Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 844

843 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو صادق العطار قالا : ثنا أبو العباس هو الأصم ثنا محمد بن إسحاق ثنا يحيى بن أبي بكير أنبأنا شعبة قال : أخبرني عبد الملك بن ميسرة قال : سمعت زياد و كان ذا هيبة يحدث عن ربعي بن حراش عن حذيفة بن اليمان أنه قال : رب يوم لو أتاني الموت لم أشك فأما اليوم فقد خالطت أشياء لا أدري على ما أنا فيها و أوصى أبا مسعود فقال : عليكم بما تعرفون و لا تألون في أمر الله

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو صادق عطار نے ، دونوں کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے ابو العباس اصم نے ، ان کو محمد بن اسحٰق نے ، نا کو یحییٰ بن ابی بکیر نے ، ان کو شعبہ نے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے عبدالملک بن میسر ہ نے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا زیاسے اور وہ صاحب حیثیت تھے۔ وہ ربعی بن حراش سے حدیث بیان کرتے ہیں ، وہ حذیفہ بن یمان سےکہ انہوں نے فرمایا ؛ کچھ دن ایسے ہیں کہ اگر میرے پاس موت آجاتی تو مجھے شکایت نہ ہوتی بہر حال آج کے دن ، یعنی اب کئی چیزیں مخلوط ہوگئی ہیں ۔ میں نہیں جانتا کہ میں ان میں کس حال پر ہوں ؟ اور مجھے حضرت ابو مسعود نے وصیت فرمائی تھی اور فرمایا کہ اپنے آپ کو لازم کر رکھو ان امور پر جن کو تم جانتے ہو اور اللہ کے حکم میں کوتاہی نہ کر و۔

حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← زياد و كان ذا هيبة ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و أبو صادق العطار

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 844

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 845

844 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه ثنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان ثنا إبراهيم بن منصور ثنا بشر بن القاسم ثنا الحكم بن هشام عن عبد الملك بن عمير عن القاسم بن عبد الرحمن عن أبيه : أنه قال لعبد الله بن مسعود عند موته : أوصني قال : أوصيك أن تتقي الله و تلزم بيتك و تحفظ لسانك و تبكي على خطيئتك

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ، ان کو ابو بکر محمد حسین قطان نے ، ان کو ابراہیم بن منصور نے ، ان کو بشر بن قاسم نے ، ان کو حکم بن ھشام نے ، ان کو عبدالملک بن عمیر نے ، ان کو قاسم بن عبدالرحمٰن نے ، ان کو ان کےباپ نے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان کی موت کے وقت فرمایا کہ آپ مجھے وصیت فرمایئے ۔ آپ نے فرمایا کہ میں آپ کو اللہ سے ڈرتے رہنےکی وصیت کرتا ہوں اور اپنے گھر میں رہئے ، اپنی زبان کی حفاظت کیجئے اور اپنے گناہ پر روئیے۔

لِعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ عِنْدَ مَوْتِهِ: أَوْصِنِي ← أَبِيهِ أَنَّهُ ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← الْحَكَمِ بْنِ هِشَامٍ ← بِشْرُ بْنُ الْقَاسِمِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 845

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 846

845 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان ببغداد أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا سعيد بن منصور ثنا أبو معاوية ثنا الأعمش عن إبراهيم عن الحارث بن سويد قال : قال عبد الله مسعود : لوددت أن الله عز و جل غفر لي ذنبا من ذنوبي و أني سميت عبد الله بن روثة

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن فضل قطان نے بغداد میں ، ان کو عبداللہ بن جعفر نے ، ان کو یعقوب بن سفیان نے، ان کو سعید بن منصور نے ، ان کو ابو معاویہ نے ، ان کو عمش نے ، ان کو ابراہیم نے ، ان کو حارث بن سوید نے، کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : البتہ میں پسند کرتاہوں کہ اللہ عزوجل میرے گناہوں میں سے کوئی گناہ بخش دے اور میرا نام عبداللہ بن روثہ لیا جائے ( تو پر واہ نہیں)۔

الْحَارِثِ بْنِ سويد ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ،

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 846

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 847

846 - و بإسناده ثنا سعيد ثنا خالد بن عبد الله عن يونس بن عبيد عن حميد بن هلال قال : قال عبد الله بن مسعود : وددت أني نسبت إلى روثة و أن الله تعالى تقبل مني حسنة واحدة من عملي

اور سعید بن اپنی اسناد کے ساتھ ہمیں حدیث بنا کی ، ان کو خالد بن عبداللہ نے ، ان کو یونس بن عبید نے ، ان کو حمید بن ھلال نے ، کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : میں یہ پسند کرتاہوں کہ میری نسبت رونہ ( او راُپلہ) کی طر ف کی جائے اور اللہ تعالیٰ میری نیکیوں میں سےکوئی ایک نیکی قبول فرمالے ۔ (یعنی نام و نمود سے مجھے سرو کار نہیں ، ظاہری اور جھوٹی نسبتوں سے کوئی فائدہ نہیں ، بس اللہ تعالیٰ کوئی عمل میرا قبول کرلے) ۔

حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← سَعِيدٌ، ← و بإسناده

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 847

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 848

847 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن أبي حامد المقرئ و غيرهما قالوا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا بكار بن قتيبة أبو بكرة ثنا أبو عامر العقدي ثنا سفيان عن سليمان الأعمش عن إبراهيم التيمي عن أبيه قال : قال عبد الله : لو تعلمون بعيوبي ما تبعني منكم رجلان و لوددت أني دعيت عبد الله بن روثة و أن الله غفر لي ذنبا من ذنوبي

اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، اور محمد بن ابی حامد مقری نے اور دیگر نے بھی ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو بکار بن قتیبہ نے ، ان کو ابو بکرہ نے ، ان کو ابو عامر عقدی نے ، ان کو سفیان نے سلمان اعمش سے ، ان کو ابراہیم تیمی نے ، ان کو ان کے والد نے ، وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے کہا: اگر تم لوگ میرے عیبوں کو جان لوتو تم لوگوں میں سے دو آدمی بھی میری تابعداری نہیں کریں گے ۔ ( یعنی دو آدمی بھی میرے پیچھے پیچھے نہیں جائیں گے ) اور البتہ میں چاہتاہوں کہ میں عبداللہ بن روثہ کہہ کر پکار ا جاؤں ۔ مگر اللہ تعالیٰ میری گناہوں میں سے ایک گناہ کو بھی معاف کردیں ۔

أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ أَبُو بَكْرَةَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد بن أبي حامد المقرئ و غيرهما ← و،

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 848

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 849

848 - أخبرنا أحمد بن الحسن القاضي ثنا أبو العباس الأصم ثنا العباس الدوري ثنا محاضر ثنا الأعمش عن إبراهيم التيمي عن أبيه قال عبد الله : و الذي لا إله غيره لوددت أني انقلبت روثة و أني دعيت عبد الله بن روثة و أن الله غفر لي ذنبا واحدا

مجھے خبر دی احمد بن حسن قاضی نے ، ان کو ابو العباس اصم نے ، ان کو عاس دوری نے ، ان کو محاضر نے ، ان کو اعمش نے ، ان کو ابراہیم تیمی نے ، ان کو ان کے والد نے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ، قسم ہے اس ذات کی جس کے سو کوئی معبود نہیں ہے ۔ میں یہ پسند کرتاہوں کہ میں روثہ اور اُپلہ بن جاؤں اور مجھے لوگوں میں عبداللہ بن روثہ بو لا جائے، مگر اللہ تعالیٰ میرا کوئی ایک بھی گناہ معاف کردے۔

أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَاضِرٌ، ← الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أحمد بن الحسن القاضي،

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 849

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 850

849 - أخبرنا أبو سعد سعيد بن محمد الشعيبي قال : سمعت أبا نصر الزعفراني البخاري يقول : سمعت جعفر بن نمير القزويني يقول : سمعت يحيى بن معاذ الرازي يقول : كيف يفرح المؤمن في دار الدنيا ؟ إن عمل سيئة خاف أن يؤخذ بها و إن عمل حسنة خاف أن لا تقبل منه و هو إما مسيء و إما محسن

ہمیں خبر دی ہےابو سعد سعید بن محمد شعیبی نے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو نصر احمد بن نصر زعفرانی بخاری سے ، وہ کہتے تھے کہ میں نے جعفر بن نمیر قزو ینی سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ میں نے یحییٰ بن معاذ رازی سےسنا ، وہ کہتے تھے کہ : لوگ دار دنیا میں کیسے خوش رہتے ہیں ؟ اگربراعمل کرے تو خوف ہے کہ اس کے بدلے میں پکڑا جائے اور نیک عمل کرے تو یہ ڈر ہے کہ کہیں اس سے یہ قبول نہ کیاجئے اور وہ یا تو برائی کرنے والا یا اچھائی کرنے والا ہوتا ہے۔

يحيى بن معاذ الرازي ← جعفر بن نمير القزويني ← أبا نصر الزعفراني البخاري ← أبو سعد سعيد بن محمد الشعيبي

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 850

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 851

850 - أخبرنا أبو سعد عبد الملك بن أبي عثمان الواعظ ثنا أبو علي الحسين بن عبد الوهاب أنا أحمد بن محمد التيمي ثنا علي بن عبد الله قال : قال يحيى بن معاذ الرازي : كيف ينجيني عملي و أنا بين حسنة و سيئة ؟ فسيئاتي لا حسنات فيها و حسناتي مخلوطة بالسيئات و أنت لا تقبل إلا الإخلاص في العمل فما بقي بعد هذا إلا جودك

ہمیں خبر دی ابو سعد عبدالملک بن ابو عثمان واعظ نے ، ان کو ابو علی حسین بن عبدالوہاب نے ، ان کو احمد بن محمد تیمی نے ، ان کو علی بن عبداللہ نے ، وہ کہتے ہیں کہ یحییٰ بن معاذ رازی نے کہا: میرے اعمال مجھے نجات کیسے دے سکتے ہیں ؟ حالانکہ میں نیکی اور بدی کے درمیان میں ہوں؟ میری برائیوں کا یہ حال ہے کہ ان میں کوئی نیکی ہے ہی نہیں اور میر ی نیکیاں ایسی ہیں کہ وہ بدیوں کے ساتھ آلودوہ ہیں اور آپ تو اخلاص کے سو ا کچھ قبول ہی نہیں کرتے ۔ اس کے بعد تو بس صرف آپ کا احسان اور کرم ہی باقی رہ جاتاہے ۔

يحيى بن معاذ الرازي كيف ينجيني عملي و ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ← أحمد بن محمد التيمي، ← أبو علي الحسين بن عبد الوهاب ← أبو سعد عبد الملك بن أبي عثمان الواعظ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 851

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 852

851 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت محمد بن عبد الله الرازي يقول : سمعت الجريري يقول : سئل الجنيد : هل يسقط الخوف عن العبد ؟ فقال : لا ما كان العبد أعلم بالله كان له أشد خوفا و الخائفون على ثلاث طبقات : خائف من الأجرام و خائف من الحسنات أن لا تقبل و خائف من العواقب قال الله تعالى : { و لا يخاف عقباها }

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ، کہتے ہیں کہ میں نے سنا ہے محمد بن عبداللہ رازی سے ،وہ کہتے ہیں کہ میں جریری سے سنا ، وہ کہتے تھےحضرت جنید بغدادی سے پوچھا گیا ۔ کیا بندے سے خوف خدا سا قط ہو سکتا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں ، اللہ کا خوف کبھی ساقط نہیں ہوتا بلکہ جس قد اللہ کو یازدہ جانتا ہے اسی قدر اس کے خوف میں بھی شدت آجاتی ہے اور اسللہ سے ڈرنے والوں کے تین طبقات ہیں : (1) جرائم سے ڈرنے والے ۔ (2) نیکیوں سے ڈرنے والے کہ کہیں قبول ہونے سے رد نہ ہو جائیں ۔ (3) اور انجاموں سے او ر گرفتوں سے ڈرنے والے ۔ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے : ولا یخاف عقبھا( الشمس 15)اور نہیں ڈرتا وہ اس کے پیچھے کر نے سے ۔

العبد ← سئل الجنيد هل يسقط الخوف ← الْجُرَيْرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الرَّازِيُّ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 852

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 853

852 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا محمد بن عبد الله ابن عمرويه الصفار ببغداد قال : قال لي صالح بن أحمد بن حنبل : لما حضرت أبي الوفاة فجلست عنده و الخرقة بيدي أشد بها لحيته قال : فجعل يغرق ثم يفيق و يفتح عينيه و يقول بيده : هكذا لا بعد لا بعد لا بعد ففعل هذا مرة و ثانية فلما كان في الثالثة قلت له يا أبه ! إيش هذا الذي لهجت به في هذا الوقت ؟ فقال : يا بني ! أما تدري ؟ قلت : لا فقال : إبليس ـ لعنه الله ـ قائم بحذائي عاض على أنامله يقول : يا أحمد فتني فأقول : لا حتى أموت قال البيهقي رحمه الله : و لأحمد بن حنبل رحمه الله في ذلك سلف حق و هو فيما :

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن فضل قطان نے ، ان کو محمد بن عبداللہ بن عمرو یہ نے ، وہ کہتے ہیں کہ مجھے عبداللہ بن احمد حنبل نے کہا اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو خبر دی ہے ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ بن عمر ویہ صفار نے ، بغداد میں ، وہ کہتے ہیں مجھے صالح بن احمد بن حنبل نے کہا کہ جب میرے والد کی وفات کا وقت آیا تو میں ان کے پاس بیٹھا ۔ میرے ہاتھ میں کپڑے کی دھجیاں تھیں ، جس کے ساتھ مجھے ان کے جبڑوں کی باندھنا تھا ۔ کہتے ہیں کہ وہ وقفے وقفے سے بے ہوش ہو جاتے ، پھر ہوش میں آجاتے اور اپنی آنکھیں کھول لیتے اور اپنے ہاتھ کے اشارے سے کہتے ۔ ابھی نہیں ۔۔۔۔ ابھی نہیں ۔۔۔۔۔ ابھی نہیں ۔۔۔۔۔۔ انہوں نے ایک بار کہا ، پھر دوسری بار ، پھر تیسری بار ۔ جب تیسری بار ہاتھ سے اشارہ کیا تو میں نے کہا اے ابا جی، یہ کیا چیز ہے آپ نے جو اس وقت اشارہ کیا ہے ۔ بو لے کہ بیٹے کیا تو نہیں جانتا؟ میں نے کہا کہ نہیں ۔ فرمایا کہ ابلیس العین یرے برابر میں کھڑا تھا اور وہ اپنی انگلیوں کے پوروں کو کاٹ رہا تھا اور کہہ رہا تھا ( اے امام) احمد تم مجھ سے بچ کر جارہے ہو۔ میں نے کہا کہ ابھی نہیں ، جب تک کہ مر نہ جاؤں ۔ (یعنی جب تک ایمان پر میری وفات نہ ہو جائے ) ۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ امام احمد حنبل کے لئے اس میں حق پر گذرنے کی بشارت ہے ۔

محمد بن عبد الله ابن عمرويه الصفار ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 853

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 854

853 - أخبرنا الإمام أبو عثمان أنا زاهر بن أحمد ثنا محمد بن معاذ ثنا الحسين بن الحسن المروزي ثنا ابن المبارك أنا سفيان عن رجل قال : أراه عن عطاء بن يسار قال : تبدى إبليس لرجل عند الموت فقال نجوت فقال : ما نجوت و ما أمنتك بعد

ہمیں خبر دی ہے امام ابو عثمان نے ، ان کو زاھر بن احمد نے ، ان کو محمد بن معاذ نے ، ان کو حسین بن حسن مروزی نے ، ان کو ابن مبارک نے ، ان کو سفیان نے ایک آدمی سے ، فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ عطاء بن یسار نے انہوں نے کہا کہ : ایک آدمی کے سامنے موت کے وقت ابلیس ظاہر ہو گیا اور کہنے لگا کہ مت نجات پاگئے ہو۔ اس نے کہا کہ نہیں میں نے نجات نہیں پائی ہے اور تجھ سے ابھی تک میں امن میں نہیں ہوں۔

ما نجوت و ما أمنتك بعد ← نجوت ← تبدى إبليس لرجل عند الموت ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← أُرَاهُ ← رَجُلٌ: ← سُفْيَانَ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← الْحُسَيْنَ بْنَ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيَّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ، ← زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ ← الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 854

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 855

854 - و أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا ثنا أبو خالد القرشي عن سفيان الثوري عن رجل عن عطاء بن يسار قال : تبدى إبليس لرجل عند الموت فقال : ما نجوت منك بعد

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ، ان کو حسین بن صفوان نے، ان کو عبداللہ بن محمد بن ابی دنیا نے ، ان کو ابو خالد قرشی نے ، ان کو سفیان ثوری نے ایک آدمی سے ، ان کو عطا بن یسار نے ، وہ فرماتےہیں کہ ابلیس ایک آدمی کے سامنے اس کی موت کے وقت ظاہر ہو گیا تو انہوں نے اس سے کہا کہ ابھی تک میں تجھ سے نجات نہیں پاسکا۔

تبدى إبليس لرجل عند الموت فقال ما نجوت منك بعد ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← رَجُلٌ: ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← أَبُو خَالِدٍ الْقُرَشِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و،

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 855

chevron_left Previous
1…404142…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood