Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4419

4419 - أخبرنا أبو سهل محمد بن نصرويه المروزي نا أبو بكر بن خنب ببخاري نا أبو إسحاق إبراهيم بن إسحاق الحرمي نا موسى بن إسماعيل نا أبو وكيع عن أبي عبد الرحمن ح و أخبرنا أبو القاسم عبد الرحمن بن عبيد الله أنا أحمد بن سلمان نا عبد الله بن أبي الدنيا نا عمر بن إسماعيل الهمداني نا إسحاق بن عيسى عن أبي وكيع عن أبي عبد الرحمن الشامي عن الشعبي عن النعمان بن بشير قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم و في رواية المروزي عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : التحدث بنعم الله شكر و تركها كفر و من لا يشكر القليل لا يشكر الكثير زاد أبو القاسم في روايته و من لا يشكر الناس لا يشكر الله و الجماعة بركة و الفرقة عذاب

ہمیں خبر دی ابوسہل بن محمد بن نصرویہ مروزی نے ان کو ابوبکر بن خنب نے بخارا میں ان کو ابواسحاق ابراہیم بن اسحٰق حرمی نے ان کو موسیٰ بن اسماعیل نے ان کو ابووکیع نے ابوعبدالرحمٰن سے ’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ابوالقاسم عبدالرحمٰن بن عبیداللہ نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو عبداللہ بن ابودنیا نے ان کو عمرو بن اسماعیل ہمدانی نے ان کو اسحاق بن عیسیٰ نے ان کو ابووکیع نے ان کو ابوعبدالرحمٰن شامی نے ان کو شعبی نے ان کو نعمان بن بشر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اور مروزی کی ایک روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ اللہ کی نعمتوں کا تذکرہ کرنا شکر کرنا ہے۔ اور تذکرہ نہ کرنا نعمتوں کی ناشکری ہے اور جو شخص قلیل کا شکر نہیں کرتا وہ کثیر کا بھی نہیں کرتا ہے۔ ابوالقاسم نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے۔ کہ جو شخص لوگوں کا شکریہ نہیں کرتا وہ اللہ کا بھی شکر نہیں کرتا۔اور جماعت برکت سے (یعنی اتفاق کرنا برکت ہے) اور تتر بتر ہونا متفرق ہونا عذاب سے۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← أبي عبد الرحمن الشامي ← أبي وكيع ← إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، ← عمر بن إسماعيل الهمداني ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم عبد الرحمن بن عبيد الله ← و، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو وَكِيعٍ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أبو إسحاق إبراهيم بن إسحاق الحرمي ← أبو بكر بن خنب ببخاري ← أَبُو سَهْلٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرَوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ

Hadith 4419

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4420

4420 - أخبرنا عبد الرحمن أنا أحمد أنا عبد الله نا شريح بن يونس نا عبد الوهاب الثقفي عن يحيى بن سعيد عن عمر بن عبد العزيز قال : ذكر النعم شكر

ہمیں خبر دی عبدالرحمٰن نے ان کو احمد نے ان کو عبداللہ نے ان کو شریح بن یونس نے ان کو عبدالوہاب ثقفی نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو عمر بن عبدالعزیز نے وہ کہتے ہیں کہ نعمتوں کو یاد کرنا شکر ہے۔

النعم شكر ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← شُرَيْحُ بْنُ يُونُسَ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَحْمَدُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Hadith 4420

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4421

4421 - و أخبرنا عبد الرحمن أنا أحمد نا عبد الله حدثني حمزة بن العباس نا عبدان أنا عبد الله هو ابن المبارك أنا المبارك عن الحسن قال : أكثروا هذه النعمة فإن ذكرها شكر

اور ہمیں خبر دی عبدالرحمٰن نے ان کو احمد نے ان کو عبداللہ نے ان کو حمزہ بن عباس نے ان کو عبدان نے ان کو عبداللہ نے یعنی ابن مبارک نے ان کو المبارک نے ان کو حسن نے انہوں نے فرمایا کہ اس کی نعمت کا کثرت کے ساتھ تذکرہ کرو بے شک اس کو یاد کرنا شکر کرنا ہے۔

أكثروا هذه النعمة فإن ذكرها شكر ← الْحَسَنِ، ← المبارك ← عَبْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← عَبْدَانُ ← حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَحْمَدُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← و،

Hadith 4421

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4422

4422 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الفضل بن خميرويه أنا أحمد بن نجدة نا سعيد بن منصور نا إسماعيل بن زكريا عن يحيى بن سعيد عن عمر بن عبد العزيز قال : ذكر النعم شكر

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابوالفضل بن خمیرویہ نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو اسماعیل بن زکریا نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو عمر بن عبدالعزیز نے انہوں نے فرمایا۔ کہ نعمتوں کو یاد کرنا شکر ہے۔

النعم شكر ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Hadith 4422

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4423

4423 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو محمد جعفر بن محمد بن نصير نا أحمد بن محمد بن مسروق قال : سمعت ذا النون المصري يقول : اعلموا أن الله أقام الحياة من الله معرفتهم بإحسانه إليهم و علمهم بتضييع ما افترض من شكره فليس لشكره نهاية كما ليس لعظمته نهاية

ہمیں خبر دی الحسین بن بشران نے ان کو ابومحمد جعفر بن نصیر نے ان کو احمد بن محمد بن مسروق نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ذوالنون مصری سے سنا وہ کہتے تھے کہ اللہ کی طرف سے بندوں پر جو احسانات ہیں ان کی معرفت کے حصول کے لئے اور اللہ نے ان پر جو شکر کرنا فرض کیا ہے اس کے ضیاع کو جاننے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حیاء کو قائم فرمایا تھا۔لہذا اس کے شکر کی کوئی انتہائی نہیں ہے جیسے اس کی عظمت کی کوئی انتہا نہیں ہے۔

ذَا النُّونِ الْمِصْرِيَّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، ← أبو محمد جعفر بن محمد بن نصير ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Hadith 4423

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4424

4424 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر محمد بن جعفر الأدمي القاري ببغداد نا أبو العيناء محمد بن القاسم النحوي نا أبو خبيق نا شعيب بن حرب عن إبراهيم بن أدهم فيما أحسب قال : لا تجعل بينك و بين الله عليك منعما و أعدد نعمة عليك من غيره مغرما قال : فقال لنا يوسف بن أسباط هذا كلام حسن فاحفظوه

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر محمد بن جعفر آدمی قاری نے بغداد میں ان کو ابوالعیناء محمد بن قاسم نحوی نے ان کو ابوخبیق نے ان کو شعیب بن حرب نے ان کو ابراہیم بن ادھم نے میرے خیال میں انہوں نے یہ کہا۔ اللہ کے اور اپنے درمیان کوئی دوسرا منعم و محسن نہ بنا۔ اس کی نعمتوں کو غیراللہ سے اپنے اوپر تاوان سمجھ کہتے ہیں کہ ہم سے یوسف بن اسباط نے کہا یہ خوبصورت کلام ہے اس کو یاد کر لو۔

إبراهيم بن أدهم فيما أحسب ← شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ ← أبو خبيق ← أبو العيناء محمد بن القاسم النحوي ← أبو بكر محمد بن جعفر الآدمي القارئ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 4424

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4425

4425 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا محمد بن أحمد بن حمدان أنا الحسن بن سفيان نا أبو بكر بن أبي شيبة نا محمد بن مصعب نا سلام بن مسكين عن الحسن عن الأسود بن سريع : أن النبي صلى الله عليه و سلم أتي بأسير فقال : اللهم إني أتوب إليك و لا أتوب إلى محمد فقال النبي صلى الله عليه و سلم : عرف الحق لأهله

ہمیں خبر دی ابوعبدالرحمٰن سلمی نے ان کو محمد بن احمد بن حمدان نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو ابوبکر بن ابوشیبہ نے ان کو محمد بن مصعب نے ان کو سلام بن مسکین نے ان کو حسن نے ان کو اسود بن سریع نے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قیدی کو لایا گیا وہ کہنے لگا۔ اے اللہ میں بے شک تیری طرف توبہ کرتا ہوں اور میں محمد کی طرف توبہ نہیں کرتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اس نے حق کو حق والے کے لئے پہچان لیا ہے۔

الأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ ← الْحَسَنِ، ← سَلَامُ بْنُ مِسْكِينٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْدَانَ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 4425

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4426

4426 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي نا أبو الحسن الكارزي أنا علي بن عبد العزيز عن أبي عبيد قال : سمعت ابن علية يحدث عن الحريري قال : حدث أن أبا الدرداء ترك الغزو عاما فأعطى رجلا فيها مرة دراهم فقال : انطلق فإذا رأيت رجلا يسير من القوم حجرة في هيئة بذاذة فادفعها إليه قال : ففعل فرفع رأسه إلى السماء فقال : اللهم لم تنس جديرا فاجعل جدير ينساك قال : فرفع إلى أبي الدرداء فأخبره فقال : ولي النعمة ربها

ہمیں خبر دی ابوعبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابوالحسن کارزی نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے ان کو ابوعبید نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوعلیہ سے وہ حدیث بیان کرتے تھے حریری سے وہ کہتے کہ ان کو حدیث بیان کی گئی ہے حضرت ابودرداء نے ایک سال جہاد میں جانا کسی وجہ سے ترک کیا تھا لہذا اس کے بدلے میں انہوں نے ایک مرتبہ اس بارے میں ایک آدمی کو کچھ دراہم دیئے اور اس کو سمجھایا کہ جب تم دیکھو کہ مجاہدین میں کوئی ایسا آدمی چل رہا ہے جس کی گود بالکل خرچ سے خالی ہوگئی ہے بس یہ اس کو دے دینا۔ حریری کہتے ہیں کہ اس نے ایسا ہی کیا اور ابودرداء نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور کہا اے اللہ نہ بھولنا مستحق کو جو اس کے لائق ہو اور لائق اور حقدار بھی اس کو بنانا جو تجھے نہ بھول چکا ہو۔ حریری کہتے ہیں کہ وہ ابودرداء کی طرف واپس لوٹ کر آیا اور ان کو خبر دی کہ مالک بن گیا نعمت کا جو اس کا اہل تھا۔

حَدَّثَ ← الحريري ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← اَبِیْ عُبَیْدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 4426

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4427

4427 - أخبرنا عبد الرحمن بن عبد الله الخرقي أنا أحمد بن سلمان الفقيه نا عبد الله بن أبي الدنيا نا عمر بن إسماعيل الهمداني نا محمد بن عبيد عن يوسف الصباغ عن الحسن قال : قال موسى عليه السلام : يا رب كيف يستطيع آدم عليه السلام أن يؤدي شكر ما صنعته إليه خلقته بيدك و نفخت فيه من روحك و أسكنته جنتك و أمرت الملائكة فسجدوا له فقال : يا موسى علم أن ذلك مني فحمدني عليه فكان ذلك شكرا لما صنعته إليه

ہمیں خبر دی عبدالرحمٰن بن عبداللہ خرقی نے ان کو احمد بن سلیمان فقیہ نے ان کو عبداللہ بن ابودنیا نے ان کو عمر بن اسماعیل ہمدانی نے ان کو محمد بن عبید نے ان کو یوسف صباغ نے ان کو حسین نے وہ کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا اے رب آدم علیہ السلام کیسے تیرا شکر کرنے کی استطاعت رکھے گا ان احسانات کے ہوتے ہوئے جو آپ نے اس کے ساتھ کئے آپ نے ان کو اپنے ہاتھ سے بنایا اور آپ نے اس میں اپنی روح پھونکی اور اس کو اپنی جنت میں ٹھہرایا اور آپ نے اپنے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ اس کو سجدہ کریں۔اور انہوں نے سجدہ کیا اس کو اللہ نے فرمایا اے موسیٰ آدم نے یقین کے ساتھ یہ جان لیا تھا کہ یہ سب کچھ میری طرف سے تھا اس نے ان سب کے مقابلے میں میری حمد کی تھی بس یہی اس کا شکر ادا کرنا تھا ان تمام نعمتوں کے لئے جو میں نے اسپر کی تھیں۔

الْحَسَنِ، ← يوسف الصباغ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← عمر بن إسماعيل الهمداني ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← عبد الرحمن بن عبد الله الخرقي

Hadith 4427

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4428

4428 - و أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان نا أحمد بن يوسف السلمي نا محمد بن يوسف قال : ذكر سفيان عن ابن أبي ذيب عن المقبري عن أبيه عن عبد الله بن سلام : قال موسى عليه السلام : يا رب ما الشكر الذي ينبغي لك ؟ قال : لا يزال لسانك رطبا من ذكري قال : فأنا نكون من الحال على حال بخلك أن نذكرك عليها قال : ما هي ؟ قال : الغائط و إهراقه الماء من الجنابة و على وضوء قال : كلا قال : يا رب كيف أقول ؟ قال : تقول سبحانك اللهم و بحمدك لا إله إلا أنت فجنبني الأذى سبحانك اللهم و بحمدك لا إله إلا أنت فقني الأذى

اور ہمیں خبر دی ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر احمد بن حسین قطان نے ان کو احمد بن یوسف سلمی نے ان کومحمد بن یوسف نے وہ کہتے ہیں کہ سفیان نے ذکر کیا ابوذئب سے اس نے مقبری سے اس نے اپنے والد سے آپ نے عبداللہ بن سلام سے کہ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا اے رب وہ کونسا شکر ہے جو تیری شایان شان ہے۔اللہ نے فرمایا کہ ہمیشہ اپنی زبان کو میرے ذکر کے ساتھ تر رکھو۔ انہوں نے عرض کیا کہ ہم ایک حال سے دوسرے حال میں ایسے ہوتے ہیں کہ ہم تیرا اس وقت ذکر نہیں کر سکتے اللہ نے فرمایا کہ وہ کیا ہے؟ عرض کیا قضاء حاجت کے وقت غسل جنابت کے وقت۔ اور بغیر وضو کی حالت پر۔ فرمایا کہ ہرگز نہیں۔عرض کیا اے رب پھر میں کیسے ذکر کروں؟فرمایا کہ تم یوں پڑھو۔ سبحانك اللهم وبحمدك لا الٰه الا انت فجنبني الاذی سبحانك اللهم و بحمدك لا الٰه الا انت فقني الا ذي. تو پاک ہے اے اللہ اپنی حمد کے ساتھ تیرے سوا کوئی معبود نہیں پس مجھے گندگی سے الگ کر دے پاک ہے تو اے اللہ اپنی حمد کے ساتھ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے صرف تو ہی ہے پس تو مجھے تکلیف سے بچا۔

يا رب كيف أقول ← كلا ← الغائط و إهراقه الماء من الجنابة و على وضوء ← مَا هِيَ ← نكون من الحال على حال بخلك أن نذكرك عليها ← لا يزال لسانك رطبا من ذكري ← موسى يا رب ما الشكر الذي ينبغي لك ← عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← أَبِيهِ ← الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← و،

Hadith 4428

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4429

4429 - أخبرنا عبد الرحمن بن عبيد الله أنا أحمد بن سلمان نا عبد الله بن أبي الدنيا نا محمود بن غيلان المروزي نا المومل بن إسماعيل نا حماد بن سلمة نا حميد الطويل عن طلق بن حبيب عن ابن عباس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أربع من أعطيهن فقد أعطى خير الدنيا و الآخرة قلب شاكر و لسان ذاكر و بدن على البلاء صابر و زوجه لا تبغيه خونا في نفسها و لا ماله

ہمیں خبر دی ہے عبدالرحمٰن بن عبیداللہ نے ان کو احمد بن سلمان نے ان کو عبداللہ بن ابوالدنیا نے ان کو محمود بن غیلان مروزی نے ان کو مؤمل بن اسماعیل نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو حمید طویل نے ان کو طویل بن خبیب نے ان کو ابن عباس نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چار چیزیں ہیں جس کو وہ مل گئیں اسے دنیا آخرت کی بھلائی مل گئی قلب شاکر زبان ذاکر بدن صابر (آزمائش) امانت دار بیوی۔ جو اس کی عزت میں خیانت کرے نہ مال میں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ الْمَرْوَزِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ،

Hadith 4429

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4430

4430 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن نا أبو العباس هو الأصم نا محمد بن إسحاق الصغاني نا سعيد بن أبي مريم أخبرني يحيى بن أيوب حدثني ابن زحر عن علي بن يزيد عن القاسم أبي عبد الرحمن عن أبي أمامة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لمعاذ بن جبل : يا معاذ قلب شاكر و لسان ذاكر و زوجة صالحة تعينك على أمر دنياك و دينك خير ما أكثر الناس

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوبکر احمد بن حسن نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو محمد بن اسحٰق صنعانی نے ان کو سعید بن ابومریم نے ان کو یحییٰ بن ایوب نے ان کو ابن زحر نے ان کو علی بن یزید نے ان کو قاسم ابوعبدالرحمٰن نے ابوامامہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا حضرت معاذ بن جبل سے اے معاذ شکر کرنے والا دل۔ ذکر کرنے والی زبان۔ اور نیک بیوی جو تیرے دینی اور دنیوی کاموں میں تیری مدد کرے یہ بہتر ہیں کثیر لوگوں سے۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ← ابْنِ زَحْرٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن ← و،

Hadith 4430

chevron_left Previous
1234…35
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood