Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4563

4563 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو جعفر الخلدي نا أبو العباس بن مسروق أنا مهنى بن يحيى نا بقية نا صفوان بن عمرو حدثني عبد الرحمن بن جبير بن نفير و شريح بن عبيد الحضرميان عن أبي الدرداء : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : قال الله عز و جل : ( و إني و الإنس و الجن في نبأ عظيم أخلق و يعبد غيري و أرزق و يشكر غيري )

ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوجعفر خلدی نے ان کو ابوالعباس بن مسروق نے ان کو مھنی بن یحییٰ نے ان کو بقیہ نے ان کو صفوان بن عمر نے ان کو عبدالرحمٰن بن جبیر بن نفیر نے اور شریح بن عبید کو حضرمیوں نے ان کو ابودرداء نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ بے شک میں اور جن و انس ایک عظیم خبر میں واقع ہیں۔ پیدا میں کرتا ہوں اور وہ عبادت میرے غیر کی کرتے ہیں۔ رزق میں دیتا ہوں اور وہ شکر میرے غیر کا کرتے ہیں۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← عبد الرحمن بن جبير بن نفير و شريح بن عبيد الحضرميان ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← بَقِيَّةُ ← مُهَنَّى بْنُ يَحْيَى، ← أبو العباس بن مسروق ← أبو جعفر الخلدي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4563

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4564

4564 - أخبرنا أبو القاسم الخرقي أنا أحمد بن سليمان أنا عبد الله بن أبي الدنيا حدثني محمد بن يحيى بن أبي حاتم الأزدي حدثني محمد بن هانىء عن بعض أصحابه قال : قال رجل لأبي حازم ما شكر العينين يا أبا حازم ؟ قال : إن رأيت بهما خيرا أعلنته و إن رأيت بهما شرا سترته قال : فما شكر الإذنين ؟ قال : إن سمعت بهما خيرا وعيته و إن سمعت بهما شرا أخفيته قال : فما شكر اليدين ؟ قال : لا تأخذ بهما ما ليس لهما و لا تمنع حقا الله عز و جل هو فيهما قال : ما شكر البطن ؟ قال : أن يكون أسفله طعاما و أعلاه علما قال : ما شكر الفرج قال : كما قال الله عز و جل : { إلا على أزواجهم أو ما ملكت أيمانهم فإنهم غير ملومين } إلى قوله : { فأولئك هم العادون } قال : فما شكر الرجلين ؟ قال : إن رأيت حيا غبطته استعملت بهما عمله و إن رأيت ميتا مقته كففتهما عن عمله و أنت شاكر الله عز و جل فأما من شكر بلسانه و لم يشكر بجميع أعضائه فمثله كمثل رجل له كساء فأخذ بطرفه و لم يلبسه فلم ينفعه ذاك من الحر و البرد و الثلج و المطر

ہمیں خبر دی ابوالقاسم خرقی نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو عبداللہ بن ابودنیا نے ان کو محمد بن یحییٰ بن ابوحاتم ازدی نے ان کو محمد بن ھانی نے ان کو ان کے بعض اصحاب نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ابوحازم سے پوچھا کہ دونوں آنکھ کا شکر کیا ہے اے ابوحازم؟ ابوحازم نے کہا کہ اگر تو ان کے ساتھ خیر کو دیکھے تو اس کو بیان کرے اور اگر شر کو دیکھے تو اس پر پردہ ڈالے۔ سائل نے پوچھا کہ دونوں کانوں کے لئے شکر کیا ہے؟ ابوحازم نے کہا کہ اگر تم ان کے ساتھ خیر کو سنو تو اس کو یاد رکھو اور اگر ان کے ساتھ بری بات سنو تو اس کو چھپا لو۔ سائل نے پوچھا کہ دونوں ہاتھوں کا شکر کیا ہے؟ ابوحازم نے کہا کہ ان کے ساتھ اس چیز کو نہ پکڑ جو ان کے لئے نہیں ہے اور ان میں جو اللہ کا حق ہے اس کو منع نہ کر۔ سائل نے پوچھا کہ: پیٹ کا شکر کیا ہے؟ ابوحازم نے کہا کہ اس کا نچلا حصہ طعام اور اوپر والا حصہ علم سے پر ہو۔ سائل نے پوچھا کہ شرم گاہ کا شکر کیا ہے؟ ابوحازم نے کہا: جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ الاعلى ازواجهم او ما ملكت ايمانهم فإنهم غير ملومين فمن ابتغىٰ ورآء ذالک فاؤلئك هم العادون . مگر اپنی منکوحہ بیبیوں کے یا مملوکہ لونڈیوں کے بے شک ان پر ملامت نہیں ہے جو شخص اس کے علاوہ طلب کرے وہی لوگ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ سائل نے پوچھا: دونوں ٹانگوں کا شکر کیا ہے؟ ابوحازم نے کہا: کہ اگر تو زندہ دیکھے تو ان پر رشک کر اور ان کو ان کے کام میں استعمال کر اور اگر تو مردہ دیکھے تو اس کو ناپسند کر اور ان کو ان کے کام سے روک لے حالانکہ تو اللہ کا شکر کرنے والا ہو جو شخص اپنی زبان کے ساتھ شکر کرے اور اپنے تمام اعضاء کے ساتھ (ان کو برمحل استعمال کرے) ان کا شکر نہ کرے اس کی مثال اس آدمی جیسی ہے جس کے پاس چادر ہے اس نے اس کا کنارہ پکڑ رکھا ہے مگر اس کو اوپر اوڑھتا نہیں ہے لہذا وہ اس کو گرمی سردی سے برف اور بارش سے بچانے کا فائدہ نہیں دیتی۔

رجل لأبي حازم ما شكر العينين يا أبا حازم ← بَعْضِ أَصْحَابِهِ ← محمد بن هانىء ← محمد بن يحيى بن أبي حاتم الأزدي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أبو القاسم الخرقي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4564

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4565

4565 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت محمد بن أحمد بن إبراهيم يقول : سمعت أحمد بن مزاحم يقول : سمعت أبا بكر الوراق يقول : لا يكمل الحمد إلا بخلال ثلاث محبة المنعم بالقلب و ابتغاء مرضاته و قضاء حقه بالسعي

ہمیں خبر دی ابوعبدالرحمٰن سلمی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن احمد بن ابراہیم سے انہوں نے احمد بن مزاحم سے انہوں نے سنا ابوبکر وراق سے وہ کہتے ہیں حمد تین صفات کے ساتھ مکمل ہوتی ہے ان کے سوا نہیں ہوتی، دل کے ساتھ انعام کرنے والے سے محبت کرنا۔ نیت اور ارادے کے ساتھ اس کی رضا تلاش کرنا۔ اور سعی و کوشش کے ساتھ اس کا حق ادا کرنا۔

أَبَا بَكْرٍ الْوَرَّاقَ، ← أَحْمَدَ بْنَ مُزَاحِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4565

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4566

4566 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت أحمد بن علي يقول : سمعت محمد بن الحسين يقول : سمعت علي بن عبد الحميد يقول : سمعت السري يقول : من أدى الفرائض و اجتنب المحارم و شكر النعمة عنده فما عليه لأحد سبيل و قال الشكر على ثلاثة أوجه : شكر اللسان و شكر البدن و شكر القلب فشكر القلب تعلم أن تعلم أن النعم كلها من الله عز و جل و شكر البدن أن لا تستعمل جارحة من جوارحك إلا في طاعته أن عافاه الله و شكر اللسان دوام الحمد عليه

ہمیں خبر دی ابوعبدالرحمٰن سلمی نے انہوں نے احمد بن علی سے انہوں نے محمد بن حسن سے۔ انہوں نے علی بن عبدالحمید سے انہوں نے سری سے وہ کہتے ہیں کہ جو شخص فرائض کو ادا کرے اور محارم سے اجتناب کرے اور نعمت کا شکر کرے جو اس کے پاس ہے اس پر کسی کا چارہ نہیں ہے اور کہا کہ شکر تین طریقوں پر ہوتا ہے۔ زبان کا شکر۔ بدن کا شکر۔ دل کا شکر۔ دل کا شکر یہ ہے کہ تو یہ جان لے کہ تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ اور بدن کا شکر یہ ہے کہ اپنے اعضاء میں سے کسی بھی عضو کو استعمال نہ کر مگر صرف اس کی اطاعت میں۔ اس کے بعد کہ اللہ نے اس کو عافیت دی ہے اور زبان کا شکر اللہ کی حمد کرنا دائمی طور پر۔

السَّرِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4566

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4567

4567 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو الحسن علي بن محمد المقري قالا أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا سعيد بن عثمان أبو عثمان قال : سمعت ذا النون يقول : ثلاثة من أعلام الشكر المقاربة من الإخوان في النعمة واستغنام قضاء الحوائج قبل العطية واستقلال الشكر بملاحظة المنة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوالحسن علی بن محمد مقری نے ان دونوں کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو سعید بن عثمان نے ان کو ابوعثمان نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ذوالنون مصری سے وہ کہتے ہیں تین چیزیں علامات شکر میں سے ہیں۔ نعمت میں مسلمان بھائیوں سے مقاربت۔ عطیہ سے قبل قضاء حاجات سے مستغنیٰ ہونا۔احسان کے ملاحظہ کرنے پر مستقل طور پر شکر ادا کرنا۔

ذَا النُّونِ، ← سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو عُثْمَانَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو الحسن علي بن محمد المقري

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4567

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4568

4568 - أخبرنا أبو سعد الماليني نا أبو محمد عبد الله بن محمد بن جعفر بن حيان قال : أملي علي أبو عبد الله عمرو بن عثمان المكي قال رأيت العلماء بهذا الشأن يرتبون الشكر في أحوال العبادة فيلزمون كل أهل حال شكرا من جنس حالهم و لا أعرف له معنى إلا أن الذي يجب على الشاكر أن يشكر الله من جنس النعمة ما كانت فإن كانت نعمة من جهة الدنيا بذل لله منها شكرا عليها و إن كانت من جهة الدين عمل لله زيادة في ذلك العمل شكرا لله على انعامه عليه بذلك لقد رأيت رجلا من أهل مصر و هو محمد بن عبد الحكم يصلي الضحى فكان كلما صلى ركعتين سجد سجدتين فسأله من يسأله ممن يأنس به عن السجدتين اللتين يسجدهما من كل ركعتين ماذا يريد بهما قال : شكر على ما أنعم بع علي من صلاة الركعتين

ہمیں خبر دی ابوسعید مالینی نے ان کو ابومحمد عبداللہ بن محمد بن جعفر بن حیان نے انہوں نے کہا کہ مجھ کو املاء کروایا ابوعبداللہ عمرو بن عثمان مکی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے علماء کو اس حال پر دیکھا ہے کہ وہ شکر کو مرتب کرتے ہیں عبادت کے احوال میں ہر اہل حال پر شکر کرنا لازم قرار دیتے ہیں اپنے حوال کی جنس میں سے۔ میں اس کا معنی نہیں سمجھ سکا سوائے اس کے کہ جو چیز شکر کرنے والے پر واجب ہے وہ یہ ہے کہ وہ اللہ کا شکر کرے جنس نعمت سے جو بھی ہو۔ اگر نعمت دنیا کی جہت سے ہو تو اس پر اسی سے شکر کرے اور اگر نعمت دین کی جہت سے ہے تو اللہ کے لئے عمل کرے اس عمل میں اضافہ کرتے ہوئے اللہ کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرنے کے لئے جو اس پر ہیں۔ میں نے اہل مصر کے ایک جوان کو دیکھا۔ وہ محمد بن عبیدالحکیم تھا کہ وہ چاشت کی نماز پڑھتے تھے۔ جب وہ دو رکعات پڑھ لیتے تو ہر دو رکعت کے بعد وہ دو سجدے کرتے کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ ہر دو رکعت کے بعد جو دو سجدے کرتے ہیں اس سے آپ کیا چاہتے ہیں۔اس نے کہا کہ میں اس نعمت کا شکر ادا کرنے کے لئے دو سجدے کرتا ہوں کہ اللہ نے مجھ کو دو رکعت پڑھنے کی توفیق دے کر مجھ پر انعام کیا ہے۔

أملي علي أبو عبد الله عمرو بن عثمان المكي ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ حَيَّانَ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4568

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4569

4569 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار أنا أحمد بن منصور أنا عبد الرزاق أنا معمر عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص بن الجشمي عن أبيه قال : رآني النبي صلى الله عليه و سلم و علي أطمار فقال : هل لك من مال ؟ قلت : نعم قال : من أي المال ؟ قال : قلت قد أتاني الله من الشاة و الإبل قال : فلتر نعمة الله و كرامته عليك

اور ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ابواسحٰق نے ان کو ابوالاحوص جشمی نے ان کو ان کے والد نے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا اور مجھ پر پرانی چادریں تھیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تیرا کوئی مال ہے؟ میں نے کہا کہ جی ہاں ہے۔ آپ نے پوچھا کہ کون سا مال ہے؟ میں نے بتایا کہ اللہ نے مجھے بکریاں اور اونٹ دیئے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ پھر آپ کے اوپر بھی اللہ کی وہ نعمت اور عزت نظر آنی چاہئے جو اس نے تیرے اوپر کی ہے۔ (یعنی لباس بھی اچھا پہنو۔)

فلتر نعمة الله و كرامته عليك ← قلت قد أتاني الله من الشاة و الإبل ← مِنْ أَيِّ الْمَالِ ← هل لك من مال قلت نعم ← رآني النبي صلى الله عليه و سلم و علي أطمار ← أَبِيهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ بْنِ الْجُشَمِيِّ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4569

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4570

4570 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو محمد عبد الله بن محمد بن السري الكرماني نا جعفر بن أحمد بن نصر الحافظ نا محمد بن الوليد البسري نا حيان بن هلال بن سليم بن حبان بن هلال سمعته يحدث عن أبي قلابة عن أنس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يا أيها الناس ابتاعوا أنفسكم من الله عز و جل فإن بخل أحدكم أن يعطي ماله الناس فليتصدق على نفسه فليأكل و ليلبس مما رزقه الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابومحمد عبداللہ بن محمد بن سری کرمانی نے ان کو جعفر بن احمد بن نصر نے ان کو حافظ نے ان کو محمد بن ولید بسری نے ان کو حیان بن ہلال بن سلیم بن حیان بن ہلال نے میں نے ان سے سنا کہ وہ حدیث بیان کرتے تھے ابوقلابہ سے اس نے انس سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اے لوگو خرید لو اللہ سے اپنے نفسوں کو اگر ایک تمہارا اس بات سے بخل کرتا ہے کہ وہ اپنا مال لوگوں کو دے۔اسے چاہئے کہ پھر وہ اپنے نفس پر صدقہ کرے اسے چاہئے کہ اللہ نے اس کو جو رزق دیا ہے اس میں سے خود کھائے اور پہنے (یعنی اچھا کھائے اور اچھا پہنے۔)

أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← حيان بن هلال بن سليم بن حبان بن هلال ← مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبُسْرِيُّ، ← جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ الْحَافِظُ ← أبو محمد عبد الله بن محمد بن السري الكرماني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4570

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4571

4571 - حدثنا الإمام أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان املاء أنا أبو عمرو إسماعيل بن نجيد نا محمد بن أيوب البجلي أنا أبو عمرو الحوضي نا همام نا قتادة عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : كلوا واشربوا و تصدقوا و البسوا في غير مخيلة و لا سرف فإن الله سبحانه يحب أن يرى نعمته على عبده

ہمیں حدیث بیان کی امام ابوالطیب سہل بن محمد بن سلیمان نے بطور املاء کے ان کو ابوعمرو اسماعیل بن نجید نے ان کو محمد بن ایوب بجلی نے ان کو ابوعمرو حوضی نے ان کو ہمام نے ان کو قتادہ نے ان کو عمرو بن شعیب نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہوں نے فرمایا۔ کہ کھاؤ اور پیو اور صدقہ کرو اور کپڑا پہنو بغیر کسی بخل کے اور کسی اسراف کے بے شک اللہ سبحانہ پسند فرماتا ہے کہ اس کی نعمت کا اثر اس کے بندے کے جسم پر بھی ظاہر ہو اور دیکھا جائے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أبو عمرو الحوضي ← محمد بن أيوب البجلي ← أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ ← الإمام أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان إملاء

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4571

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4572

4572 - أخبرنا أبو الحسن بن بشران أنا إسماعيل الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر عن قتادة قال : من شكر النعم إفشاؤها

ہمیں خبر دی ابوالحسن بن بشران نے ان کو اسماعیل بن صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو قتادہ نے انہوں نے فرمایا کہ نعمت کا اظہار کرنا اس کے شکر میں سے ہے۔ دنیاوی نعمتوں میں اپنے سے کمتر کو دیکھ:

من شكر النعم إفشاؤها ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ← أبو الحسن بن بشران

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4572

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4573

4573 - حدثنا أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي املاء أنا عبد الله بن محمد بن الحسن الشرقي أنا عبد الله بن هاشم أنا وكيع نا الأعمش ح أخبرنا أبو طاهر الفقيه نا أبو بكر بن عمر بن حفص الزاهد نا إبراهيم بن عبد الله العنبسي أنا وكيع عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : انظروا إلى من هو أسفل منكم و لا تنظروا إلى من فوقكم فإنه أجدر أن تزدروا نعمة الله عز و جل رواه مسلم في الصحيح عن أبي بكر عن وكيع

ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن حسین علوی نے بطور املاء سے ان کو عبداللہ بن محمد بن حسن شرقی نے ان کو عبداللہ بن ہاشم نے ان کو وکیع نے ان کو اعمش نے ”ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ہے ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر بن عمر بن حفص زاہد نے ان کو ابراہیم بن عبداللہ عنسی نے ان کو وکیع نے ان کو اعمش نے ان کو ابوصالح نے ان کو ابوہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اپنے پیچھے والے کی طرف دیکھو جو تم سے نیچے ہو اور اپنے آپ سے اوپر والے کو نہ دیکھو بے شک شان یہ ہے کہ مناسب ہے کہ اللہ کی نعمت کو چھوٹا نہ سمجھ۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ابوبکر سے اس نے وکیع سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← إبراهيم بن عبد الله العنبسي ← أبو بكر بن عمر بن حفص الزاهد ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ ھَاشِمٍ، ← عبد الله بن محمد بن الحسن الشرقي ← أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي إملاء

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4573

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4574

4574 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو الحسن علي بن محمد بن علي السقا الأسفرايني نا أبو العباس الأصم نا زكريا بن يحيى المروزي نا سفيان عن أبي الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة : يبلغ به النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا نظر أحدكم إلى من فضل عليه في المال و الجسم فلينظر إلى من هو دونه في المال و الجسم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوالحسن علی بن محمد بن علی السقا اسفرائنی نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو زکریا بن یحییٰ مروزی نے ان کو سفیان نے ان کو ابوالزناد نے اعرج نے ان کو ابوہریرہ نے وہ اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچانتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی آدمی کسی ایسے شخص کو دیکھے جو مالی اور جسمانی اعتبار سے اس سے بہتر ہے تو اسے چاہئے کہ وہ فوراً اس شخص کو دیکھے جو مالی اور جسمانی اعتبار سے اس سے کم تر ہو۔

أبي هريرة يبلغ به النبي صلى الله عليه و سلم ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سُفْيَانَ، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4574

chevron_left Previous
1…121314…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood