Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ ذكر فصول في الدعاء يحتاج إلى معرفتها ـ · حديث 1133

1132 - أخبرنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن علي بن إبراهيم بن معاوية ثنا أبو حامد أحمد بن محمد ثنا أحمد بن سلمة ثنا قتيبة و إسحاق بن إبراهيم عن جرير عن منصور عن هلال بن يساف قال : بلغني أن العبد المسلم إذا دعا ربه فلم يستجب له كتبت له حسنة

ہمیں خبر دی ہے ابو اسحٰق ابراہیم بن محمد بن علی بن ابراہیم بن معاویہ نے ان کو ابو حامد احمد بن محمد نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو قتیبہ نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو جریر نے ان کو منصور نے ان کو ہلال بن یسار نے کہتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ ، ایک مسلمان بندہ جس وقت اپنے رب کو پکارتا ہے اور اس کی دعا قبول نہیں ہوتی تو اس کے لئے ایک نیکی لکھی جاتی ہے ۔

هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← قتيبة و إسحاق بن إبراهيم ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أبو حامد أحمد بن محمد، ← أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن علي بن إبراهيم بن معاوية

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Mentioning chapters in supplication that you need to know · Hadith 1133

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ ذكر فصول في الدعاء يحتاج إلى معرفتها ـ · حديث 1134

1133 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي و أبو محمد عبد الله بن محمد بن موسى العدل قالا : ثنا محمد بن أيوب ثنا عبد الأعلى بن حماد ثنا أبو عاصم العباداني عن الفضل بن عيسى عن محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : يدعو الله بالمؤمن يوم القيامة حتى يوقفه بين يديه فيقول : عبدي ! إني أمرتك أن تدعوني ؟ و وعدتك أن استجيب لك فهل كنت تدعوني ؟ فيقول : نعم يا رب فيقول : أما إنك لم تدعني بدعوة إلا استجبت لك أليس دعوتني في يوم كذا و كذا لغم نزل بك أفرجه عنك ففرجته عنك ؟ فيقول : نعم يا رب ؟ فيقول : أني عجلتها لك في الدنيا و دعوتني يوم كذا و كذا لغم نزظل بك أن أقرج عنك فلم تر فرجا ؟ قال : نعم يا رب فيقول : أني ادخرت لك بها في الجنة كذا و كذا و دعوتني في حاجة أقضيها لك في يوم كذا و كذا فقضيتها ؟ فيقول : نعم يا رب فيقول : فإني عجلتها لك في الدنيا و دعوتني في يوم كذا و كذا في حاجة أقضيها فلم تر قضاءها ؟ فيقول : نعم يا رب فيقول : إني ادخرتها لك في الجنة كذا و كذا قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : فلا يدع الله دعوة دعا بها عبده المؤمن إلا بين له إما أن يكون عجل له في الدنيا و إما أن يكون ادخر له في الآخرة قال : فيقول المؤمن في ذلك المقام : يا ليته لم يكن عجل له شيء من دعائه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو سعید احمد بن یعقوب تقی نے اور ابو محمد عبداللہ بن موسیٰ عدل نے ان دونوں کو محمد بن ایوب نے ان کو عبدالا علی بن حماد نے ان کو ابو عاصم عبادانی نے ان کو فضل بن عیسیٰ نے ان کو محمد بن منکدر نے ان کو جابر بن عبداللہ نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرماتے ہیں کہ : قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مؤمن کو بلا کر اپنے سامنے کھڑا کریں گے ، اور فرمائیں گے ۔ اے میرے بندے میں نے تجھے حکم دیا تھا کہ تم مجھے پکارنا؟ اور میں نے تجھ سے وعدہ کیا تھا کہ میں تیری دعا قبول کروں گا؟ پھر کیا تم نے مجھے پکارا تھا؟ وہ کہے گا جی ہاں اے میرے رب اللہ تعالیٰ کہے گا خبردار بے شک تم نے جب بھی مجھے پکارا میں نے تیری دعا قبول کی کیا تم نے فلاں فلاں دن مجھے نہیں پکارا تھا فلاں غم کے لئے جو تیرے ساتھ واقع ہو گیا تھا اس کے کھول دینے کے لئے سو وہ میں نے تجھ سے کھول دیا تھا؟ وہ کہے گا ، جی ہاں یا رب، پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میں نے اس کو تیرے لئے دنیا میں فوری بدلہ دے دیا تھا۔ اور تم نے فلاں فلاں دن فلاں تکلیف اور مصیبت کے لئے جو تجھ پر واقع ہوئی تھی مجھے پکارا تھا تاکہ میں وہ دور کردوں مگر میں نے وہ تیری دعا پوری نہیں کی تھی بلکہ اس کو میں نے تیرے لئے جنت میں اتنی اتنی ذخیرہ کر دیا تھا۔ اور فلاں دن تو نے مجھے فلاں حاجت میں پکارا تھا، کہ وہ میں پوری کردوں ، فلاں فلاں دن سو وہ میں نے پوری کر دی تھی؟ بندہ کہے گا جی ہاں اے میرے رب۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ وہ میں نے تیرے لئے دنیا میں جلدی کر دی تھی ۔ اور تم نے فلاں دن فلاں حاجت کے لئے مجھے پکارا کہ وہ میں پوری کردوں مگر تم نے دیکھا تھا کہ وہ میں نے پوری نہیں کی تھی ؟ بندہ کہے گا جی ہاں یا رب؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میں نے تیری دعا کو تیرے لئے جنت میں ذخیرہ کر دیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہ بندہ جب بھی اللہ تعالیٰ کو پکارے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے سب بیان فرما دیں گے کہ یا تو اس کو دنیا میں فوری بدلہ دے چکے ہوں گے ۔ یا پھر اس کے لیے آخرت کا ذخیرہ کر چکے ہوں گے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہ چنانچہ مؤمن اسی مقام پریہ کہے گا۔ اے کاش کہ اس کے لئے دنیا میں کسی بھی دعا کا صلہ نہ ملا ہوتا ( تو ان تمام دعاؤں کا صلہ مجھے آج جنت میں بڑا ہی عظیم ملتا۔)

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Mentioning chapters in supplication that you need to know · Hadith 1134

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ ذكر فصول في الدعاء يحتاج إلى معرفتها ـ · حديث 1135

1134 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا عبيد بن شريك ثنا يحيى بن بكير ثنا الليث عن ابن عجلان عن القعقاع بن حكيم قال : حسبت أنه عن أبي صالح السمان عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم رأى رجلا يدعو و هو يشير بإصبعيه فأخذ بإحدى يديه و قال : أحد أحد و رواه صفوان بن عيسى عن ابن عحلان من غير شك و قال في متنه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم هكذا و أشار بالسبابة

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عبید بن شریک نے ان کو یحییٰ بن بکیر نے ان کو لیث نے ان کو ابن عجلان نے ان کو قعقاع بن حکیم نے وہ کہتے ہیں میرا گمان یہ ہے کہ ان کو خبر دی ابو صالح نے ان کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو دعا کرتے دیکھا کہ وہ دعا کر رہا تھا اور دو انگلیوں سے اشارہ کر رہا تھا (یعنی دو ہاتھوں کی ایک ایک انگلی سے) آپ نے اس کا ایک ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا: احد ، احد ، ایک ایک۔ (یعنی صرف ایک ہاتھ کی ایک انگلی سے اشارہ کرو۔) اس کو روایت کیا ہے صفوان بن عیسیٰ نے ان کو ابن عجلان نے بغیر شک کے ۔ اور متن میں ارشاد ہے : "فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ھکذا وارشار بالسبابۃ"۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا اور فرمایا کہ ایسے کرو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، ← حَسِبْتُ أَنَّهُ ← الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Mentioning chapters in supplication that you need to know · Hadith 1135

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ ذكر فصول في الدعاء يحتاج إلى معرفتها ـ · حديث 1136

1135 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر بن الحسن قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أبو قلابة ثنا محمد بن إبراهيم ـ قال أبو قلابة كان أبوه يهوديا فأسلم و حسن إسلامه و قرأ القرآن ـ قال ثنا محمد بن مسعر ـ قال أبو قلابة : و قد رأيته و كان ابن عيينة يعظمه شديدا ـ قال : ثنا داود العطار عن محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لقد بارك الله لرجل في حاجة أكثر الدعاء فيها أعطيها أو منعها قال : فحدثت به منكدر بن محمد بن المنكدر فقلت : أسمعت هذا من أبيك ؟ قال : لا و لكن دخلت مع أبي و أبي حازم على عمر بن عبد العزيز فقال عمر لأبي : يا أبا بكر مالي أراك كأنك مهموم قال : فقال له أبو حازم : أجل لدين عليه قال : فقال له عمر : فتح لك فيه الدعاء ؟ قال : نعم قال : فقد بارك الله لك فيه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو بکر بن حسن نے دونوں کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابو قلابہ نے ان کو محمد بن ابراہیم نے ابو قلابہ کہتے ہیں کہ ان کا والد یہودی تھا پھر اسلام لایا اور اس کا اسلام اچھا تھا اس نے قرآن مجید پڑھا۔ وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی محمد بن مسعر نے ابو قلابہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ ابن عیینہ ان کی بہت تعظیم کرتے تھے۔ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی داؤد عطار نے محمد بن منکدر سے ان کو جابر عبداللہ نے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "لقد بارک اللہ لرجل فی حاجۃ اکثر الدعآء فیحا اٰعطیھا اُومنعھا"۔ اللہ تعالیٰ برکت دے اس آدمی کے لئے جو حاجت میں دعا کثرت سے کرتا ہے ۔ عطا ہو یا نہ ہو۔ فرماتے ہیں کہ میں نے اس کے ساتھ منکدر بن محمد بن منکدر کو حدیث بیان کی اور میں نے کہا۔ کیا آپ نے یہ اپنے والد سے سنی تھی انہوں نے کہا کہ نہیں لیکن اپنے والد کے ساتھ ۔ اور ابو حازم کے ساتھ ہم عمر بن عبدالعزیز کے پاس گئے تھے ۔ انہوں نے میرے والد سے کہا تھا کہ اے ابو بکر کیا ہوا کہ میں دیکھ رہا ہوں گویا کہ آپ مغموم ہیں۔ کہتے ہیں کہ ان سے ابو حازم نے کہا ، جی ہاں ان پر قرضہ ہے اس کے لئے فکر مند ہیں۔ کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے ان سے کہا کہ اس بارے میں کیا آپ دعا کرتے ہیں ؟ انہوں نے کہا جی کرتا ہوں ۔ عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ تیرے لیے برکت دے گا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← داود العطار ← أبو قلابة و قد رأيته و كان ابن عيينة يعظمه شديدا ← محمد بن مسعر ← أبو قلابة كان أبوه يهوديا فأسلم و حسن إسلامه و قرأ القرآن ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو قِلَابَةَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر بن الحسن

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Mentioning chapters in supplication that you need to know · Hadith 1136

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ ذكر فصول في الدعاء يحتاج إلى معرفتها ـ · حديث 1137

1136 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الفضل بن محمد بن عقيل أنا جعفر الفريابي ثنا قتيبة بن سعيد ثنا وكيع عن الأعمش عن عمارة و مالك بن الحارث عن عبد الرحمن بن يزيد قال : قال عبد الله : إن الله لا يقبل إلا الناخلة من الدعاء و لا يسمع من مسمع و لا مراء و لا من داع إلا دعاء ثبت قلبه

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو الفضل بن محمد بن عقیل نے ان کو جعفر فریابی نے ان کو قتیبہ بن سعید نے ان کو وکیع نے ان کو اعمش نے ان کو عمارہ نے ان کو مالک بن حارث نے ان کو عبدالرحمٰن بن یزید نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ صاف ستھری دعا ہی قبول کرتے ہیں نہ تو کسی زبردستی سنوانے والے سے سن کر قبول کرتے ہیں اور نہ ہی کسی ریاکار سے نہ کسی داعی سے مگر وہ دعا قبول کرتے ہیں جو دل کی گہرائی سے ہو۔

عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← عمارة و مالك بن الحارث ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← جَعْفَرٌ الْفِرْيَابِيُّ، ← أبو الفضل بن محمد بن عقيل ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Mentioning chapters in supplication that you need to know · Hadith 1137

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ ذكر فصول في الدعاء يحتاج إلى معرفتها ـ · حديث 1138

1137 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن محمد بن الحسن السراج ثنا يوسف بن يعقوب القاضي ثنا نصر بن علي ثنا عمر بن علي عن الأعمش عن مالك بن الحارث قال : كان الربيع بن خيثم يأتي علقمة في يوم الجمعة فأتاه فقال سمعت قسا أو قال رجلا من أهل الكتاب و هو يقول ما أكثر الدعاء و أقل الإجابة ! و ذلك أن الله تعالى لا يقبل إلا الناخلة من الدعاء قال : فتعجب علقمة لتعجب الربيع قال : فقال عبد الرحمن بن يزيد و ما تعجبك ؟ أو ما سمعت عبد الله يقول إن الله تعالى لا يقبل من مسمع و لا لاعب و لا لاه إلا من دعا ثبت القلب

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو الحسن محمد بن حسن سراج نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو نصر بن علی نے ان کو عمر بن علی نے ان کو اعمش نے ان کو مالک بن حارث نے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ربیع بن خیثم جمعہ کے دن حضرت علقمہ کے پاس آتے تھے ۔ چنانچہ ایک بار آئے اور کہا کہ میں نے قس سے سنا ہے یا یوں کہا کہ میں نے اہل کتاب کے ایک آدمی سے سنا ہے وہ کہتے ہیں ، کتنی ہی دعائیں کم قبولیت والی ہوتی ہیں ۔ یہ اس لئے ہے اللہ تعالیٰ دعا میں سے صرف خلوص والی اور صاف دعا قبول کرتے ہیں ۔ کہتے ہیں ۔ ربیع کے تعجب کو دیکھ کر حضرت علقمہ کو بھی تعجب ہوا ۔ کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن یزید نے کہا آپ کو تعجب کیوں ہوا؟ کیا آپ نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے نہیں سنا کہتے ہیں کہ بے شک اللہ تعالیٰ نہیں قبول کرتے ریا کار سے اور نہ ہی کھیل کرنے والے سے نہ دل بہلانے والے سے مگر جو شخص دل کی مضبوطی سے اور دل کی گہرائی سے دعا کرے ۔ (اس کی دعا قبول کرتے ہیں)۔

قسا أو ← كان الربيع بن خيثم يأتي علقمة في يوم الجمعة فأتاه ← مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ ← الْاَعْمَشِ ← عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Mentioning chapters in supplication that you need to know · Hadith 1138

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ ذكر فصول في الدعاء يحتاج إلى معرفتها ـ · حديث 1139

1138 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا إبراهيم بن بكر المروزي ببيت المقدس ثنا أبو نعيم ثنا سفيان عن ابن خيثم عن شهر بن حوشب عن أم الدرداء قالت : إنما الوجل في قلب ابن آدم كاحتراق السعفة أما يجد لها قشعريرة ؟ قالوا : بلى قال : فادعوا إذا وجدتم ذلك فإن الدعاء يستجاب عند ذلك

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن بکر مروزی نے بیت المقدس میں ۔ ان کو ابو نعیم نے ان کو سفیان نے ان کو ابن خیثم نے ان کو شہر بن حوشب نے ان کو ام درداء رضی اللہ عنہا نے فرماتی ہیں کہ: خوف ابن آدم کے دل میں ہوتا ہے جیسے پھنسیوں سے چہرے اور سر کا جانا ، کیا نہیں پاتا اس کے لئے پھر جری آنا ، کپکپی سے رونگٹے کھڑے ہونا لوگوں نے کہا جی ہاں ! ایسے ہوتا ہے فرمایا پس اسی وقت دعا مانگا کرو جب یہی کیفیت پاؤ بے شک دعا اسی وقت قبول ہوتی ہے ۔ (یعنی اللہ کے خوف سے جب کپکپی طاری ہو یا رونگٹے کھڑے ہوں۔)

فادعوا إذا وجدتم ذلك فإن الدعاء يستجاب عند ذلك ← بَلٰی ← إنما الوجل في قلب ابن آدم كاحتراق السعفة أما يجد لها قشعريرة ← أُمِّ الدَّرْدَاءِ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← ابن خيثم ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← إبراهيم بن بكر المروزي ببيت المقدس ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Mentioning chapters in supplication that you need to know · Hadith 1139

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ ذكر فصول في الدعاء يحتاج إلى معرفتها ـ · حديث 1140

1139 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن المقرئ قالا : ثنا أبو العباس هو الأصم ثنا الخضر عن سيار ثنا جعفر ثنا ثابت البناني قال : قال فلان : إني لأعلم حين يذكرني ربي قالوا و اعلم حين يذكرك ربك ؟ قال : نعم إذا ذكرته ذكرني قال و إني لأعلم حين يستجيب لي ربي قالوا : و تعلم حين يستجيب لك ربك ؟ قال : نعم إذا وجل قلبي و اقشعر جلدي و فاضت عيناي و فتح لي في الدعاء فثم أعرف إني قد استجيب لي قال الإمام أحمد رحمه الله تعالى : و قد مضى في حديث ابن عباس عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : تعرف إلى الله في الرخاء يعرفك في الشدة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو محمد بن مقری نے دونوں کو ابو العباس رحمۃاللہ علیہ نے ان کو خضر نے ان کو سیار نے ان کو جعفر نے ان کو ثابت بنانی نے وہ کہتے ہیں کہ فلاں نے کہا: میں اس وقت کو جان لیتا ہوں جب میرا رب مجھے یاد کرتا ہے ۔ لوگوں نے کہا واقعی آپ جانتے ہیں جب آپ کا رب آپ کو یاد کرتا ہے ؟ کہا کہ ہاں جانتا ہوں جب میں اس کو یاد کرتا ہوں تو وہ بھی مجھے یاد کرتا ہے ۔ اور بے شک اس وقت کو بھی جانتا ہوں جب وہ میری دعا قبول کرتا ہے ۔ لوگوں نے کہا کہ واقعی آپ جانتے ہیں جس وقت تیرا رب تیری دعا قبول کرتا ہے ؟ بولے جی ہاں جس وقت میرادل ڈرتا ہے ، اور جب میری جلد پھریری آ جاتی ہے ۔ جب میری آنکھیں بہتی ہیں ، اور جب دعا کرنے میں مجھے شرح صدر ہوتا ہے بس اسی وقت میں سمجھ جاتا ہوں کہ میری دعا قبول ہو گئی ہے ۔ امام احمد رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا: کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث گذری ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آپ نرمی میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ آشنائی رکھئے اللہ تعالیٰ سختی میں تیری پہچان رکھیں گے۔

ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← جَعْفَرٌ، ← سَيَّارٍ، ← الْخَضِرُ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن المقري

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Mentioning chapters in supplication that you need to know · Hadith 1140

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ ذكر فصول في الدعاء يحتاج إلى معرفتها ـ · حديث 1141

1140 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الفضل محمد بن عبد الله بن خميرويه أنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا أبو عوانة عن عاصم الأحول عن أبي عثمان النهدي عن سلمان قال : إذا كان الرجل يدعو الله في السراء فنزلت به الضراء فيدعو فتقول الملائكة : صوت معروف من آدمي ضعيف كان يدعو في السراء فيشفعون له و إذا كان الرجل لا يدعو الله في السراء فنزلت به الضراء فدعا فيقول الملائكة صوت منكر من آدمي ضعيف كان لا يدعو الله في السراء فنزلت به الضراء فلا يشفعون له

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو الفضل محمد بن عبداللہ بن خمیرویہ نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو ابو عوانہ نے ان کو عاصم احول نے ان کو ابو عثمان نہدی نے ان کو سلمان نے وہ فرماتے ہیں کہ : جب کوئی آدمی اللہ تعالیٰ کو خوشی میں پکارتا رہتا ہے پھر اس پر کوئی پریشانی آن پڑے پھر وہ پکارے تو فرشتے کہتے ہیں کہ کسی ضعیف آدمی کی معروف اور جانی پہچانی آواز ہے جو کہ خوشی میں پکارتا رہتا تھا چنانچہ وہ اس کے لیے سفارش کرتے ہیں ۔ اور جب کوئی آدمی خوشی میں اللہ تعالیٰ کو نہیں پکارتا رہتا پھر اس پر کوئی مشکل آن پڑے پھر وہ رب کو پکارے تو فرشتے کہتے ہیں کوئی غیر معروف آواز ہے کسی کمزور آدمی کی طرف سے جوکہ خوشی میں اللہ کو نہیں پکارتا رہتا پھر ان پر کوئی مشکل آن پڑی ہے لہذا فرشتے اس کے لیے سفارش نہیں کرتے ۔

سَلْمَانَ ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أبو الفضل محمد بن عبد الله بن خميرويه ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Mentioning chapters in supplication that you need to know · Hadith 1141

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ ذكر فصول في الدعاء يحتاج إلى معرفتها ـ · حديث 1142

1141 - أخبرنا أبو حسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور الرمادي ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن أيوب عن أبي قلابة قال : قال أبو الدرداء : أدع الله في يوم سرائك لعله يستجيب لك في يوم ضرائك

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور رمادی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ایوب نے ان کو ابو قلابہ نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو درداء نے فرمایا تھا: اللہ کو پکارو اپنی خوشی کے ایام میں تاکہ تیری پریشانی کے ایام میں تیری دعا قبول کرے۔

أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أبو حسين بن بشران

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Mentioning chapters in supplication that you need to know · Hadith 1142

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ ذكر فصول في الدعاء يحتاج إلى معرفتها ـ · حديث 1143

1142 - بإسناده أخبرنا معمر عن قتادة أن أبا الدرداء قال : من يكثر قرع الباب يوشك أن يفتح له و من يكثر الدعاء يوشك أن يستجاب له

اپنی اسناد کے ساتھ ہمیں خبر دی ہے معمر نے قتادہ سے کہ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو شخص دروازہ کھٹکھٹانے کی کثرت کرتا ہے قریب ہے کہ اس کے لئے دروازہ کھول دیا جائے اور جو شخص کثرت سے دعا کرتا ہے قریب ہے کہ اس کی دعا قبول کر لی جائے۔

قتادة أن أبا الدرداء ← مَعْمَرٌ، ← بإسناده

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Mentioning chapters in supplication that you need to know · Hadith 1143

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ ذكر فصول في الدعاء يحتاج إلى معرفتها ـ · حديث 1144

1143 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن السراج ثنا أبو شعيب الحراني ثنا الشعبي ثنا حماد بن سلمة عن ثابت و حميد و علي بن يزيد و يونس عن الحسن أن أبا الدرداء كان يقول : أكثروا الدعاء فإنه من أكثر قرع الباب يوشك أن يفتح له

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو الحسن سراج نے ۔ ان کو ابو شعیب حرانی نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ثابت نے اورحمید نے اور علی بن یزید نے اور یونس نے ان کو حسن نے یہ کہ حضرت ابو درداء فرمایا کرتے تھے ۔ کثرت سے دعا کیا کرو جو شخص کثرت سے دروازہ کھٹکھٹاتا ہے قریب ہے کہ اس کے لیے دروازہ کھول دیا جائے۔

أكثروا الدعاء فإنه من أكثر قرع الباب يوشك أن يفتح له ← الْحَسَنِ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ كَانَ ← ثابت و حميد و علي بن يزيد و يونس ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الشَّعْبِيِّ، ← أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ ← أبو الحسن السراج، ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Mentioning chapters in supplication that you need to know · Hadith 1144

chevron_left Previous
1…11121314
Next chevron_right

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood