Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ الفصل الثاني في ذكر آثار و أخبار وردت في ذكر الله عز و جل · حديث 676

675 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن أبي الدنيا ثنا خلف بن هشام ثنا حماد بن زيد عن يحيى بن سعيد عن سعيد قال : قال معاذ : لأن أذكر الله من بكرة إلى الليل أحب إلي من أن أحمل على جياد الخيل في سبيل الله من بكرة إلى الليل

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ، ان کو عبداللہ بن ابو دنیا نے ، ان کو خلف بن ھشام نے ، ان کو حماد بن زید نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ، ان کو سعید نے فرماتے ہیں کہ حضرت معاذنے فرمایا کہ البتہ اگر میں اللہ کا ذکر صبح سے رات تک کروں وہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں خالص عمدہ گھوڑوں پر اللہ کی راہ میں صبح سے رات تک سواری کروں ۔

سَعِيدٌ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← خلف بن هشام، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty · Hadith 676

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ الفصل الثاني في ذكر آثار و أخبار وردت في ذكر الله عز و جل · حديث 677

676 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا محمد بن علي الصنعاني بمكة ثنا إسحاق بن إبراهيم بن عباد أنا عبد الرزاق أنا سفيان الثوري عن حكيم بن جبير عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : ما من مولود إلا على قلبه الوسواس فإن ذكر الله خنس و إن غفل وسوس و هو قوله عز و جل : { الوسواس الخناس }

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو محمد بن علی صنعانی نے مکہ میں ، ان کو خبر دی ہے اسحاق بن ابراہیم بن عباد نے ، ان کو عبدالرزاق نے ، ان کو سفیان ثوری نے، ان کو حکیم بن جبیر نے ، ان کو سعید بن جبیر نے ، ان کو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ، وہ فرماتےہیں کہ : کو پیدا ہونے والا یسا نہیں ہے مگر سب کے دل میں وسوسہ اور شک ڈالنے والا موجود ہے ۔ اگر اللہ کا ذکر کرتا ہے تو ہو پیچھے ہو جاتا ہے اور چھپ جاتا ہے اور اگر انسان ذکر سے غافل ہو جاتا ہے تو پھر وہ دل میں وسوسہ ڈالتا ہے ۔ اسی بارے میں یہ قول باری تعالیٰ الوسواس الخناس ہے ۔ کہ کہہ دیجئے میں سارے لوگوں کے رب کی پناہ چاہتا ہوں وسوسہ ڈال کر چھپ جانے والے کے شر سے ۔

مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا عَلَى قَلْبِهِ الْوَسْوَاسُ، فَإِنْ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حكيم بن جبير ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّنْعَانِيُّ، بِمَكَّةَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty · Hadith 677

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ الفصل الثاني في ذكر آثار و أخبار وردت في ذكر الله عز و جل · حديث 678

677 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر بن الحسن قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا العباس بن الوليد بن مزيد أخبرني أبي ثنا ابن جابر حدثني عثمان بن حيان حدثتني أم الدرداء قالت : كان رجلان متواخيان تواخيا في الله عز و جل و كان إذا لقي أحدهما الآخر قال له : أي أخي تعال هلم نذكر الله بينما هما التقيا في السوق عند باب حانوت فقال أحدهما للآخر : أي أخي هلم نذكر الله عز و جل عسى الله أن يغفر لنا ثم لبثا لبثا فمرض أحدهما فأتاه صاحبه فقال : أي أخي انظر أن تأتيني في منامي فتخبرني ماذا لقيت بعدي قال : أفعل إن شاء الله قال : فلبث حولا ثم أتاه فقال : أي أخي أشعرت أنا حين التقينا في السوق عند الحانوت فدعونا الله عز و جل أن يغفر لنا أن الله غفر لنا يومئذ قال ابن جابر : لقد سماهما لي عثمان فنسيت اسمهما

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو بکر بن حسن نے ، دونوں کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو عباس بن ولید بن مزید نے ، وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی میرے والد نے ، ان کو ابن جابر نے ، ان کو عثمان بن حیان نے ، کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے ام درداء نے کہ دو آدمی اللہ کی راہ میں باہم محبت اور بھائی چارہ رکھتے تھے ۔ دونوں میں سے کوئی ایک بھی جب ایک دوسرے سے ملتے توکہتے بھائی جان آئیے ہم اللہ کا ذکر کریں ۔ ایک دن دونوں بازار میں ایک دکان کے پاس ایک دوسرے سےملے ۔ ایک نے دوسرے سےکہا آئیے بھائی ہم مل کر اللہ کا ذکر کریں ۔ قریب ہے کہ اللہ ہم دونوں کو معاف کردے ۔ پھر دونوں کچھ عرصہ ٹھہر ے کہ ایک ان میں سے بیمار ہو گیا ۔ اس کے پاس اس کا ساتھی آیا اور بولا کہ بھائی جان دیکھئے اگر آپ فوت ہوگئے تو آپ خواب مین میرے پاس آنا مجھے بتانا کہ میرے بعد تیرے ساتھ کیا گذری ۔ اس نے کہا ، انشاء اللہ ، میں ایسے ہی کروں گا ۔ (چنانچہ اس کا انتقال ہو گیا ) اور یہ ساتھی سال بھر انتظار کرتا رہا ۔ اس کے بعد وہ خواب میں آیا اور بولا بھائی جان آپ کو یاد کہ ہم جب بازار مین دکان کے پاس آپس میں ملے تھے (اور ذکر کیا تھا ) اور ہم نے اللہ سے دعا کی تھی کہ اللہ ہمیں بخش دے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہم دونوں کو اسی دن بخش دیا تھا ۔ ابن جابر کہتے ہیں کہ عثمان بن حیان نے ان دونوں کا نام بھی میرے سامنے ذکر کیا تھا ، مگر ان کو بھول گیا ہوں ۔

عثمان بن حيان حدثتني أم الدرداء ← ابْنِ جَابِرٍ ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر بن الحسن

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty · Hadith 678

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ الفصل الثاني في ذكر آثار و أخبار وردت في ذكر الله عز و جل · حديث 679

678 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس بن يعقوب ثنا الخضر بن أبان ثنا سيار ثنا جعفر بن سليمان ثنا ثابت قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يواخي بين أصحابه فآخى بين سلمان الفارسي و بين أبي الدرداء و بين عوف بن مالك و بين الصعب بن جثامة فقال أحدهما لصاحبه : إن مت قبلك يا أخي فتراء لي قال : فمات صعب قبله فتراء له عوف فرآه فقال : كيف أنت يا أخي ؟ قال : بخير ما صنعت ؟ قال : غفر لنا يوم دعونا عند حانوت فلان و لم يكن في أهلي مصيبة إلا لحقني أجرها حتى هرة لنا ماتت منذ ثلاثة أيام

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو لعباس بن یعقوب نے ، ان کو خضربن ربان نے ، ان کو سیارنے ، ان کو جعفر بن سلیمان نے ، ان کو ثابت نے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کرتے تھے ، لہذا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابو دردا ء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا اور حضرت عوف بن مالک اور صعب بن جثامہ کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا ۔ چنانچہ ان میں سے ایک نے دوسرے سےکہا ، اگر میرا تم سے پہلے انتقال ہوا اے بھائی جان تو تم میرا خواب میں انتظار کرنا ۔ کہتے ہیں کہ صعب کا عوف سےپہلے انتقال ہوگیا ۔ چنانچہ عوف نے اس کا انتظار کیا اور اس نے دیکھا تو کہا میرے بھائی تم کیسے ہو؟ بو لےمیں خیریت سے ہوں ، عوف نے پوچھا ، کیا کیا تم نے ؟ (یعنی تیرے ساتھ کیا سلوک کیا گیا ؟)بولے ہمارے لئے اسی دن سے مغفرت ہوگئی تھی جس دن ہم لوگوں نے فلاں کی دکان کے قریب دعا کی تھی ۔ میرے گھر میں جو بھی مصیبت آتی ہے اس کے صلے میں مجھے بھی اجر ملتا ہے۔ یہاں تک کہ ہماری بلی تھی جو کہ تین دن سے مرگئی ہے ۔ (گویا کہ اس پر بھی مجھے اجرملا ہے )۔

ثَابِتٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← سَيَّارٍ، ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty · Hadith 679

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ الفصل الثاني في ذكر آثار و أخبار وردت في ذكر الله عز و جل · حديث 680

679 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف البخاري ثنا يحيى بن أبي طالب أنا زيد بن الحباب أنا ابن أبي ذئب عن سعيد بن أبي سعيد المقبري عن أبيه عن عبد الله بن سلام قال : قال موسى عليه السلام : يا رب ما الشكر الذي ينبغي علي ؟ فأوحى الله عز و جل إليه : أن لا يزال لسانك رطبا من ذكري قال : يا رب إني أكون على حال أجلك أن أذكرك فيها قال : و ما هي قال : أكون جنبا أو على غائط أو إذا بلت قال : يا رب فما أقول ؟ قال : سبحانك و بحمدك جنبني الأذى سبحانك و بحمدك قني الأذى

ہمیں خبر دی ہے ابو زکر یا بن ابو اسحاق نے ، ان کو ابوالفضل حسن بن یعقوب بن یوسف بخاری نے ، ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ، ان کو زید بن حباب نے ، ان کو ابن ابی ذئب نے ، ان کو سعید بن ابو سعید مقبری نے ، ان کو ان کے والد نے ، ان کو عبداللہ بن سلام نے ، وہ فرماتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام نے کہا ، اے میرے رب ، میرے اوپر کس طرح کا شکر لازم ہے اور میرے شایان شان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ تیری زبان ہروقت میرے زکر کے ساتھ تررہنی چاہئے ۔ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا ۔ اے میرے رب میں ایسے حال میں ہوتا ہوں کہ اس حال میں تیرا ذکر کرنا میں تیرے جلال اور تیری عظمت کے خلاف سمجھتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ کیا ہے ؟ عرض کیا کہ میں کبھی جنب والا اور ناپاک ہوتا ہوں یا قضاء حاجت پر ہوتا ہوں یا میں پیشاب کر چکا ہوتا ہوں ۔ فرمایا اگر چہ تو کسی حال میں بھی ہو ۔ عرض کیا کہ میں کیا ذکر کروں ۔ فرمایا کہ ہوں کہو: سبحانک و بحمدک جنبی الا ذی ۔ سبحانک و بحمدک قنی الاذی ۔ اے اللہ تو پاک ہے اپنی تعریف سمیت ۔ مجھے تکلیف وہ چیز سے دور کردے تو پاک ہے اپنی تعریف کے ساتھ بچا تو مجھے گندگی سے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ ← أَبِيهِ ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف البخاري ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty · Hadith 680

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ الفصل الثاني في ذكر آثار و أخبار وردت في ذكر الله عز و جل · حديث 681

680 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أسيد بن عاصم ثنا الحسين بن حفص عن سفيان عن عطاء بن أبي مروان أبي مصعب الأسلمي قال : حدثني أبي عن كعب قال : قال موسى عليه السلام : يا رب أقريب أنت فأناجيك أم بعيد فأناديك ؟ فقيل له : يا موسى أنا جليس من ذكرني فقال : إني أكون على حال أجلك عنها قال : ما هي يا موسى ؟ قال : عند الغائط و الجنابة قال : اذكرني على كل حال

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو سعید بن ابو عمرہ سے دونوں کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی محمد بن یعقوب نے ان کو اسید بن عاصم نے ان کو حسین بن حفص نے ، ان کو سفیان نے عطا بن ابی مروان ابو مصعب اسلمی سے، کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی میرے وال نےکعب سے، وہ کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ، اے میرے رب کیا آپ قریب ہیں ۔ لہذا میں تیرے ساتھ سر گوشی کروں ۔ یا آپ بعید اور دور ہیں لہذا میں آپ کو زور سےپکاروں۔ اس سےکہا گیا اے موسیٰ میں اس کا ہمنشین ہوں جو میرا زکر کرتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا کہ میں ایسی حالت پر ہوتا ہوں کہ میں آپ کو اس وقت ذکر کرنے سے عظیم اور جلیل تر جانتاہوں ۔ فرمایا کہ وہ کیا ہے ؟ عرض کیا کہ پا خانے کے وقت اور جنب یعنی ناپاکی کے وقت ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ مجھےہر حال میں یاد کیجئے ۔

اذْكُرْنِي عَلَى كُلِّ حَالٍ ← عند الغائط و الجنابة ← مَا هِيَ يَا مُوسَى؟ ← إِنِّي أَكُونُ عَلَى حَالٍ أُجِلُّكَ عَنْهَا ← جَلِيسُ مَنْ ذَكَرَنِي، ← موسى يا رب أقريب أنت فأناجيك أم بعيد فأناديك فقيل له يا موسى ← کَعْبٍ ← أَبِي ← عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَرْوَانَ أَبِي مُصْعَبٍ الْأَسْلَمِيِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ← أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty · Hadith 681

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ الفصل الثاني في ذكر آثار و أخبار وردت في ذكر الله عز و جل · حديث 682

681 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو الحسن بن صبيح ثنا عبد الله بن شيرويه ثنا إسحاق ثنا جرير عن يعقوب القمي عن أبي عمرو الشيباني عن أبيه عن ابن عباس قال : وفد موسى إلى طور سيناء قال يا رب أي عبادك أحب إليك ؟ قال : الذي يذكرني و لا ينساني

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ابو الحسن بن صبیح نے ، ان کو عبداللہ بن شیر ویہ نے ، ان کو اسحاق نے ، ان کو جریر نے ، ان کو یعقوب قمی نے ، ان کو ابو عمر وشیبانی نے ، ان کو والد نے ، ان کو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ، فرماتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام طور پر سینا پرآئے اور عرض کیا اے میرے رب تیرے بندوں میں سے کونسا بندہ تجھے محبوب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ بندہ جو مجھےیاد کرتا ہے اور مجھے نہیں بھولتا ۔

الذي يذكرني و لا ينساني ← يا رب أي عبادك أحب إليك ← وفد موسى إلى طور سيناء ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ← يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ، ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شِيرَوَيْهِ ← أبو الحسن بن صبيح ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty · Hadith 682

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ الفصل الثاني في ذكر آثار و أخبار وردت في ذكر الله عز و جل · حديث 683

682 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا علي بن حمشاذ أنا أحمد بن محمد بن سالم ثنا إبراهيم بن الجنيد حدثني أحمد بن حاتم الطويل ثنا حاتم بن إسماعيل ثنا عبد الملك بن حسن عن محمد بن كعب القرظي قال : قال موسى عليه السلام : يا رب أي خلقك أكرم عليك قال : الذي لا يزال لسانه رطبا من ذكري قال : يا رب أي خلقك أعلم ؟ قال : الذي يلتمس إلى علمه علم غيره قال : يا رب فأي خلقك أعدل ؟ قال : الذي يقضي على نفسه كما يقضي على الناس قال : يا رب فأي خلقك أعظم ذنبا ؟ قال : الذي يتهمني قال : يا رب و هل يتهمك أحد ؟ قال : الذي يستخيرني ثم لا يرضى بقضائي

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدااللہ حافظ نے ، ان کو علی بن حمشاد نے ان کو احمد بن محمد بن سالم نے ، ان کو ابراہیم بن جنید نے ، ان کو احمد بن حاتم طویل نے ، ان کو حاتم بن اسماعیل نے ، ان کو عبدالملک بن حسن نے ، ان کو محمد بن کعب قرضی نے ، کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام نے کہا ، اے میرے رب ، تیری مخلوق میں سے تیرے نزدیک کون زیادہ عزت و شرافت والا ہے ؟ فرمایا کہ وہ جس کی زبان ہمیشہ میرے ذکر کے ساتھ تر رہتی ہے ۔ پھر موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا کہ تیری مخلوق میں سے زیادہ جاننے والا کون ہے؟ فرمایا کہ جو دوسرے کے علم کو اپنے علم پر ترجیح دیتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا تیری مخلوق میں سب سے زیادہ عادل کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو شخص اپنے نفس کے خلاف بھی فیصلہ کرتا ہے ۔ جیسے کہ وہ لوگوں کے خلاف فیصلہ کرتا ہے۔ پھر موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا کہ اے میرے رب ، تیری مخلوق میں سب سے زیادہ بڑا گنا ہگار کون ہے ؟ فرمایا جو مجھ پر تہمت دھرتا ہے ۔ عرض کی کہ اےمیرے رب کیا آپ کے اوپر بھی کوئی ہے جو تہمت لگائے ۔ فرمایا کہ جو شخص مجھ سے خیر طلب کرتا ہے (استخارہ کرتا ہے )پھر میرے فیصلے پر راضی نہیں ہوتا ۔

الذي يستخيرني ثم لا يرضى بقضائي ← يا رب و هل يتهمك أحد ← الذي يتهمني ← يا رب فأي خلقك أعظم ذنبا ← الَّذِي يَقْضِي عَلَى نَفْسِهِ كَمَا يَقْضِي عَلَى النَّاسِ. ← يا رب فأي خلقك أعدل ← الذي يلتمس إلى علمه علم غيره ← يا رب أي خلقك أعلم ← الذي لا يزال لسانه رطبا من ذكري ← موسى يا رب أي خلقك أكرم عليك ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← عبد الملك بن حسن ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← أحمد بن حاتم الطويل ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْجُنَيْدِ، ← أحمد بن محمد بن سالم ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty · Hadith 683

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ الفصل الثاني في ذكر آثار و أخبار وردت في ذكر الله عز و جل · حديث 684

683 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أخبرنا أبو سهل بن زياد القطان ثنا عبد الله بن أبي مسلم الحراني ثنا داود بن عمرو ثنا صالح بن عمر عن عبد الملك عن عطاء : في قوله عز و جل : { فاذكروا الله كذكركم آباءكم } قال هذا الصبي يلهج يا ابه يا ابه

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل نے ، ان کو خبردی ابو سھل بن زیاد وقطار نے ، ان کو عبداللہ بن ابی مسلم حرانی نے، ان کو داؤد بن عمرو نے ، ان کو صالح بن عمرو نے ، ان کو عبدالملک نے ، ان کو عطاء نے اللہ تعالیٰ کےارشاد کے بارے میں : فاذکرو اللہ کذکرکم آباء کم (البقرہ 200) اللہ تعالیٰ کو ایسے یاد کرو جیسے تم اپنے باپ دادوں کو یاد کرتےہو۔ فرمایا کہ یہ وہ بچہ مراد ہے جو چیختا ہے اور ضد کرتا ہے کہ اے باپ ، اے باپ ، اے میرے ابا ، اےمیرے ابا ۔

هذا الصبي يلهج يا ابه يا ابه ← عطاء في قوله عز و جل فاذكروا الله كذكركم آباءكم ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← صَالِحِ بْنِ عُمَرَ ← دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو، ← عبد الله بن أبي مسلم الحراني ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty · Hadith 684

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ الفصل الثاني في ذكر آثار و أخبار وردت في ذكر الله عز و جل · حديث 685

684 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى بن الفضل قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا العباس بن الوليد بن مزيد أخبرني أبي ثنا سعيد بن عبد العزيز قال : قال بلال بن سعد : الذكر ذكران ذكر الله باللسان حسن جميل و ذكر الله عند ما أحل أو حرم أفضل

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ بن فضل نے ، وہ دونوں کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو عباس بن ولید بن فرید نے ، ان کو خبر دی ان کے والد نے ، ان کو سعید بن عبدالعزیز نے ، وہ کہتے ہیں کہ بلال بن سعد نے فرمایا : ذکر دو قسم کےہیں ۔ زبان کے ساتھ اللہ کو یاد کرنا یہ اچھا ہے اور خوبصورت ہے۔ دوسرے اللہ کو یاد کرنا اس وقت جب وہ حلال کرے یا حرام کرے یہ افضل ہے ۔ (یعنی اللہ کےحلال کو اس کا حلال کیا ہوا سمجھے اور اس کے حرام کو اسی کا حرام سمجھ کر باز آجائے )۔

الله عند ما أحل أو حرم أفضل ← الله باللسان حسن جميل و ← بِلَالُ بْنُ سَعْدٍ: الذِّكْرُ ذِكْرَانِ: ← سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى بن الفضل

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty · Hadith 685

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ الفصل الثاني في ذكر آثار و أخبار وردت في ذكر الله عز و جل · حديث 686

685 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت عبيد الله بن عبد الرحمن يقول : سمعت إسحاق بن إبراهيم بن أبي حسان الأنماطي ثنا أحمد بن أبي الحواري ثنا أبو مسهر ثنا ابن شابور عن سعيد بن عبد العزيز عن بلال بن سعد قال : الذكر ذكران : فذكر الله باللسان و كل ذكر حسن و ذكر عند الطاعة و المعصية فذاك أفضل

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ، کہتے ہیں کہ میں نے سنا ہے عبید اللہ بن عبدالرحمٰن سے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ہے عبید اللہ بن عبدالرحمٰن سے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اسحاق بن ابراہیم بن ابو حسان انماطی سے، ان کو احمد بن ابو الحواری نے ، ان کو ابو مسھر نے ، ان کو ابن شابور نے ، ان کو سعید بن عبدالعزیز نے ، ان کو بلال بن سعد نے ، فرماتے ہیں کہ ذکر دو قسم کے ہیں ۔ زبان کے ساتھ اللہ کا زکر کرنا ، یہ ذکر حسن ہے۔اور دوسرے ذکر ہے طاعت اور معصیت کے وقت ۔ یہ افضل ہے ۔ (یعنی کوئی اطاعت کرنے لگے تو اللہ کو یاد کرے کہ یہ اسی کے حکم کی اطاعت ہے اور گناہ کرنے پر آئے تو اللہ کو یاد کرلے کہ اسی کی نافرمانی ہو رہی ہے تا کہ اس سے بچا جائے۔

عند الطاعة و المعصية فذاك أفضل ← حسن و ← الذكر ذكران فذكر الله باللسان و كل ← بِلَالِ بْنِ سَعْدٍ، ← سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ← ابن شابور ← اَبُوْ مُسْھِرٍ، ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← إسحاق بن إبراهيم بن أبي حسان الأنماطي ← عبيد الله بن عبد الرحمن ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty · Hadith 686

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ الفصل الثاني في ذكر آثار و أخبار وردت في ذكر الله عز و جل · حديث 687

686 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا أبو سهل بن زياد القطان ثنا أبو إسماعيل الترمذي ثنا أبو صالح ثنا معاوية بن صالح عن ربيعة بن يزيد عن إسماعيل بن عبيد الله عن أم الدرداء أنها قالت : ـ { و لذكر الله أكبر } و إن صليت فهو من ذكر الله و إن صمت فهو من ذكر الله و كل خير تعمله فهو من ذكر الله و كل شيء تجتنبه فهو من ذكر الله و أفضل من ذلك تسبيح الله عز و جل و روي في معناه حديث مرسل

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن فضل نے ، ان کو سھل بن زیاد قطان نے ، ان کو ابو اسماعیل ترمذی نے ، ان کو ابو صالح نے ، ان کو معاویہ بن صالح نے ، ان کو ربیعہ بن یزید نے ، ان کو اسماعیل بن عبیداللہ نے ، ان کو ام درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ، وہ فرماتی ہیں : ولذکراللہ اکبر (عنکبوت 45)اللہ کی یاد بہت بڑی ہے۔

الله و كل شيء تجتنبه فهو من ← الله و كل خير تعمله فهو من ← الله و إن صمت فهو من ← و لذكر الله أكبر و إن صليت فهو من ← أُمِّ الدَّرْدَاءِ، أَنَّهَا ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ1 اللَّهِ ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← أَبُو صَالِحٍ، ← أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty · Hadith 687

chevron_left Previous
1…262728…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood