Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 760

759 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران و أبو الحسين محمد بن أحمد بن الحسن البزاز ببغداد قالا أنا عبد الله بن محمد بن إسحاق الفاكهي ثنا أبو يحيى بن أبي مسرة ثنا أبو عبد الرحمن المقرئ ثنا سعيد بن أبي أيوب أخبرني عبد الله بن الوليد عن سعيد بن المسيب عن عائشة رضي الله عنه : أن رسول الله كان إذا استيقظ من الليل قال : لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين اللهم إني استغفرك لذنبي و أسألك رحمتك اللهم زدني علما و لا تزغ قلبي بعد إذ هديتني وهب لي من لدنك رحمة إنك أنت الوهاب و روينا في كتاب الدعوات عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال في دعاء المضطر : اللهم رحمتك أرجو فلا تكلني إلى نفسي طرفة عين و أصلح لي شأني كله لا إله إلا أنت و قال في حديث آخر : إنك إن تكلني إلى نفسي تكلني إلى ضعف و عورة و ذنب و خطيئة و أني لا أثق إلا برحمتك فاغفر لي ذنوبي كلها إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت و تب علي إنك أنت التواب الرحيم

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران اور ابو الحسین محمد بن احمد بن حسن بزاز نے بغداد میں دونوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے ۔ عبداللہ بن محمد بن اسحاق فاکہی نے ان کو ابو یحییٰ بن ابو ہریرہ نے ان کو ابو عبدالرحمٰن مقری نے ان کو سعیدبن ابو ایوب نے ان کوعبداللہ بن ولید نے ان کو سعید بن مسیب نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہ رسول اللہ جب رات کو بیدار ہوتے تھے تو یہ دعا کرتے تھے : لاالٰہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین ۔ اللھم انی استغفرک لذنبی و اسائلک رحمتک ۔ اللھم ذدنی علماً ولا تزغ قلبی بعد اذھدیتنی وھب لی من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب۔ کوئی الٰہ نہیں ہے مگر تو ہی الٰہ ہے ۔ تو پاک ہے ۔ بے شک میں زیادتی کرنے والوں میں سے ہو اے اللہ بے شک میں تجھ سے معافی مانگتا ہوں اپنے گناہ کی ، اورمیں تجھ سے تیری رحمت مانگتا ہوں۔ اے اللہ میرا علم زیادہ فرما ۔ اور بعد اس کے کہ آپ نے مجھ کو ہدایت عطا کی میرے دل کو ٹیڑھانہ کر اور مجھ کو اپنی طرف سے رحمت عطا فرما بے شک تو ہی دینے والا ہے ۔

عَائِشَةَ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 760

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 761

760 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ ثنا ابن صاعد ثنا أبو هاشم الرفاعي ثنا زيد بن الحباب ثنا ابن موهب قال : سمعت أنس بن مالك يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا فاطمة : لا يمنعك أن تسمعي ما أوصيك به أن تقولي : يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث فلا تكلني إلى نفسي طرفة عين و أصلح لي شأني كله قال أبو أحمد : قال لنا ابن صاعد : و ابن موهب هذا هو عبيد الله بن عبد الرحمن بن موهب حدث عن أنس غير حديث هكذا قال لي ابن صاعد وقد

ہمیں خبر دی ابو سعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی حافظ نے ان کو احمد صاعد نے ان کو ابو ہاشم رفاعی نے ان کو زید بن حباب نے ان کو ابن موھب نے فرماتے ہیں کہ میں نے سنا حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ اے فاطمہ نہ رو کے تجھ کو اس بات سے کوئی کہ تو سنے جو کچھ تجھکو میں وصیت کروں ۔یہ دعا کیاکیجئے : یاحی یاقیوم برحمتک استغیث فلا تکلنی الیٰ نفسی طر فۃ عین و اصلح لی شانی کلہ ۔ اے زندہ جاوید ۔ اے سب کو قائم رکھنے والے میں تیری رحمت کے ساتھ فریاد کرتی ہوں مجھے پلک جھپکنے کی دیر بھی میرے نفس کے حوالے نہ کہ اور میرے ہر حال کی تو اصلاح فرما۔ ابو احمد کہتے ہیں ۔ ہمیں ابن صاعد نے کہا ۔ اور ابن موھب نے یہ وہی عبید اللہ بن عبد الرحمٰن بن موہب ہیں ۔ انہوں نے حضرت انس سے حدیث بیان کی مذکورہ حدیث کے علاوہ ۔ اور ابن صاعد نےمجھے اس طرح فرمایا ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ابْنُ مَوْهَبٍ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← أبو هاشم الرفاعي ← ابْنُ صَاعِدٍ ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 761

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 762

761 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا عبد الرحمن بن محمد بن محبور ثنا زكريا بن يحيى ثنا الحسن بن علي الحلوني ثنا زيد بن حباب ثنا عثمان بن موهب قال : سمعت أنس بن مالك يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لفاطمة : ما يمنعك أن تسمعي ما أوصيك به أن تقولي إذا أصبحت و أمسيت : يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث أصلح لي شأني كله و لا تكلني إلى نفسي طرفة عين و قال زيد و كان مسعر يسألني عن هذا الحديث و قال غيره عن زيد عن عثمان بن عبد الله بن موهب قال الإمام أحمد البيهقي رحمه الله : يعني و كل هذا الإشفاق منه على ما وضع في قلبه من الإيمان و وفق له من أعمال الإيمان علما منه بأنه إذا سلب التوفيق و وكل إلى نفسه لم يملك لنفسه شيئا فينبغي لكل مسلم أن يكون هذا الخوف من همه و بالله التوفيق

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو عبدالرحمٰن بن محمد بن مجبور نے ان کو ذکریا بن یحییٰ نے ان کو حسن بن علی حلوائی نے ان کو زید بن حباب نے ان کو عثمان بن وھب نے کہتے ہیں کہ میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا تھا کون سی چیز مانع ہو گی اس سے کہ آپ نے جو کچھ میں آپ کو وصیت کروں ؟ آپ صبح و شام یہ دعا کیاکریں ۔ یاحی یا قیوم بر حمتک اسغیث اصلح لی شانی کلہ ولا تکلنی نفسی طرفتہ عین ۔ زید کہتے ہیں مسعر مجھ سے اس حدیث کے بارے میں سوال کرتے تھے ۔ اور زید کے سوا دیگر نے کہا زید سے انہوں نے عثمان بن عبداللہ بن موھب سے (مروی ہے )۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عُثْمَانَ بْنِ مَوْهَبٍ ← زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ← الحسن بن علي الحلوني ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ← عبد الرحمن بن محمد بن محبور ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 762

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 763

762 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا وكيع عن مالك بن مغول ـ ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد ثنا أحمد بن مهران الأصبهاني ثنا محمد بن سابق ثنا مالك بن مغول عن عبد الرحمن بن سعيد بن وهب عن عائشة رضي الله عنها قالت : قلت يا رسول الله قول الله عز و جل : { والذين يؤتون ما آتوا وقلوبهم وجلة أنهم إلى ربهم راجعون } أهو الذي يزني و يشرب الخمر ؟ ـ و في رواية ابن سابق ـ أهو الرجل يزني و يسرق و يشرب الخمر و هو مع ذلك يخاف الله عز و جل ؟ قال : لا ـ و في رواية وكيع ـ لا يا بنت أبي بكر أو يا بنت الصديق ! و لكنه الرجل يصوم و يصلي و يتصدق و هو يخاف أن لا يقبل منه و في رواية ابن سابق : و هو مع ذلك يخاف الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو وکیع نے ان کو مالک بن مغول نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ زاہد نے ان کو احمد بن مہران اصفہانی نے ان کو محمد بن سابق نے ان کو مالک بن مغول نے ان کو عبدالرحمٰن بن سعید بن وہب نےسیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرماتی ہیں کہ میں نے کہا یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد : والذین یؤیون ما اتوا ا قلوبھم و جلۃ انھم الیٰ ربھم راجعون ۔ (المؤمنون 60) وہ لوگ جو کچھ دے سکتےہیں وہ دیتے ہیں اور ان کے دل کانپتے رہتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف جانے والے ہیں ۔ ( سیدہ عائشہ نے سوال کی اکہ اس آیت سے کون لوگ مراد ہیں ؟) کیا یہ وہ لوگ ہیں جو زنا کرتے ہیں ۔ اور شراب نوشی کرتے ہیں ؟ اور ابن سابق کی روایت میں یوں ہے کہ کیا یہ وہی آدمی مراد ہے جو زنا کرتا ہے اور چوری کرتا ہے اور شراب پیتا ہے اور وہ باوجود اس کے اللہ سے بھی ڈرتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نہیں اور وکیع کی روایت میں ہے نہیں اے ابو بکر کی بیٹی ۔ یایوں فرمایا اے صدیق کی بیٹی بلکہ اس سے وہ شخص مراد ہے جو نماز بھی پڑھتا ہے اور روزہ بھی رکھتا ہے اور صدقہ بھی کرتا ہے مگر وہ ڈرتا رہتا ہے کہ شاید اس سے یہ اعمال قبول نہ کئے جائیں ۔ اور ابن سابق کی ایک روایت میں ہے : وھو مع ذالک یخاف اللہ عزوجل ۔وہ اس ( نماز روززے اور صدقہ ) کے باوجود ڈرتا رہتا ہے ۔

قُلْتُ ← عَائِشَةَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ← أحمد بن مهران الاصبهاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← وَكِيعٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 763

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 764

763 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسين إسحاق بن أحمد الكاذي ثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا أبي ثنا وكيع ثنا أبو الأشهب قال : سمعت الحسن يقول : ـ { والذين يؤتون ما آتوا وقلوبهم وجلة } قال : كان ما يعلمون من أعمال البر و هم مشفقون أن لا ينجيهم ذلك من عذاب الله عز و جل

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو الحسین بن اسحاق بن احمد کا ذی نے ان کو عبداللہ بن احمد حنبل نے ان کو ان کے والد نے ان کو وکیع نے ان کو ابو الاشہب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حسن سے سنا فرماتے تھے کہ (یہ آیت) والذین یؤ تون ما اتواو قلوبھم و جلۃ ( المؤمنون 60) وہ لوگ میں جو کچھ دے سکتے ہیں دیتے ہیں ۔ ان کے دل ڈرتے رہتے ہیں ۔ فرمایا کہ وہ لو گ مراد ہیں جو نیکی کے اعمال کا عمل کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ وہ اس بات سے ڈرتے رہتے ہیں کہ شاید ان کےیہ اعمال ان کو اللہ کے عذاب سے نجات نہ دے سکیں ۔

والذين يؤتون ما آتوا وقلوبهم وجلة ← الْحَسَنِ، ← أَبُو الْأَشْهَبِ ← وَكِيعٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ الْكَاذِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 764

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 765

764 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا وكيع عن أبي الأشهب عن الحسن : فذكره مثله

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو وکیع نے ان کو ابو الاشھب نے حسن سے ۔ پھر اس کو مذکورہ حدیث کی مثل ذکر کیا ہے ۔

الحسن فذكره مثله ← أَبِي الْأَشْهَبِ ← وَكِيعٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 765

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 766

765 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن عبد الله بن السماك ببغداد ثنا يحيى بن جعفر بن الزبرقان ثنا إبراهيم بن محمد الشافعي ثنا الوليد بن مسلم و ضمرة بن ربيعة عن حماد بن أبي حميد عن مكحول عن عياض بن سليمان ـ و كانت له صحبة ـ قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خيار أمتي فيما أنبأني الملأ الأعلى قوم يضحكون جهرا في سعة رحمة ربهم و يبكون سرا من خوف شدة عذاب ربهم و يذكرون ربهم بالغداة و العشي في البيوت الطيبة المساجد و يدعونه بألسنتهم رغبا و رهبا و يسألونه بأيديهم خفضا و رفعا و يقبلون على الله بقلوبهم عودا و بدءا فمؤنتهم على الناس خفيفة و على أنفسهم ثقيلة يدبون على الأرض حفاة على أقدامهم كدبيب النمل بلا مراح و لا بذخ يمشون بالسكينة و يتقربون بالوسيلة و يقرؤون القرآن و يقربون القربان و يلبسون الخلقان عليهم من الله شهود حاضرة و عين حافظة يتوسمون العباد و يتفكرون في البلاد و أرواحهم في الدنيا و قلوبهم في الآخرة ليس لهم هم إلا إمامهم أعدوا الجهاز لقبورهم و الجواز لسبيلهم و الاستعداد لمقامهم ثم تلا رسول الله صلى الله عليه و سلم : { ذلك لمن خاف مقامي و خاف وعيد } تفرد به حماد بن أبي حميد و ليس بالقوي في الحديث عند أهل العلم به و الله تعالى أعلم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عمر و عثمان بن احمد بن عبداللہ سماک نے بغداد میں ۔ ان کو یحییٰ بن جعفر بن زبر قان نے ان کو ابراہیم بن محمد شافعی نے ان کو ولید بن مسلم نے اور ضمر ہ بن ربیعہ نے ان کو حمید بن ابو حمید نے ان کو مکحول نے عیاض بن سلیمان سے اور ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت حاصل تھی ۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ مجھے ملا الا علیٰ کے فرشتوں نے جو خبر دی ہے اس کے مطابق میری امت کے بہتر ین افراد وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کی رحمت کی کشادگی پر سامنے اور ظاہراً ہنستے اور خوش ہوتے ہیں اور اپنے رب کے عذاب کی شدت کے خوف سے چھپ کر روتے ہیں اور صبح و شام پاکیزہ گھروں یعنی مساجد میں اپنے رب کو یاد کرتے ہیں اور امید اور خوف کی کیفیت میں اپنی زبانوں کے ساتھ اس کو پکارتے ہ یں ۔اور اپنے ہاتھ کو بلند کر کے اور نیچے کر کے اس سے سوال کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتےہیں اولاً بھی اور دوبارہ بھی ۔ لوگوں پر ان کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے اور ان کے اپنے نفسوں میں بھاری ہوتا ہے ۔ وہ لوگ دھرتی پر آہستہ آہستہ ننگے پاؤں چلتے ہیں جیسے چیونٹی چلتی ہے بغیر کسی تکبر اور اترانے کے ۔ چلتے ہیں وقار کے ساتھ اور قرب الٰہی حاصل کرتے ہیں ( اعمال صالحہ کے ) وسیلے کے ساتھ ۔ اور وہ قرآن پڑھتے ہیں ۔ قربانی دیتے ہیں ۔ پرانے کپڑے پہنتے ہیں ۔ ان پر اللہ کی طرف سے گواہ موجود ہوتےہیں ۔ حفاظ کرنے والی نگاہیں ہوتی ہیں ۔ بندوں کو ان کے چہروں کی علامات پڑھ کر پہچان لیتے ہیں ۔ اور شہروں میں غور و فکر کرتے ہیں ۔ ان کو روحیں دنیا میں ہوتی ہیں اور ان کے دل آخرت میں ہوتےہیں ۔ ان کے لئے کوئی فکر نہیں ہوتی مگر انکے آگے کی اور وہ اپنی قبروں کے لئے (اعمال کا ) سامان تیار کرتے ہیں ۔ ( او ر اپنی آخرت کے ) راستے کی راہ داری اور پاسپورٹ بناتےہیں ۔ اور اللہ کے آگے اپنے پیش ہونے کے لئے تیاری کرتےہیں ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی : ذالک لمن خاف مقامی و خاف وعید (ابراہیم 14) یہ سب اس کے لئے ہے جو شخص میرے سامنے پیش ہونے سے ڈرا اور میرے عذاب سے ڈر گیا ۔اس روایت میں حماد بن ابو حمید کا تفرد ہے اور وہ حدیث میں قوی نہیں ہے اہل علم کے نزدیک۔

عياض بن سليمان و كانت له صحبة ← مَكْحُولٌ ← حَمَّادُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، ← الوليد بن مسلم و ضمرة بن ربيعة ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، ← أبو عمرو عثمان بن أحمد بن عبد الله بن السماك ببغداد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 766

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 767

766 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا عباس بن محمد الدوري ثنا يحيى بن خليف بن عقبة أبو بكر البصري ثنا ابن عون عن محمد عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما منكم من أحد ينجيه عمله قالوا : و لا أنت يا رسول الله ؟ قال : و لا أنا إلا أن يتغمدني الله منه برحمة وفضل و و ضع يده على رأسه هكذا يصف فعله أخرجه مسلم في الصحيح من وجه آخر عن ابن عون

ہمیں خبر دی ابو علی روذ باری نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو یحییٰ بن خلیف نے بن عقبہ ابو بکر بصری نے ان کو ابن عون نے ان کو محمد نے ان کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ فرماتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جس کو اس کے اعمال نجات دیدیں ، لوگوں نے کہا کیا آپ کو بھی آپ کے اعمال نجات نہیں دے سکیں گے ۔فرمایا ، کہ میں بھی نہیں ( نجات پاسکتا ) مگر یہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے فضل اور رحمت میں غوطہ دے دے ۔ اور آپ نے اپنا ہاتھ اپنے سر پ ر اس طرح رکھ لیا اس کی کیفیت بیان کی ۔ اس کو مسلم نے صحیح میں دوسرے طریقے سے ابن عون سے روایت کیا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← ابْنِ عَوْنٍ ← يحيى بن خليف بن عقبة أبو بكر البصري ← عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 767

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 768

767 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أبو عتبة بن الفرج ثنا بقية عن بحير بن سعيد عن خالد بن معدان عن عتبة بن عبد يعني السلمي : عن النبي صلى الله عليه و سلم : لو أن رجلا يجر على وجهه من يود ولد إلى يوم يموت هرما في مرضاة الله عز و جل لحقره يوم القيامة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابوبکر احمد بن حسننے دونوں کو خبر دی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابو عتبہ بن فرج نے ان کو بقیہ نے ان کو بجیربن سعید نے ان کو خالد بن معدان نے ان کو عتبہ بن عبد یعنی سلمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ اگر کوئی آدمی پیدا ہونے کے دنسے لے کر موت تک اپنے منہ کے بل بڑھاپے کی حالت میں اللہ کی رضا میں کھینچا جائے البتہ حقیر کر دے گا اس کو قیامت کے دن ۔

عتبة بن عبد يعني السلمي ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← بحير بن سعيد ← بَقِيَّةُ ← أَبُو عُتْبَةَ بْنُ الْفَرَجِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 768

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 769

768 - و رواه عبد الله بن المبارك عن ثور بن يزيد عن خالد بن معدان عن جبير بن نفير عن محمد بن أبي عميرة ـ و كان من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم ـ قال : لو أن عبدا جر على وجهه من يوم ولد إلى يوم يموت هرما في طاعة الله عز و جل لحقر ذلك اليوم و لود أنه زاد كيما يزداد من الأجر و الثواب و رواه عيسى بن يونس عن ثور ـ و قال : خر على وجهه في تاريخ البخاري

اس کو روایت کیا ہے عبداللہ بن مبارک نے ان کو ثور بن یزید نے ان کو خالد بن معدان نے انکو جبیر بن نفیر سے ان کو محمد بن ابی عمیرہ نے اور وہ اصحاب رسول میں سے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی بندہ اپنی پیدائش کے دن سے لے کر بڑھاپے تک اللہ کی اطاعت میں گھسیٹا جائے تو بھی اس دن حقیر ہو جائے گا اور البتہ وہ یہ چاہے گا کہ کسی طرح اجرو ثواب زیادہ ہو جائے ۔ اس کو روایت کیا ہے عیسیٰ بن یونس نے ثور سے وہ کہتے ہیں کہ اگر اپنے چہرے کے بل گرا یہ تاریخ بخاری میں ہے ۔ (یعنی جر علی وجہہ کی بجائے خر علی وجہہ ہے ثور کی روایت میں ) بلا بن سعد فرماتے ہیں ۔

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 769

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 770

769 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن القاضي و محمد ابن موسى قالوا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا العباس بن الوليد البيروتي أخبرني أبي حدثني الضحاك بن عبد الرحمن قال : سمعت بلال بن سعد يقول : عباد الرحمن ! هل جاركم مخبر يخبركم أن شيئا من أعمالكم تقبلت منكم أو شيء من خطاياكم غفرت لكم ؟ { أفحسبتم أنما خلقناكم عبثا و أنكم إلينا لا ترجعون } و الله لو عجل لكم الثواب في الدنيا لاستقللتم كلكم ما أفترض عليكم أفترغبون في طاعو الله لتعجيل دارهم و لا ترغبون و تنافسون في جنة { أكلها دائم و ظلها تلك عقبى الذين اتقوا و عقبى الكافرين النار }

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور احمد بن حسن قاضی نے اور محمد بن ابو موسیٰ نے کہتے کہ انکو بیان کیا ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن ولید بیروتی نے ان کو خبر دی ان کے باپ نے ان کو ضحاک بن عبدالرحمٰن نے وہ کہتے کہ میں نے سنا بلال بن سعد سے وہ فرماتے ہیں ۔ اے رحمٰن کے بندو ۔ کیا تمہارے پاس کوئی خبر دینے والا ایا ہے ؟ جو تمہیں تمہارے اعمل کے بارے میں کچھ خبر دے کہ وہ تم سے قبول کر لئے گئے ہیں یاتمہارے گناہوں میں سےکوئی شے معاف کردی گئی ہے ؟ افحسبتم انما خلقنکم عبثا و انکم الینا لا ترجعون ( المؤمنون 115) کیا سمجھتے ہو توم کہ ہم نے تمہیں یوں ہی بے کار وبے مقصد پیدا کیا ہے اور کہ تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جاؤگے ؟ اللہ کی قسم اگر ثواب تمہیں جلدی جلدی دنیا میں دے دیا جائے البتہ خود غرض ہو جائے گا ہر ایک تم سے ان فرائض سے جو تمہارے اوپر فرائض ہیں ۔ کیا اللہ کیااطاعت میںتم رغبت کرتے ہو اس کے گھر کی جلدی کرنےکے لئے نہ رغبت کرو ثواب کی اور رغبت کر وجنت میں ۔اکلھا دائم و ظلھا تلک عقبی الذین اتقوا و عقبی الکافرین النار (الدعد 35) میوہ اس کا دائمی ہے اور سایہ بھی دائمی ہے یہ انجام ہے ان لوگوں کا جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا اور کافروں کا انجام آگ ہے ۔

بِلَالِ بْنِ سَعْدٍ، ← الضَّحَّاکِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبَيْرُوتِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 770

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 771

770 - أخبرنا أبو عبد الله و محمد بن موسى قالا حدثنا أبو العباس أنا العباس بن الوليد أخبرني أبي حدثني الضحاك قال : سمعت بلال بن سعد يقول : استحيوا من الله و احذروا الله و لا تأمنوا مكر الله و لا تقنطوا من رحمة الله

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے ابو العباس نے ان کو عباس بن ولید نے ان کو ان کے باپ نے ان کو ضحاق نے کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا بلال بن سعد سے کہتے ہیں ۔ اللہ سے شرم و حیا کرو ۔ اور اللہ سے ڈرو ۔ اور اللہ کی تدبیر سے بے خوف نہ ہو ۔ اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔

بِلَالِ بْنِ سَعْدٍ، ← الضَّحَّاكُ، ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← أبو عبد الله و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 771

chevron_left Previous
1…333435…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood