Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 736

735 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمرو عثمان بن أحمد السماك ثنا محمد بن عبدك ثنا أبو بلال ثنا أبو المليح الرقي عن ميمون بن مهران عن ابن عباس قال : قدم على رسول الله صلى الله عليه و سلم وفد من العرب فيهم شاب فقال الشاب للكهول : اذهبوا فبايعوا رسول الله صلى الله عليه و سلم و أنا أحفظ لكم رحالكم فذهب الكهول فبايعوه ثم جاء الشاب فأخذ بحقوي رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله استجيرك من النار فقال القوم : دعه يا غلام ! فقال : و الذي بعثه لا أتركه حتى يجيرني من النار فأتاه جبريل فقال : يا محمد أجره فإن الله تعالى قد أجاره

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو عمر اور عثمان بن سماک نے ، ان کو محمد بن عبدک نے ان کو ابو بلال نے ان کو ابو الملیح رقی نے ، ان کو میمون بن مہران نے ان کو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس عرب کا ایک وفد آیا ان میں ایک جواب تھا اس جوان نے بوڑھوں سے کہا ۔ جاؤ تم لوگ رسول اللہ کے ہاتھ پر بیعت کرو اور میں تمہارے سامان کا حفاظت کرو ں گا۔چنانچہ بوڑھے لوگ چلے گئے اوررسول اللہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی اس کے بعد جوان آیا اور رسول اللہ کی کمر میں دونوں طرف سے کوکھ پر ہاتھ رکھا اور کہنے یار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں آپ سے آگ سے بچنے کا سوال کرتا ہوں ( یعنی مجھے آگ سے بچا لیجئے ) لوگوں نے کہا اے لڑکے آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھوڈ دیجئے ۔ بولا قسم ہے اس ذات کی جس نے ان کو بھیجا ہے میں ان کو نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ مجھے آگ سے پناہ دے دیں ۔ اور آگ سے بچالیں ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پا س جبرائیل آئے اور کہا اےمحمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پناہ دے دیجئے اس کو ،بے شک اللہ تعالیٰ نے اس کو پناہ دے دی ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ← أَبُو الْمَلِيحِ الرَّقِّيُّ ← أَبُو بِلَالٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدَكَ، ← أبو عمرو عثمان بن أحمد السماك ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 736

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 737

736 - و فيما أنبأني أبو الحسين علي بن محمد بن بشران إجازة أنا أبو علي البرذعي عن عبد الله بن محمد بن عبيد ثنا محمد بن يحيى بن أبي حاتم الأزدي ثنا جعفر بن أبي جعفر الرازي عن أبي جعفر السائح عن الربيع بن صبيح عن الحسن قال : كان شاب على عهد عمر بن الخطاب رضي الله عنه يلازم المسجد و العبادة فعشقته جارية فأتته في خلوة فكلمته فحدث نفسه بذلك فشهق فغشي عليه فجاء عم له فحمله إلى بيته فلما أفاق قال : يا عم انطلق إلى عمر فأقرئه مني السلام و قل له ما جزاء من خاف مقام ربه ؟ فانطلق عمه فأخبر عمر و قد شهق الفتى شهقة أخرى فمات منها فوقف عليه عمر فقال : لك جنتان لك جنتان

اس میں سے ہے جو مجھے خبر دی ہے ابو الحسین علی بن محمد بن بشران نے بطور اجازت دینے کے ۔ ان کو ابو علی برذعی نے ان کو عبداللہ بن محمد بن عبید نے ان کو محمد بن یحییٰ بن ابی حاتم ازدی نے ان کو جعفر بن ابو جعفر رازی نے ان کو ابو جعفر سائح نے، ان کو ربیع بن صبیح نے حسن سے وہ فرماتے ہیں کہ ۔ حضر ت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد خلافت میں ایک نو جوان تھا جو ہر وقت مسجد میں رہتا تھا اور عبادت کرتا رہتا تھا ۔ اس پر ایک لڑکی عاشق ہو گئی اور خلوت میں اس کے پاس آئی اوراس سے بات کی اس نے اپنے دل میں اپنے نفس سے اس بارے میں بات کی لہذا اس نے زور سے چیخ ماری اور بیہوش ہو گیا لہذاا س کے ایک چچاتھے وہ آئے اور اسےاپنے گھر لے گئے ۔ جب ہوش میں آیا تو کہا کہ اس شخص کی کیا جزا ہے ؟ جو اپنے رب کے آگے کھڑا ہونے او ر پیش ہونےسے ڈر جائے ؟ ان کے چچا چلے گئے جا کر حضرت عمر کو خبر دی اور اتنے میں اس نوجوان نے ایک دو سری چیخ ماری اور اسی چیخ سے مر گیا ۔ چنانچہ حضرت عمر اس پر مطلع ہو ئے اور فرمانے لگے : لک جنتان ۔ لک جنتان ۔ تیرے لئے ہی دو باغ ہیں تیرے ہی دو باغ ہیں ۔

الْحَسَنِ، ← الرَّبِيعُ بْنُ صَبِيحٍ ← أَبِي جَعْفَرٍ السَّائِحُ، ← جَعْفَرُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، ← محمد بن يحيى بن أبي حاتم الأزدي ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ، ← أبو علي البرذعي ← أبو الحسين علي بن محمد بن بشران ← و فيما

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 737

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 738

737 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن حازم ثنا عبيد الله بن موسى عن سفيان عن السدي في : قوله { إنما المؤمنون الذين إذا ذكر الله وجلت قلوبهم } قال : إذا هم بمعصية و ظلم أو نحو هذا قيل له اتق الله وجل قلبه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن حازم نے ان کو عبید اللہ بن موسیٰ نے ان کو سفیان نے ان کو سدی نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بارے میں : انما المؤ منون الذین اذاذکراللہ و جلت قلوبھم (انفال 2)(حقیقت یہی ہے کہ ) مؤمن وہی لوگ ہیں کہ جس وقت اللہ تعالیٰ کا تذکرہ ہو تا ہے ان کے دل کانپ جاتےہیں ۔ سدی نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے جب مؤمن کسی گناہ کا یاظلم و زیادتی کا ارادہ کرتا ہے یا اس کی مثل کسی شئے کا اور اس کے لئے کہاجائے کہ اتق اللہ ، تو اللہ سےڈرتو اس کا دل ڈرجاتا ہے ۔ اور کانپ جاتا ہے۔

الله وجلت قلوبهم ← السدي في قوله إنما المؤمنون الذين إذا ← سُفْيَانَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 738

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 739

738 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا هارون بن سليمان ثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن منصور عن مجاهد : ـ { و لمن خاف مقام ربه جنتان } قال : يذنب فيذكر مقامه فيدعه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں کو خبردی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ہارون بن سلیمان نے ان کو عبدالرحمٰن بن مہدی نے ان کو سفیان نے ان کو منصور نے ان کو مجاہد رحمۃ اللہ علیہ نے کہ: ولمن خاف مقام ربہ جنتان(الرحمٰن 42) اس شخص کے لئے جو اپنے رب کے آگے کھڑا ہونے سے ذر گیا دو باغ ہیں ۔ فرمایا کہ اس کا مطلب ہے کہ گناہ کر تا ہے پھر رب کے آگے کھڑا ہو نے کو یاد کرتا ہے تو اس گناہ کو چھوڑدیتا ہے۔

يذنب فيذكر مقامه فيدعه ← مجاهد و لمن خاف مقام ربه جنتان ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 739

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 740

739 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو ثنا أبو عبد الله الصفار ثنا أبو بكر بن أبي الدنيا ثنا علي بن الجعد أنا شعبة عن إبراهيم و مجاهد في : قوله : { و لمن خاف مقام ربه جنتان } قالا : هو الرجل يريد أن يذنب فيذكر مقام ربه فيدع الذنب و رواه خلف بن الوليد عن شعيب فقال : عن إبراهيم أو مجاهد بالشك

ہمیں خبر دی ہے ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو دنیا نے ان کو علی بن جعد نے ان کو شعبہ نے ان کو منصور نے ان کو ابراہیم نے اور مجاہد نے اس قول کے بارے میں کہ : ولمن خاف مقام ربہ جنتان ۔ دونوں نے کہا کہ اس وہ شخص مراد ہے جو گناہ کرتا ہے پھر رب کے آگے کھڑا ہونے کو یاد کرتا ہے تو گناہ کو چھوڑدیتا ہے۔ اس کو خلف بن ولید نے شعبہ سے روایت کیا ہے انہوں نے کہاکہ ابراہیم سے یا مجاہد سے یعنی شک کے ساتھ ۔

إبراهيم أو مجاهد بالشك ← شُعَيْبٌ، ← مقام ربه فيدع الذنب و رواه خلف بن الوليد ← هو الرجل يريد أن يذنب في ← إبراهيم و مجاهد في قوله ← شُعْبَةُ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 740

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 741

740 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا يحيى بن منصور ثنا أبو بكر الجارودي ثنا إسحاق بن منصور ثنا أبو داود ثنا مبارك بن فضالة عن عبيد الله بن أبي بكر عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يعني يقول الله عز و جل : أخرجوا من النار من ذكرني أو خافني في مقام

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو یحییٰ بن منصور نے ان کو ابو بکر جاروی نے ان کو اسحٰق بن منصور نے ان کو ابو داؤد نے ان کو مبارک بن فضالہ نے ان کو عبید اللہ بن ابی بکر نے ان کو انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یعنی کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ نکالو آگ میں سے ہر اس شخص کو جو مجھے یاد کرتا تھا یا مجھ سے ڈرتا تھا کھڑا ہونے سے میرے آگے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ← أَبُو بَكْرٍ الْجَارُودِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 741

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 742

741 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر بن الحسن قالا ثنا أبو العباس بن يعقوب ثنا يزيد بن محمد بن عبد الصمد الدمشقي ثنا نعيم بن حماد ثنا عثمان بن كثير بن دينار عن محمد بن مهاجر أخي عمرو بن مهاجر عن عروة بن رويم اللخمي عن عبد الرحمن بن غنم عن عبادة بن الصامت قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن من أفضل الإيمان المرء أن يعلم أن الله معه حيث كان

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو بکر بن حسن نے دونوں کہتے ہمیں خبر دی ہے ابو العباس بن یعقوب نے ان کو یزید بن محمد بن عبدالصمد د مشقی نے ا ن کو نعیم بن حماد نے ان کو عثمان بن کثیر بن دینار نے ان کو محمد بن مہاجر بھائی عمرو بن مہاجر نے ان کو عروہ بن رویم لخمی نے ان کو عبدالرحمٰن بن غنم نے ان کو عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرماتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے : ان من افضل ایمان المرء ان یعلم ان اللہ معہ حیث کان ۔ بے شک آدمی کے افضل ایمان میں سے ہے یہ بات وہ یہ جانے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہے جو جہاں بھی ہو۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ اللَّخْمِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ، أَخِي عَمْرِو بْنِ مُهَاجِرٍ ← عثمان بن كثير بن دينارٍ، ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← يزيد بن محمد بن عبد الصمد الدمشقي ← أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر بن الحسن

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 742

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 743

742 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا ابن نمير ثنا سفيان الثوري عن عبد الرحمن بن عباس قال : حدثني أبو أياس عن عبد الله بن مسعود أنه كان يقول في خطبته : خير الزاد التقوى و رأس الحكمة مخافة الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو ابن نمیر نے انکو سفیان ثوری نے ان کو عبدالرحمٰن بن عابس نے ان کو ابولیاس نے ان کو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہ وہ اپنے خطبے فرماتے تھے : خیر الزاد التقوی ، وراس الحکمۃ مخافۃ اللہ عزوجل ۔ بہتر سامان سفر تقویٰ ہے ( اللہ کی نا فرمانی سے بچنا) اور اصل عقلمند ی اللہ عزوجل سے ڈرنا ہے ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ ← أَبُو إِيَاسٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبَّاسٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 743

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 744

743 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس السياري ثنا عبد الله بن الغزال ثنا علي بن الحسن بن شقيق ثنا بشر بن السري عن سفيان الثوري عن عبد الرحمن بن عابس عن أبيه قال : قال عبد الله بن مسعود : رأس الحكمة مخافة الله عز و جل هذا موقوف و قد روي من وجه آخر ضعيف مرفوعا إلى النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس سیاری نے ان کو عبداللہ بن عزال نے ان کو علی بن حسن بن شقیق نے ان کو بشر بن سری نے ان کو سفیان ثوری نے ، ان کو عبدالرحمٰن بن عابس نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : راء س الحکمۃ مخافتہ اللہ ۔ دانائی کی جڑ اللہ کا خوف ہے ۔ یہ روایت موقوف ہے ۔ اور ایک اور ضعیف طریقہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک مرفوع بھی مروی ہے ۔

أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← عبد الله بن الغزال ← أَبُو الْعَبَّاسِ السَّيَّارِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 744

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 745

744 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا إسماعيل بن الفضل و جعفر بن أحمد بن عاصم قالا : ثنا محمد بن مصفى ثنا بقية بن الوليد ثنا عثمان بن زفر عن أبي عمار الأسدي عن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : رأس الحكمة مخافة الله عز و جل : و روي ذلك من حديث عقبة بن عامر في خطبة النبي صلى الله عليه و سلم بتبوك

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو اسماعیل بن فضل نےاور جعفر ابن احمد بن عاصم نے دونوں کہتے ہیں ان کو خبر دی ہے محمد بن مصفی نے ان کو بقیہ بن ولید نے ان کو عثمان بن زمزنے ان کو ابو عمارا سدی نے ان کو حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : راء س الحکمۃ مخافتہ اللہ حکمت و ادانائی کی اصل اللہ سے ڈرنا ہے ۔ اور یہ عقبہ بن عامر کی روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطبہ تبوک میں روایت کی گئی ہے ۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أبي عمار الأسدي ← عُثْمَانَ بْنِ زُفَرَ ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى ← إسماعيل بن الفضل و جعفر بن أحمد بن عاصم ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 745

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 746

745 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن يعقوب بالطابران ثنا عبد الرحمن بن العباس بن عبد الرحمن ببغداد ثنا أحمد بن يونس ـ ح و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا الأسفاطي يعني العباس بن الفضل ثنا أحمد بن يونس ثنا أيوب بن عتبة عن الفضل بن بكر عن قتادة عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثلاث مهلكات ! شح مطاع و هوى متبع و إعجاب المرء بنفسه و ثلاث منجيات : خشية الله من السر و العلانية و القصد في الغنى و الفقر و كلمة الحق في الرضا و الغضب و روي ذلك من وجه آخر عن أبي هريرة مرفوعا

ہمیں خبر دی ابو الحسن محمد بن یعقوب نے طابران نے ، ان کو عبدالرحمٰن بن عباس نے بن عبدالرحمٰن نے بغداد میں ان کو ابراہیم بن اسحٰق حربی نے ان کو احمد بن یونس نے اور ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو اسفاطی نے ، یعنی عباس بن فضل نے ان کو احمد بن یونس نے ان کو ایوب بن عتبہ نے ان کو فضل بن بکیر نے ان کو قتادہ نے ان کو حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ثلاث مھلکات۔ شح مطاع۔ وھوی متبع۔ واعجاب المرء بنفسہ ۔ تین چیزیں ہلاک کرنے والی ہیں تیری نفس کی اطاعت۔ خواہش کی اتباع ۔ عجب اورخود پسند ی ۔ وثلاث مجیات ، خشیۃ اللہ فی السرو العلانیہ۔ و القصد فی الغنی و الفقروو کلمۃ الحق فی الرضاء والغضب ۔ اور تین چیزیں نجات دہندہ ہیں چھپے اوظاہر ہر حال میں اللہ سے ڈرنا ۔ غنی ہو یا فقیر ہو ہر حال میں میانہ روی اختیار کرنا ۔ خوشی ہو یا غصہ ہو حق بات کہنا ۔ یہ روایت ایک اور طریق سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً بھی مروی ہے ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← الْفَضْلِ بْنِ بَكْرٍ، ← أَيُّوبَ بْنِ عُتْبَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← الْأَسْفَاطِيُّ يَعْنِي الْعَبَّاسَ بْنَ الْفَضْلِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← عبد الرحمن بن العباس بن عبد الرحمن ببغداد ← أبو الحسن محمد بن يعقوب بالطابران

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 746

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 747

746 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن يعقوب العدل ثنا محمد بن عبد الوهاب الفراء ثنا جعفر بن عون ثنا المسعودي عن القاسم بن عبد الرحمن قال : قال عبد الله : كفى بخشية الله علما و كفى بالاغترار بالله جهلا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن یعقوب عدل نے ان کو محمد بن عبدالوہاب فراء نے ، ان کو جعفر بن عون نے ان کو مسعودی نے ان کو قاسم بن عبدالرحمٰن نے کہتے ہیں کہ فرمایا عبداللہ نے : کفی یخشۃ اللہ علما۔ وکفی با الاغترار بااللہ جھلاً۔ خثیتہ خداوندی کے لئے عالم ہونا کافی ہے اور اللہ کے ساتھ دھوکہ کھانے میں جہالت کافی ہے ۔

عبد الله كفى بخشية الله علما و كفى بالاغترار بالله جهلا ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الْمَسْعُودِيِّ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 747

chevron_left Previous
1…313233…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood