شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 784
783 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ إملاء أنا محمد بن علي بن دحيم ثنا أحمد بن حازم الغفاري ثنا عبيد الله بن موسى أخبرنا إسرائيل عن إبراهيم بن مهاجر عن مجاهد عن مورق العجلي عن أبي ذر قال : قرأ رسول الله صلى الله عليه و سلم : { هل أتى على الإنسان حين من الدهر } حتى ختمها ثم قال : أني أرى ما لا ترون و أسمع ما لا تسمعون أطت السماء و حق لها أن تئط و ما فيها موضع قدر أربع أصابع إلا و ملك و اضع جبهته ساجدا لله و الله لو تعلمون ما أعلم لضحكتم قليلا و لبكيتم و ما تلذذتم بالنساء على الفرش و لخرجتم إلى الصعدات تجأرون إلى الله عز و جل و الله لوددت أني شجرة تعضد و روي ذلك عن إسحاق بن منصور عن إسرائيل و في آخره قال أبو ذر : يا ليتني كنت شجرة تعضد جعله من قول أبي ذر
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے بطور املاء کے ان کومحمد بن علی بن دحیم نے ان کو احمد بن حازم غفار نے ان کو عبید اللہ بن موسیٰ نے ان کو اسرائیل نے ان کو ابراہیم بن مہاجر نے ان کو مجاہد نے ان کو مورق عجلی نے ان کو ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پرھی۔ ھل اتی علی الانسان حین من الدھر۔ (دھرا) یہاں تک کہ پور سورۃ ختم کر ڈالی انسان پر وہ وقت بھی آیا ہے زمانے میں سےکہ کوئی قابل زکر شے نہیں تھا ۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ میں جو کچھ دیکھتا ہوں تم نہیں دیکھتے اور جو کچھ میںسنتا ہوں تم نہیں سنتے ۔ آسمان جھومتے ہوئے بوجھ لان کی طر ح چر چر کی آواز ( بوجھ کی وجہ سے ) کر رہے ہیں اور انہیں حق ہے کہ وہ ایسا کریں ۔ ان میں سے کوئی چپہ انچ جگہ خالی نہیں ہے مگر کوئی نہ کوئی فرشتہ فرشتوں کے اپنی پیشانی سجدے میں رکھے ہوئے ہے ۔ اللہ کی قسم اگر تم جان لیتے جو کچھ میں جانتاہوں تو تم بہت کم ہنستے اور البتہ زیاد ہ سے زیادہ روتے رہتے اور تم بستروں پر عورتوں سے لطف اندوز ہونا چھوڑ دیتے ۔ اور البتہ تم ( آباد یوں کو چھو ڑ کر) پہاڑ وں میں نکل جاتے ۔ اور اللہ کی بار گاہ میں روتے چلاتے ۔ اللہ کی قسم میں چاہتاہوں کہ میں کوئی درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا( یعنی اللہ کے آگے حساب و کتاب کے لئے کھڑا نہ ہونا پڑتا)۔ اور یہ حدیث اسحاق بن منصور سے روایت کی گئی ہے انہوں نے اسرائیل سے اس کے آخر میں یہ کہا کہ ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کاش کہ میں کوئی درخت ہو تا جو کاٹ دیا جاتا ۔ راوی نے اس روایت میں اس جملے کو حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول بتایا ہے۔
اَبِیْ ذَرٍّ ← مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ، ← مُجَاهِدٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 784
