Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4431

4431 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر بن أبي دارم نا أبو العباس أحمد بن علي بن إسماعيل الأشعري نا محمد بن مهران الحمال نا محمد بن المعلى ح و أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن الحسين السلمي نا زاهر بن أحمد الفقيه نا محمد بن عمرو الهجري نا محمد بن حميد نا محمد بن المعلى عن زياد بن خيثمة عن أبي داود عن عبد الله بن سمرة قال السلمي في روايته عن سمرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من ابتلى فصبر و أعطى فشكر و ظلم فغفر و ظلم فاستغفر قيل ماله قال : أولئك لهم الأمن و هم مهتدون و رواه أيضا علي بن بحر عن محمد بن المعلى الكوفي و ليس بالقوي و روي من وجه آخر كما

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر بن ابودارم نے ان کو ابوالعباس احمد بن علی بن اسماعیل اشعری نے ان کو محمد بن مہران حمال نے ان کو محمد بن معلیٰ نے ’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ہے ابوعبدالرحمٰن محمد بن حسن سلمی نے ان کو زاہر بن احمد فقیہ نے ان کو محمد بن عمرو ہجری نے ان کو محمد بن حمید نے ان کو محمد بن معلیٰ نے ان کو زیاد بن خیثم نے ان کو ابوداؤد نے ان کو عبداللہ بن سمرہ نے کہ سلمی نے کہا کہ اس کی ایک روایت میں سمرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص آزمائش میں مبتلا کیا گیا پھر اس نے صبر کیا اور جو عطا کیا گیا اور اس نے شکر کیا جو ظلم کیا گیا اور اس کو بخش دیا گیا اور جس نے ظلم کیا اور پھر استغفار کیا۔ پوچھا گیا کہ کیا ہے ان کے لئے فرمایا وہی لوگ امن والے ہیں اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔ اس کو روایت کیا ہے علی بن نجر نے محمد بن معلیٰ کوفی سے اور وہ قوی نہیں ہے اور دوسرے طرق سے بھی مروی ہے جیسے درج ذیل۔

سَمُرَةَ ← السلمي في روايته ← عبد الله بن سمرة ← أَبِي دَاوُدَ، ← زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَلَّى ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ← محمد بن عمرو الهجري ← زاهر بن أحمد الفقيه ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ ← و، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَلَّى ← مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الْحَمَّالُ، ← أبو العباس أحمد بن علي بن إسماعيل الأشعري ← أبو بكر بن أبي دارم ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4431

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4432

4432 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا الحسين بن إسحاق التستري نا عمر بن خالد المخزومي نا عمر بن راشد عن أبي عبد الرحمن بن حرملة عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من كانت فيه ثلاث أدخله الله في رحمته و أراه محبته و كان في كنفه من إذا أعطى شكر و إذا قدر غفر و إذا غضب فتر و هذا الإسناد ضعيف

اور ہمیں خبر دی ہے ابوالحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو حسین بن اسحٰق تستری نے ان کو عمر بن خالد مخزومی نے ان کو عمر بن راشد نے ان کو ابوعبدالرحمٰن بن حرملہ نے ان کو سعید بن مسیّب نے ان کو ابوہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جس شخص میں تین صفات ہوں اس کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں داخل کریں گے اور اس کو اپنی محبت دکھائیں گے اور وہ اسی کی پناہ میں ہوگا وہ جس کو عطا کیا جائے تو شکر کرے جب وہ قدرت رکھے تو معاف کر دے جب غصہ آئے تو رک جائے۔ یہ اسناد ضعیف ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← أبي عبد الرحمن بن حرملة ← عُمَرَ بْنِ رَاشِدٍ ← عمر بن خالد المخزومي ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Hadith 4432

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4433

4433 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو علي بن شاذان نا أبو محمد عبد الله بن جعفر بن درستويه الفارسي نا يعقوب بن سفيان نا عمر بن راشد مولى عبد الرحمن بن أبان بن عثمان المديني نا محمد بن عبد الرحمن بن أبي ذيب القرشي عن هشام بن عروة عن محمد بن علي عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثلاث من كن فيه آواه الله في كنفه و ستر عليه برحمته و أدخله في محبته قيل و ما هن يا رسول الله ؟ قال : من إذا أعطي شكر و إذا قدر غفر و إذا غضب فتر كذا قال و قال غيره عمر بن راشد مولى مروان ثم أبان بن عثمان و هو شيخ مجهول من أهل مصر يروي ما لا يتابع عليه و هو غير عمر بن راشد اليماني الذي يروي عن يحيى بن أبي كثير و رواه أيضا مطرف بن عبد الله أبو مصعب المديني عن ابن أبي ذيب

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوعلی بن شاذان نے ان کو ابومحمد عبداللہ بن جعفر درستویہ فارسی نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو عامر بن راشد مولیٰ عبدالرحمٰن بن ابان بن عثمان مدینی نے ان کو محمد بن عبدالرحمٰن بن ابوذویب قرشی ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو محمد بن علی نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تین شخص کام کے ہیں جس میں وہ اللہ اس کو اپنی حفاظت میں جگہ دے گا۔ اور اس پر اپنی رحمت کا پردہ ڈالے گا اور اس کو اپنی محبت میں داخل کرے گا۔ پوچھا گیا کہ وہ کیا ہیں یا رسول اللہ؟ فرمایا وہ شخص جس وقت اس کو دیا جائے تو شکر کرے اور جس وقت کسی پر قدرت پا لے تو معاف کر دے اور جب غصہ آئے تو وہ اس سے باز آ جائے۔ اس طرح کہا۔ اور دیگر نے کہا کہ عمر بن راشد مولیٰ مروان پھر ابان بن عثمان ہے اور وہ شیخ مجہول ہے اہل مصر میں سے وہ ایسی روایتیں لاتا ہے جن کا کوئی تابع نہیں ہوا۔ اور وہ عمر بن راشد یمانی کے علاوہ ہے جو یحییٰ بن ابوکثیر سے روایت کرتا ہے۔ اور اس کو بھی روایت کیا ہے مطرف بن عبداللہ سے ابومصعب مدینی نے ابن ابوذویب سے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← محمد بن علي ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذِئْبٍ الْقُرَشِيُّ، ← عمر بن راشد مولى عبد الرحمن بن أبان بن عثمان المديني ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ الْفَارِسِيُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و أبو علي بن شاذان

Hadith 4433

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4434

4434 - أخبرناه أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي نا أحمد بن داود بن أبي صالح نا أبو مصعب المديني يلقب مطرف حدثني محمد بن عبد الرحمن بن أبي ذيب : فذكره بنحوه

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابوسعد مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی نے ان کو احمد بن داؤد بن ابوصالح نے ان کو ابومصعب مدینی نے جس کا لقب مطرف ہے ان کو حدیث بیان کی ہے۔ محمد بن عبدالرحمٰن بن ابوذویب نے پھر اس کو ذکر کیا ہے اس نے مذکور روایت کی طرح۔

محمد بن عبد الرحمن بن أبي ذيب فذكره بنحوه ← أبو مصعب المديني يلقب مطرف ← أحمد بن داود بن أبي صالح ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Hadith 4434

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4435

4435 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان نا الحجاج نا مهدي نا غيلان عن مطرف قال : سمعته يقول لأن أعافى فأشكر أحب إلي من ابتلي فاصبر نظرت في العافية فوجدت فيها خير الدنيا و الآخرة 4435 - مكرر ـ قال و نا يعقوب نا عمر بن عاصم نا سليمان بن المغيرة نا حميد بن هلال قال : قال مطرف نظرت ألا خير لا شر فيه و لا آفة و لكل شيء آفة فإذا هو عبد أن يعافى فيشكر

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فصل قطان نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو حجاج نے ان کو مہدی نے ان کو غیلان نے ان کو مطرف نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اس سے سنا کہتے تھے۔ اگر مجھے عافیت دی جائے اور میں شکر کروں تو یہ مجھے زیادہ محبوب ہے اس سے کہ میں آزمائش میں مبتلا ہو جاؤں پھر میں صبر کروں۔ میں نے عافیت میں نظر ڈالی تو میں نے اس میں دنیا اور آخرت کی بھلائی پائی ہے۔

مُطَرِّفٍ ← غَيْلَانَ ← مَهْدِيٌّ، ← الْحَجَّاجِ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Hadith 4435

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4436

4436 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا عمر بن أحمد بن عثمان نا عبد الله بن محمد حدثني محمد بن ميمون قال : سمعت ابن عيينة يقول قال مطرف : الخير الذي لا شر فيه الشكر مع العافية فكم من منعم عليه شاكر و كم من مبتلي غير صابر

ہمیں خبر دی ابوعبدالرحمٰن سلمی نے ان کو عمر بن احمد عثمان نے ان کو عبداللہ بن محمد نے ان کو حدیث بیان کی محمد بن میمون نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابن عیینہ سے وہ کہتے ہیں کہ مطرف نے کہا۔ وہ خیر جس میں کوئی شر نہ ہو وہ شکر ہے جو عافیت کے ساتھ۔ کتنے ایسے انعام یافتہ لوگ ہوتے ہیں جو شکر گذار ہوتے ہیں۔ اور کتنے آزمائش میں مبتلا غیر صابر ہوتے ہیں۔

ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُثْمَانَ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 4436

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4437

4437 - أخبرنا أبو القاسم الخرقي أنا أحمد بن سلمان نا ابن أبي الدنيا نا إسماعيل بن عبد الله بن زرارة نا حماد بن زيد عن بديل بن ميسرة : أن مطرفا كان يقول لأن أعافى فأشكر أحب إلي من أن أبتلي فأصبر فزعم أن أبا العلاء ـ يعني أخاه ـ كان يقول اللهم أي ذلك كان فعجله لي

ہمیں خبر دی ابوالقاسم خرقی نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو ابن ابوالدنیا نے ان کو اسماعیل بن عبداللہ بن زرارہ نے ان کو حماد بن زید نے ان کو بدیل بن مسیرہ نے کہ مطرف کہتے تھے البتہ اگر مجھے عافیت دی جائے اور میں اس پر شکر کروں یہ میرے نزدیک زیادہ محبوب ہے اس سے کہ میں تکلیف میں مبتلا ہو کر صبر کروں اور انہوں نے خیال کیا ہے کہ ابوالعلاء یعنی ان کا بھائی کہا کرتا ہے۔اے اللہ اس میں سے کچھ بھی ہو پس اس کو میرے لئے جلدی فرما۔

بديل بن ميسرة أن مطرفا كان ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← إسماعيل بن عبد الله بن زرارة ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم الخرقي

Hadith 4437

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4438

4438 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف اللأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا عبد الحميد بن أبي يزيد نا أحمد بن أبي الحواري نا علي بن المديني قال : قيل لسفيان بن عيينة ما حد الزهد ؟ قال : أن تكون شاكرا في الرخاء صابرا في البلاء فإذا كان كذلك فهو زاهد قيل لسفيان ما الشكر ؟ قال : أن تجتنب ما نهى الله عنه

ہمیں خبر دی ابومحمد بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے ان کو عبدالحمید بن ابویزید نے ان کو احمد بن ابوالحواری نے ان کو علی بن مدینی نے وہ کہتے ہیں کہ سفیان بن عینیہ سے کہا گیا کہ زہد کی حدوانتہاء کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا یہ ہے کہ تو نرمی کے وقت شکر کر تکلیف کے وقت صبر کر جب کوئی ایسے کرتا ہے تو وہ زاہد ہوتا ہے۔سفیان سے پوچھا گیا کہ شکر کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا۔ یہ کہ تم اس چیز سے بچو جس سے اللہ نے منع فرمایا ہے۔

قيل لسفيان بن عيينة ما حد الزهد ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← عبد الحميد بن أبي يزيد ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أبو محمد بن يوسف اللأصبهاني

Hadith 4438

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4439

4439 - أخبرنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن علي بن معاوية النيسابوري نا أبو حامد بن محمد العفصي نا أحمد بن سلمة نا إسحاق بن موسى الخطمي نا الوليد بن سلم نا سعيد بن عبد العزيز التنوخي : أن داود النبي عليه السلام كان يقول : سبحان مستخرج الشكر بالعطاء و مستخرج الدعاء بالبلاء

ہمیں خبر دی ابواسحٰق ابراہیم بن محمد بن علی بن معاویہ نیساپوری نے ان کو ابوحامد بن حمد عفصی نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو اسحٰق بن موسیٰ خطمی نے ان کو ولید بن مسلم نے ان کو سعید بن عبدالعزیز تنوخی نے کہ اللہ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام فرماتے تھے۔ سبحان مستخرج الشكريا لعطآء و مستخرج الدعآء بالبلآء. پاک ہے وہ ذات جو شکر کو پیدا کرتا ہے عطاء نعمت کے ذریعے اور دعا کو پیدا کرتا ہے تکلیف اور مصیبت کے ذریعے۔

سبحان مستخرج الشكر بالعطاء و مستخرج الدعاء بالبلاء ← سعيد بن عبد العزيز التنوخي أن داود النبي كان ← الوليد بن سلم ← إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْخَطْمِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أبو حامد بن محمد العفصي ← أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن علي بن معاوية النيسابوري

Hadith 4439

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4440

4440 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سئل الأستاذ أبو سهل محمد بن سليمان عن الشكر و الصبر أيهما أفضل ؟ فقال : هما في محل الاستواء فالشكر مطية السراء و الصبر فريضة الضراء قال : و قيل الصبر أسنى الأمرين لأن الشكر استجلاب و استدعاء و الصبر استكفاء و ارتضاء و موضع الرضا يفضل موضع الدعاء و قيل الشكر على النعمة و صرف البلية و الصبر على النعمة و على البلية فهما على اتزان و له في الجمع بينهما و الفرق أقوال هي مذكورة في جزء مجموع فيه كلامه

ہمیں خبر دی ابوعبدالرحمٰن سلمی نے وہ کہتے ہیں کہ استاذ ابوسہل محمد بن سلیمان سے شکر کے بارے میں پوچھا گیا اور صبر کے بارے میں کہ دونوں میں سے کون سا افضل ہے؟ فرمایا کہ دونوں برابر کے مقام پر ہیں شکر خوشی کی سواری ہے تو صبر دکھ تکلیف کا فریضہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کہا گیا ہے کہ صبر بلند ترین امور میں سے ہے کیونکہ شکر استجلاب ہے استدعا ہے ( کھینچنا اور مانگنا ہے ) تو صبر رک جانا اور راضی ہو جانا ہے اور راضی ہو جانے کا مقام مانگنے کے مقام سے فوقیت و فضیلت رکھتا ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ شکر نعمت کے اوپر ہوتا ہے اور آزمائش کے مل جانے پر ۔ اور صبر نعمت پر ہوتا اور مشکل کے اوپر ہوتا ہے۔ وہ دونوں برابر کے ترازو کے پلڑوں میں ہیں۔اور اس بارے میں دونوں کے جمع کرنے اور فرق کرنے کے بارے میں کئی اقوال ہیں جو مذکور ہیں ایک مستقل رسالے میں جس میں استاد ابوسہل کا کلام جمع ہے۔

هما في محل الاستواء فالشكر مطية السراء و الصبر فريضة الضراء ← الشكر و الصبر أيهما أفضل ← سئل الأستاذ أبو سهل محمد بن سليمان ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 4440

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4441

4441 - أخبرنا أبو القاسم الحرفي أنا أحمد بن سلمان نا عبد الله بن أبي الدنيا نا خلف بن هشام نا الحكم بن سنان عن حوشب عن الحسن قال : خلق الله عز و جل آدم عليه السلام حين خلقه و أخرج أهل الجنة في صفحته اليمنى و أخرج أهل النار في صفحته اليسرى فدبوا على وجه الأرض منهم الأعمى و الأصم و المبتلي فقال آدم : يا رب ألا سويت بين ولدي قال : يا آدم إني أردت أن أشكر

ہمیں خبر دی ابوالقاسم حرفی نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو عبداللہ بن ابوالدنیا نے ان کو خلف بن ہشام نے ان کو حکم بن سنان نے ان کو حوشب نے ان کو حسن نے وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا جب اسے پیدا فرمایا اور اہل جنت کو اپنی دائیں ہتھیلی پر نکالا اور اہل جہنم کو اپنی بایں تھیلی پر نکالا لہذا وہ لوگ زمین پر چلنے لگے ان میں اندھے بھی تھے اور گونگے بھی اور مصیبت زدہ بھی آدم علیہ السلام نے دعا کی اے میرے رب کیا آپ نے میری اولاد کے درمیان برابری نہیں کی اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے آدم میں نے یہ چاہا ہے کہ میرا شکر کیا جائے(تاکہ بعض نعمتوں سے محروموں کو صاحب نعمت دیکھ کر شکر کریں)۔

الْحَسَنِ، ← حَوْشَبٍ، ← الْحَكَمُ بْنُ سِنَانٍ ← خلف بن هشام، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم الحرفي

Hadith 4441

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4442

4442 - و أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر عن قتادة و الحسن قالا : لما عرضت على آدم ذريته فرأى فضل بعضهم على بعض قال : أي رب أفهلا ساويت بينهم قال : إني أحب أن أشكر

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو قتادہ نے اور حسن نے دونوں نے کہا جب آدم علیہ السلام کے سامنے (عالم مثال میں) ان کی اولاد پیش کی گئی تو انہوں نے ان میں سے بعض کی بعض پر فضیلت دیکھی تو عرض کیا اے میرے رب کیا آپ نے ان کے درمیان برابری نہیں کی اللہ نے فرمایا کہ میں نے چاہا کہ میرا شکر کیا جائے۔

إني أحب أن أشكر ← أي رب أفهلا ساويت بينهم ← لما عرضت على آدم ذريته فرأى فضل بعضهم على بعض ← قتادة و الحسن ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و،

Hadith 4442

chevron_left Previous
1234…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood