شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4599
4599 - أخبرنا أبو الحسين علي بن محمد بن بشران ببغداد نا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز نا محمد بن عبيد الله نا يونس بن محمد نا حماد عن عمار بن أبي عمار عن جابر بن عبد الله قال : كان اليهودي على أبي تمر فقتل يوم أحد و ترك حديقتين و تمر اليهودي يستوعب ما في الحديقتين فقال النبي صلى الله عليه و سلم لليهودي : هل لك أن تأخذ العام بعضه و تؤخر بعضه فأبى اليهودي فقال النبي صلى الله عليه و سلم : إذا حضر الجذاذ فأذني فجاء هو و أبو بكر و عمر فجعلت أجذ و يكال له من أسفل النخل و رسول الله صلى الله عليه و سلم يدعو بالبركة حتى وفيناه جميع حقه من أصغر الحديقتين فيما يحسب عمار قال : ثم أتيتهم برطب و ماء فأكلوا و شربوا فقال : هذا من النعيم الذي يسألون عنه
ہمیں خبر دی ابوالحسین علی بن محمد بن بشران نے بغداد میں ان کو ابوجعفر محمد بن عمر رزاز نے ان کو محمد بن عبیداللہ نے ان کو یونس بن محمد نے ان کو حماد نے ان کو عجار بن ابوعجار نے ان کو جابر بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ میرے والد کے ذمے ایک یہودی کی کھجور تھی میرے والد جنگ احد کے دن شہید ہوگئے تھے۔ اور دو باغ چھوڑے تھے۔ اور یہودی کے (قرضہ) کی کھجوروں نے پورے دونوں باغوں کے پھل کا احاطہ کر لیا۔ یعنی اس میں پورا ہوگیا۔ کھانے لئے کچھ نہیں بچ رہا تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سفارش کرتے ہوئے اس یہودی سے کہا کیا آپ ایسا کریں گے کہ کچھ اس سال سے لیں اور کچھ کو ملتوی کر کے اگلے سال تک مہلت دے دیں مگر یہودی نے مہلت دینے سے انکار کر دیا۔لہذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا کہ جب کھجوروں کے خوشے کاٹنے کا وقت آئے تو مجھے ضرور اطلاع کرنا میں نے اطلاع کی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہا تشریف لائے اور میں کھجور کاٹتا رہا اور یہودی کی ادائیگی کے لئے درختوں تلے ناپ کر یا بھر کر دی جاتی رہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے رہے برکت کے لئے۔ یہاں تک کہ ہم لوگوں نے اس کا قرضہ پورا کر دیا چھوٹے باغ کے پھلوں میں سے عمار کی گنتی کے مطابق کہتے ہیں میں پھر ان کے پاس تازہ کھجوریں اور پانی لے کر آیا انہوں نے کھجوریں کھائیں اور پانی پیا اور فرمایا۔ یہ ان نعمتوں میں سے ہے جن کے بارے میں تم لوگوں سے سوال ہوگا۔
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ← حَمَّادٌ، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أبو الحسين علي بن محمد بن بشران
Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4599
