي هو نعمة من نعم الله تعالى في دار الدنيا و ما جاء في آدابه · حديث 4704

4704 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الفضل بن إبراهيم نا أحمد بن سلمة نا إسحاق بن إبراهيم نا جرير عن منصور بن المعتمر أن سعد بن عبيدة نا حدثني البراء بن عازب : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال له : إذا أتيت مضجعك فتوضأ وضوءك للصلاة ثم اضطجع على شقك الأيمن ثم قل اللهم إني أسلمت وجهي إليك و فوضت أمري إليك و ألجأت ظهري إليك رغبة و رهبة إليك لا ملجأ و لا منجا منك إلا إليك آمنت بكتابك الذي أنزلت و نبيك الذي أرسلت واجعلهن من آخر كلامك فإن مت من ليلتك مت و أنت على الفطرة قال : فجعلت أرددهن لا ستذكرهن فقلت : و برسولك الذي أرسلت فقال : و نبيك الذي أرسلت و رواه مسلم في الصحيح عن إسحاق بن إبراهيم و أخرجه البخاري من حديث معتمر عن منصور

اور ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالفضل بن ابراہیم نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو جریر نے ان کو منصور بن معتمر نے ان کو سعد بن عبیدہ نے ان کو براء بن عازب نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے۔ جب آپ اپنے بستر پر آنا چاہیں تو پہلے نماز کے وضو کی طرح وضو کریں اس کے بعد اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جائیں اور یہ دعا کریں،اے اللہ میں نے اپنے چہرے کو تیری طرف جھکا دیا ہے۔اور اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا ہے۔ اور میں نے اپنی پیٹھ کو تیرے لئے مجبور کر دیا ہے اور جھکا دیا ہے تیری طرف امید اور خوف رکھتے ہوئے۔ نہ کوئی جائے پناہ ہے تیرے سوا اور نہ ہی کوئی جائے نجات ہے مگر تیری طرف۔ میں تیری کتاب کے ساتھ ایمان لے آیا ہوں جسے آپ نے نازل کیا ہے۔ اور تیرے نبی کے ساتھ جسے آپ نے بھیجا ہے۔ یہ آپ کا آخری کلام ہونا چاہئے پھر اگر اس رات کو آپ کا انتقال ہوگیا تو آپ فطرت اسلام پر مریں گے۔لہذا میں ان کلمات کو دہرانے لگاتا کہ میں انہیں یاد کر لوں۔ میں نے اسی دوران یوں کہہ دیا۔ اور تیرے رسل کے ساتھ جسے آپ نے بھیجا ہے(ایمان لایا ہوں) تو آپ نے فرمایا تیرے نبی کے ساتھ جسے آپ نے بھیجا ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں اسحٰق بن ابراہیم سے۔ اور اس کو بخاری نے نقل کیا ہے حدیث معتمر سے اس نے منصور سے۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← منصور بن المعتمر أن سعد بن عبيدة ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on sleep, which is one of the graces of God Almighty in the abode of this world and what came in His etiquette · Hadith 4704

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في النوم الذي هو نعمة من نعم الله تعالى في دار الدنيا و ما جاء في آدابه · حديث 4705

4705 - و روينا في حديث قطر بن خليفة عن سعيد بن عبيدة عن البراء : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا أويت إلى فراشك طاهرا متوسد يمينك ثم قل فذكر الدعاء

اور ہم نے روایت کیا ہے حدیث قطر بن خلیفہ بن سعید بن عبیدہ سے اس نے براء بن عازب سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ فرماتے ہیں کہ جب آپ اپنے بستر پر جگہ پکڑیں تو باوضو ہو کر اپنے سیدھے ہاتھ کو سر کے نیچے رکھتے ہوئے اس کے بعد یہ کہے۔ پھر مذکورہ دعا ذکر فرمائی۔

إذا أويت إلى فراشك طاهرا متوسد يمينك ثم قل فذكر الدعاء ← النبي صلى الله عليه و سلم ← الْبَرَاءِ، ← سعيد بن عبيدة ← و روينا في حديث قطر بن خليفة

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on sleep, which is one of the graces of God Almighty in the abode of this world and what came in His etiquette · Hadith 4705

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في النوم الذي هو نعمة من نعم الله تعالى في دار الدنيا و ما جاء في آدابه · حديث 4706

4706 - و أخبرنا أبو عبد الله محمد بن أبي طاهر الدقاق نا أحمد بن عثمان الأدمي نا أحمد بن محمد البرقي نا أبو الوليد الطيالسي عن شعبة عن أبي إسحاق عن البراء بن عازب قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا أخذ مضجعه قال : اللهم إني أسلمت نفسي إليك و فوضت أمري إليك و وجهت وجهي إليك و ألجأت ظهري إليك رغبة و رهبة إليك لا ملجأ و لا منجا منك إلا إليك آمنت بكتابك الذي أنزلت و نبيك الذي أرسلت فإن مات مات على الفطرة أخرجاه في الصحيح من حديث شعبة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ محمد بن ابوطاہر دقاق نے ان کو احمد بن عثمان آدمی نے ان کو احمد بن محمد برقی نے ان کو ابوالولید طیالسی نے ان کو شعبہ نے ان کو ابواسحٰق نے ان کو براء بن عازب نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر آتے تو یہ دعا کرتے: اللهم اني اسلمت نفسی الیک و فوضت امری الیک و وجهت وجهي اليك والجأت ظهرى اليك رغبة و رهبة اليك لا ملجاء ولا منجاء الا الیک امنت بكتابك الذي انزلت وبینك الذي ارسلت فان مات مات على الفطرة۔ بخاری و مسلم نے نقل کیا ہے اس کو حدیث شعبہ سے۔

كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا أخذ مضجعه ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَرْقِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْآدَمِيُّ ← أبو عبد الله محمد بن أبي طاهر الدقاق ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on sleep, which is one of the graces of God Almighty in the abode of this world and what came in His etiquette · Hadith 4706

chevron_left Previous
1…232425…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood