Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4551

4551 - سمعت أبا سعد بن أبي عثمان الزاهد يقول : سمعت الحسن بن عثمان الواعظ ببغداد يقول : سمعت أبا عبد الله الفأفاء يقول : سمعت أبا بكر الموسوس يقول : سمعت الجنيد يقول : سمعت السري السقطي يقول : سمعت معروف الكرخي يقول : ما أنعم الله على عبد بنعمه فاستظهر بنعمته على معاصيه إلا ابتلاه الله بفقد أعز الأشياء عليه

میں نے سنا ابوسعید بن ابو عثمان زاہد سے انہوں نے حسن بن عثمان الحفیظ سے بغداد میں انہوں نے سنا ابوعبداللہ فافاء سے انہوں نے ابو بکر موسوسں سے انہوں نے حضرت جنید سے انہوں نے سری سقطی سے انہوں نے معروف کرخی سے وہ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے پر اپنی نعمتوں میں سے کسی نعمت کا انعام کرتا ہے پھر وہ اس کی نعمت کے ساتھ اللہ کی نافرمانی پر غلبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے کوئی عزیز ترین شیئ کے ضیاع کے ساتھ آزمائش میں مبتلا کر دیتا ہے۔

معروف الكرخى ← السَريَّ السَّقَطيّ ← الجنيد ← أبا بكر الموسوس ← أبا عبد الله الفأفاء ← الحسن بن عثمان الواعظ ببغداد ← أبا سعد بن أبي عثمان الزاهد

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4551

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4552

4552 - سمعت أبا عبد الرحمن السلمي يقول : سمعت أبا الفضل بن حمدويه الشرمقاني يقول : سمعت علي بن عبد الحميد الغضائري يقول : سمعت السري يقول : من لم يعلم قدر النعم سلبها من حيث لا يعلم

میں نے سنا عبدالرحمٰن سلمی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو الفضل بن حمدویہ شرمقانی سے انہوں نے سنا علی بن عبدالحمیدی غضائری سے انہوں نے سنا سری سے وہ کہتے تھے۔ جو شخص نعمتوں کی قدر نہ پہچانے وہ ایسے طریقے سے ان کو چھین لیتا ہے جہاں سے وہ جان بھی نہیں سکتا۔

من لم يعلم قدر النعم سلبها من حيث لا يعلم ← السَّرِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الغَضَايِرِيُّ، ← أبا الفضل بن حمدويه الشرمقاني ← أبا عبد الرحمن السلمي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4552

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4553

4553 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا أبو داود نا يحيى بن موسى نا سفيان قال : قالوا للزهري ح و نا أبو سعيد قال و نا ابن أبي الدنيا نا أبو حذيفة الفزاري يعني عبد الله بن مروان بن معاوية نا سفيان بن عيينة قال : قيل للزهري ما الزهد ؟ قال : من لم يغلب الحرام صبره و لم يمنع الحلال شكره قال أبو سعيد : معناه الصبر على الحرام و الشكر على الحلال قال : و الشكر على الحلال الاعتراف لله به و استعمال النعمة في الطاعة

ہمیں خبر دی ابومحمد بن یوسف نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے ان کو ابوداؤد نے ان کو یحیٰ بن موسی ٰنے ان کو سفیان نے وہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے زہری سے کہا۔ ’’ح‘‘۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابوسعید نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے ابن ابوالدنیا نے ان کو ابوحذیفہ فزاری نے یعنی عبداللہ بن مروان بن معاویہ نے ان کو سفیان بن عینیہ نے وہ کہتے ہیں کہ زہری سے پوچھا گیا کہ زہد کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا جس کے صبر پر حرام غالب نہ ہو جس کو حلال اس کے شکر سے مانع نہ ہو۔ ابوسعید نے کہا اس کا مطلب ہے کہ حرام سے صبر کرنا (یعنی رکنا) اور حلال پر شکر کرنا اور فرمایا کہ حلال پر شکر کرنا اس بات کا اعتراف ہے کہ یہ اللہ ہی کے لئے ہے اور نعمت کو اطاعت میں استعمال کرنا۔

و الشكر على الحلال الاعتراف لله به و استعمال النعمة في الطاعة ← أبو سعيد معناه الصبر على الحرام و الشكر على الحلال ← من لم يغلب الحرام صبره و لم يمنع الحلال شكره ← قيل للزهري ما الزهد ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أبو حذيفة الفزاري يعني عبد الله بن مروان بن معاوية ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← و، ← أَبُو سَعِيدٍ ← و، ← للزهري ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَی بْنُ مُوسَی ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4553

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4554

4554 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا الحسين بن الحسن بن أيوب أنا أبو حاتم الرازي نا عبد الرحيم بن مطرف نا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن حسان بن عطية عن معاذ بن جبل أنه قال : إن أخوف ما أخاف عليكم أن تنظروا في نعمة ربكم عز و جل و أن تستقصروا في خشيتكم

ہمیں خبر دی ابوعلی روذباری نے ان کو حسین بن حسن بن ایوب نے ان کو ابو حاتم رازی نے ان کو عبدالرحیم بن مطرف نے ان کو عیسیٰ بن یونس نے ان کو اوزاعی نے ان کو حسان بن عطیہ نے ان کو معاذ بن جبل نے کہ انہوں نے کہا سب زیادہ ڈر خوف کی بات جس سے میں تمہارے بارے میں ڈرتا ہوں۔ یہ ہے کہ تم نظر کرو گے اپنے رب کی نعمت میں اور یہ کہ تم اپنے رب سے ڈرنے میں کوتاہی کرو گے۔

مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّهُ ← حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← عبد الرحيم بن مطرف ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4554

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4555

4555 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو الحسن محمد بن الحسن الكازري أنا علي بن عبد العزيز عن أبي عبيد نا عبيد نا علي بن عاصم عن الجريري عن عبد الله بن شقيق عن كعب قال : شر الحديث التجديف قال أبو عبيد قال الأصمعي : التجديف هو الكفر بالنعم يقال منه جدف الرجل تجديفا قال أبو عبيد و قال الأموي هو استغلال ما أعطاه الرجل

ہمیں خبر دی ابوعبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابوالحسن محمد بن حسن کارزی نے ان کو خبر دی علی بن عبدالعزیز نے ان کو ابوعبید نے ان کو خبر دی ابی عبید نے ان کو علی بن عاصم نے ان کو جریری نے ان کو عبداللہ بن شفیق نے ان کو کعب نے انہوں نے فرمایا کہ۔ بدترین بات تجدیف ہے ابو عبید نے کہا کہ اصمعی نے کہا کہ تجدیف نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے۔ اسی سے ہے یہ محاورہ کہ کہا جاتا ہے( آدمی نے کفران نعمت کیا ہے کفران نعمت کرنا ) ابوعبید نے کہا کہ اموی نے کہا ہے وہ استغلال ہے نعمت میں جو کچھ اس کو آدمی دے۔

الأموي هو استغلال ما أعطاه الرجل ← أبو عبيد و ← الأصمعي التجديف هو الكفر بالنعم يقال منه جدف الرجل تجديفا ← أَبُو عُبَيْدٍ ← شر الحديث التجديف ← کَعْبٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← الْجُرَيْرِيِّ، ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، ← عُبَيْدٌ، ← اَبِیْ عُبَیْدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أبو الحسن محمد بن الحسن الكازري ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4555

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4556

4556 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت عبد الله بن محمد الرازي يقول سمعت محمد بن نصر بن منصور الصائغ يقول : سمعت مردويه الصائغ يقول : سمعت الفضيل بن عياض يقول عليكم بالشكر فإنه قل قوم كانت عليهم من الله نعمة فزالت عنهم ثم عادت إليهم و قد روي في هذا المعنى

ہمیں خبر دی ابوعبدالرحمٰن سلمی نے انہوں نے سنا عبداللہ بن محمد رازی سے انہوں نے سنا محمد بن نصر بن منصور صائغ سے انہوں نے سنا مردویہ رازی سے انہوں نے سنا فضیل بن عیاض سے وہ کہتے ہیں کہ تم لوگ شکر کرنے کو لازم پکڑو اس لئے کہ بہت کم لوگ ہوتے ہیں کہ جن پر اللہ کی طرف سے کوئی نعمت ہو پھر وہ ان سے زائل ہو جائے پھر واپس آجائے ان کے پاس تحقیق اسی مفہوم میں روایت کی گئی ہے۔

الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← مَرْدَوَيْهِ الصَّائِغُ، ← محمد بن نصر بن منصور الصائغ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّازِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4556

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4557

4557 - أخبرنا أبو القاسم الخرقي أنا أحمد بن سليمان الفقيه نا عبد الله بن أبي الدنيا نا حاجب بن الوليد نا الوليد بن محمد الموقري عن الزهري عن عروة عن عائشة قالت : دخل علي رسول الله صلى الله عليه و سلم فرأى كسرة ملقاة فمسحها فقال : يا عائشة أحسني جوار نعم الله عز و جل فإنها ما نفرت عن أهل بيت فكادت أن ترجع إليهم قال الشيخ أحمد : الموقري ضعيف و رواه أيضا خالد بن إسماعيل المخزومي عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة و هو أيضا ضعيف و روي عن محمد بن جعفر بن محمد بن علي بن الحسين عن هشام و الله أعلم بصحته

ہمیں خبر دی ہے ابوالقاسم خرقی نے ان کو احمد بن سلمان فقیہ نے ان کو عبداللہ بن ابو دنیا نے ان کو حاجب بن ولید نے ان کو ولید بن محمد موقری نے ان کو زہری نے ان کو عروہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے انہوں نے روٹی کا ٹکڑا پڑا ہوا دیکھا اور اس کو ہاتھ لگا کر فرمایا۔ اچھا کر تو اللہ کی نعمتوں کے ساتھ نبھانا بس بے شک وہ جس گھر سے روٹھ جاتی ہیں واپس نہیں آتی ہیں۔ شیخ احمد نے کہا کہ موقری ضعیف ہے۔ اور اس کو خالد بن اسماعیل مخزومی نے بھی روایت کیا ہے۔ ہشام بن عروہ سے اس نے اپنے والد سے اس نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے مگر وہ بھی ضعیف ہے اور محمد بن جعفر بن محمد بن علی بن حسین نے ہشام سے۔ واللہ اعلم اس کی صحت کے بارے میں۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← الوليد بن محمد الموقري ← حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْفَقِيهُ ← أبو القاسم الخرقي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4557

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4558

4558 - أنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو الحسن أحمد بن الخضر الشافعي نا الحسن بن علي بن مخلد نا علي بن سلمة اللبقي نا محمد بن جعفر بن محمد بن علي بن الحسين نا هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت : دخل علي رسول الله صلى الله عليه و سلم فرأى في بيتي كسرة ملقاة فمشى إليها فشمها ثم أكلها فقال : يا عائشة أحسني جوار نعم الله فإنها قل ما نفرت من أهل بيت فكادت أن ترجع إليهم ورواه أيضا عثمان محمد مطر و هو ضعيف عن ثابت عن أنس

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوالحسن احمد بن خضر شافعی نے ان کو حسن بن علی بن مخلد نے ان کو علی بن سلم لبقی نے ان کو محمد بن جعفر بن محمد بن بن علی بن حسین نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور انہوں نے میرے گھر میں ایک ٹکڑا گرا ہوا دیکھا اس کی طرف آگے بڑھ کر اس کو اٹھایا اور اس کو سونگھا پھر اسے کھالیا اور فرمایا اے عائشہ اللہ کی نعمتوں کے ساتھ اچھے طریقے پر پڑوس نبھائیے بےشک بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ یہ کسی گھر کے لوگوں سے نفرت کر جائیں اور پھر ان کی طرف واپس لوٹ آئیں۔ اس کو بھی عثمان بن مطر نے روایت کیا ہے وہ ضعیف ہے ثابت سے انس ہے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← محمد بن جعفر بن محمد بن علي بن الحسين ← عَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ اللَّبَقِيُّ ← الحسن بن علي بن مخلد ← أبو الحسن أحمد بن الخضر الشافعي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4558

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4559

4559 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنشدني عبد الله بن أبي ذهل : أنشدني أبو الحسن الكندي القاضي : ( إذا كنت في نعمة فارعها فإن المعاصي تزيل النعم )

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کوشعر سنایا عبداللہ بن ابوذہل نے ان کو شعر سنایا ابوالحسن کندی قاضی نے۔ اذا كنت في نعمة فارعها .. فان المعاصي تزيل النعم. جب تو اللہ کی نعمت میں ہوتو اس کی پاس داری کر( اور گناہ نہ کر) اس لئے کہ گناہ نعمتوں کو مٹا دیتے ہیں۔

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4559

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4560

4560 - حدثنا عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا منصور بن محمد بن إبراهيم الفقيه أنا الحسن بن أبي موسى نا محمد بن يحيى نا عوف بن محمد الكاتب أنا سعيد بن هريم قال : قال عمارة بن حمزة : إذا وصلت إليكم أطراف النعم فلا تنفروا أقصاها بقلة الشكر

ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو منصور بن محمد بن ابراہیم فقیہ نے ان کوحسن بن ابوموسٰی نے ان کو محمد بن یحیٰ نے ان کو عوف بن محمد کاتب نے ان کو سعید بن مریم نے وہ کہتے ہیں کہ کہا عمارہ بن حمزہ نے جس وقت نعمتوں میں سے قریب والی تمہاری طرف پہنچیں تو شکر میں کمی کر کے دوروالی نعمتوں کومت بھگاؤ۔

سعيد بن هريم ← عوف بن محمد الكاتب ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← الحسن بن أبي موسى ← منصور بن محمد بن إبراهيم الفقيه ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4560

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4561

4561 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي سمعت أبا الحسين الفارسي يقول : سمعت إبراهيم بن فاتك سمعت المهرجوري يقول : لا زوال لنعمة إذا شكرت و لا بقاء لنعمة إذا كفرت 4561 - مكرر ـ أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني علي بن محمد المروزي قال : سمعت أبا بكر السماسطي و سئل عن أصل الشكر فقال : أصل الشكر رؤية المنة بالقلب و المعرفة بأنه من الله عز و جل و حقيقة الشكر في الأصل و الفرع أن تنقي الله خاصة و ذكر عن بعض السلف أنه قال : الشكر تقوى الله عز و جل ألا ترى أنه يقول : { ولقد نصركم الله ببدر وأنتم أذلة فاتقوا الله لعلكم تشكرون } فالمتقي في هذه الآية هو الشاكر لنعمة الله و هذه الآية تدل على أن المتقي هو الشاكر و من لم يكن متقيا لم يكن شاكرا

ہمیں خبر دی ابوعبدالرحمٰن سلمی نے انہوں نے سنا ابوالحسین فارسی سے انہوں نے ابراہیم بن فاتک سے انہوں نے مہرجوری سے وہ کہتے ہیں کہ کسی نعمت کا کوئی زوال نہیں ہے جب تو شکر کرے اور کسی نعمت کا کوئی بقا نہیں ہے جب تو کفران نعمت کرے۔

المهرجوري ← إبراهيم بن فاتك ← أَبَا الْحُسَيْنِ الْفَارِسِيَّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4561

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4562

4562 - أخبرنا أبو علي الحسين بن محمد الروذباري أنا الحسين بن الحسن بن أيوب الطوسي أنا أبو حاتم الرازي أنا محمد بن إبراهيم بن العلاء الواسطي بمكة أنا أيوب بن سويد الرملي عن عمرو بن الحارث عن يزيد بن أبي حبيب عن عبد الله بن عمرو قال : غار النيل على عهد فرعون فاتاه أهل مملكته فقالوا : أيها الملك أجر لنا النيل قال إني لم أرض عنكم ثم ذهبوا فأتوه فقالوا : أيها الملك أجر لنا النيل قال : إني لم أرض عنكم فذهبوا ثم أتوه فقالوا : أيها الملك ماتت البهائم و هلكت الأبكار لئن لم تجر لنا النيل لنتخذن إلها غيرك قال : أخرجوا إلى الصعيد فخرجوا فتنحى عنهم حيث لا يرونه و لا يسمعون كلامه فألصق خده بالأرض و أشار بالسبابة قال : اللهم إني خرجت إليك مخرج العبد الذليل إلى سيده و إني أعلم أنك تعلم إني أعلم أنه لا يقدر على إجرائه غيرك فأجره قال : فجرى النيل جريا لم يجر قبله فأتاهم فقال : إني قد أجريت لكم النيل فخروا له سجدا و عرض له جبريل عليه السلام فقال : أيها الملك أعزني على عبد لي قال : و ما قصته ؟ قال : عبد لي ملكته على عبيدي و خولته مفاتيحي فعاداني فأحب من عاديت و عادي من أحببت قال : بئس العبد عبدك لو كان لي عليه سبيل لغرقته في بحر القلزم قال : أيها الملك أكتب لي كتابا قال : فدعا بكتاب و دواة فكتب ما جزاء العبد الذي خالف سيده فأحب من عادى و عادى من أحب إلا أن يغرق القلزم قال : يا أيها الملك اختمه لي فختمه ثم دفعه إليه فلما كان يوم البحر أتاه جبريل بالكتاب فقال : خذ هذا ما استفتحت به على نفسك فربما قال هذا ما حكمت به على نفسك

ہمیں خبر دی ابوعلی حسین بن محمد روذباری نے ان کو حسین بن حسن بن ایوب طوسی نے ان کو ابوحاتم رازی نے ان کو محمد بن ابراہیم بن علاسطی نے مکہ مکرمہ میں ان کو ایوب بن سوید ریلی نے ان کو عمرو بن حارث نے ان کو یزید بن ابوحبیب نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ عہد فرعون میں دریائے نیل خشک ہو گیا تھا۔ لہذا اہل مملکت اس کے پاس آئے اور بولے اے بادشاہ ہمارے لئے نیل کو جاری فرما دے۔ اس نے کہا کہ میں تم سے خوش نہیں ہوں لہذا وہ چلے گئے کچھ عرصہ بعد پھر لوٹ کر آئے۔ اور بولے اے بادشاہ ہمارے لئے دریائے نیل کو جاری کر دو۔لہذا وہ دوبارہ واپس چلے گئے۔ کچھ عرصہ کے بعد پھر وہ لوٹ کر آئے اور بولے اے بادشاہ مویشی مر گئے ہیں (بھوک پیاس کی وجہ سے) اونٹ مر گئے ہیں (جوان لڑکیاں مر گئی ہیں) اگر آپ ہمارے لئے نیل کو نہیں بہاتے تو ہم تیرے سوا کوئی دوسرا الہٰ اور معبود ٹھہرا لیتے ہیں(جو ہماری حاجت روائی اور مشکل کشائی کرے گا۔) فرعون نے کہا کہ اچھا تم لوگ ایک میدان میں نکلو چنانچہ وہ نکلے اور وہ ان سے الگ ایک کونے میں چپ گیا جہاں سے لوگ ان کو نہیں دیکھ سکتے تھے۔ اور نہ ہی اسکا کلام سن سکتے تھے لہذا اس نے اپنا چہرا اور رخسار زمین پر رکھا اور سبابہ انگل کے ساتھ اشارہ کیا اور بولا۔ اللهم انى خرجت الیک مخرج العبد الذليل الى سيده و انی اعلم انك تعلم و انی اعلم انه لا يقدر على اجرائه غيرك فاجره. اے اللہ میں تیری طرف نکل کر آیا ہوں جیسے کہ کوئی عاجز و کمزور اپنے سردار کی طرف آتا ہے اور بے شک میں یہ جانتا ہوں کہ تو بھی اچھی طرح جانتا ہے۔اور بے شک میں یہ جانتا ہوں کہ اس کے جاری کرنے پر تیرے سوا کوئی بھی قادر نہیں ہے لہذا تو ہی اس کو جاری کر دے۔ عبداللہ بن عمرو نے کہا کہ دریائے نیل چل پڑا ایسا کہ اس سے قبل ایسا بھی نہ چلا تھا۔ فرعون لوگوں کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ میں نے تمہارے لئے دریائے نیل کو بہا دیا ہے لوگ اس کے سامنے سجدے میں گر گئے۔ کہتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام اس کے سامنے ظاہر ہوا اور کہنے لگا اے بادشاہ میرے ایک غلام کے مقابلے میں مجھے غلبہ عطا فرما اس نے پوچھا کہ قصہ کیا ہے؟ بولے کہ میرا غلام تھا میں نے اس کو اپنے دیگر غلاموں کا مالک بنا دیا تھا۔ اور میں نے اپنی چابیاں اس کے حوالے کر رکھی تھیں۔ لہذا اس نے مجھ بہر رکھ لیا ہے اور میرے دشمنوں سے اس نے دوستی کر لی ہے اور میرے دوستوں سے اس نے دشمنی کر لی ہے۔ فرعون نے کہا کہ تیرا غلام بہت بدترین غلام ہے اگر اس پر میرا بس چلے تو میں اس کو بحیرہ قلزم میں غرق کر دوں۔ (جبرائیل جو محض ایک سائل کی شکل میں آئے تھے بولے اے بادشاہ میرے لئے ایک تحریر لکھ دو۔ کہتے ہیں کہ اس نے کاغذ اورقلم دوات منگوائی اور اپنے ہاتھ سے یہ فیصلہ لکھا کہ اس غلام کی اس کے سوا کوئی اور سزا نہیں ہے جو اپنے سردار اور مالک کی مخالفت کرے اور اس کے دشمنوں سے دوستی کرے اور اس کے دوستوں سے دشمنی کرے مگر اس کو بحیرہ قلزم میں غرق کر دیا جائے۔جبرائیل نے کہا کہ اے بادشاہ اس پر آپ اپنی مہر بھی لگا دیجئے اس نے مہر لگا دی اور وہ فیصلہ سائل کے حوالے کر دیا۔ پھر جب فرعون کی غرقابی کا دن آیا تو جبرائیل وہ تحریر لائے اور لا کر اس کو دی کہ لیجئے آپ اس کو یہ وہ ہے میں نے جس کے ساتھ تجھ سے تیرے نفس کے خلاف غلبہ طلب کیا تھا اور یہ وہ فیصلہ ہے جو تم نے اپنے خلاف آپ لکھا تھا۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ، ← محمد بن إبراهيم بن العلاء الواسطي ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4562

chevron_left Previous
1…111213…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood