Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4599

4599 - أخبرنا أبو الحسين علي بن محمد بن بشران ببغداد نا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز نا محمد بن عبيد الله نا يونس بن محمد نا حماد عن عمار بن أبي عمار عن جابر بن عبد الله قال : كان اليهودي على أبي تمر فقتل يوم أحد و ترك حديقتين و تمر اليهودي يستوعب ما في الحديقتين فقال النبي صلى الله عليه و سلم لليهودي : هل لك أن تأخذ العام بعضه و تؤخر بعضه فأبى اليهودي فقال النبي صلى الله عليه و سلم : إذا حضر الجذاذ فأذني فجاء هو و أبو بكر و عمر فجعلت أجذ و يكال له من أسفل النخل و رسول الله صلى الله عليه و سلم يدعو بالبركة حتى وفيناه جميع حقه من أصغر الحديقتين فيما يحسب عمار قال : ثم أتيتهم برطب و ماء فأكلوا و شربوا فقال : هذا من النعيم الذي يسألون عنه

ہمیں خبر دی ابوالحسین علی بن محمد بن بشران نے بغداد میں ان کو ابوجعفر محمد بن عمر رزاز نے ان کو محمد بن عبیداللہ نے ان کو یونس بن محمد نے ان کو حماد نے ان کو عجار بن ابوعجار نے ان کو جابر بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ میرے والد کے ذمے ایک یہودی کی کھجور تھی میرے والد جنگ احد کے دن شہید ہوگئے تھے۔ اور دو باغ چھوڑے تھے۔ اور یہودی کے (قرضہ) کی کھجوروں نے پورے دونوں باغوں کے پھل کا احاطہ کر لیا۔ یعنی اس میں پورا ہوگیا۔ کھانے لئے کچھ نہیں بچ رہا تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سفارش کرتے ہوئے اس یہودی سے کہا کیا آپ ایسا کریں گے کہ کچھ اس سال سے لیں اور کچھ کو ملتوی کر کے اگلے سال تک مہلت دے دیں مگر یہودی نے مہلت دینے سے انکار کر دیا۔لہذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا کہ جب کھجوروں کے خوشے کاٹنے کا وقت آئے تو مجھے ضرور اطلاع کرنا میں نے اطلاع کی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہا تشریف لائے اور میں کھجور کاٹتا رہا اور یہودی کی ادائیگی کے لئے درختوں تلے ناپ کر یا بھر کر دی جاتی رہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے رہے برکت کے لئے۔ یہاں تک کہ ہم لوگوں نے اس کا قرضہ پورا کر دیا چھوٹے باغ کے پھلوں میں سے عمار کی گنتی کے مطابق کہتے ہیں میں پھر ان کے پاس تازہ کھجوریں اور پانی لے کر آیا انہوں نے کھجوریں کھائیں اور پانی پیا اور فرمایا۔ یہ ان نعمتوں میں سے ہے جن کے بارے میں تم لوگوں سے سوال ہوگا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ← حَمَّادٌ، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أبو الحسين علي بن محمد بن بشران

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4599

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4600

4600 - و أخبرنا أبو الحسين محمد بن علي بن خشيش المقرئ بالكوفة نا أبو بكر عبد الله بن يحيى بن معاوية الطلحي املاء نا أبو عبد الله محمد بن موسى الأيلي المفسر نا محمد بن معمر نا روح بن عبادة نا حماد بن سلمة عن عمار بن أبي عمار عن جابر بن عبد الله : عن النبي صلى الله عليه و سلم : ثم لتسألن يومئذ عن النعيم قال الرطب و الماء البارد

اور ہمیں خبر دی ابوالحسین محمد بن علی بن خشیش مقری نے کوفے میں ان کو ابوبکر عبداللہ بن یحییٰ بن معاویہ کلیمی نے بطور املاء کے ان کو ابوعبداللہ محمد بن موسیٰ ایلی مفسر نے ان کو محمد بن معمر نے ان کو روح بن عبادہ نے ان کو حمد بن سلمہ نے ان کو عمار بن ابوعمار نے ان کو جابر بن عبداللہ نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کہ یہ آیت ثـم لتسئلن يومئذ عن النعیم۔ کہ تم سے اس دن (قیامت میں) نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ فرمایا کہ تازہ کھجوریں اور ٹھنڈا پانی مراد ہے۔ توضیح یہ ہے کہ اس وقت بڑی نعمت جو مسلمانوں کو حاصل تھی وہ ہی تھی اس لئے اسی کا ذکر فرمایا ورنہ نعمتوں کا ذکر قرآن میں عام ہے بے شمار نعمتیں مراد ہوسکتی ہیں جن بارے میں انسان سے سوال ہوگا۔ (مترجم)

الرطب و الماء البارد ← النعيم ← النبي صلى الله عليه و سلم ثم لتسألن يومئذ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ← أبو عبد الله محمد بن موسى الأيلي المفسر ← أبو بكر عبد الله بن يحيى بن معاوية الطلحي املاء ← أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ خُشَيْشٍ الْمُقْرِئُ بِالْكُوفَةِ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4600

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4601

4601 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر بن الحسن نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق الصنعاني نا يونس بن محمد نا حشرج بن نباتة عن أبي بصرة البصري عن أبي عسيب مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم ليلا فمر بي فدعاني فخرجت إليه ثم مر بأبي بكر فدعاه فخرج إليه ثم مر بعمر فدعاه فخرج إليه ثم انطلق يمشي حتى دخل حائطا لبعض الأنصار فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لصاحب الحائط : أطعمنا بسرا فجاء بعذق فوضعه فأكل رسول الله صلى الله عليه و سلم و أصحابه ثم دعا بماء و شرب ثم قال : لتسألن عن هذا النعيم يوم القيامة فأخذ عمر العذق فضرب به الأرض حتى تناثر البسر قبل رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم قال : يا نبي الله إنا لمسؤلون عن هذا يوم القيامة ؟ قال : نعم إلا من ثلاث خرقة يستر بها الرجل عورته و كسرة يسد بها جوعته أو جحر يدخل فيه من الحر و القر

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوبکر بن حسن نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحٰق صنعانی نے ان کو یونس بن محمد نے ان کو حشرج بن نباتہ نے ان کو ابوبصرہ بصری نے ان کو ابوعسیب مولیٰ رسول اللہ نے وہ کہتے ہیں کہ ایک رات حضور صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے اور میرے پاس سے گذرے اور مجھے بلایا میں آپ کے پاس آیا اس کے بعد آپ ابوبکر صدیق کے پاس گئے اس کو بلایا وہ بھی آگئے اس کے بعد آپ عمر کے پاس گئے اس کو بلایا وہ بھی آگئے۔ اس کے بعد چلتے چلتے ایک انصاری کے باغ میں داخل ہوگئے۔ حضور نے باغ کے مالک سے کہا ہمیں کچی کھجور کھلاؤ(جو ابھی پکی نہیں تھیں) وہ ایک خوشبو لے کر آیا اور لا کر سامنے رکھ دیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے ساتھیوں نے کھایا پھر پانی منگوایا اور پانی پیا پھر فرمایا تم ان نعمتوں کی بابت ضرور پوچھے جاؤ گے قیامت کے دن۔ حضرت عمر نے خوشہ لیا اور زمین پر دے مارا جس سے کچھ کھجوریں بکھر گئیں رسول اللہ کی جانب۔ پھر بولے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے قیامت کے دن اس کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جی ہاں مگر تین چیزوں کے بارے میں سوال نہیں ہوگا وہ کپڑا جس کے ساتھ انسان اپنا ستر ڈھانکے اور روٹی کا ٹکڑا جس کے ساتھ اپنی بھوک روکے اور وہ پتھر (کی جھونپڑی) جس میں گرمی اور سردی میں اندر داخل ہو جائے (یعنی جس کے ساتھ گرمی سردی سے بچاؤ کرے۔)

أبي عسيب مولى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أبي بصرة البصري ← حَشْرَجُ بْنُ نَبَاتَةَ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر بن الحسن

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4601

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4602

4602 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أحمد بن سهل الفقيه ببخارى نا صالح بن محمد البغدادي جرزة نا سعيد بن سليمان و عبد الله بن أبي شيبة و يحيى بن أيوب المقابري و محرز بن عون قالوا نا خلف بن خليفة عن يزيد بن كيسان عن أبي حازم عن أبي هريرة قال : خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات يوم أو ليلة فإذا هو بأبي بكر و عمر فقال : ما أخرجكما من بيوتكما في هذه الساعة ؟ قالا : الجوع يا رسول الله قال : و الذي نفسي بيده لأخرجني الذي أخرجكما قوموا فقاموا سعة فأتى رجلا من الأنصار فإذا هو ليس في بيته فلما رأته المرأة قالت : مرحبا و أهلا فقال لها رسول الله صلى الله عليه و سلم : أين فلان ؟ قالت : ذهب يستعذب لنا الماء إذ جاء الأنصاري فنظر إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم و صاحبيه ثم قال : الحمد لله ما أجد اليوم أكرم أضيافا مني قال : فانطلق فجاءهم بعذق فيه بسر و تمر و رطب فقال : كلوا من هذا و أخذ المدية فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : إياك و الحلوب فذبح لهم فأكلوا من الشاة و من ذلك العذق و شربوا فلما أن شبعوا و رووا قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لأبي بكر و عمر : و الذي نفسي بيده لتسألن عن هذا النعيم يوم القيامة أخرجكم من بيوتكم الجوع ثم لم ترجعوا حتى أصابكم هذا النعيم رواه مسلم في الصحيح عن عبد الله بن أبي شيبة و أخرجه مسلم أيضا من حديث عبد الواحد بن زياد عن يزيد بن كيسان و رواه عيسى بن يونس عن يزيد بن كيسان مختصرا و قال : فأتوا أبا الهيثم بن التيهان الأنصاري فذبح لهم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی احمد بن سہل فقیہ نے بخارا میں ان کو صالح بن محمد بغدادی نے ان کو حرزہ نے ان کو سعید بن سلیمان نے اور عبداللہ بن ابوشیبہ نے اور یحییٰ بن ایوب مقابری نے۔ اور محرز بن عون نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے خلف بن خلیفہ نے ان کو یزید بن کیسان نے ان کو ابوحازم نے ان کو ابوہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ ایک دن یا ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے ابوبکر صدیق اور عمر رضی اللہ عنہما دونوں راستے مل گئے آپ نے پوچھا اس وقت تم لوگوں کو کون سی ضرورت باہر لے آئی تمہارے گھروں سے؟ دونوں نے بتایا کہ بھوک باہر لے آئی ہے۔ یا رسول اللہ ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم مجھے بھی یہی چیز لے آئی ہے اچھا پھر چلیں چنانچہ وہ تینوں ایک انصاری کے پاس گئے۔اتفاق سے وہ بھی گھر پر نہیں تھا۔ مگر اس کی بیوی نے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو اس نے مرحباً اهلاً وسہلاً (یعنی خوش آمدید کہا)۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ فلاں کہاں ہے؟ بولی کہ وہ ہمارے لئے میٹھا پانی لینے گئے ہیں۔ جب انصاری آ گیا اور اس نے آتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے دونوں ساتھیوں کو دیکھا تو بولا الحمدللہ آج تو میرے گھر میں نہایت ہی بزرگ مہمان تشریف لائے ہیں وہ جلدی سے گیا اور عرب کی ثقافت کے مطابق جلدی سے کھجور کا ایک خوشہ کاٹ کر لے آئے جس میں کچھ کچی کھجوریں تھیں اور کچھ پکی ہوئی تازہ تھیں اور کچھ کچھ خشک تھیں بولا کھائیے۔ اور اس نے چھری لی (اور ذبح کرنے کے لئے بکری تلاش کرنے لگا) تو حضور نے فرمایا کہ دودھ دینے والی کو نہ پکڑنا۔ چنانچہ اس نے بکری ذبح کر کے پکوائی ان حضرات نے بکری کا گوشت کھایا اور کھجوریں کھائیں اور پانی پیا۔ جب پیٹ بھر کر کھانا کھا چکے اور خوب سیر ہو کر پانی پی چکے تو حضور نے ابوبکر اور عمر کو فرمایا۔ اللہ کی قسم تم لوگوں سے قیامت کے دن ان نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا۔ تمہیں گھروں سے بھوک نے نکالا تھا۔ پھر تم واپس بھوکے نہیں جاؤ گے بلکہ تمہیں نعمتیں مل گئیں۔ ان کو مسلم نے نقل کیا ہے صحیح میں عبداللہ بن شبہ سے اور اس کو مسلم نے حدیث عبدالواحد بن زیاد سے اس نے کیسان سے نقل کیا ہے۔ اور اس کو روایت کیا ہے عیسیٰ بن یونس نے یزید بن کیسان سے مختصراً اور کہا ہے کہ یہ تینوں حضرت ابوالھثیم بن تیھان انصاری کے پاس گئے تو اس نے ان کی ضیافت کے لئے بکری ذبح کی تھی۔

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4602

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4603

4603 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا أحمد بن عبيد الله النرسي نا عبيد الله بن موسى نا شيبان عن عبد الملك بن عمير عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم في ساعة لا يخرج فيها و لا يلقاه فيها أحد فأتاه أبو بكر فقال : ما أخرجك يا أبا بكر ؟ قال : خرجت للقاء رسول الله صلى الله عليه و سلم و النظر في وجهه و السلام عليه فلم يلبث أن جاء عمر فقال : ما أخرجك يا عمر ؟ قال : الجوع : و أنا قد وجدت بعض الذي تجد انطلقوا إلى أبي الهيثم بن التيهان الأنصاري قال : فذكر قصة أبي الهيثم

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو احمد بن عبیداللہ نرسی نے ان کو عبیداللہ بن موسیٰ نے ان کو شیبان نے ان کو عبدالملک بن عمیری نے ان کو ابوسلمہ نے ان کو ابوہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ حضور ایسے وقت گھر سے نکلے کہ ایسے وقت نہیں نکلتے تھے اور اس وقت آپ سے کوئی ملتا بھی نہیں تھا اور ابوبکر صدیق بھی ان کے پاس آگئے آپ نے پوچھا آپ کو کیا چیز لے آئی اے ابوبکر؟ بولے کہ حضور سے ملاقات کرنے آپ کے چہرہ انور کو دیکھنے اور آپ کو سلام کرنے کے لئے کچھ زیادہ دیر نہ گذری تھی کہ عمر بھی آگئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ آپ کو کون سی بات لے آئی اے عمر؟ بولے کہ بھوک حضور نے فرمایا کہ مجھے بھی کچھ بھوک لگ رہی ہے اچھا پھر چلو ابوالھثیم بن تیھان انصاری کے پاس کہتے ہیں برادران نے ابوالھثیم کا قصہ بیان کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← شَيْبَانَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّرْسِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4603

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4604

4604 - قال الشيخ أحمد رحمه الله : و تمام الحديث فيما أنبأنا أبو عبد الله الحافظ إجازة أن عبدان بن يزيد بن يعقوب الدقاق أخبرهم نا إبراهيم بن الحسين بن ديزيل نا آدم بن أبي إياس نا شيبان بن عبد الرحمن : بإسناده نحو هذا قال : و أنا وجدت بعض ذلك فانطلقوا إلى منزل أبي الهيثم بن التيهان الأنصاري و كان رجلا كثير النخل و الشاء و لم يكن له خدم فلم يجدوه فقالوا لامرأته أين صاحبك ؟ فقالت : انطلق يستعذب لنا الماء فلم يلبثوا أن جاء أبو الهيثم بقربته يزعبها فوضعها ثم جاء فالتزم رسول الله صلى الله عليه و سلم و يفديه بأبيه و أمه فانطلق بهم إلى حديقة فبسط لهم بساطا ثم انطلق إلى نخلة فجاء بقنو فوضعه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أفلا انتقيت لنا من رطب فقال : يا رسول الله صلى الله عليه و سلم إني أردت أن تخيروا من بسره و رطبه فأكلوا و شربوا من ذلك الماء فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هذا و الذي نفسي بيده النعيم الذي تسئلون عنه يوم القيامة ظل بارد و رطب طيب و ماء بارد فانطلق أبو الهيثم ليضع لهم طعاما فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تذبحن ذات در فذبح لهم عناقا أو جديا فأنتاهم به فأكلوا فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : هل لك خادم ؟ قال : لا قال : فإذا أتانا سبي فأتنا إذا أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم برأسين ليس معهم ثالث فأتاه أبو الهيثم فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : اختر منهما فقال يا رسول الله اختر لي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم المستشار مؤتمن خذ هذا فإني رأيته يصلي واستوحى به معروفا فانطلق أبو الهيثم بالخادم إلى امرأته فاخبرها يقول رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالت له امرأته : ما أنت ببالغ ما قال فيه رسول الله صلى الله عليه و سلم إلا أن تعتقه فقال : هو عتيق فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله لم يبعث نبيا و لا خليفة إلا و له بطانتان بطانة تأمر بالمعروف و تنهاه عن المنكر و بطانة لا تالوه خبالا من يوق بطانة السوء فقد وقى رواه أبو مجاهد عبد الله بن كيسان عن عكرمة عن ابن عباس فذكر الحديث بزيادات و قال أبو أيوب بدل أبي الهيثم و مما زاد قال : فهذا النعيم الذي تسئلون عنه يوم القيامة فكبر ذلك على أصحابه فقال : بلى إذ أصبتم مثل هذا فضربتم بأيديكم بسم الله و بركة الله فإذا شبعتم فقولوا : الحمد لله الذي هو أشبعنا و أروانا وأنعم علينا و أفضل فإن هذا كفاف هذا

شیخ احمد بیہقی نے فرمایا۔ کہ مکمل حدیث جو ابوعبداللہ حافظ نے ہم کو بتائی بطور اجازت کے وہ یہ ہے کہ عبدان بن یزید بن یعقوب دقاق نے ان کو خبر دی ہے ان کو ابراہیم بن حسن بن دیزیل نے ان کو آدم بن ابوایاس نے ان کو شیبان بن عبدالرحمٰن نے اپنی اسناد کے ساتھ اس کی مثل۔ وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے بھی کچھ بھوک لگی ہے اچھا پھر ابوالھثیم بن تیھان انصاری کے گھر چلو وہ ایسا آدمی تھا کہ اس کی کھجوریں بہت تھیں بکریاں بہت تھیں اور ان کے نوکر چاکر بھی نہیں تھے جب گئے تو وہ گھر پر نہیں تھے انہوں نے پوچھا ان کی اہلیہ سے کہ آپ کے شوہر کہاں ہیں؟ اس نے بتایا کہ وہ ہمارے لئے میٹھا پانی بھرنے گئے ہیں۔ وہ لوگ کچھ زیادہ دیر نہیں ٹھہرے تھے کہ ابوالھثیم پانی کی مشک لیے پہنچ گئے اس نے مشک رکھ دی اور وہ آ کر حضور کو سینے سے لگا کر ملنے لگا اور یہ کہا کہ میرے ماں باپ آپ کے اوپر قربان جائیں اور وہ انہیں لے کر باغ میں چلا گیا اور ان کے لئے دسترخوان بچھا دیا پھر ایک کھجور کے درخت کے پاس سے جا کر ایک خوشہ کاٹ کر لایا وہ لا کر آگے رکھ دیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ ہمارے لئے تازہ پکی ہوئی کھجور الگ نہیں کریں گے۔ وہ بولے یا رسول اللہ میں نے چاہا ہے کہ آپ لوگ خود جو پسند کریں وہ کھائیں پکی ہوئی تازہ یا آدھی پکی اور آدھی کچی چنانچہ انہوں نے وہ کھجوریں کھائیں اور وہ پانی پیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ قسم ہے اس کی جس کے قبضے میں میری جان ہے قیامت کے دن تم سے ان نعمتوں کے بارے میں ضرور سوال ہوگا یہ ٹھنڈا سایہ یہ تازہ کھجوریں اور ٹھنڈا پانی۔ پھر ابوالھثیم چلے گئے تا کہ ان کے لئے کھانا لائیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھنا دودھ والا جانور ذبح نہ کرنا۔ لہذا اس نے ایک بکرا یا بکری کا بچہ ان کے لئے ذبح کیا۔ اور اسے پکا کر ان کے پاس لے آیا انہوں نے اسے کھایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تیرا کوئی نوکر بھی ہے؟ اس نے بتلایا کہ نہیں ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب ہمارے پاس کچھ قیدی آ جائیں تو تم آنا میرے پاس۔ (ہم آپ کو خادم دے دیں گے) پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو قیدی آگئے تھے جن کے ساتھ تیسرا کوئی نہیں تھا۔ اور آپ کے پاس ابوالھثیم بھی آگئے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دونوں میں سے کوئی ایک چن لو اس نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ ہی میرے لئے منتخب فرمائیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس سے مشورہ طلب کیا جائے وہ امین ہوتا ہے۔ یہ لے لیجئے۔ میں نے اسے دیکھا ہے کہ یہ نماز پڑھتا ہے۔ اس کے ساتھ تم اچھا سلوک کرنا۔ ابوالھثیم وہ خادم لے کر اپنی بیوی کے پاس پہنچے اور اس کو جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بتائی۔ ان کی بیوی نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تم سے کہا ہے تم اس بات تک نہیں پہنچ سکو گے ہاں مگر یہ کہ تم اس کو آزاد کر دو انہوں نے کہا کہ یہ آزاد ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ نے کوئی نبی یا اس کا نائب ایسا نہیں بھیجا مگر اس کے لئے دو رازدان ہوتے تھے ایک راز دان دوست ان کو امر بالمعروف کرتا اور نہی عن المنکر کرتا تو دوسر ار از دان دوست ان کو نقصان پہنچانے میں کمی نہ کرتا جو شخص برے دوست یا راز دان سے بچایا گیا وہ واقعی بچالیا گیا اس کو ابومجاہد نے عبداللہ بن کیسان سے روایت کیا ہے عکرمہ سے اس نے ابن عباس سے پھر اس نے حدیث کو ذکر کیا ہے کئی اضافوں کے ساتھ۔ انہوں نے ایوب کہا ابوالھثیم کے بدلے میں اور اضافے میں سے یہ ہے کہ انہوں نے کہا کہ یہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں تم سے قیامت کے دن پوچھا جائے گا۔ یہ بات اصحاب رسول پر شاق گذری۔ لہذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں جب جب تمہیں ایسی نعمت ملے تو تو یہ کہہ کر ہاتھ لگاؤ: بسم اللّٰه وبركة اللّٰه۔ اللہ کے نام کے ساتھ اور اس کی برکت کے ساتھ استعمال کرتا ہوں۔ اور کھا کر کہے اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں پیٹ بھر کھلا دیا اورخوب سیراب کیا اور ہمارے اوپر انعام فرمایا۔ یہ دعا کرنا شکر کو پورا کر دے گا اور سوال کو روک دے گا۔

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4604

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4605

4605 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا عمرو بن إسحاق السكني نا أبو هارون سهل بن شادويه نا عمر بن محمد بن حسين نا أبي نا أبو حمزة عن يزيد بن أبي خالد عن زيد الجذري عن شرحبيل المدني عن جابر بن عبد الله قال : صنع أبو الهيثم بن التيهان طعاما فدعا رسول الله صلى الله عليه و سلم و كنا معه فلما أكلنا و شربنا قال : أثيبوا أخاكم قالوا : يا رسول الله فأي شيء نثيبه قال : أدعو له بالبركة فإن الرجل إذا أكل طعامه و شرب شرابه ثم دعى له بالبركة فذلك ثوابه منهم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو عمرو بن اسحٰق سکنی نے ان کو ابوهارون سہل بن سادویہ نے ان کو عمرو بن محمد بن حسین نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابوحمزہ نے ان کو یزید بن ابو خالد نے ان کو زید جذری نے ان کو شرحبیل وانی نے ان کو جابر بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ ابولھثیم بن تیھان نے کھانا تیار کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی ہم لوگ آپ کے ساتھ تھے ہم لوگوں نے کھایا پیا۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائی کو ثواب اور اجر و بدلہ دو لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ کون سی چیز کو معاوضہ میں دیں فرمایا کہ تم لوگ اس کے لئے برکت کی دعا کرو اس لئے کہ کوئی آدمی جب کسی کے ہاں کھائے پیئے کسی کا کھانا اور پینا پھر اس کے لئے برکت کی دعا کرے یہی ان کی طرف سے اس کا ثواب اور بدلہ ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← شرحبيل المدني ← زيد الجذري ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ← أَبُو حَمْزَةَ ← أَبِي ← عمر بن محمد بن حسين ← أبو هارون سهل بن شادويه ← عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ السَّكَنِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4605

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4606

4606 - أخبرنا أبو نصر عمر بن عبد العزيز بن عمر بن قتادة أنا أبو منصور العباس بن الفضل البصروي نا أحمد بن نجدة نا سعيد بن منصور نا هشيم أنا عمر بن أبي سلمة عن أبيه قال : خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات يوم فجلس ثم جاء أبو بكر فجلس إليه فقال : ما أخرجك يا رسول الله ؟ قال : الجوع قال : و أنا ما أخرجني إلا الجوع فجاء عمر فقال مثل ذلك : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : انطلقوا بنا إلى منزل أبي الهيثم بن التيهان فأتوا منزله فلم يوافقوه و أذنت له امرأته فدخلوا فجاء أبو الهيثم فصرم لهم عذقا من نخلة ثم قدم إليهم فأكلوا من الرطب و البسر فذهب يذبح لهم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تذبح لنا ذات در فأتى باللحم فأكلوا من اللحم و الرطب و البسر ثم شربوا من الماء فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لتسألن عن هذا النعيم و إن هذا من النعيم الذي تسألون عنه ثم قال لأبي الهيثم إذا جاءنا سبي فأتنا نأمر لك بخادم فأتى بسبي فجاء أبو الهيثم فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : اختر أيهم شئت فقال : يا رسول الله اختر لي فقال : المستشار مؤتمن مرتين أو ثلاثا ثم قال : خذ هذا و استوصي به خيرا فإني رأيته يصلي و إني نهيت عن قتل المصلين فأخذه أبو الهيثم فانطلق إلى منزله ثم قال : رسول الله صلى الله عليه و سلم أوصاني بك خيرا فأنت حر لوجه الله قال : و نا هيثم عن أبي إسحاق الكوفي عمن حدثه أن أبا الهيثم قال له : أنت حر لوجه الله و لك سهم من مالي

ہمیں خبر دی ابونصر عمر بن عبدالعزیز بن عمر بن قتادہ نے ان کو ابومنصور عباس بن فضل بصروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو ہشیم نے ان کو عمر بن ابوسلمہ نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور بیٹھے پھر ابوبکر آگئے وہ بھی ان کے پاس بیٹھ گئے آپ سے پوچھا کہ کس بات نے آپ کو نکالا اے اللہ کے رسول؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بھوک نے،ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ مجھے بھی بھوک نے ہی نکالا ہے پھر عمر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے بھی ایسی ہی بات کی رسول اللہ نے فرمایا کہ چلو ہم ابوالھثیم کے گھر چلیں۔ چنانچہ یہ تینوں اس کے گھر پہنچے مگر وہ موجود نہیں تھا مگر اس کی بیوی نے اجازت دی اور یہ لوگ اندر جاکر بیٹھ گئے اتنے میں ابوالھثیم آگئے اور جاکر ان کے لئے کھجور کا خوشہ کاٹ کر لے آئے انہوں نے اس سے تازہ کھجوریں اور کچی کھجوریں کھائیں۔ اور پھر وہ جاکر ان کے لئے کچھ ذبح کرنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع کر دیا کہ ہماری وجہ سے کوئی دودھ والا جانور ذبح نہ کرنا چنانچہ وہ گوشت پکا کر لے آیا اور تازہ کھجوریں اور نیم پکی کھجوریں انہوں نے کھانا کھایا اور پانی پیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگوں سے ان نعمتوں کے بارے میں ضرور سوال ہوگا بے شک یہ ان نعمتوں میں سے ہیں جن کے بارے میں تم سے سوال ہوگا۔ پھر ابوالھثیم سے کہا کہ جب ہمارے پاس قیدی آجائیں تو تم ہمارے پاس آنا ہم تیرے لئے خادم کا آڈر کر دیں گے۔ جب قیدی آگیا تو ابوالھثیم گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اپنے لئے ان میں سے جون سا تم چاہو منتخب کر لو اس نے کہا یا رسول اللہ آپ میرے لئے منتخب فرما دیں۔ آپ نے فرمایا مشورہ جس سے مانگا جائے وہ امین ہوتا ہے دو یا تین بار فرمایا پھر فرمایا کہ یہ قیدی تم لے لو اور اس کے بارے میں مجھ سے بھلائی کرنے کی وصیت قبول کر لو میں نے اس کو نماز پڑھتے دیکھا ہے مجھے تو نماز پڑھنے والوں کے قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ ابوالھثیم نے ان کو لے لیا اور اپنی منزل کی طرف چل دیا۔ وہاں جا کر بولا کہ بے شک رسول اللہ نے مجھے تیرے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت فرمائی ہے پس تو اللہ کی رضا کے لئے آزاد ہے۔ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے ھثیم نے ان کو ابواسحٰق کوفی نے اس سے جس نے اس کو حدیث بیان کی تھی کہ ابوالھثیم نے اس سے کہا کہ آپ اللہ کے واسطے آزاد ہیں اور آپ کے لئے میرے مال میں سے حصہ ہے۔

أَبِيهِ ← عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أبو منصور العباس بن الفضل البصروي ← أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4606

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4607

4607 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو محمد جعفر بن محمد بن نصير نا أحمد بن محمد بن الحجاج بن رشدين نا محمد بن وهب الدمشقي نا عبد الله بن العلاء بن زبر ح و أخبرنا أبو علي الروذباري نا أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم بن راهوية النعماني نا عبيد الله بن عبد الواحد البزاز أنا هشام بن عمار نا الوليد نا عبد الله بن العلاء بن زبر عن الضحاك بن عبد الرحمن بن عرزب عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أول ما يحاسب به العدو يوم القيامة أن يقال له ألم أصح جسمك و أرويك من الماء البارد و لفظ حديثهما سواء غير أن في رواية أبي عبد الله قال : حدثني الضحاك بن عبد الله بن عرزب

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوجعفر بن نصیر نے ان کو احمد بن محمد بن حجاج بن رشید بن ان کو محمد بن وھب دمشقی نے ان کو عبداللہ بن علآء بن زبر نے ’’ح‘‘۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو علی روز باری نے ان کو ابویعقوب اسحٰق بن ابراہیم بن راھویہ نعمانی نے ان کو عبداللہ بن عبدالواحد بزاز نے ان کو ہشام بن عمار نے ان کو ولید نے ان کو عبداللہ بن علاء بن زبر نے ان کو ضحاک بن عبدالرحمٰن بن عرزب نے ان کو ابوہریرہ نے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا۔ پہلی چیز جس کے ساتھ بندہ حساب دے قیامت کے دن وہ یہ ہوگا کہ کیا میں نے آپ کو جسمانی صحت نہیں دی تھی۔ اور میں نے تجھےٹھنڈے پانی کے ساتھ سیراب نہیں کیا تھا۔ دونوں کی حدیث کے الفاظ برابر ہیں۔علاوہ اس کے کہ ابوعبداللہ کی روایت میں ہے کہ اس نے کہا مجھے حدیث بیان کی ہے ضحاک بن عبداللہ بن عرزب نے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الضَّحَّاكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَرْزَبٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ1 ← الْوَلِیْدُ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← عبيد الله بن عبد الواحد البزاز ← أبو يعقوب إسحاق بن إبراهيم بن راهويه النعماني ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ← و، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ1 ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ الدِّمَشْقِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَجَّاجِ بْنِ رِشْدِينَ ← أبو محمد جعفر بن محمد بن نصير ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4607

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4608

4608 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا ابن أبي قماش نا ابن عائشة عن حماد بن سلمة عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول الله عز و جل لعبده يوم القيامة : يا بن آدم ألم أحملك على الخيل و الإبل و أزواجك النساء و أجعلك تربع و ترأس فيقول : بلى أي رب فيقول : أين شكر ذلك

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ابوقماش نے ان کو ابن عائشہ نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو اسحٰق بن عبداللہ بن ابوطلحہ نے ان کو ابوصالح نے ان کو ابوہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بندے سے کہیں گے اے ابن آدم کیا میں نے تجھے گھوڑے اور اونٹ کی سواری نہیں دی تھی اور تجھے عورتوں کے ساتھ جوڑا بنایا تھا اور میں نے تجھے ایسا بنایا کہ تو مال غنیمت کی چوتھائی لیتا تھا (یا اللہ کی نعمتیں کھا کر پھیلتا تھا) اور سرداری کرتا تھا۔ وہ کہے گا کہ جی ہاں ایسے کیا تھا پھر اللہ تعالیٰ پوچھے گا ان تمام چیزوں کا شکر کیا ہے؟

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← ابْنُ عَائِشَةَ ← ابْنُ أَبِي قُمَاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4608

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4609

4609 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان نا أحمد بن عبيد نا تمتام نا عفان نا حماد بن سلمة عن عاصم عن ذكوان عن أبي صالح عن أبي هريرة : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله هذا حديث قد رواه سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة في حديث طويل أخرجه مسلم و قد أخرجناه في كتاب البعث و النثور

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو تمتام نے ان کو عفان نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو عاصم نے ان کو ذکوان نے ان کو ابوصالح نے ان کو ابوہریرہ نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کی مثل یہی حدیث ہے جس کو روایت کیا ہے سہیل بن ابوصالح نے اپنے والد سے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے طویل حدیث میں۔ اس کو مسلم نے تخریج کی ہے۔ اور ہم نے اس کو نقل کیا ہے کتاب البعث و النشور میں۔

أَبِيهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← ذَكْوَانَ، ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← تَمْتَامٌ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4609

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4610

4610 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن خالد بن خلي نا أحمد بن خالد نا إسرائيل عن أبي إسحاق عن أبي بردة قال : قدمت المدينة فلقيت عبد الله بن سلام فقال : ممن أنت ؟ قلت : ابن عبد الله قال : من عبد الله ؟ قلت : ابن قيس قال : مرحبا بابن أخي قال : إن الله عز و جل ليعد على عبده نعمه حتى يعد عليه فيما بعد يقول : سألتني فلانة أن أزواجكها باسمها فزوجتكها هذا موقوف

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن خالد بن خلی نے ان کو احمد بن خالد نے ان کو اسرائیل نے ان کو ابواسحٰق نے ان کو ابوبردہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں مدینے میں آیا اور حضرت عبداللہ بن سلام سے ملا انہوں نے پوچھا کہ تو کون ہے؟ میں نے کہا میں عبداللہ کا بیٹا ہوں انہوں نے پوچھا کہ کون عبداللہ؟ میں نے کہا کہ ابن قیس انہوں نے فرمایا مرحباً اے بھتیجے اس کے بعد فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اپنی نعمتیں گنوائے گا یہاں تک کہ گنوائے گا اس پر وہ جو بعد میں اور کہے گا کہ تم نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ میں فلاں کی تجھ سے شادی کرا دوں اس کا نام لے کر سو میں نے وہ کر دی تھی۔ یہ روایت موقوف ہے۔

مرحبا بابن أخي ← من عبد الله قلت ابن قيس ← ممن أنت قلت ابن عبد الله ← قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4610

chevron_left Previous
1…151617…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood