Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4587

4587 - أخبرنا أبو محمد السكري أنا إسماعيل الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق عن أبيه قال : رأيت وهبا إذا قام في الوتر قال : الحمد لله الحمد الدائم السرمد حمدا لا يحصيه العدد و لا يقطعه الأبد و كما ينبغي لك أن تحمد و كما أنت له أهل و كما هو لك علينا حق

ہمیں خبر دی ابومحمد بکری نے ان کو اسماعیل صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا وہب کو کہ جب وہ وتر پڑھنے کھڑے ہوتے تو یوں کہتے۔ الحمدللّٰه الحمد الدائم السرمد حمد الا يحصيه العدد ولا يقطعه الا بدو كما ينبغي لك ان تحمد و كما انت له اهل و كما هو لك علينا حق.

رأيت وهبا إذا قام في الوتر ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ← أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4587

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4588

4588 - أخبرنا أبو القاسم الخرقي أنا أحمد بن سلمان نا ابن أبي الدنيا حدثني عيسى بن عبد الله التميمي أخبرني وليد بن صالح : حدثني شيخ من أهل المدينة قال : كان علي بن حسين بمنى فظهر من دعائه أن قال : كم من نعمة أنعمتها علي قل لك عندها شكري و كم من بلية ابتليتني بها قل لك عندها صبري فيا من قل شكري عند نعمه فلم يحرمني و يا من قل صبري عند بلائه فلم يخذلني و يا من رآني على المعاصي و الذنوب العظام فلم يهتك ستري و يا ذا المعروف الذي لا ينقضي و يا ذا النعم التي لا تحول و لا تزول صل على محمد و على آل محمد و اغفر لنا و ارحمنا

ہمیں خبر دی ابوالقاسم خرقی نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو ابن ابوالدنیا نے ان کو عیسیٰ بن عبداللہ تمیمی نے ان کو خبر دی ولید بن صالح نے ان کو اہل مدینہ کے ایک شیخ نے وہ کہتے ہیں کہ علی بن حسین فئی میں تھے لہذا انہوں نے انہیں بعض دعا ظاہر کی یہاں تک کہ انہوں نے کہا کتنی نعمتیں ہیں تیری جو تو نے میرے اوپر انعام کی ہیں۔ ان نعمتوں پر میں نے تیرا شکر قلیل ادا کیا ہے اور کتنی ہی تیری میرے لئے آزمائشیں ہیں ان پر تیرے لئے میں نے قلیل صبر کیا ہے پس اے وہ ذات جس کے پاس میرا شکر قلیل ہے پس مجھے محروم نہ کرنا اور اے وہ ذات جس کے نزدیک اس کے رزق پر میرا صبر قلیل ہے پس مجھے رسوا نہ کرنا بے یارو مددگار نہ چھوڑنا۔اے وہ ذات جس نے مجھے گناہ اور بڑے بڑے جرائم کرتے دیکھا ہے مگر میرا پردہ چاک نہیں کیا اور اے اچھائیوں کے مالک جو ختم نہیں ہوتیں۔ اور اے ان نعمتوں کے مالک جو نہ زائل ہوتی ہیں اور نہ ہی بدلتی ہیں تو رحمت نازل فرما آل محمد پر اور ہماری مغفرت فرما اور ہمارے اوپر رحم فرما۔

كان علي بن حسين بمنى فظهر من دعائه أن ← شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ← وَلِيدُ بْنُ صَالِحٍ ← عِيسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ التَّمِيمِيِّ، ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم الخرقي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4588

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4589

4589 - أخبرنا أبو القاسم الخرقي أنا أحمد بن سلمان نا عبد الله ابن أبي الدنيا حدثني أبو علي المدائني نا إبراهيم بن الحسن عن شيخ من قريش يكنى أبا جعفر عن مالك بن دينار قال : قرأت في بعض الكتب أن الله عز و جل يقول : يا ابن آدم خيري ينزل إليك و شرك يصعد إلي و أتحبب إليك بالنعم و تتبغض إلي بالمعاصي و لا يزال ملك كريم قد عرج إلي منك بعمل قبيح

ہمیں خبر دی ابوالقاسم خرقی نے ان کو احمد بن سلیمان نے ان کو عبداللہ بن ابوالدنیا نے ان کو ابوعلی مدائنی نے ان کو ابراہیم بن حسن نے ان کو ان کے شیخ نے قریش سے جن کی کنیت ابوجعفر ہے اس نے مالک بن دینار سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے بعض کتب میں پڑھا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔اے ابن آدم میری بھلائی تیری طرف اترتی ہے۔ اور تیرا شر اوپر میری طرف چڑھتا ہے اور میں تیری طرف نعمتیں پسند کرتا ہوں اور تو میرے ساتھ بعض رکھتا ہے گناہوں کے ذریعے اور ہمیشہ رہتا ہے ایک عزت والا فرشتہ جو تیری طرف سے میری طرف تیرے قبیح عمل لے کر چڑھتا رہتا ہے۔

في بعض الكتب أن الله عز و جل ← مَّالِکِ بْنِ دِیْنَارٍ ← شَيْخٍ مِنْ قُرَيْشٍ يُكْنَى أَبَا جَعْفَرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ ← أَبُو عَلِيٍّ الْمَدَائِنِيُّ، ← عبد الله ابن أبي الدنيا ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم الخرقي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4589

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4590

4590 - قال : و حدثني أبو علي قال : كنت أسمع جارا لي يقول في الليل : اللهم خيرك علي نازل و شري إليك صاعد و كم من ملك كريم قد صعد إليك بعمل قبيح أنت مع غناك عني تتحبب إلي بالنعم و أنا مع فقري إليك و فاقتي أتمقت بالمعاصي و أنت في ذلك تجرني و تسترني و ترزقني

وہ کہتے ہیں۔ مجھے حدیث بیان کی ہے ابوعلی نے وہ کہتے ہیں میں نے ایک پڑوسی کی دعا سنی جو کہ رات میں کہہ رہا تھا۔ اے اللہ تیری بھلائی میرے اوپر اترتی ہے اور میری برائی تیری طرف چڑھتی ہے۔اور کہتے ہیں محترم فرشتے ہیں جو تیری طرف قبیح عمل لے کر کے چڑھتے ہیں اور تو غناء کے باوجود میرے لئے نعمتیں ہی پسند فرماتا ہے اور میں باوجود یکہ تیری طرف محتاج ہوں اور اپنے فاقے کے باوجود گناہوں میں مبتلا ہوں اور آپ ہیں کہ مجھے اسی میں چلائے جاتے ہیں اور مجھ پر پردہ ڈالتے ہیں اور رزق دیے جاتے ہیں۔

كنت أسمع جارا لي ← أَبُو عَلِيٍّ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4590

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4591

4591 - أخبرنا أبو القاسم الخرقي أنا أحمد بن سلمان أنا ابن أبي الدنيا حدثني هارون بن سفيان حدثني عبد الله بن صالح بن مسلم العجلي حدثني ابن السماك قال : كتبت إلى محمد بن الحسن حين ولي القضاء بالرقة أما بعد فلتكن التقوى من بالك على حال و خف الله عز و جل في كل نعمة عليك لقلة الشكر عليها مع المعصية بها فإن في النعمة حجة و فيها تبعة فأما الحجة فيها كالمعصية بها و أما التبعة فيها فقلة الشكر عليها فعفا الله عنك كلما ضيعت من شكر أو ركبت من ذنب أو قصرت من حق

ہمیں خبر دی ابوالقاسم خرقی نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو ابن ابودنیا نے ان کو ہارون بن سفیان نے ان کو عبداللہ بن صالح بن مسلم عجلی نے ان کو ابن سماک نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے خط لکھا محمد بن حسن کی طرف جب وہ قاضی اور جج بنے۔ کہ بہر حال بعد حمد و صلوٰۃ کے تقویٰ تیرے حال سے ایک حال پر ہونا چاہئے۔ اور ہر نعمت میں اللہ سے ڈر اس پر شکر کی کمی وجہ سے اور ساتھ ساتھ معصیت کے ہونے کی وجہ سے ہونا چاہئے۔ بے شک نعمت میں حجت ہے اور اس میں تبعہ ہے بہر حال اس میں حجت تو وہ اس کے ساتھ معصیت ہے۔ اور تبعہ اس میں وہ اس پر قلت شکر ہے پس اللہ معاف کر دے گا تجھ سے جب بھی آپ شکر کو ضائع کریں گے یا کسی گناہ کا ارتکاب کر یں گے یا کسی حق میں کوتاہی کر یں گے۔ (یعنی تقویٰ اور خوف خدا بنیادی بات ہے۔)

ابن السماك ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحِ بْنِ مُسْلِمٍ الْعِجْلِيُّ، ← هَارُونَ بْنَ سُفْيَانَ ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم الخرقي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4591

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4592

4592 - أخبرنا أبو القاسم عبد الرحمن بن عبيد الله قال : سمعت أبا بكر محمد بن الحسن النقاش يقول : سمعت يوسف بن الحسن بالري يقول : سمعت ذا النون يقول في مناجاته كم من ليلة بارزتك يا سيدي بما استوجبت منك الحرمان و أسرفت بقبيح فعالي منك على الخذلان فسترت عيوبي عن الإخوان و تركتني مستورا بين الجيران لم تكأفني بجريرتي و لم تهتكني بسوء سريرتي فلك الحمد على صيانة جوارحي و لك الحمد على ترك إظهار فضائحي فأنا أقول كما قال الشيخ صالح : لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين

ہمیں خبر دی ابوالقاسم عبدالرحمٰن بن عبیداللہ نے انہوں نے کہا کہ میں نے سنا ابوبکر محمد بن حسن نقاش سے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا یوسف بن حسن سے رے میں انہوں نے سنا ذوالنون مصری سے وہ اپنی مناجات میں کہتے تھے۔ کتنی ایسی راتیں ہیں جن میں میں اے میرے مالک ان اعمال کے ساتھ تیرے سامنے آیا ہوں جو تیری طرف سے محرومی کو لازم کرتے ہیں۔اور میں نے اپنے برے اعمال کے ساتھ اسراف کیا ہے اور حد سے بڑھ گیا ہوں ذلت و رسوائی پر مگر آپ نے میرے عیبوں پر پردہ ڈالا ہے میرے ہم پیالہ وہم نوالہ لوگوں کے سامنے۔ اور مجھے مستور اور پوشیدہ رکھا ہے تو نے میرے پڑوسیوں کے سامنے اور میری جرأتوں پر میری گرفت نہیں کی اور میری بے عزتی نہیں کی تم نے میری خلوت کی برائی کی وجہ سے۔ پس تیرا شکر ہے میرے اعضاء کو سلامت رکھنے پر۔ اور تیرا شکر ہے میری فضیحتوں کو پوشیدہ رکھنے پر بس میں وہی کہتا ہوں جو کچھ کہا تھا ایک نیک بزرگ نے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو پاک ہے بے شک میں ظالم ہوں۔

ذَا النُّونِ، ← يوسف بن الحسن بالري ← أبا بكر محمد بن الحسن النقاش ← أبو القاسم عبد الرحمن بن عبيد الله

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4592

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4593

4593 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني نا أبو حامد الشاذلي بهراة قال : سمعت أبا بكر البقلاني يقول : سمعت عبد الصمد بن الفضل يقول : مكتوب في التوراة يا بن آدم أمرتك فتوانيت و نهيتك فتماديت و أعرضت عنك فما باليت يا من إذا مرض شكى و بكى و إذا عوفى تمرد و عصى

ہمیں خبر دی ہے ابومحمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابوحامد شاذلی نے ہراۃ میں وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوبکر بقلانی سے انہوں نے سنا عبدالصمد بن فضل سے وہ کہتے ہیں کہ تورات میں لکھا ہوا ہے۔اے ابن آدم میں نے تجھے حکم دیا تم نے نافرمانی کی اور میں نے تجھے روکا اور تم نے سرکشی کی اور میں نے تجھ سے منہ پھیرا تو تم نے بے پرواہی کی اے وہ انسان جب بیمار ہو جائے تو شکایت کرتا ہے اور روتا ہے اور جب عافیت مل جائے تو سرکشی کرتا ہے اور گناہ کرتا ہے۔

عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ ← أبا بكر البقلاني ← أبو حامد الشاذلي بهراة ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4593

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4594

4594 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت علي بن حمشاذ يقول : سمعت أبا القاسم عبد الرحمن بن محمد المذكر يقول : قال بعض الصالحين إلهي ما قدر طاعتي أن تقابل بها نعمك و ما قدر ذنوبي أن تقابل بها كرمك و الله إني لأرجو أن تكون ذنوبنا في كرمك أقل من طاعتنا في نعمك

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے انہوں نے سنا علی بن حمشاذ سے انہوں نے سنا ابوالقاسم عبدالرحمٰن بن محمد مذکر سے وہ کہتے ہیں کہ بعض صالحین نے کہا۔اے میرے معبود میری اطاعت کی اتنی قدر و منزلت نہیں ہے کہ اس سے تیری نعمتوں کا مقابلہ کیا جاسکے۔ اور میرے گناہ اتنے بھاری نہیں جو تیرے کرم کا مقابلہ کرسکیں اللہ کی قسم میں امید کرتا ہوں کہ ہمارے گناہ تیرے کرم کے مقابلے میں بہت کم ہوں گے تیری نعمتوں کے مقابلے میں ہمارے اطاعات سے۔

أبا القاسم عبد الرحمن بن محمد المذكر ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4594

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4595

4595 - و أخبرنا أبو القاسم أنا أحمد نا عبد الله حدثني محمد بن الحسين نا يزيد بن هارون نا المسعودي عن عون بن عبد الله قال : قال بعض الفقهاء إني روات في أمري فلم أر خيرا لا شر معه إلا المعافاة و الشكر فرب شاكر في بلاء و رب معافى غير شاكر فإذا سألتم الله عز و جل فسلوهما جميعا

ہمیں خبر دی ابوالقاسم نے ان کو احمد نے ان کو عبداللہ نے ان کومحمد بن حسین نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو مسعودی نے ان کو عون بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ بعض فقہاء نے کہا کہ بے شک میں اپنے معاملے میں شک میں واقع ہوں میں نہیں دیکھتا کوئی بھلائی اگر اس کے ساتھ کوئی نہ کوئی برائی ہے سوائے معافات کے اور شکر کے پس بہت سے شکر کرنے والے ہیں۔ مصائب میں اور بہت سے عافیت یافتہ غیر شاکر ہیں پس تم جب اللہ سے سوال کرو تو ان دونوں کا اکٹھے سوال کرو۔

عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الْمَسْعُودِيِّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَحْمَدُ، ← أَبُو الْقَاسِمِ‏.‏ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4595

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4596

4596 - أخبرنا أبو القاسم الخرقي أنا أحمد بن سلمان نا عبد الله ابن أبي الدنيا قال : قال سلمة بن شبيب : نا محمد بن منيب حدثني السري بن يحيى عن عنبسة بن الأزهر قال : كان محارب بن دثار قاضي أهل الكوفة قريب الجوار مني فربما سمعته في بعض الليل يقول و يرفع صوته : أنا الصغير الذي ربيته فلك الحمد و أنا الضعيف الذي قويته فلك الحمد و أنا الفقير الذي أغنيته فلك الحمد و أنا الصعلوك الذي مولته فلك الحمد و أنا الأعزب الذي زوجته فلك الحمد و أنا الساغب الذي أشبعته فلك الحمد و أنا العاري الذي كسوته فلك الحمد و أنا المسافر الذي صاحبته فلك الحمد و أنا الغائب الذي أويته فلك الحمد و أنا الراجل الذي حملته فلك الحمد ربنا و لك الحمد ربنا حمدا كثيرا على حمد

ہمیں خبر دی ابوالقاسم خرقی نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو عبداللہ بن ابوالدنیا نے وہ کہتے ہیں کہ کہا سلمہ بن شبیب نے ان کو محمد بن منیب نے ان کو سری بن یحییٰ نے ان کو عنبسہ بن ازہر نے وہ کہتے ہیں کہ محارب بن دثار اہل کوفہ کے قاضی اور میرے پڑوسی تھے بسا اوقات میں رات کے وقت ان کو یہ پڑھتے ہوئے سنتا تھا جو بلند آواز سے یہ دعا کر رہے ہوتے تھے۔ میں وہی صغیر ہوں جس کو آپ نے پالا تھا اس پر تیرا شکر ہے۔ اور میں وہی ضعیف ہوں جسے آپ نے قوی بنایا تھا اس پر بھی تیرا شکر ہے اور میں وہی فقیر ہو جسے آپ نے غنی کیا تھا اس پر بھی تیرا شکر ہے میں وہی محتاج درویش ہوں جسے آپ ہی نے سنبھالا تھا اس پر تیرا شکر ہے میں وہی مجرد اور چھڑا ہوں جس کو آپ نے بیوی عطا کی تھی اس پر بھی تیرا شکر ہے میں وہی بھوکا ہوں جسے آپ ہی نے پیٹ بھر کھلایا اس پر تیرا شکر ہے میں وہی ننگا ہوں جسے آپ ہی نے لباس پہنایا تھا اس پر تیرا شکر ہے میں پیدل چلنے والا تھا آپ ہی نے مجھے سواری عطا کی اے ہمارے رب حمد و شکر تیرے لئے ہی ہے ایسی حمد جو کثیر ہے ہر حمد سے۔

الغائب الذي أويته فلك الحمد و ← المسافر الذي صاحبته فلك الحمد و ← العاري الذي كسوته فلك الحمد و ← الساغب الذي أشبعته فلك الحمد و ← الأعزب الذي زوجته فلك الحمد و ← الصعلوك الذي مولته فلك الحمد و ← الفقير الذي أغنيته فلك الحمد و ← الضعيف الذي قويته فلك الحمد و ← الصغير الذي ربيته فلك الحمد و ← و يرفع صوته ← في بعض الليل ← كان محارب بن دثار قاضي أهل الكوفة قريب الجوار مني فربما ← عَنْبَسَةُ بْنُ الْأَزْهَرِ ← السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَی ← محمد بن منيب ← سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ← عبد الله ابن أبي الدنيا ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم الخرقي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4596

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4597

4597 - و أخبرنا أبو القاسم أنا أحمد نا عبد الله نا علي بن الجعد و إبراهيم بن سعيد نا سفيان بن عيينة عن محمد بن سوقة قال : مررت مع عون بن عبد الله بالكوفة على قصر الحجاج فقلت : لو رأيت ما نزل بنا ههنا زمن الحجاج فقال : مررت كأنك لم تدع إلى ضر مسك ارجع فاحمد الله و اشكره ألم تسمع إلى قوله عز و جل : { مر كأن لم يدعنا إلى ضر مسه }

ہمیں خبر دی ابوالقاسم نے ان کو احمد نے ان کو عبداللہ نے ان کو علی بن جعد نے اور ابراہیم بن سعید نے ان کو سفیان بن عینیہ نے ان کو محمد بن سوقہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں عون بن عبداللہ کے ساتھ کوفے میں قصر حجاج کے پاس سے گذرا میں نے کہا۔ کاش کہ آپ دیکھتے کہ ہم لوگوں پر کیا مصیبت ٹوٹی تھی یہاں پر حجاج کے زمانے میں۔اس نے کہا۔ کہ تم گندے ہو گویا کہ تم نے نہیں پکارا کسی ایسی مصیبت کی طرف جو تجھے پہنچی تھی۔ واپس چل پھر اللہ کی حمد بیان کر اور اس کا شکر کر کیا تم نے سنا نہیں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان۔ (ا) مـر كـان لـم يدعنا الىٰ ضـرمسـه. گذرتا ہے گویا کہ اس نے نہیں پکارا تھا ہمیں کسی تکلیف میں جو اس کو پہنچی تھی۔نوٹ.. سورۃ یونس کی اس آیت میں اللہ نے انسانوں کا شکوہ بیان کیا ہے کہ جب مصیبت پہنچتی ہے انسان بیٹھے لیٹے اور کھڑے کھڑے ہر حال میں ہمیں پکارتا ہے اور جب ہم وہ مصیبت دور کر دیتے ہیں تو یکایک وہ سب کچھ بھول بھلا کر ایسے ہو جاتا ہے جیسے اس نے کسی پریشانی میں ہمیں پکارا ہی نہیں تھا۔

مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← علي بن الجعد و إبراهيم بن سعيد ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَحْمَدُ، ← أَبُو الْقَاسِمِ‏.‏ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4597

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4598

4598 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر بن الحسن نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الحسن بن علي بن عفان نا أبو أسامة حدثني محمد يعني ابن عمر نا صفوان بن سليم عن محمود بن لبيد قال : لما نزلت هذه السورة : { ألهاكم التكاثر } قالوا : يا رسول الله صلى الله عليه و سلم عن أي نعيم نسئل ؟ و إنما هما الأسودان الماء و التمر و سيوفنا على رقابنا و العدو حاضر فعن ماذا نسأل ؟ قال : إن ذلك سيكون

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوبکر بن حسن نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن علی نے بن عفان نے ان کو ابواسامہ نے۔ ان کو محمد نے یعنی ابن عمر نے ان کو صفوان بن سلیم نے ان کو محمد بن بعید نے وہ کہتے ہیں یہ سورۃ نازل ہوئی الهـا كم التكاثر۔ تو لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ہم سے کون سی نعمتوں کے بارے میں سوال ہوگا؟ اور سوائے اس کے نہیں کہ وہ دونوں کالی چیزیں یا عام چیزیں ہیں پانی اور کھجوریں۔ ہماری تلواریں ہماری گردنوں پر ہیں اور دشمن حاضر ہے۔ پس ہم سے کس چیز کا سوال ہوگا ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک یہ عنقریب ہوگا۔

لما نزلت هذه السورة ألهاكم التكاثر ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← محمد يعني ابن عمر ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر بن الحسن

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4598

chevron_left Previous
1…141516…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood