Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 784

783 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ إملاء أنا محمد بن علي بن دحيم ثنا أحمد بن حازم الغفاري ثنا عبيد الله بن موسى أخبرنا إسرائيل عن إبراهيم بن مهاجر عن مجاهد عن مورق العجلي عن أبي ذر قال : قرأ رسول الله صلى الله عليه و سلم : { هل أتى على الإنسان حين من الدهر } حتى ختمها ثم قال : أني أرى ما لا ترون و أسمع ما لا تسمعون أطت السماء و حق لها أن تئط و ما فيها موضع قدر أربع أصابع إلا و ملك و اضع جبهته ساجدا لله و الله لو تعلمون ما أعلم لضحكتم قليلا و لبكيتم و ما تلذذتم بالنساء على الفرش و لخرجتم إلى الصعدات تجأرون إلى الله عز و جل و الله لوددت أني شجرة تعضد و روي ذلك عن إسحاق بن منصور عن إسرائيل و في آخره قال أبو ذر : يا ليتني كنت شجرة تعضد جعله من قول أبي ذر

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے بطور املاء کے ان کومحمد بن علی بن دحیم نے ان کو احمد بن حازم غفار نے ان کو عبید اللہ بن موسیٰ نے ان کو اسرائیل نے ان کو ابراہیم بن مہاجر نے ان کو مجاہد نے ان کو مورق عجلی نے ان کو ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پرھی۔ ھل اتی علی الانسان حین من الدھر۔ (دھرا) یہاں تک کہ پور سورۃ ختم کر ڈالی انسان پر وہ وقت بھی آیا ہے زمانے میں سےکہ کوئی قابل زکر شے نہیں تھا ۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ میں جو کچھ دیکھتا ہوں تم نہیں دیکھتے اور جو کچھ میںسنتا ہوں تم نہیں سنتے ۔ آسمان جھومتے ہوئے بوجھ لان کی طر ح چر چر کی آواز ( بوجھ کی وجہ سے ) کر رہے ہیں اور انہیں حق ہے کہ وہ ایسا کریں ۔ ان میں سے کوئی چپہ انچ جگہ خالی نہیں ہے مگر کوئی نہ کوئی فرشتہ فرشتوں کے اپنی پیشانی سجدے میں رکھے ہوئے ہے ۔ اللہ کی قسم اگر تم جان لیتے جو کچھ میں جانتاہوں تو تم بہت کم ہنستے اور البتہ زیاد ہ سے زیادہ روتے رہتے اور تم بستروں پر عورتوں سے لطف اندوز ہونا چھوڑ دیتے ۔ اور البتہ تم ( آباد یوں کو چھو ڑ کر) پہاڑ وں میں نکل جاتے ۔ اور اللہ کی بار گاہ میں روتے چلاتے ۔ اللہ کی قسم میں چاہتاہوں کہ میں کوئی درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا( یعنی اللہ کے آگے حساب و کتاب کے لئے کھڑا نہ ہونا پڑتا)۔ اور یہ حدیث اسحاق بن منصور سے روایت کی گئی ہے انہوں نے اسرائیل سے اس کے آخر میں یہ کہا کہ ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کاش کہ میں کوئی درخت ہو تا جو کاٹ دیا جاتا ۔ راوی نے اس روایت میں اس جملے کو حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول بتایا ہے۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ، ← مُجَاهِدٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 784

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 785

784 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران ثنا إسماعيل الصفار ثنا محمد بن عبيد بن عتبة الكندي ثنا محمد بن عمر ثنا إسحاق بن منصور : فذكره دون قراءة الآية في أول الحديث

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل صفار نے ان کو محمد بن عبید بن عتبہ کندی نے ان کو محمد بن عمر نے ان کو اسحاق بن منصور نے انہوں نے اس حدیث کو ذکر کیا ہے لیکن حدیث کےشروع میں سورۃ دھر کی آیت کے پڑھنے کا ذکر نہیں ہے ۔

إسحاق بن منصور فذكره دون قراءة الآية في أول الحديث ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ← محمد بن عبيد بن عتبة الكندي ← إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 785

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 786

785 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في التاريخ قال : سمعت أبا الفضل الحسن بن يعقوب العدل يقول سمعت أبا أحمد محمد بن عبد الوهاب الفراء يقول : سمعت أبا خالد السقاء يقول : سمعت أنس بن مالك يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول ـ ونظير إلى طير ـ فقال : طوبى لك يا طير ! فقال : طوبى لك يا طير ! تأوي إلى الشجر و تأكل الثمر و ذكر الحديث قال : أبو عبد الله لم أزل أطلب لهذا الحديث علة أو شاهدا أو متنا بالتمام إلى أن وجدته

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے تاریخ میں کہتے کہ میں نے سنا ابو الفضل سے کہتے ہیں کہ میں نے سنا خالد سقاء سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انہوں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ نے ایک پرندے کی طرف دیکھا اور فرمایا : طو بیٰ لک یا طیراتاء وی الی الشجرۃ و تاکل الثمر ۔ خوشی ہے تیرے لئے اے پرندے درخت پر رہ لیتے ہو ۔ پھل کھا کر ضرورت پوری کر لیتے ہو ( یعنی کہ حساب و کتاب سے آزاد ہو )۔ پھر آگے راوی نے حدیث زکر فرمائی ۔ ابو عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں ہمیشہ اس حدیث کی علت یا شاہد ۔ یامتن کو شش کے ساتھ پوری تلاش کر تا رہا یہاں تک کہ میں نے اس کو پالیا ہے ( اور وہ اگلی روایت میں مذکورہے )۔

الْحَدِيثَ. ← طوبى لك يا طير تأوي إلى الشجر و تأكل الثمر و ← طوبى لك يا طير ← ونظير إلى طير ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أبا خالد السقاء ← أبا أحمد محمد بن عبد الوهاب الفراء ← أبا الفضل الحسن بن يعقوب العدل ← أبو عبد الله الحافظ في التاريخ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 786

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 787

786 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا إبراهيم بن عصمة بن إبراهيم العدل ثنا أبي ثنا يحيى بن يحيى أنا سفيان بن عيينة عن رجل عن الحسن قال : أبصر أبو بكر طائرا على شجرة فقال : طوبى لك يا طير تأكل الثمر و تقع على الشجر لوددت أني ثمرة ينقرها الطير

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابراہیم بن عصمہ بن ابراہیم عدل نے ان کو ان کے والد نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو سفیان بن عینیہ نے ایک آدمی سے اس نے حسن سے وہ کہتے ہیں کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے درخت کے اوپر بیٹھے ایک پرندے کو دیکھا تو فرمانے لگے خوشی سے اے پر ندے پھل کھا لیتے ہو درخت پر آرام کر لیتے ہو میں چاہتا ہوںکہ میں بھی درخت کا پھل ہوتا جسے پرندے چونچ نے نو چ کر کھا تے۔

أبصر أبو بكر طائرا على شجرة ← الْحَسَنِ، ← رَجُلٌ: ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← أَبِي ← إبراهيم بن عصمة بن إبراهيم العدل، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 787

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 788

787 - قال : و حدثنا يحيى بن يحيى أنا أبو معاوية عن جويبر عن الضحاك قال : مر أبو بكر رضي الله عنه على طير قد وقع على شجرة فقال : طوبى لك يا طير ! تطير فتقع على الشجر ثم تأكل من الثمر ثم تطير ليس عليك حساب و لا عذاب يا ليتني كنت مثلك ! و الله لوددت أني كنت شجرة إلى جانب الطريق فمر علي بعير فأخذني فأدخلني فاه فلاكني ثم إزدردني ثم أخرجني بعرا و لم أكن بشرا قال : فقال عمر رضي الله عنه : يا ليتني كنت كبش أهلي سمنوني ما بدا لهم حتى إذا كنت كأسمن ما يكون زارهم بعض من يحبون فذبحوني لهم فجعلوا بعض شواء و بعضه قديدا ثم أكلوني و لم أكن بشرا قال : و قال أبو الدرداء : يا ليتني كنت شجرة تعضد و تؤكل ثمرتي و لم أكن بشرا

بیہقی فرماتے ہیں ۔ ہمیں حدیث بیان کی یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو جو یبر نے ان کو ضحاک نے کہتے ہیں کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک پرندے کے قریب سے گذرے جو کسی درخت پر بیٹھ رہا تھا ۔ فرمانے لگے مبارک باد ہو تجھے اے پرندے ، اڑتے رہتے ہو پھر درخت کے پھل سے کھا لیتے ہو ، پھر اڑ جاتے ہو ، تیرے اور کوئی حساب و کتاب نہیں ہے ، کاش کہ میں بھی تیر ی طرح ہوتا ۔ اللہ کی قسم میں پسند کرتا ہوں کہ میں راستے کے کنارےکوئی درخت ہوتا اور میرے پاس سے کوئی اونٹ گذرتا اور مجھے پکڑ کر اپنے منہ میں لے لیتا اور وہ چبا جاتا ۔ پھر وہ مجھے حقیر کر دیتا ۔ چنانچہ مجھے وہ لید کر کے نکال دیتا اور میں بشر نہ ہوتا ( کہ مجھے حساب و کتاب نہ دینا پڑتا ) ۔

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 788

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 789

788 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو العباس محمد بن إسحاق بن أيوب الصبغي ثنا سهل بن عمار ثنا عبيد الله بن موسى ثنا موسى بن عبيدة عن يعقوب بن زيد و عمر بن عبد الله مولى غفرة قالا : نظر أبو بكر الصديق رضي الله عنه إلا طير حين وقع على الشجر فقال : ما أنعمك يا طير ! تأكل و تشرب و ليس عليك حساب و تطير يا ليتني كنت مثلك !

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ کاش میں اپنے گھر والوں کا مینڈ ھا ہوتا ، وہ مجھے جی بھر کر پالتے ، جب میں خوب موٹا ہوجاتا ۔ لہذاان کےکوئی پیارے مہمان آجاتے ، یہ مجھے ان کےلئے ذبح کردیتے ۔ پھر میرے کچھ حصے کو یہ لوگ بھون لیتے ، کچھ کو سوکھا کر گو شت بنا لیتے ، اس کے بعد وہ لوگ مجھےکھا جاتے اور میں بشر نہ ہوتا ( کہ حساب و کتاب نہ دینا پڑتا) ۔ حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ کاش میں کوئی درخت ہو تا جو کاٹ دیا جاتا یا میرے پھل کھائے جاتے اور میں بشر نہ ہوتا ( تاکہ حساب و کتاب نہ ہوتا ) ۔ ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ، ان کو ابو العباس محمد بن اسحٰق بن ایوب صبعی نے ، ان کو سھل بن عمار نے ، ان کو عبداللہ بن موسیٰ نے ، ان کو موسیٰ بن عبید ہ نے ، ان کو یعقوب بن زید نے اور عمر بن عبداللہ مولیٰ غفرہ نے ، دونوں کہتے ہیں کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک پرندے کی طرف دیکھا جب وہ درخت پر بیٹھا تھا ۔ اے پرندے تو کتنی سکون و آرام میں ہے ۔ کھاتا ہے ، پیتا ہے ، نہ تیرے اوپر کوئی حساب ہے نہ کتاب ہے ۔ اڑتا رہتا ہے ، کاش کہ میں بھی تیری طرح ہوتا ۔ ( لہذا مجھ پر بھی کوئی حساب و کتاب نہ ہوتا ) ۔

نظر أبو بكر الصديق إلا طير حين وقع على الشجر ← يعقوب بن زيد و عمر بن عبد الله مولى غفرة ← موسى بن عبيدة ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← سَهْلُ بْنُ عَمَّارٍ ← أبو العباس محمد بن إسحاق بن أيوب الصبغي، ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 789

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 790

789 - و في حديث شعبة عن عاصم بن عبيد الله عن عبد الله بن عامر بن ربيعة قال : رأيت عمر بن الخطاب أخذ تبنة من الأرض فقال : يا ليني هذه التبنة ليتني لم أكن شيئا ليت أمي لم تلدني ! ليتني كنت منسيا ! و هو مخرج في كتاب فضائل عمر

اور شعبہ حدیث میں ہے کہ ان کو عاصم بن عبداللہ نے ، ان کو عبداللہ بن عامر بن ربیعہ نے ، فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا ، زمین کے اوپر سے تنکا اٹھایا اور فرمایا کہ کاش کہ یہ تنکا ( یعنی میں ہوتا) کاش کہ میں کوئی شے نہ ہوتا ، کا ش کہ میری ماں مجھے جنم نہ دیتی ۔ کاش کہ میں بھولا بسر ا ہو جاتا ۔ یہ قول کتاب فضائل عمر میں منقول ہے۔

رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَخَذَ تَبِنَةً مِنَ الأَرْضِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ← عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ← و في حديث شعبة

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 790

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 791

790 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصنعاني ثنا إسحاق بن إبراهيم ثنا عبد الرزاق عن معمر عن قتادة قال : قال أبو عبيدة بن الجراح : لوددت أني كنت كبشا فيذبحني أهل فيأكلون لحمي و يشربون مرقي قال : و قال عمران بن حصين وددت أني رماد على أكمة تنسفني الرياح في يوم عاصف

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو عبداللہ صنعانی نے ، ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ، ان کو عبدالرزاق نے معمر سے ، انہوں نے قتادہ سے ، فرماتے ہیں کہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : میں پسند کرتا ہوں کہ میں مینڈھا ہوتا ، میرے گھر والے مجھے ذبح کر دیتے اور میرا گوشت کھا جاتے اور میر ا شوربہ پی جاتے ۔ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ان بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میں کسی ٹیلے پر پڑی ہوئی راکھ ہو تا ، مجھے تیز و تند ہوائیں اڑا کر لے جاتیں ۔

قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 791

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 792

791 - قال : و أخبرنا معمر عن الزهري عن عروة قال : قالت عائشة رضي الله عنه : يا ليتني كنت نسيا منسيا أي حيضة

فرماتے ہیں کہ ہمیں خبر دی معمر نے ، ان کو عروہ نے ، فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : کاش کہ میں نسیاً یعنی بھولی بھولائی ہو ئی ہوتی ۔

عائشة يا ليتني كنت نسيا منسيا أي حيضة ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← و،

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 792

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 793

792 - اخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق ثنا أبو عبد الله بن يعقوب أنا محمد بن عبد الوهاب انا جعفر بن عون ثنا مسعر عن زياد بن علاقة قال : قال عبد الله : لوددت أني هذه الشجرة

فرماتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحاق نے ان کو ابو عبداللہ بن یعقوب نے ، ان کو محمد بن عبدالوھاب نے ، ان کو جعفر بن عون نے ، ان کو مسعر نے زیاد بن علاقہ سے ، فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا: میں پسند کرتا ہوں کہ میں بیری کا درخت ہوتا ۔

عبد الله لوددت أني هذه الشجرة ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← مِسْعَرٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 793

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 794

793 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر الأصبهاني ثنا عبد الله بن محمد ثنا مسلم بن إبراهيم ـ ح وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النضر الفقيه ثنا علي بن عبد العزيز ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا شعبة عن يزيد بن خمير عن سلميان بن مرثد عن أبي الدرداء قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لو تعلمون ما أعلم لضحكتم قليلا و لبكيتم كثيرا و لخرجتم إلى الصعدات تجأرون إلى الله لا تدرون أتنجون أم لا تنجون قال : الإمام أحمد رحمه الله : فكل ذلك يدل على أن كل من كان بالله عز و جل أعرف كان منه أخوف و بشارة من بشر منهم بالمغفرة و دخول الجنة لا يمنع من الخوف عند ذكر الآيات فقد ينسيه الله تعالى تلك البشارة في ذلك الوقت لتكميل أحواله في العبودية و قد يطمئن لها في العاقبة بخبر الصادق به ثم لا يأمن حدوث ما يستحق عليه العقاب إلى أن يدرك بالرحمة و المغفرة في العاقبة و قد يكون خوف النبي صلى الله عليه و سلم بعد أن أومن على أمته و بالله التوفيق

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر بن فورک نے ، ان کو عبداللہ بن جعفر اصفہانی نے ، ان کو عبداللہ بن محمد نے ، ان کو مسلم بن ابراہیم نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو النضر فیقہ نے علی بن عبدالعزیز نے ، ان کو مسلم بن ابراہیم نے ، ان کو شعبہ نے ، ان کو یزید بن خمیر نے ، ان کو سلیمان بن مرثد نے ، ان کو ابو درداء نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم وہ جان لو جو کچھ میں جانتا ہوں البتہ تم بہت کم ہنسو گے اور تم بہت زیادہ روؤ گے اور پہاڑ اور وادیوں میں نکل جاؤ گے ۔ اللہ کی بار گاہ میں تم زاری کرو گے ۔ تم نہیں جانتے کہ تم نجات پاؤ گے یا نہیں ۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← سلميان بن مرثد ← يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 794

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 795

794 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو الفوارس شجاع بن جعفر الأنصاري ببغداد ثنا العباس بن محمد الدوري ثنا أبو نعيم الفضل بن دكين ثنا عبد الله بن عامر الأسلمي عن سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : سبعة يظلهم الله تحت ظله يوم لا ظل إلا ظله : إمام مقسط و رجل لقيته امرأة ذات جمال و منصب فعرضت نفسها عليه فقال : إني أخاف الله رب العالمين و رجل قلبه معلق بالمساجد و رجل تعلم القرآن في صغره فهو يتلوه في كبره و رجل تصدق بصدقة بيمينه فأخفاها عن شماله و رجل ذكر الله في برية ففاضت عيناه خشية من الله عز و جل و رجل لقي رجلا فقال : إني أحبك في الله فقال له الرجل و أنا أحبك في الله هذا حديث صحيح من حديث حفص بن عاصم عن أبي هريرة فأما من هذا الوجه فهو غريب

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو الفوارس شجاع بن جعفر انصاری نے بغداد میں ، ان کو عباس بن محمد دوری نے ، ان کو ابو نعیم فضل دکین نے ، ان کو عبداللہ بن عامر اسلمی نے ، ان کو سہیل بن ابو صالح نے ، ان کو ان کے والد نے ، ان کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سات شخص ایسے ہیں ، اللہ ان کو اپنے سائے میں جگہ دے گا ۔ جس دن ان کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا ۔ عادل باد شاہ اور وہ آدمی جس کو کوئی صاحب حسن جما صاحب عز و منصب عورت ملتی ہے اور اپنے آپ کو اس پر پیش کرتی اور وہ کہتا ہے کہ میں اللہ رب العاالمین سے ڈرتا ہوں اور وہ آدمی جس کا دل مساجد کے ساتھ لٹکا ہوا ہے اور وہ آدمی جس نے اپنے بچپن میں قرآن مجید سیکھا ہو اوروہ اس کو اپنے بڑھاپے میں تلاوت کرتاہو اور وہ آدمی جو کوئی صدقہ کرتا ہے سیدھے ہاتھ کے ساتھ اور اس کے اپنے بائیں ہاتھ سے بھی چھپاتا ہے اور وہ آدمی جو اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے بری ہونے کی حالت میں اور اس کی آنکھیں بہنے لگتی ہیں اللہ کے خوف سے اور وہ آدمی جو دوسرے آدمی سے ملتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ میں تجھے اللہ کے واسطے محبوب رکھتا ہوں اور جواب میں وہ آدمی کہتا ہے کہ میں تجھے اللہ کی رضا کے لئے محبت کرتاہوں ۔ یہ حدیث صحیح ہے ۔ حضرت حفص بن عاصم کی روایت سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے باقی اس مذکورہ طریقہ سے یہ حدیث غریب ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ الأَسْلَمِيِّ ← أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أبو الفوارس شجاع بن جعفر الأنصاري ببغداد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 795

chevron_left Previous
1…353637…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood