شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 460
459 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت عبد الله بن محمد الرازي يقول : كتبت من كتاب أبي عثمان و ذكر أنه من كلام شاه قال : مقام المحبين شوقهم إلى محبوبهم و طلبهم رضاه حرصهم على خدمته و بهذا الإسناد عن شاه قال : المشتاقون على عشر مقامات تعلق القلب به و طيران الصدر إليه و الحركة عند ذكره و الأنس بالوحدة و الهرب من الألفة و التدبر لمعاني كلام الرحمن و البكاء على النفس في الخلوة و الاستغاثة به و التعرض لمناجاته و أظنه قال : و الاشتياق للقائه و قال أبو عثمان : الشوق هو المحبة من أحب الله اشتاق إلى لقائه و قال أبو عثمان في قوله تعالى : { إن أجل الله لآت } قل : هذه تعزية للمشتاقين معناه : إني أعلم إن اشتياقكم إلي غالب و إني قد أجلت للقائكم أجلا و عن قريب يكون وصالكم إلى من تشتاقون إليه و قال أبو عثمان : بقدر ما يصل إلى قلب العبد من السرور بالله يشتاق إليه و على قدر شوقه يخاف من بعده و طرده
ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے انہوں نے سنا عبداللہ بن محمد رازی سے کہتے تھے کہ میں نے ابو عثمان کی کتاب میں سے نقل کیا تھا اور ذکر کیا کہ یہ کلام شاہ میں سے ہے انہوں نے کہا کہ ۔ عاشق الٰہی لوگوں کو مقام ان کا شوق ہے ان کے محبوب کی طرف اور ان کا اپنے محبوب کی رضا طلب کرنا اور اس کی خدمت کے لئے حرص کرنا۔ عشق الٰہی کے دس مقام اور اسی اسناد کے ساتھ شاہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ مشتاق لوگوں کے دس مقامات ہیں: (1)۔ (اللہ ) کے ساتھ قلب کا تعلق۔ (2)۔ اسی کی طرف سینے کا اڑنا۔ (3) اسکی یاد اور ذکر کے وقت حرکت کرنا تحریک پیدا ہونا۔ (4)۔ وحدۃ کے ساتھ انس و محبت کرنا۔ (5)۔ الفت سے بھاگنا۔ (6)۔کلام رحمٰن کے معانی میں تدبر اور غور کرنا۔ (7)۔ خلوۃ میں بیٹھ کر اپنے نفس پر رونا۔ (8) اللہ سے فریاد و استغاثہ کرنا۔ (9)۔اسی سے سرگوشی کرنا۔ (10) میرا خیال ہے کہ فرمایا تھا ۔ اسی کی ملاقات کا شوق کرنا۔ ابو عثمان نے کہا کہ شوق وہی محبت ہے۔ جو شخص اللہ سے محبت کرتا ہے وہ اس کی ملاقات کی طرف مشتاق ہوتا ہے۔ اور ابو عثمان نے اللہ کے اس قول کے بارےمیں کہ: "ان اجل اللہ لات " (عنکبوت 5) بے شک اللہ کا مقرر ہ وقت آنے والا ہے۔ فرمایا کہ یہ دراصل عاشق اور مشتاق لوگوں کو صبر دلایا گیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ گویا کہ یہ فرمانا چاہتے ہیں کہ میں جانتا ہوں کہ تمہارا اشتیاق میری طرف غالب ہے۔ اور میں نے تمہاری ملاقات کےلئے ایک مقرر کر دیا ہے، عنقریب تمہارا وصال اس ذات کے ساتھ ہو جائے گا جس کی طرف تم مشتاق ہو۔ اور ابو عثمان نے کہا ۔ کہ بندے کے دل کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ جس قدر سرور ملے اسی قدر اس کی طرف مشتاق ہوتا ہے۔ اور جس قدر اس کا شوق ہوتا ہے اسی قدر اس سے دوری اور مسترد ہونے سے ڈرتاہے۔
Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 460
