شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4527
4527 - و أخبرنا أبو سعيد عبد الرحمن بن محمد بن شبابة الشاهد بهمدان نا أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن نا إبراهيم بن الحسن نا خلف يعني ابن خالد المصري نا الليث بن سعد عن عبد الله بن صالح : عن من أخبره يرفع الحديث إلى النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما أعطى أحد أربعة فمنع أربعة ما أعطى أحد الشكر فمنع الزيادة لأن الله تعالى يقول : { لئن شكرتم لأزيدنكم } و ما أعطى أحد الدعاء فمنع الإجابة لأن الله يقول : { ادعوني أستجب لكم } و ما أعطى أحد الاستغفار ثم منع المغفرة لأن الله عز و جل يقول : { استغفروا ربكم إنه كان غفارا } و ما أعطى أحد التوبة فمنع التقبل لأن الله عز و جل يقول : { و هو الذي يقبل التوبة عن عباده } ثم لقيت أبا صالح فسألته عن ذلك ؟ فقال : نعم أنا حدثته بذلك فسألت أبا صالح عن الحديث فحدثني به ثم قال له من حدثك قال : حدثني أبو زهير يحيى بن عطارد بن مصعب عن أبيه قال : رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم ذكر الحديث أظنه إبراهيم بن الحسين الكسائي يقول ذلك و قد روى ذلك بإسناد موصل و ليس بمحفوظ
ہمیں خبر دی ابوسعید عبدالرحمٰن بن محمد بن شبابہ شاہد نے ہمدان میں ان کو احمد ابوالقاسم عبدالرحمٰن بن حسن نے ان کو ابراہیم بن حسن نے ان کو خلف نے یعنی ابن خالد مصری نے ان کو لیث بن سعد نے ان کو عبداللہ بن صالح نے اس سے جس نے ان کو خبر دی تھی۔ وہ حدیث کو مرفوع کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک کہ آپ نے فرمایا۔ کہ چار نعمتیں ایسی ہیں جس کو وہ عطا ہو جائیں تو چار اور نعمتیں اس کے پیچھے پیچھے ضرور جاتی ہیں وہ اس سے نہیں روکی جاتیں۔ جس کو اللہ کا شکر کرنے کی توفیق مل جائے اس سے نعمتوں میں اضافہ ہو جاتا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ خود فرماتے ہیں۔ (۱) لئن شكرتم لأ زيدنكم۔ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں ضرور اضافہ کر کے دوں گا۔ جس کو دعا مانگنے کی توفیق مل جائے اس کے بعد اس کو اجازت و قبولیت بھی مل جاتی ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ خود فرماتے ہیں۔ (۲) ادعونی استجب لكم۔ مجھے پکارو میں تمہاری پکار کو قبول کروں گا۔ اور جس کو استغفار کرنے کی توفیق مل جائے اس کو مغفرت ضرور مل جاتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ (۳) استغفروا ربكم انه كان غفاراً۔ اپنے رب سے بخشش مانگو بے شک وہ بہت معاف کرنے والا ہے۔ اور جس کو توبہ کرنے کی توفیق مل جائے اس سے توبہ کی قبولیت نہیں روکی جاتی وہ ضرور مل جاتی ہے کیونکہ ارشاد فرماتے۔(۴) وهو الذي يقبل التوبة عن عباده۔ صرف وہی اللہ ہے جو اپنے بندوں سے ان کی توبہ قبول کرتا ہے۔ اس کے بعد میں حضرت ابوصالح سے ملا تو میں نے ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا؟ تو انہوں نے فرمایا ہاں میں نے یہ حدیث اس کو بیان کی تھی اور میں نے ابوصالح سے حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھ کو یہی حدیث بیان کی پھر انہوں نے اس سے سنا کہ تجھے کس نے حدیث بیان کی تھی اس نے کہا کہ مجھے حدیث بیان کی ابوزہیر یحییٰ بن عطارد بن مصعب نے اپنے والد سے اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ پھر اس نے یہی حدیث ذکر کی۔ میں نے خیال کیا کہ وہ ابراہیم بن حسین کسائی ہیں وہ یہی کہتے ہیں۔انہوں نے اس کو روایت کیا ہے اسناد موصول کے ساتھ اور وہ محفوظ نہیں ہے۔
يرفع الحديث إلى النبي صلى الله عليه و سلم ← مَنْ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← خلف يعني ابن خالد المصري ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ ← أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ ← أبو سعيد عبد الرحمن بن محمد بن شبابة الشاهد ← و،
Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4527
