Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1025

1024 - أخبرنا أبو محمد السكري أنا أبو بكر الشافعي ثنا جعفر بن محمد بن الأزهر ثنا الغلابي حدثنا عفان ثنا حماد عن ثابت عن مطرف قال : لو وزن رجاء المؤمن و خوفه ما رجح أحدهما على صاحبه

ہمیں خبر دی ابو محمد سکری نے ان کو ابو شافعی نے ان کو جعفر بن محمد بن ازہر نے ان کو غلابی نے ان کو عفان نے ان کو حماد نے ان کو ثابت نے ان کو مطرف نے وہ فرماتے ہیں۔ اگر مؤمن کی امید اور اس کی خوف کو وزن کیا جائے تو دونوں میں سے کوئی ایک شئے دوسری پر بھاری نہیں ہوگی۔

لو وزن رجاء المؤمن و خوفه ما رجح أحدهما على صاحبه ← مُطَرِّفٍ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ، ← الغلابي، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَزْهَرِ، ← أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ

Hadith 1025

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1026

1025 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى ثنا أبو عمرو الحيري ثنا علي بن الحسن ثنا علي بن عثام عن الأصمعي قال : قال مطرف : لو وزن خوف المؤمن و رجاءه بميزان تربص ما كان بينهما نبط شعره

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو اسحٰق ابراہیم بن محمد بن یحییٰ نے ان ان کو ابو عمیر و حمیری نے ان کو علی بن حسن نے ان کو علی بن عثام نے ان کو اصمعی نے وہ کہتے ہیں کہ مطرف نے کہا: اگر مؤمن کا خوف اور امید انتظار کے ترازو میں وزن کئے جائیں تو دونوں کے درمیان ایک بال کے برابر فرق نہ ہو۔

الْأَصْمَعِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَثَّامٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ← أبو عمرو الحيري، ← أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1026

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1027

1026 - أخبرنا أبو سعد الماليني ثنا أبو أحمد بن عدي الحافظ قال : سمعت حمزة بن داود الثقفي سمعت الحارث بن الخضر القطان سمعت سفيان بن عيينة سمعت شعبة يقول : لو وزن خوف المؤمن و رجاءه ما زاد خوفه على رجائه و لا رجاءه على خوفه

ہمیں خبر دی ابو سعید مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی حافظ نے انہوں نے سنا حمزہ بن داؤد ثقفی سے ان کو حارث بن خضر نے ان کو سفیان بن عیینہ نے ان کو شعبہ نے وہ فرماتے ہیں کہ: اگر مؤمن کا خوف اور امیددونوں کو تولا جائے تو اس کا خوف اس کی امید پر اور اس کی امید اس کے خوف پر زیادہ نہ ہو جائے۔

شُعْبَةُ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الحارث بن الخضر القطان ← حَمْزَةُ بْنُ دَاوُدَ الثَّقَفِيُّ ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Hadith 1027

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1028

1027 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت منصور بن عبد الله يقول : سمعت أبا علي الروذباري يقول : الخوف و الرجاء هما كجناحي الطائر إذا استويا استوي الطير و تم طيرانه و إذا نقص واحد منهما وقع فيه النقص و إذا ذهبا جميعا صار الطائر في حد الموت لذلك قيل : لو وزن خوف المؤمن و رجاءه لاعتدلا

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو منصور بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو علی روز باری سے کہتے تھے کہ خوف اور امید دونوں پرندے کے دو پروں کی طرح ہیں جس وقت دونوں برابر ہوں پرندہ سیدھا پرواز کرتا ہے اور اس کی پرواز پوری ہوتی ہے اور جب دونوں میں سے کوئی ایک بھی کم ہو جائے تو پرندے پر نقص ہو جاتا ہے اور جوب دونوں نہ رہیں پرندہ موت کی حد تک پہنچ جاتا ہے اسی لئے کہا گیا کہ اگر مؤمن کا خوف اور اس کی امید تو لے جائیں تو برابر ہو جائیں۔

أبا علي الروذباري ← مَنْصُورَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 1028

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1029

1028 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أخبرنا أحمد بن كامل أبو بكر القاضي ثنا الحسن بن سلام ثنا قبيصة بن عقبة قال : سمعت سفيان الثوري يقول : كان مسلم بن يسار قد وقع في ثنيته الدم كانوا يرون أنه من كثرة سجوده ليلا و نهارا فدخل عليه بعض جيرانه فوجده قد سقطت ثنيتاه و هو يدفنهما فقال له مسلم دخلت علي و أنا أدفت بعضي فقال له الجار : لا أدري الذي أنت فيه إلا أني أرجو الله و أخافه قال مسلم : يا أخي ما أدري ما معنى الخوف الذي لا يبعد مما تخاف و لا أدري ما معنى الرجاء الذب لا يقرب مما ترجو ؟

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن کامل ابو بکر قاضی نے ان کو حسن بن سلام نے ان کو قبیصہ بن عقبہ نے ان کو سفیان ثوری نے وہ فرماتے تھے کہ حضرت مسلم بن یسار کے سامنے کے دانتوں میں خون آ گیا کہتے تھے کہ یہ ان کے رات دن کے سجدوں کی کثرت کی وجہ سے ہوا۔ ایک دن ان کا ایک پڑوسی ان کے پاس آیا تو وہ اپنے دانت دفن کر رہے تھے جو کہ گر گئے تھے، ان کو مسلم بن یسار نے کہا تم ایسے وقت میرے پاس آئے ہو جب میں اپنا بعض یعنی کچھ حصہ دفن کر رہا ہوں ۔ پڑوسی نے ان سے کہا مجھے آپ کی اس مصروفیت کا تو علم نہیں تھا ۔ مگر میں تو اللہ سے امید رکھتا ہوں اور اللہ سے ہی ڈرتا ہوں ۔ مسلم بن یسار نے ان سے کہا اے بھائی ، میں نہیں جانتا کہ اس خوف کا کیا مطلب ہے جو آپ کو اس شئ سے دور نہیں کرتا جس سے آپ خوف کرتے ہیں ۔ اور میں یہ بھی نہیں جانتا کہ اس امید کا مطلب کیا ہے جو آپ کو اس کے قریب نہیں کرتی جس سے آپ امید رکھتے ہیں۔

كان مسلم بن يسار قد وقع في ثنيته الدم كانوا يرون ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سَلامٍ ← أحمد بن كامل أبو بكر القاضي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1029

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1030

1029 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد بن كامل القاضي ثنا الحسن بن سلام ثنا قبيصة بن عقبة قال : سمعت سفيان الثوري يقول : قال رجل لمسلم بن سيار : علمني كلمة تجمع لي موعظة نافعة قال : فأطرق طويلا ثم رفع رأسه فقال : لا ترد بعملك غير من يملك ضرك و نفعك قال : زدني قال : أحمل رجاءك و لا تستعمله و استشعر الخوف و لا تغفله قال زدني قال : يوم العرض على ربك لا تنسه قال : ثم سقك لوجهه مكفا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن کامل قاضٰ نے ان کو حسن بن سلام نے ان کو قبیصہ بن عقبہ نے انہوں نے سنا سفیان ثوری سے وہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے مسلم بن یسار سے کہا تھا کہ مجھے کوئی ایسا کلمہ سکھلائیے جو تیرے لیے نفع دینے والی نصیحت کا جامع ہو، مسلم بن یسار نے جواب دیا رات کو اللہ کی بارگاہ میں آیا کیجئے اس کے بعد انہوں سر اوپر اٹھایا اور کہا کہ آپ اپنے عمل کے ساتھ ہر اس ذات سے کچھ ارادہ نہ کر جو تیرے نفع و نقصان کا مالک نہ ہو اس آدمی نے کہا اور اضافہ کیجئے ، فرمایا کہ اپنی امید کو ضرور اٹھائیے مگر اسے استعمال نہ کیجئے۔ خوف کو سمجھئے اور اس سے غافل مت رہیے۔ آدمی نے کہا نصیحت میں اور اضافہ کیجئے، انہوں نے فرمایا: اپنے رب کے سامنے پیش ہونے کو نہ بھولئے فرمایا کہ اس کے بعد وہ منہ کے بل اوندھے گر پڑے۔

ثم سقك لوجهه مكفا ← يوم العرض على ربك لا تنسه ← زدْنى، ← أحمل رجاءك و لا تستعمله و استشعر الخوف و لا تغفله ← زدْنى، ← لا ترد بعملك غير من يملك ضرك و نفعك ← فَأَطْرَقَ طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ← رجل لمسلم بن سيار علمني كلمة تجمع لي موعظة نافعة ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سَلامٍ ← أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1030

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1031

1030 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أبو الحسين إسحاق بن أحمد الكاذي ثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا أبي ثنا هاشم بن القاسم ثنا أبو سعيد يعني المؤدب ثنا مالك بن مغول عن معاوية بن قرة : أنه جلس و رجل من التابعين يتذاكران فقال أحدهما : إني لأرجو و أخاف و قال الآخر : إنه من رجا شيئا طلبة و إنه من خاف من شيء هرب منه و ما حسب امرئ يرجو شيئا يطلبه و ما حسب امرئ يرجو شيئا لا يهرب منه ؟

ہمیں خبر دی ابو احسین بن بشران نے ان کو ابو الحسین اسحٰق بن احمد کاذی نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو ان کے والد نے ان کو ہاشم بن قاسم نے ان کو ابو سعید ادیب نے ان کو مالک بن مغول نے ان کو معاویہ بن قرۃ نے وہ کہتے ہیں کہ تابعین میں سے دو آدمی باہم مذاکرہ کر رہے تھے ایک نے کہا میں امید بھی رکھتا ہوں اور خوف بھی ۔ دوسرے نے کہا بات یہ ہے کہ جو شخص کسی شئ کی امید کرتا ہے اس کو طلب بھی کرتا ہے اور یہ بات بھی ہے کہ جو شخص کسی شئی سے ڈرتا ہے اس سے بھاگتابھی ہے ۔ کسی آدمی کے لئے صرف اتنی بات کافی نہیں ہے کہ وہ کسی شئی کی محض امید رکھے یا امید کرے اور اس کو طلب نہ کرے اور کسی آدمی کے لئے یہ بات بھی کافی نہیں ہے کہ وہ کسی شئی سے ڈرے تو سہی مگر اس سے بھاگے نہیں۔

أحدهما إني لأرجو و أخاف و ← معاوية بن قرة أنه جلس و رجل من التابعين يتذاكران ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← أَبُو سَعِيدٍ يَعْنِي الْمُؤَدِّبَ، ← هاشم بن القاسم ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أبو الحسين بن بشران أبو الحسين إسحاق بن أحمد الكاذي

Hadith 1031

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1032

1031 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا الفضل محمد بن أحمد الكرابيسي يقول : سمعت أبا عثمان سعيد بن إسماعيل ينشد : ( ما بال دينك ترضى أن تدنسه و أن ثوبك مغسول من الدنس ) ( ترجو النجاة و لم تسلك مسالكها إن السفينة لا تجري على اليبس )

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الفضل محمد بن کرابیسی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید بن اسماعیل سے سنا وہ شعر کہتے تھے: "ماہال ینک ترضی ان تدنسہ، وان ثوبک مغسول من الدنس" کیا حال ہے تیرے دین کا کہ تو اس کو ( شرک سے یا گناہوں سے) آلودہ کرتا ہے اور خوش ہوتا ہے جب کہ تیرے کپڑے تو میل سے دھلے ہوئے ہیں۔ "ترجو النجاۃ ولم تسلک مسالکھا، ان السفینۃ لا تجری علی الیبس" نجات کی امید تو تو کرتا ہے مگر نجات کے راستے پر نہیں چلتا۔ بے شک کشتی نہیں چل سکتی خشکی پر۔

أبا الفضل محمد بن أحمد الكرابيسي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1032

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1033

1032 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت فارس بن عيسى يقول : سمعت يوسف بن الحسين يقول : ذا النون يقول : وجدت حجرا فإذا عليه مكتوب : كل مطيع مستأنس و كل عاص مستوحش و كل راج طالب و كل خائف هارب و كل محب ذليل

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہتے ہیں کہ انہوں نے فارس بن عیسٰی سے سنا انہوں نے یوسف بن حسین سے سنا وہ بتاتے ہیں کہ ذوالنون مصری رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا تھا کہ میں نے ایک پتھر پایا جس پر یہ لکھا ہوا تھا۔ "کل مطیع مستانس وکل عاص متوحش وکل راج طالب ، وکل خائف ھارب وکل محب ذلیل"۔ ہر اطاعت شعار مانوس ہوتا ہے اور ہر گنہگار وحشت کرنے والا ہوتا ہے ہر امید وار طالب ہو تا ہے اور ہر خائف بھاگتا ہے اور ہر محبت کرنے والا عاجزی کرتا ہے ۔ یا ہر عاشق ذلیل ہوتا ہے ۔

ذَا النُّونِ، ← يُوسُفُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← فارس بن عيسى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Hadith 1033

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1034

1033 - أخبرنا أبو عبد الله الرحمن السلمي قال : سمعت منصور بن عبد الله يقول : سمعت الحسن بن علويه يقول : سمعت علي بن عكرمة يقول : سمعت يحيى بن معاذ الرازي يقول : الإيمان ثلاثة : الخوف و الرجاء و المحبة و في جوف الخوف ترك الذنوب و فيه النجاة من النار و في جوف الرجاء الطاعة و فيه وجوب الجنة و في جوف المحبة احتمال المكروهات و به جد رضا الله عز و جل

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو منصور بن عبداللہ نے انہوں نے سنا حسن بن علویہ سے انہوں نے سنا علی بن عکرمہ سے انہوں نے سنا یحییٰ بن معاذ رازی سے وہ کہتے ہیں یحییٰ بن معاذ رازی کا قول یہ ہے ایمان تین طرح سے ہے ۔ خوف اور محبت اور امید اور خوف کے پیٹ میں گناہوں کو ترک کرنا ہے۔ اور گناہوں کو ترک کرنے میں جہنم سے نجات ہے ۔ اور امید کے پیٹ میں اطاعت ہے اور اطاعت کے لئے جنت لازم ہے ۔ اور محبت کے پیٹ میں مکروہات کا احتمال ہے اور محبت اللہ سے ہو تو آپ اللہ کی رضا پائیں گے ۔

يحيى بن معاذ الرازي ← علي بن عكرمة ← الْحَسَنُ بْنُ عُلُّوِيَةَ، ← مَنْصُورَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← أبو عبد الله الرحمن السلمي

Hadith 1034

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1035

1034 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت محمد بن عبد الله يقول : سمعت الحسن بن سليمان يقول : سمعت أبا بكر محمد بن إبراهيم الرازي يقول : سمعت يحيى بن معاذ يقول : كيف أخافك و أنت كريم ؟ و كيف لا أرجوك و أنت عزيز ؟ فأنا بين خوف يقطعني و رجاء يوصلني فلا رجائي يدعني فأموت خوفا و لا خوفي يتركني فأحيى فرحا

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے انہوں نے سنا محمد بن عبداللہ سے انہوں نے سنا حسن بن سلیمان سے انہوں نے سنا ابو بکر محمد بن ابراہیم رازی سے انہوں نے سنا یحییٰ بن معاذ سے وہ فرماتے ہیں۔ میں آپ سے کیسے ڈروں حالانکہ آپ تو کریم ہیں ؟ میں آپ سے کیسے امیدیں وابستہ نہ کروں حالانکہ آپ تو عزیز اور غالب ہیں ؟ میں ایسے خوف کے درمیان ہوں جو مجھے کاٹ کر رکھ دیتا ہے ۔ اور ایسی امید کے مابین ہوں جو مجھے ملا دیتی ہے ، میری امید ایسی نہیں ہے جو مجھے چھوڑ دے لٰہذا میں خوف سے مر جاؤں اور نہ ہی میرا خوف ایسا ہے جو مجھے چھوڑ دے کہ میں خوش فہمی میں زندہ رہوں۔

كيف أخافك و أنت كريم و كيف لا أرجوك و أنت عزيز ← يَحْيَى بْنَ مُعَاذٍ ← أبا بكر محمد بن إبراهيم الرازي ← الْحَسَنُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 1035

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1036

1035 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت عبد الله بن غانم يقول : سمعت محمد بن الرومي يقول سمعت يحيى بن معاذ يقول : يستقى الخوف من بحر عدله و يستقى الرجاء من بحر فضله و قد سبق القضاء أن رحمته سبقت غضبه

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن نے انہوں نے سنا عبداللہ بن غانم سے انہوں نے محمد بن رومی سے انہوں نے سنا یحییٰ بن معاذ سے وہ فرماتے ہیں کہ خوف اللہ کے انصاف کے سمندر سے پانی طلب کرتا ہے اور امید اللہ کے فضل کے سمندر سے پانی طلب کرتی ہے اور تحقیق قضا سبقت کر گئی تھی کہ اس کی رحمت اس کے غضب پر سبقت کر گئی ہے ۔

يَحْيَى بْنَ مُعَاذٍ ← محمد بن الرومي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ غَانِمٍ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Hadith 1036

chevron_left Previous
1234…14
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood