Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 996

995 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا الكديمي ثنا محمد بن عبد الله الأنصاري ثنا ابن عوف عن ثمامة عن أنس بن مالك قال : كنت أصنع خبزة لهم فسمعت نقيض الأرض فخرجت فإذا الأرض قد تشققت و إذا أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم يبكون و يدعون حتى ذهبت

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ، ان کو احمد بن عبید صفار نے ،ا کو کدیمی نے ، ان کو محمد بن عبداللہ انصاری نے ، ان کو ابن عون نے ، ان کو ثمامہ نے ، ان کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ، فرماتے ہیں کہ : میں ان لوگوں کے لئے روٹیاں بناتا تھا ، یکا یک میں نے زمین پھٹنے کی آواز سنی۔ میں باہر نکلا تو دیکھا کہ زمین پھٹی ہے اور اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رو رہے ہیں اور عا مانگ رہے ہیں ، وہ اسی حالت میں تھے کہ میں چلا گیا ۔

كنت أصنع خبزة لهم ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثُمَامَةَ ← ابْنُ عَوْفٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← الكديمي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Separation · Hadith 996

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 997

996 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس الأصم ثنا العباس الدوري ثنا يونس بن محمد المؤدب ثنا عبيد الله يعني ابن النضر حدثني أبي : أنها كانت ظلمة على عهد أنس حتى كأن النهار مثل الليل قال : فأتيته بعد ما أنجلت فقلت يا أبا حمزة هل كان يصيبكم مثل هذا على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : معاذ الله إن كانت الريح لتشتد فنبتدر إلى المسجد أينا يدخله أولا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ،ا ن کو ابو العباس اصم نے ، ان کو عباس دوری نے ، ان کو یونس بن محمد مؤدب نے ،ان کو عبید اللہ یعنی ابن نضر نے ، ان کو ان کے والد نے، بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں سورج گرہن ہوا۔ یہاں تک کہ دن رات کی طرح اندھیرا ہو گیا ۔ فرماتے ہیں کہ میں اس وقت حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں آیا جب سورج کھل چکا تھا ، میں نے انسے کہا اے ابو حمزہ ، کیا آپ لوگوں کو یہ کیفیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں بھی لاحق ہوئی تھی ۔ انہوں نے فرمایا : اللہ کی پناہ ۔ اگر ہوا بھی اس وقت تیز جاتی تو ہم لوگ فوراً مسجد میں چلے جاتے تھے اور ہم کو شش کرتے تھے کہ ہم ایک دوسرے سے پہلے پہنچ جائیں ۔

أبي أنها كانت ظلمة على عهد أنس حتى كأن النهار مثل الليل ← عبيد الله يعني ابن النضر ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ، ← الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Separation · Hadith 997

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 998

997 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا أبو عثمان الحناط ثنا أحمد بن أبي الحواري حدثنا أبو زكريا الخلقاني الهمداني قال : كنا عند علي بن بكار فمرت سحابة فسألته عن شيء فقال لي اسكت حتى تجوز السحابة أما تخشى أن يكون فيها حجارة نرمى بها ؟

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ، ان کو ابو عثمان حناط نے ، ان کو احمد بن ابو الحواری نے ، انکو ابو زکریا خلقانی ہمدانی نے ، وہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ علی بن بکار کی خدمت میں بیٹھے کہ اچانک آسمان پر ایک بادل گذرا۔ چنانچہ میں نے علی بن بکار سے اس بارے میں کوئی سول کیا ۔ انہوںنے فرمایا چپ رہو ، یہاں تک کہ یہ بادل گذر جائے ۔ کیا آپ کو ڈرنہیں لگ رہا کہ اس میں کوئی پتھر ہوں ، جن کے ساتھ ہمیں مار دیا جائے ؟

شَيْءٍ ← كنا عند علي بن بكار، فمرت سحابة، فسألته ← أبو زكريا الخلقاني الهمداني ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← أَبُو عُثْمَانَ الْحَنَّاطُ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Separation · Hadith 998

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 999

998 - أخبرنا أبو أسامة محمد بن أحمد بن محمد بن القاسم المقرئ الهروي بمكة ثنا الحسن بن رشيق حدثني أبو علي الروذباري قال : سمعت أبا أحمد الزهيري يقول : سمعت أبا بكر بن هارون الحمال يقول : سمعت الحارث المحاسبي يقول : و ذكر البلاء فقال : هو للمخلطين عقوبات و للتائبين طهارات و للطاهرين درجات

ہمیں خبر دی ہے ابو اسامہ محمد بن احمد بن محمد بن قاسم مقری ھروی نے مکہ مکرمہ میں ۔ ان کو حسن بن رشیق نے ،ا ن کو ابو علی روذبادی نے ، انہوں نے سنا ابو احمد زھیر ی سے ، انہوں نے سنا ابو بکر بن ھارون جمال سے ، ان کو حارث محاسبی نے ، وہ فرماتے ہیں کہ آزمائش کا ذکر آیا تو فرمایا : مخلوط اعمال کرنےوالوں کے لئے آزمائش سزائیں ہوتی ہیں ۔ اور توبہ کرنے والوں کے طہار تیں ہوتی ہیں اور طاہر اور پاک لوگوں کے لئے بلندی درجاتی ہوتی ہیں ۔

البلاء فقال هو للمخلطين عقوبات و للتائبين طهارات و للطاهرين درجات ← و، ← الحارث المحاسبي ← أبا بكر بن هارون الحمال ← أبا أحمد الزهيري ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ← الحسن بن رشيق ← أبو أسامة محمد بن أحمد بن محمد بن القاسم المقري الهروي بمكة

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Separation · Hadith 999

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1000

999 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا علي بن حمشاد قال : سمعت أحمد بن سلمة يقول سمعت الحسين بن منصور يقول كثيرا ما كنت أسمع علي بن عثام يقول : اللهم لا تبل أخبارنا قال البيهقي رحمه الله : و هذا كقوله تعالى : { و نبلو أخباركم } و ذلك فيما يبتليهم به في الجهاد و غيره لينظر كيف صبرهم فخاف علي بن عثام أن لا يقوم بصبره فقال : اللهم لا تبل أخبارنا آخر كتاب الخوف انتهى الجزء الأول و يليه إن شاء الله الجزء الثاني و أوله الثاني عشر من شعب الإيمان و هو باب في الرجاء من الله تعالى

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو علی بن حمشاد نے، وہ فرماتے ہیں کہ میں سنا ہے احمد بن سلمہ سے ، انہوں نے سنا حسین بن منصور سے ، وہ اکثر کہتے تھے کہ میں سنتا تھا علی بن عثام سے ، وہ یوں دعا کرتے تھے ۔ اللھم لا تبل اخبار نا ۔ اے اللہ ہماری خبروں کو نہ آزمانا۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : یہ دعا ایسی ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ونبلو اخبار کم ۔ اور ہم جانچیں گے تمہاری خبروں کو ۔ اور یہ آیت اور یہ فرمان باری تعالیٰ اس بارے میں ہے جو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو جہاد و غیرہ میں آزمائش کی بات کی ہے تاکہ دیکھے کہ ان کا صبر کیسا ہے ؟ چنانچہ علی بن عثام کو اس بات کا خوف ہوا کہ و ہ صبر کو قائم نہ کر سکیں گے ۔ لہذا یہ دعا کی : اللھم لا تبل اخبارنا ۔ اے اللہ ہماری خبروں کو نہ جانچنا ۔

اللهم لا تبل أخبارنا ← كثيرا ما كنت أسمع علي بن عثام ← الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَادٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Separation · Hadith 1000

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في محبة الله عز و جل ـ قال الله عز و جل : { ومن الناس من يتخذ من دون الله أندادا يحبونهم كحب الله والذين آمنوا أشد حبا لله } · حديث 405

404 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن الوليد بن مزيد البيروتي أخبرني أبي قال : سمعت الأوزاعي : حدثني يحيى بن أبي كثير حدثني هلال بن أبي ميمونة حدثني عطاء بن سار حدثني رفاعة بن عرابة الجهني قال : صدرنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم من مكة فجعل الناس يستأذنون رسول الله صلى الله عليه و سلم فجعل يأذن لهم قال : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما بال شق الشجرة التي تلي رسول الله صلى الله عليه و سلم أبغض إليكم من الشق الآخر ؟ قال : فلا نرى من القوم إلا باكيا قال : فيقول أبو بكر الصديق رضي الله عنه : أن الذي يستأذنك في نفسي بعد هذا لسفيه قال : فقام رسول الله صلى الله عليه و سلم فحمد الله و أثنى عليه ثم قال : أشهد عند الله ـ و كان إذا حلف قال : و الذي نفسي بيده ـ ما منكم من أحد يؤمن بالله ثم يسدد إلا سلك به في الجنة و قد وعدني ربي أن يدخل من أمتي الجنة سبعين ألفا لا حساب عليهم و لا عذاب و ني لأرجو أن لا تدخلوها حتى تتبوؤا أنتم و من صلح من أزواجكم و ذرياتكم مساكن في الجنة و ذكر الحديث

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن ولید بن فرید بیروتی نے ان کو ان کے باب نے انہوں نے سنا اوزاعی سے ان کو حدیث بیان کی ہے یحییٰ بن کثیر نے ان کو ہلال بن ابو میمونہ نے ان کو عطا بن یسار نے ان کو رفاعہ بن عرابہ جھنی نے، انہوں نے کہا ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مکے سے نکلے لوگ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سےاجازت مانگنے آپ ان کو اجازت دینے لگے۔ کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ کیا حال ہے کہ تم لوگوں کو درخت کا وہ حصہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف قریب ہے وہ تمہیں دوسری طرف کے مقابلے میں زیادہ پسند ہے۔ حضرت رفاعہ فرماتے ہیں کہ ہم نے اس کے بعد دیکھا کہ حاضرین میں سے ہر شخص رو رہا تھا، رفاعہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے وہ شخص جو آپ سے اجازت مانگتا ہے ،میرےدل کی بات ہے، اس کے بعد بھی تو و ہ کم عقل ہے۔ رفاعہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اللہ کی حمد کی اور ثناء کی پھر فرمایا ۔میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہادت دیتا ہوں ۔ جب کہ آپ کی عادت یہ تھی کہ جب حلف اور قسم کے ساتھ بات کرتے تو یوں فرماتے تھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، (مگر اس دفعہ اسلوب بدل دیا) (اس کے بعد فرمایا ) کہ تم میں سے جو بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایمان رکھتا ہے۔ پھر درست چلتا رہے، اس کو جنت میں لے جایا جائے گا ، میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار کو جنت میں اس طرح داخل کرے گا کہ ان پر کوئی حساب کتاب نہیں ہو گا اور کوئی عذاب نہیں ہو گا اور میں البتہ امید کرتا ہوں کہ تم جنت میں داخلے سے پہلے پہلے تمہارا جنت میں ٹھکانہ متعین ہو جائے گا تمہارا اور ان کا بھی جو نیک ہیں تمہاری بیوی اور بچوں میں سے ۔ اور حدیث ذکر فرمائی۔

رِفَاعَةَ بْنِ عَرَابَةَ الْجُهَنِيِّ ← عطاء بن سار ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبِي ← محمد بن الوليد بن مزيد البيروتي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God. · Hadith 405

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في محبة الله عز و جل ـ قال الله عز و جل : { ومن الناس من يتخذ من دون الله أندادا يحبونهم كحب الله والذين آمنوا أشد حبا لله } · حديث 406

405 - أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر العنبري أخبرنا جدي يحيى بن منصور القاضي ثنا أحمد بن سلمة ثنا إسحاق بن إبراهيم و محمد بن بشار العبدي عن عبد الوهاب ثنا أيوب عن أبي قلابة عن أنس بن مالك : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ثلاث من كن فيه وجد بهن حلاوة الإيمان : أن يكون الله و رسوله أحب إليه مما سواهما و أن يحب المرء لا يحبه إلا لله و أن يكره أن يعود في الكفر كما يكره أن يوقد له نار فيقذف فيها لفظ حديث محمد بن بشار رواه البخاري في الصحيح عن محمد بن المثنى عن عبد الوهاب الثقفي ورواه مسلم عن محمد بن بشار و غيره قال البيهقي رحمه الله : فأبان المصطفى صلى الله عليه و سلم بهذا أن حب الله و حب رسوله من الإيمان و أبان قبله أن ترك متابعته تدل على خلاف المحبة و في ذلك دلالة على وجوب المحبة و وجوب ما تقتضيه المحبة من المتابعة و الموافقة

ہمیں خبر دی ہے ابو صالح بن ابو طاہر عنبری نے ان کو خبر دی ہے ان کے دادا یحییٰ بن منصور قاضی نے ان کو احمد بن سلمی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو محمد بن بشار عیدی نے ان کو عبدالوہاب نے ان کو ایوب نے ان کو ابو قلابہ نے ان کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تین باتیں ہیں جس میں وہ آ جائیں وہ ان کے ذریعے ایمان کی حلاوت اور مٹھاس پا لیتا ہے۔ (1)۔۔۔ یہ کہ اس کے نزدیک اللہ اور اللہ کا رسول اپنے تمام ماسوا سے زیادہ محبوب اور پیارے ہوں۔ (2)۔۔۔ یہ کہ کسی انسان سے محبت کرے تو وہ صرف اور صرف اللہ کےواسطے کرے۔ (3)۔۔۔ یہ کہ (مسلمان ہونے کے بعد) وہ کفر کی طرف واپس لوٹ جانے کو اس طرح نا پسند کرے جیسے وہ اس با ت کو نا پسند کرتا ہے کہ اس کے لئے آگ جلائی جائے اور پھر اسے اس میں جھونک دیا جائے۔ حدیث کے الفاظ محمد بن بشار کی روایت کے ہیں بخاری نے اس کو صحیح میں روایت کیا ہے محمد بن مثنیٰ سے اس نے عبدالوہاب ثقفی سے۔ اور مسلم نے اس کو نقل کیا ہے محمد بن بشار وغیرہ سے۔ گذشتہ دو حدیثوں پر امام بیہقی ؒ کا تبصرہ: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث میں یہ واضح فرمایا ہے ، کہ جب الٰہی اور حب رسول ایمان میں سے ہے ، اور اس سے قبل والی حدیث میں واضح فرمایا کہ آپ کی اتباع کو ترک کرنا عدم محبت آپ کی اتباع اور آپ کی موافقت پر بھی واجب ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← إسحاق بن إبراهيم و محمد بن بشار العبدي ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ← أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God. · Hadith 406

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في محبة الله عز و جل ـ قال الله عز و جل : { ومن الناس من يتخذ من دون الله أندادا يحبونهم كحب الله والذين آمنوا أشد حبا لله } · حديث 407

406 - أخبرنا أبو سعد أحمد بن محمد الماليني قال : سمعت عبد الرحمن بن أحمد يقول سمعت أبا عبد الله بن خفيف يقول : دخل البصري على أبي عباس بن سريج فقال له ابن سريج : أين تعرف في نص الكتاب أن محبة الله فرض ؟ فقال : لا أدري و لكن يقول القاضي فقال له : قوله عز و جل : { قل إن كان آباؤكم وأبناؤكم وإخوانكم } ـ إلى قوله { أحب إليكم من الله ورسوله وجهاد في سبيله فتربصوا } و الوعيد لا يكون إلا على ترك فرض

ہمیں خبر دی ہے ابو سعید احمد بن محمد مالینی نے کہ اس نے سنا عبدالرحمٰن بن احمد سے کہتے تھے کہ انہوں نے سنا ابو عبداللہ بن حفیف سے کہتے تھے کہ حسن بصری داخل ہوئے ابو عباس بن سریج پر تو ابن سریج نے ان سے کہا آپ کتاب اللہ کی نص اور تصریح میں کہا یہ پاتے ہیں کہ اللہ کی محبت فرض ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں تو نہیں جانتا لیکن قاضی کہتے ہیں ابن سریج نے ان سے کہا کہ وہ آیت وہ نص یہ ہے: "قل ان کانا اباء کم وابنا ء وکم واخوانکم وازواجکم وعیشرتکم واموال اقتر فتموھا وتجارۃ تخشون کسادھا ومساکن ترضونھا احب الیکم من اللہ ورسولہ وجھاد فی سبیلہ فتربصوا ۔ (التوبہ 24) اس میں محبت نہ کرنے پر وعید ہے دھمکی ہے اور دھمکی صرف فرض کو ترک کرنے سے ہوتی ہے۔

الْقَاضِي، ← لا أدري و لكن ← له ابن سريج أين تعرف في نص الكتاب أن محبة الله فرض ← دخل البصري على أبي عباس بن سريج ← أبا عبد الله بن خفيف ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَحْمَدَ ← أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God. · Hadith 407

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في محبة الله عز و جل ـ قال الله عز و جل : { ومن الناس من يتخذ من دون الله أندادا يحبونهم كحب الله والذين آمنوا أشد حبا لله } · حديث 408

407 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا أبو عثمان سعيد بن عثمان الخياط ثنا أحمد بن أبي الحواري قال : سمعت سفيان بن عيينة يقول : و الله لا تبلغوا ذروة هذا الأمر حتى لا يكون شيء أحب إليكم من الله عز و جل و من أحب القرآن فقد أحب الله عز و جل

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو ابوعثمان بن عثمان خیاط نے ان کو احمد بن ابو الجواری نے انہوں نے کہا کہ میں نے سنا تھا حضرت سفیان بن عیینہ سے وہ فرماتے تھے ۔ "واللہ لا تبلغو ا ذروۃ ھذا لا مر حتیٰ لا یکون شیئ احب الیکم من اللہ عزوجل ومن احب القران فقد احب اللہ عزوجل" ۔ اللہ کی قسم تم لوگ دین کی محبت الٰہی کی بلندی اور چوٹی تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے اس وقت تک جب تک کہ تمہارے نزدیک کوئی چیز بھی اللہ سے زیادہ پیاری نہ رہے (یعنی اللہ تعالیٰ کی محبت سے شے سے زیادہ ہو۔ اور جو شخص قرآن سے محبت کرتاوہ تحقیق اللہ سے محبت کرتا ہے (یا جس نے قرآن سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی۔) اللہ کی محبت کے مفہوم و معانی شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ " اللہ کی محبت " نام ہے بہت سے مفہوم اور معانی کا۔ اللہ کی محبت کا پہلا مفہوم اور معنی: یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ تعالیٰ پر اعتبار محمود اور قابل تعریف ہے، اللہ تعالیٰ کی جتنی صفات میں وہ اس کی مدح و تعریف ہیں۔ دوسرا مفہوم ومعنی: یہ اعتقاد رکھنا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بنددوں کا محسن ہے ، نعمتیں عطا کرنے والا ہے اور ان پر فضل و عنایات کرنے والا ہے۔ تیسرا مفہوم و معنی: یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے والا ہر احسان اس بات سے بہت بڑا ہے اور عظیم ہے کہ بندے کا کوئی قول یا کوئی عمل اس کا شکر ادا کر سکے اگرچہ وہ قول یا عمل کتنے ہی اچھے ہوں اور کتنے ہی زیادہ ہوں۔ چوتھا مفہوم و معنی : یہ کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کو کمتر نہ سمجھے نہ قلیل سمجھے اور اس کے احکامات کو بہت اور پورا سمجھے کم نہ سمجھے۔ پانچواں مفہوم و معنی: یہ ہے کہ عام اوقات اور زیادہ تر اوقات میں اس بات سے ڈرتا ہے اور خوف رکھے کہ کہیں اللہ تعالیٰ اس سے اعراض نہ کر لے منہ نہ پھیر لے اور کہیں اللہ تعالیٰ اس سے اپنی وہ معرفت نہ چھین لے جو اسے عطا کر کے اس کو عزت دی تھی اور کہیں اس سے اپنی وہ توحید نہ چھین لے جس کے ساتھ اس کو آراستہ و مزین کیا تھا۔ چھٹا مفہوم و معنی: یہ ہے کہ اپنی امیدیں اور آرزوئیں اللہ تعالیٰ سے باندھ کے اور وابستہ کر کے رکھے تمام حالات میں سے کسی بھی حال میں یہ خیال بھی نہ کرے کہ یہ اس سے مستثنیٰ ہے۔ ساتواں مفہوم و معنی: یہ ہے کہ مذکورہ تمام معانی کا اس کے دل میں پکا ہونا اور جگہ پکڑنا اسے اس بات پر اکسائے کہ یہ اللہ کے ذکر پر مداومت اور ہمیشگی کرے ایسی احسن طریقے پر جو اس کی قدرت میں اور اس کے بس میں ہو سکے۔آٹھواں مفہوم و معنی: یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرائض کو ادا کرنے میں حرص کرے اور حسب استطاعات نفلی عبادات و خیرات کے ذریعے اللہ قرب حاصل کرنے کے لئے بھی حرص کرے۔ نواں مفہوم و معنی: یہ ہے کہ دوسرے بندے سے (اپنے ہوا) اللہ تعالیٰ کی تعریف سنے اور اس بات کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تقریب سمجھے۔ اور اللہ کی راہ میں خفیہ اور ظاہر جہاد و مجاہد ہ کرے ان چیزوں سے جو غافل کرنے والی ہیں اللہ تعالیٰ سے محبت کرے اس شخص سے بھی جو اللہ تعالیٰ سے محبت کرتا ہے۔ دسواں مفہوم ومعنی : یہ ہے کہ اگر کسی سے بھی اللہ کا ذکر (تذکرہ) سنے تو ا س کی اعانت و امدا د کرے اس کی ، ان امور کے خلاف جو اس کی راہ میں خلل اور رکاوٹ بنیں یا محسوس کرے اور سمجھے اس سے بھٹکنا اور گمراہ ہونا اس کی راہ سے خفیہ یا ظاہر تو جدا ہو جائے اس سے اور دور ہو جائے اس سے جب یہ مذکورہ معانی اور مقاصد کسی ایک دل میں جمع ہو جائیں۔ تو ان امور کا اکھٹا ہو جانا وہ چند سے جس کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے اور جس کو اللہ تعالیٰ کی معیت کا نام دیا جاتا ہے۔ (پھر اگر کوئی سوال کرے کہ یہ دس محبت کے مفہوم قرآن حدیث میں کہاں مذکور ہیں تو جواب یہ ہے کہ ) اگرچہ یہ امور اور یہ معانی کسی ایک مقام پر تو مذکور نہیں ہیں مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے متفرق طور پر ضرور آئے ہیں۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سو (باقی اہل علم سے کثرت سے مذکور ہیں)۔

سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← أبو عثمان سعيد بن عثمان الخياط ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God. · Hadith 408

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 409

408 - أخبرنا أبو محمد جعفر بن محمد بن الحسين الأبهري الصوفي بهمدان ثنا أبو الحسن علي بن عمر بن محمد بن الحسن بن شاذان الصوفي ثنا أحمد بن الحسن بن عبد الجبار ثنا يحيى بن معين ثنا هشام بن يوسف عن عبد الله بن سليمان النوفلي عن محمد بن علي يعني ابن عبد الله بن عباس و عن أبيه عن عبد الله بن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أحبوا الله لما يغذوكم به من النعمة و أحبوني لحب الله و احبوا أهل بيتي لحبي قال الحليمي : رحمه الله : و هذا يحتمل أن يكون عامة أنعمه كلها و أن يكون اسم الغذاء في الطعام و الشارب حقيقة و لما عداهما من التوفيق و الهداية و نصب أعلام هذه المعرفة و خلو الحواس و العقل مجازا أو يكون جميع ذلك بالاسم مرادا فقد جاء عنه صلى الله عليه و سلم : ثلاث من كن فيه فقد وجد حلاوة الإيمان و في بعض الروايات طعم الإيمان و إنما يكون الطعم للأغذية و ما يجري مجراها فإذا جاز وصف الإيمان بالطعم جازت تسميته غذاء فيدخل الإيمان في جميع نعم الله عز و جل في هذا الحديث و الله أعلم

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد جعفر بن محمد بن حسن ابھری صوفی نے ہمدان میں ان کو ابو الحسن علی بن عمر بن محمد بن حسن بن شاذان صوفی نے ان کو احمد بن حسن بن عبدالجبار نے ان کو یحییٰ بن معین نے ان کو ہشام بن یوسف نے ان کو عبداللہ بن سلیمان نوفلی نے ان کو محمد بن علی یعنی ابن عبداللہ بن عباس نے ان کو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ کہ تم اللہ سے محبت کرو اس لئے کہ وہ تمہیں اپنی نعمتوں کا (رزق دیتا ہے) اپنی نعمتیں کھلاتا ہے اور مجھ سے محبت کرو اللہ کی محبت کے لئے اور میرے گھر والوں سے محبت کرو میری محبت کی وجہ سے۔ شیخ حلیمی کا قول: شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہ حدیث احتمال رکھتی ہے کہ تمام نعمتوں کے لئے عام ہو اور اس حدیث میں مذکور لفظ غذا حقیقۃ طعام اور پہننے کی چیز کا نام ہو اور یہی مراد ہو۔ اور ان کے علاوہ توفیق عطا ہونا، ہدایت ملنا۔ اور اس معرفت کے اسباب میسر ہونا اور عقل و حواس کا صحیح و سالم ہونا یہ سب چیزیں مجاز الفظ عذا سے مراد ہوں۔ یا یہ تمام مذکورہ چیزیں اور امور لفظ اور غذا کے نام سے یہی مراد ہوں۔ اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث آئی ہے کہ تین باتیں جس انسان میں آ جائیں وہ ایمان کی حلاوت کو پا لیتا ہے اور بعض روایات میں حلاوت کی جگہ طعم و الایمان آ یا ہے یعنی ایمان کا ذائقہ اور مزہ پا لیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ذائقہ اور مزہ غذاؤں کا ہوتا ہے یا ان چیزوں کا جو غذاؤں کا قائم مقام ہو تی ہیں۔ جب یہ جائز ہے کہ ایمان کی وصف طعم اور ذائقہ کے ساتھ لائی جائے تو یہ بھی جائز ہے کہ ایمان کو غذا کے نام سے موسوم کیا جائے (جب ایمان غذا قرار پا جائے تو پھر) یہ ایمان اللہ تعالیٰ کی دیگر ان تمام نعمتوں میں داخل ہو جائے گا جو اس حدیث میں مذکور ہیں۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← محمد بن علي يعني ابن عبد الله بن عباس و ← عبد الله بن سليمان النوفلي ← هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أبو الحسن علي بن عمر بن محمد بن الحسن بن شاذان الصوفي ← أبو محمد جعفر بن محمد بن الحسين الأبهري الصوفي بهمدان

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 409

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 410

409 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا عبيد بن شريك ثنا يحيى بن بكير ثنا الليث عن ابن عجلان عن واقد بن سلامة عن يزيد الرقاشي عن أنس بن مالك : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال : ألا أخبركم عن أقوام ليسوا بأنبياء و لا شهداء يغبطهم يوم القيامة الأنبياء و الشهداء بمنازلهم من الله عز و جل على منابر من نور يكونون عليها قالوا من هم ؟ قال : الذين يحببون عباد الله إلى الله و يحببون الله إلى عباده و هم يمشون على الأرض نصحاء قال قلنا : يحببون الله إلى عباد الله فكيف يحببون عباد الله إلى الله ؟ قال : يأمرونهم بحب الله و ينهونهم يعني عما كره الله فإذا أطاعوهم أحبهم الله قال البيهقي رحمه الله : و جاء عنه صلى الله عليه و سلم قال : علامة حب الله حب ذكر الله علامة بغض الله بغض ذكره و هذا إنما بلغنا بإسناد فيه ضعف

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو خبر دی ہے احمد بن عبید صفار نے ان کو عبید بن شریک نے ان کو یحییٰ بن بکیر نے ان کولیث نے ان کو بن عجلان نے ان کو واقد بن سلامہ نے یزید رقاشی سے انہوںنے حضرت انس بن مالک نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ نے فرمایا ، کیا میں تمہیں خبر نہ دوں ان لوگوں کے بارے میں جو نہ تو انبیاء ہیں اور ہی شہداء ہیں مگر قیامت کے دن انبیاء اور شہدا ان پر رشک کریں گےان کی منازل کو دیکھ کر اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے مراتب کو دیکھ کر وہ نور کے مبروں پر براجمان ہو ں گے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا کہ وہ کون لوگ ہوں گے؟ فرمایا جو اللہ کے بندوں کو محبوب رکھتے ہیں اللہ تک اور اللہ کو محبوب رکھتے ہیں اس کے بندوں تک اور وہ زمین پ رچلتے تو محض خیر خواہی ہوتے ہیں۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں نے عرض کی کہ اللہ کو محبوب رکھتے ہیں اس کے بندوں تک تو سمجھ آتا ہے مگر یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ بنددوں کو محبوب رکھتے اللہ تک ،وہ کیسے؟ آپ نے جواب دیا وہ اس طرح کہ وہ لوگوں کو اللہ کی محبت کی تلقین کرتے ہیں۔ اور انہیں روکتے ہیں یعنی جس چیز کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے جب لوگ اس کی بات مان لیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو محبوب بنا لیتا ہے ۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہے کہ اللہ کی محبت کی علامت اللہ کے ذکر سے محبت ہے ، اور اللہ تعالیٰ سے بغض کی علامت اللہ کے ذکر سے بغض ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ← واقد بن سلامة ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 410

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 411

410 - أخبرناه علي بن أحمد بن عبدان نا أحمد بن عبيد الصفار ثنا أبو بكر عمر بن جعفر المعلى النرسي ثنا المعلي بن مهدي ثنا يوسف بن ميمون عن أنس بن مالك قال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : علامة حب الله حب ذكر الله و علامة بض الله بغض ذكر الله قال البيهقي رحمه الله : و روي عن وجه آخر عن زياد بن ميمون و زياد منكر الحديث و روي من وجه آخر ضعيف عن أنس بن مالك ـ و الله أعلم ـ و روينا بمثلها عن السلف و الصالحين

ہمیں اس کی خبر دی ہے علی ابن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ابو بکر عمر بن جعفر معلیٰ نرسی نے ان کو معلیٰ بن مہدی نے ان کو یوسف بن میمون نے ان کو انس بن مالک نے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سےسنا تھا وہ فرماتے تھے کہ : اللہ سے محبت کی نشانی اللہ کے ذکر سے محبت کرنا ہے اور اللہ سے بغض کی علامت اللہ کے ذکر سے بغض رکھنا ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ دوسرے طریق سے روایت کیا گیا ہے زیاد بن میمون سے جب کہ زیاد منکر ہے (غیر معروف ہے) اور ایک دوسرے ضعیف طریقہ سے حضرت انس بن مالک سے بھی مروی ہے (واللہ اعلم) اور ہم نے اسی کی مثل سلف صالحین سے (روایت کیا ہے )

السلف و الصالحين ← أنس بن مالك و الله أعلم و روينا بمثلها ← زياد بن ميمون و زياد منكر الحديث و روي من وجه آخر ضعيف ← وَجْهٍ آخَرَ، ← البيهقي و روي ← الله و علامة بض الله بغض ← عَلامَةُ حُبِّ اللهِ (حُبُّ) ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يوسف بن ميمون ← الْمُعَلَّى بْنُ مَهْدِيِّ، ← أبو بكر عمر بن جعفر المعلى النرسي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 411

chevron_left Previous
12345…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood