Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4575

4575 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هاني نا عبدان بن محمد المروزي نا قتيبة بن سعيد نا جابر بن مرزوق و كان يعد من البدال عن عبد الله بن عبد العزيز عن أبي طوالة الأنصاري عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من نظر في الدين إلى من فوقه و في الدنيا إلى من تحته كتبه الله صابرا شاكرا و من نظر في الدين إلى من تحته و نظر في الدنيا إلى من فوقه لم يكتبه الله صابرا و لا شاكرا

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوجعفر محمد بن صالح بن ہانی نے ان کو عبدان بن محمد مروزی نے ان کو قتیبہ بن سعید نے ان کو جابر بن مرزوق نے اور وہ ابدالوں میں شمار ہوتے تھے انہوں نے عبداللہ بن عبدالعزیز سے ان کو ابوطوالہ انصاری نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص دین کے معاملے میں اپنے سے اوپر والے کو دیکھتا ہے اور دنیاوی معاملے اپنے سے نیچے والے کو دیکھتا ہے اللہ تعالیٰ ان کو صبر کرنے اور شکر کرنے والا لکھ دیتے ہیں اور جو شخص دین میں اپنے سے کمتر پر نظر رکھتا ہے اور دنیا میں اپنے سے برتر پر نظر رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو صابر و شاکر نہیں لکھتے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي طُوَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← جابر بن مرزوق و كان يعد من البدال ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4575

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4576

4576 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا عمرو بن محمد بن منصور نا يوسف بن يعقوب القاضي أنا عمرو بن مرزوق أنا مسلم بن حبان عن أبيه عن أبي هريرة : أنه كان يقول نشأت يتيما و هاجرت مسكينا و كنت أجيرا لابن عفان و ابنه غزوان على طعام بطني و عقبة رجلي أحطب لهم إذا نزلوا و أحدوا بهم إذا ساروا فالحمد لله الذي جعل الدين قواما و أبا هريرة إماما

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو عمرو بن محمد بن منصور نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو عمرو بن مرزوق نے ان کو مسلم بن حیان نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ بے شک وہ کہتے تھے کہ میں یتیم ہوکر پلا ہوں اور مسکین ہوکر ہجرت کی ہے اور میں پیٹ بھر کھانے کی اجرت پر ابن عفان اور ابنۃ غزوان کے ہاں کام کرتا تھا اور پاؤں کی جوتی کی شرط پر، جب وہ لوگ آ کر اترتے تو ان کے لئے لکڑیاں جمع کرتا تھا اور جب وہ جاتے تو ان کو رخصت کرتا پس اللہ کا شکر ہے جس نے دین سیدھا بنایا اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو امام اور پیشوا بنایا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ ← أَبِيهِ ← مسلم بن حبان ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← عمرو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4576

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4577

4577 - أخبرنا أبو القاسم الخرقي أنا أحمد بن سلمان نا عبد الله بن أبي الدنيا حدثني محمد بن إدريس أنا محمد بن مخلد الحراني نا ضمرة عن ابن شوذب قال : قال عبد الله إن لله عز و جل على أهل النار منه فلو شاء أن يعذبهم بأشد النار لعذبهم

ہمیں خبر دی ابوالقاسم حرفی نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو عبداللہ بن ابوالدنیا نے ان کو حدیث بیان کی ہے محمد بن ادریس نے ان کو محمد بن مخلد حرانی نے ان کو حمزہ نے ان کو ابن شوذب نے وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ نے کہا بے شک اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل جہنم پر احسان ہے اگر وہ چاہتا تو ان کو آگ کے عذاب سے بھی سخت ترین عذاب دیتا۔

ابْنِ شَوْذَبٍ ← ضَمْرَةُ ← محمد بن مخلد الحراني ← مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ: ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم الخرقي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4577

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4578

4578 - أخبرنا أبو القاسم الخرقي أنا أحمد بن سلمان نا عبد الله بن أبي الدنيا أنا الحسن بن الصباح نا أبو يحيى الذهلي قال : قال سليمان يعني التيمي إن الله عز و جل أنعم على العباد قدره و كلفهم الشكر على قدرهم

ہمیں خبر دی ابوالقاسم خرقی نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو عبداللہ بن ابوالدنیا نے ان کو حسن بن صباح نے ان کو ابویحییٰ ذہلی نے وہ کہتے ہیں کہا سلیمان تیمی نے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نعمتیں اپنے حساب اور اپنے معیار کے مطابق عطا کی ہیں اور ان کو شکر کا مکلّف ان کے حساب سے اور ان کی طاقت کے مطابق بنایا ہے۔

أبو يحيى الذهلي ← الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم الخرقي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4578

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4579

4579 - و أخبرنا أبو القاسم أنا أحمد نا عبد الله نا عبيد الله بن عمر نا معاوية بن عبد الكريم نا الحسن قال : قال داود عليه السلام إلهي لو أن لكل شعرة مني لسانين يسبحانك الليل و النهار ما قضتا نعمة من نعمك

ہمیں خبر دی ہے ابوالقاسم نے ان کو احمد نے ان کو عبداللہ نے ان کو عبیداللہ بن عمر نے ان کو معاویہ بن عبدالکریم نے ان کو حسن نے وہ کہتے ہیں حضرت داؤد علیہ السلام نے دعا کی تھی۔ اے میرے معبود اگر میرے ہر بال کی جگہ دو دو زبانیں ہوتیں اور وہ رات دن تیری تسبیح کرتیں تو بھی وہ تیری نعمتوں میں سے کسی ایک نعمت کی قدر نہ کر پاتیں (اور اس کا شکر ادا نہ کرسکتیں۔)

الْحَسَنِ، ← معاوية بن عبد الكريم ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَحْمَدُ، ← أَبُو الْقَاسِمِ‏.‏ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4579

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4580

4580 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى نا أبو العباس هو الأصم نا محمد بن إسحاق نا يحيى بن معين نا عبد المجيد بن عبد العزيز بن أبي رواد قال : قال أبي عن صدقة بن يسار قال : كان داود عليه السلام في محرابه فأبصر دودة صغيرة قال : ففكر في خلقها و قال ما يعبأ الله جل ذكره بخلق هذه قال فأنطقها الله عز و جل فقالت : يا داود أتعجبك نفسك لأنا على قدر ما أتاني الله عز و جل أذكر لله و اشكر له منك على ما أتاك الله قال الله عز و جل : { وإن من شيء إلا يسبح بحمده }

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابوالعباس نے اصم نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو یحییٰ بن معین نے ان کو عبدالمجید بن عبدالعزیز بن ابوداؤد نے وہ کہتے ہیں یہ میرے والد نے کہا ان کو صدقہ بن یسار نے کہا کہ حضرت داؤد علیہ السلام اپنے محراب میں اور حجرے میں عبادت کر رہے تھے کہ انہوں نے وہاں ایک چھوٹا سا کیڑا دیکھا اور وہ اس کی تخلیق کے بارے میں سوچنے لگے۔ کہ اللہ تعالیٰ کیا پرواہ کریں گے کہ اس حقیر سے کیڑے کی پیدائش کو بھی یاد کریں لہذا اللہ نے اس کو گویائی عطا کی اور اس نے کہا اے ابوداؤد کیا تیرا نفس حیران ہے کہ ہم اس اندازے اور حالت پر ہیں جو اللہ نے ہمیں عطا کیا ہے۔ میں تجھ سے اللہ کا ذکر بھی زیادہ کرتا ہوں اور شکر بھی زیادہ کرتا ہوں ان نعمتوں کے اعتبار سے جو اس نے تجھے عطا کی ہیں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ وان من شيئي الا يسبح بحمده۔ ہر چیز تسبیح کرتی ہے اللہ کی حمد کے ساتھ۔

عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4580

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4581

4581 - و أخبرنا أبو القاسم الخرقي أنا أحمد بن سلمان نا عبد الله قال محمود بن غيلان نا أبو أسامة حدثني خالد بن مخدوج أبو روح قال : سمعت أنس بن مالك يقول : إن داود نبي الله صلى الله عليه و سلم ظن في نفسه أن أحدا لم يمدح خالقه أفضل مما مدحه فإن ملكا نزل و هو قاعد في المحراب و البركة إلى جنبه فقال : يا داود افهم إلى ما يصوت الضفدع فأنصت داود إذا الضفدع يمدحه بمدحة لم يمدحه بها داود فقال له الملك : كيف ترى يا داود ؟ فهمت ما قالت ؟ قال : نعم قال : ماذا قالت ؟ قال : قالت : سبحانك و بحمدك منتهى علمك يا رب قال داود : لا و الذي جعلني نبيه إني لم أمدحه بهذا

ہمیں خبر دی ابوالقاسم خرقی نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ کہا محمود بن غیلان نے ان کو ابواسامہ نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو حدیث بیان کی ہے خالد بن محذوج ابوروح نے انہوں نے سنا انس بن مالک سے وہ کہتے ہیں کہ داؤد علیہ السلام نے دل میں خیال کیا کہ کسی نے اپنے خالق کی اتنی مدح نہیں کی ہوگی اس سے زیادہ افضل جو انہوں نے کی ہے چنانچہ ایک فرشتہ اتر اور وہ اپنے حجرے میں بیٹھے تھے وہ بھی ان کے پہلو میں دو زانوں ہو کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے اے داؤد ذرا توجہ کیجئے ایک مینڈک کی آواز کی طرف کیا سمجھ میں آ رہی ہے۔ حضرت داؤد خاموش ہوگئے تو (محسوس ہوا) کہ مینڈک ایسی مدح کر رہا ہے اللہ کی جو داؤد علیہ السلام بھی نہیں کر پا رہے تھے فرشتے نے ان سے کہا کیا دیکھتے ہو اے داؤد؟ کچھ سمجھے آپ کیا اس نے کہا ہے؟ بولے جی ہاں۔ اس نے پوچھا کہ کیا کہہ رہی ہے داؤد علیہ السلام نے کہا کہ وہ کہہ رہی ہے سبحانک و بحمدک منتهی علمک یا رب۔ داؤد علیہ السلام نے کہا کہ نہیں قسم ہے اس کی جس نے مجھے نبی بنایا ہے میں اس طرح اس کی حمد نہیں کر رہا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← خالد بن مخدوج أبو روح ← أَبُو أُسَامَةَ ← مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم الخرقي ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4581

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4582

4582 - أخبرنا أبو القاسم قال : أخبرنا أحمد قال : نا عبد الله نا علي بن الجعد قال : سمعت سفيان بن سعيد و ذكر داود النبي صلى الله عليه و سلم فقال : الحمد لله حمدا كما ينبغي لكرم وجه ربي و عز جلاله فأوحى إليه يا داود أتعبت الملائكة

ہمیں خبر دی ابوالقاسم نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے احمد نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے عبداللہ نے ان کو علی بن جعد نے انہوں نے سنا سفیان بن سعید سے اور ذکر کیا اللہ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام کا انہوں نے کہا: الحمدللّٰه حمداً كما ينبغي لكرم وجه ربي و عزجلاله۔ اللہ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ آپ نے فرشتوں کو مشقت میں ڈال دیا ہے۔

داود النبي صلى الله عليه و سلم ← سفيان بن سعيد و ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَحْمَدُ، ← أَبُو الْقَاسِمِ‏.‏

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4582

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4583

4583 - أخبرنا أبو القاسم الخرقي نا أحمد بن سلمان نا ابن أبي الدنيا نا أحمد بن إبراهيم نا إسماعيل بن إبراهيم حدثني روح بن القاسم : أن رجلا من أهله تنسك فقال : لا أكل الخبيص أو الفالوذج لا أقوم بشكره قال : فلقيت الحسن فقلت له في ذلك فقال الحسن : هذا أحمق هل يقوم بشكر الماء البارد قال الشيخ أحمد رضي الله عنه : هذا الذي قاله الحسن رحمه الله و إيانا في عجز الخلق عن القيام بشكر أدنى نعمة من نعم الله عز و جل صحيح و قد استحب بعض أهل السلف الاقتصاد في اللباس و الطعام علما منهم بأنهم إذا كانوا عاجزين عن القيام بشكر أدنى نعمة من نعم الله عز و جل كانوا عن القيام بشكر النعم العظام أعجز

ہمیں خبر دی ابوالقاسم خرقی نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو ابن ابوالدنیا نے ان کو احمد بن ابراہیم نے ان کو اسماعیل بن ابراہیم نے ان کو روح بن قاسم نے کہ ایک آدمی اس کے اہل میں سے تجھے بھول گیا اور کہنے لگا میں گھی اور کھجور کا حلوا نہیں کھاؤں گا یا کہا کہ فالودہ نہیں کھاؤں گا کہ میں اس کا شکر ادا نہیں کر سکوں گا۔ کہتے ہیں کہ میں حضرت حسن سے ملا اور کہا کہ فلاں شخص ایسے ایسے کہتا ہے انہوں نے فرمایا کہ یہ بے وقوف ہے کیا وہ ٹھنڈے پانی کا شکر ادا کر لیتا ہے۔ شیخ احمد بیہقی نے فرمایا کہ: یہ وہ بات ہے جو حضرت حسن بصری نے فرمائی اس بندے کو عموماً اور خصوصاً ہم لوگوں کو کیونکہ ہم تو اللہ کی نعمتوں میں سے ادنیٰ نعمت کا شکر ادا کرنے سے بھی ساری مخلوق سے عاجز ترین ہیں۔ اور تحقیق بعض اہل سلف نے لباس میں ہویا طعام میں میانہ روی اختیار کرنے کو پسند کیا ہے۔ بوجہ اس بات کے علم کے کہ وہ جب اللہ کی نعمتوں میں سے ادنیٰ ترین نعمت کا شکر ادا کرنے سے قاصر ہیں تو اللہ کی بڑی بڑی نعمتوں کا شکر ادا کرنے سے تو سب سے زیادہ عاجز ہوں گے۔

الشيخ أحمد هذا الذي قاله الحسن و إيانا في عجز الخلق ← الحسن هذا أحمق هل يقوم بشكر الماء البارد ← فلقيت الحسن فقلت له في ذلك ← لا أكل الخبيص أو الفالوذج لا أقوم بشكره ← روح بن القاسم أن رجلا من أهله تنسك ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم الخرقي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4583

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4584

4584 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسن الطرائفي نا عثمان بن سعيد نا القعنبي : فيما قرأ على مالك أنه بلغه أن عيسى ابن مريم عليه السلام كان يقول : يا بني اسرائيل عليكم بالماء القراح و البقل البري و خبز الشعير و إياكم خبز البر فإنكم لن تقوموا بشكره

ہمیں خبر دی ابوزکریا بن ابواسحٰق نے ان کو ابوالحسن طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو قعنبی نے اس میں جو انہوں نے پڑھی مالک کے سامنے کہ ان کوخبر پہنچی ہے کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کہتے تھے اے بنی اسرائیل لازم پکڑو تم تازہ پانی کو اور میدانی سبزی کو اور جو کی روٹی کو اور بچاؤ تم اپنے آپ کو گندم کی روٹی سے کیونکہ تم اس کا شکر ادا نہیں کر سکو گے۔

القعنبي فيما قرأ على مالك أنه بلغه أن عيسى ابن مريم كان ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4584

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4585

4585 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو جعفر أحمد بن عبيد بن إبراهيم الحافظ بهمدان نا إبراهيم بن الحسين بن ديزيل نا إسحاق بن محمد الفروي نا سعيد بن مسلم بن بانك أظنه عن أبيه أنه سمع علي بن الحسين عن علي بن أبي طالب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من رضي الله باليسير من الرزق رضي الله عنه باليسير من العمل

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوجعفر احمد بن عبید بن ابراہیم حافظ نے ہمدان میں ان کو ابراہیم بن حسین بن دیزیل نے ان کو اسحٰق بن محمد فروی نے ان کو سعید بن مسلم بن بانک نے میرا خیال ہے کہ اس نے اپنے والد سے کہ اس نے سنا علی بن حسین سے اس نے علی بن ابوطالب سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا۔ جو شخص اللہ سے راضی ہو جائے کم رزق کے ساتھ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جائے گا تھوڑے سے عمل کے ساتھ۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← أَبِيهِ أَنَّهُ ← سعيد بن مسلم بن بانك أظنه ← إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِي ← إبراهيم بن الحسين بن ديزيل ← أبو جعفر أحمد بن عبيد بن إبراهيم الحافظ بهمدان ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4585

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4586

4586 - أخبرنا أبو القاسم الخرقي أنا أحمد بن سلمان نا عبد الله بن أبي الدنيا نا إسماعيل بن إبراهيم حدثني عبد المؤمن بن عبيد الله السدوسي قال : كان الحسن يقول إذا ابتدأ حديثه : الحمد لله اللهم ربنا لك الحمد بما خلقتنا و رزقتنا و هديتنا و علمتنا و أنقذتنا و فرجت عنا لك الحمد بالإسلام و القرآن و لك الحمد بالأهل و المال و المعافاة كبت عدونا و بسطت رزقنا و أظهرت أمننا و جمعت فرقتنا و أحسنت معاملتنا و من كل و الله ما سالناك ربنا أعطيتنا فلك الحمد على ذلك حمدا كثيرا لك الحمد بكل نعمة أنعمت بها علينا في قديم أو حديث أو سر أو علانية أو خاصة أو عامة أو حي أو ميت أو شاهد أو غائب لك الحمد حتى ترضى و لك الحمد إذا رضيت

ہمیں خبر دی ابوالقاسم خرقی نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو عبداللہ بن ابوالدنیا نے ان کو اسماعیل بن ابراہیم نے ان کو حدیث بیان کی عبدالمؤمن بن عبیداللہ سدوسی نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت بصری کہتے تھے جب وہ اپنی بات کا آغاز کرتے۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔اے اللہ اے ہمارے رب ہر شکر تیرے لئے ہے بوجہ اس کے کہ تو نے ہمیں پیدا فرمایا۔ اور ہمیں رزق عطا کیا اور ہمیں ہدایت عطا کی اور ہمیں علم دیا اور ہمیں بچایا اور ہمارے لئے فراخی فرمائی۔ تیرے لئے شکر ہے اسلام کے ساتھ اور قرآن کے ساتھ اور تیرے لئے شکر ہے اہل اور مال اور عافیت عطا کرنے پر اپنے سارے دشمن کو سرنگوں کیا اور ہمارا رزق فراخ کیا اور ہمارا امن طاہر کیا اور ہماری فرقت کو وحدت عطا کی۔اور ہماری عافیت کو بہتر بنایا اور ہر چیز کے بارے میں ہم نے آپ سے نہیں مانگا مگر اے ہمارے رب آپ نے ہی ہمیں سب کچھ عطا کیا پس تیرا شکر ہے اس پر کثیر شکر تیری ہی تعریف ہے ہر نعمت کے بدلے میں اور شکر ہے جو نعمت بھی تو نے ہمیں عطا کی ہے جو وہ پرانی ہو یا نئی ہو پوشیدہ ہو یا ظاہر ہو خاص ہو یا عام ہو زندہ ہو یا مردہ ہو موجود ہو یا غائب ہو سب پر تعریف تیرے لئے ہے حتیٰ کہ تو راضی ہو جائے اور تیری تعریف ہے اور تیرا شکر ہے جب تو راضی ہو جائے۔

كَانَ الْحَسَنُ ← عبد المؤمن بن عبيد الله السدوسي ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم الخرقي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4586

chevron_left Previous
1…131415…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood