Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 652

651 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار المعدل ثنا أحمد بن محمد بن نصر ثنا سعيد بن داود ثنا عبد العزيز بن أبي حازم و ابن الدراوردي قالا : إنا لجلوس عند جعفر بن محمد بن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب رضي الله عنهم إذ استأذن عليه سفيان فأذن له فدخل فسلم ثم جلس فقال يا سفيان ! فقال لبيك قال : إنك رجل تطلب السلطان و أنا رجل اتقى السلطان فقم غير مطرود فقال سفيان تحدث و أقوم فقال جعفر أخبرني أبي عن جدي أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من أنعم الله عليه بنعمة فليحمد الله و من استبطأ الرزق فليستغفر الله و من حزبه أمر فليقل لا حول و لا قوة إلا بالله ثم قام سفيان فناداه جعفر فقال سفيان ! قال : لبيك قال : خذهن ثلاث و أي ثلاث و أشار بيده

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو عبداللہ بن دینار معدل نے ، ان کو احمد بن محمد بن نضر نے ، ان کو سعید بن داؤد نے ، ان کو عبدالعزیز بن ابی حازم نے اور ابن دراوردی نے ، دونوں کہتے ہیں کہ ہم جعفر بن محمد بن علی بن حسن بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھے تھے ، اتنے میں سفیان ثوری تشریف لائے اور اجازت چاہی ۔ انہوں نے اجازت دی ، اندر آئے اور سلام کیا اور بیٹھ گئے حضرت جعفر نے کہا اے سفیان بولے لبیک ( میں حاضر ہوں) آپ ایسے آدمی ہیں کہ آپ بادشہ کو ڈھونڈتے ہیں اور میں بادشہ سے بچتا ہوں ۔ آپ ڈانٹ کھا کر جانے کے بغیر ہی اٹھ جائیے ۔ حضرت سفیان بولے آپ حدیث بیان کریں اور میں اٹھ جاؤں ۔ چنانچہ حضرت جعفر (صادق) کہنے لگے میرے والا نےمیرے دادا سے سن کر بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا : جس شخص پر اللہ تعالیٰ کو ئی انعام فرمائیں اسے چاہئے کہ وہ اللہ کی حمد اور شکر کرے اور جس شخص سے رزق سست ہو جائے اسے چاہئے کہ وہ اللہ سے بخشش اور استغفار کرے اور جس کو کوئی امرمشکل آکر دبائے اسے چاہئے کہ وہ لا حول و لا قوۃ الاباللہ پڑھے ۔ اس کے بعد سفیان ثوری اٹھ گئے ۔ لہذا حضرت جعفر نے ان کو آواز دی یا سفیان ، بولے لبیک (حاضر ہوں) فرمایا مظبوطی سے ان کو پکڑنا ، یہ تین ہیں ۔ کونسی تین ؟ اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا ۔

لجلوس عند جعفر بن محمد بن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب ← عبد العزيز بن أبي حازم و ابن الدراوردي ← سَعِيدُ بْنُ دَاوُدَ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ الْمُعَدِّلُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 652

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 653

652 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الحرضي نا أبو بكر بن مقسم المقرئ أنا موسى بن الحسن بن عباد النسوي ثنا بشر بن الوضاح ثنا الحسن بن أبي جعفر عن محمد بن حجادة عن الحر بن الصياح عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال : كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في مسير فقال : استغفروا الله فاستغفرنا فقال : أتموها سبعين مرة قال فأتممناها فقال : ما من عبد و لا أمة استغفر الله تبارك و تعالى في يوم سبعين مرة إلا غفر الله له سبعمائة ذنب

ہمیں خبر دی ابو محمد عبداللہ بن عبدالرحمٰن حرضی نے ، ان کو ابو بکر بن مقسم مقری نے ، ان کو موسیٰ بن حسن بن عباس نسوی نے ، ان کو بشر بن وضاح نے ، ان کو حسن بن ابو جعفر نے محمد بن حجادہ سے ، ان کو حربن صباح نے ، اس نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، وہ فرماتے ہیں کہ ایک سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ سے استغفار کرو ۔ ہم نے استغفار طلب کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کو ستر بار پورا کر و۔ ہم نے ستر بار پورا کیا ۔ آپ نے فرمایا : ایسا کوئی بندہ یا بندی نہیں ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ سے ایک دن میں ستر بار معافی مانگے اور وہ معاف نہ کرے ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ اس کےساتھ گناہ معاف کردیتے ہیں ۔

فأتممناها ← أتموها سبعين مرة ← استغفروا الله فاستغفرنا ← كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في مسير ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ ← مُحَمَّدِ بْنِ حُجَادَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ← بِشْرُ بْنُ الْوَضَّاحِ ← موسى بن الحسن بن عباد النسوي ← أبو بكر بن مقسم المقري ← أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الحرضي

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 653

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 654

653 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا حفص بن غياث عن ليث عن منذر الثوري عن محمد بن علي قال : إذا قال أحدكم أستغفر الله و أتوب إليه فإنه إن لم يفعل كان ذنبا و كان كذبة لكن ليقل اللهم اغفر لي و تب علي

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو احمد بن عبدالجبار نے ، ان کو حفص بن غیاث نے ، ان کو لیث نے ، ان کو منذر ثوری نے ، ان کو محمد بن علی نے کہتےکہ جب تم میں سے کوئی آدمی کہے: استغفراللہ و اتوب الیہ میں اللہ سے بخشش مانگتاہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں ۔ پھر اگرو ہ نہیں کرتا تو یہ گناہ ہوگا اور جھوٹ ہو گا ۔ مگر یوں کہے : اللٰھم اغفرلی وتب علی ۔ اے اللہ مجھے بخش دے اور میری توبہ قبول فرما۔

«إِذَا ← محمد بن علي ← مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ، ← لَيْثٌ، ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 654

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 655

654 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا العباس بن محمد الدوري ثنا الأسود بن عامر شاذان ثنا حماد بن سلمة عن أبي جعفر الخطمي عن محمد بن كعب القرظي عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : كان فيكم أمانان فمضت إحداهما و بقيت الأخرى : { و ما كان الله ليعذبهم و أنت فيهم } ـ { و ما كان الله معذبهم و هم يستغفرون } و روي مثل هذا عن أبي موسى الأشعري

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو عباس بن محمد دوری نے ، ان کو اسود بن عامر شاذان نے ، ان کو حماد بن سلمہ نے ، ان کو ابو جعفر خطمی نے ، ان کو محمد بن کعب قرظی نے ، ان کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ، فرماتے ہیں کہ تمہارے اندر دوامان اور پناہ کی چیزیں تھیں ۔ چنانچہ ایک گزر چکی ہے اور دوسری باقی ہے : (1) وما کان اللہ لیعذبھم و انت فیھم ۔ اے پیغمبر تیرے موجود ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ ان کو عذاب نہیں دے گا ۔ (2) وماکان اللہ معذبھم وھم یستغفرون (انفال33) ۔ اور جب وہ استغفار اور بخشش مانگ رہے ہوں اس وقت بھی ان کو عذاب نہیں دے گا۔ چنانچہ بقول حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، امان کی پہلی چیز حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا موجود ہونا تھا جو کہ گذر گیا ہے۔ اورایمان کی دوسری چیز استغفار باقی ہے ۔ حضرت ابو موسیٰ اشعر ی سے بھی اس کی مثل روایت ہے۔

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← كان فيكم أمانان فمضت إحداهما و بقيت الأخرى و روي مثل هذا ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرِ شَاذَانُ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 655

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 656

655 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا فرج بن فضالة حدثني ربيعة بن يزيد عن رجاء بن حيوة : أنه سمع قاصا في مسجد منى يقول : يا أيها الناس ثلاث خلال لا يعذبكم الله ما عملتم بهن : الشكر و الدعاء و الاستغفار ثم قال : { ما يفعل الله بعذابكم إن شكرتم وآمنتم } قال : { قل ما يعبأ بكم ربي لولا دعاؤكم } و قال : { و ما كان الله ليعذبهم و أنت فيهم و ما كان الله معذبهم و هم يستغفرون }

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن بن قتادہ نے ، ان کو ابو منصور نے ، ان کو نضروی نے ، ان کو احمد بن نجدہ نے ، ان کوسعید بن منصور نے ، ان کو فرج بن فضالہ نے، ان کو ربیعہ بن یزید نے، ان کو رجاء بن حیوٰ ۃ نے ، انہوں نےمسجد منیٰ میں ایک قصہ خواں سے سنا، کہہ رہے تھے : اے لوگو! تین خصلتیں ہیں جب تک تم ان کے ساتھ عمل کر و گے تمہیں اللہ تعالیٰ عذاب نہیں دے گا ۔ (1) شکر (2) دعا(3) استغفار ۔ اس کے بعد کہا کہ : مایفعل اللہ بغذابکم ان شکر تم و امنتم ( النساء 147) اللہ تعالیٰ تمہیں عذاب دے کر کیا کریں گے اگر تم شکر کر و اور تم ایمان لاؤ۔ اور ارشاد فرمایا : قل مایبا بکم ربی لو لا دعا ء کم (الفرقان 77)اگر تم میرے رب کو نہ پکار و تو میرے رب کو تمہاری کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ اور کہا کہ : وماکان اللہ لیعذبھم وانت فیھم و ماکان اللہ معذبھم و ھم یستغفرون (انفال33)نہیں ہے اللہ تاکہ ان کو عذاب دے ، حالنکہ تو ان میں موجود ہے اور نہیں ہے ان کو عذاب دینےوالا ، حالانکہ وہ استغفار کر رہےہوں ۔

رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← فَرَجِ بْنِ فَضَالَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 656

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 657

656 - أخبرنا أبو حازم عمر بن أحمد الحافظ ثنا أبو الحسن محمد بن أحمد بن زكريا ثنا أبو سعيد محمد بن شاذان الجندفرجي ثنا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي أخبرنا المعتمر بن سليمان قال : سمعت معمرا أبا سعيد القطان يقول : سمعت الحسن البصري يقول : أكثروا الاستغفار في بيوتكم و على موائدكم و في طرقكم و في أسواقكم و في مجالسكم و أين ما كنتم فإنكم لا تدرون في أي وقت تنزل البركة

ہمیں خبر دی ہے ابو حازم عمر بن احمد حافظ نے ، ان کو ابو الحسن محمد بن احمد زکریا نے، ان کو ابو سعید محمد بن شا ذان جند فرجی نے، ان کو اسحٰق بن ابراہیم حنظلی نے ، ان کو خبر دی معتمر بن سلیمان نے ، کہتے ہیں کہ میں نے سنا معمر سے ، یعنی ابو سعید قطان سے ، وہ کہتے ہیں، میں نے سنا حضرت حسن بصری سے وہ کہتے ہیں اپنے گھروں میں استغفار کی کثرت کرو اور اپنے دستر خوانوں پر اور اپنے راستوں (روڈوں) پر اوراپنے بازاروں میں اور اپنی مجالس میں اور جہاد کہیں بھی تم ہوا کرو ۔ بے شک تم نہیں جانتے ہو کہ کونسے وقت برکت نازل ہو گی ۔

الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، ← معمرا أبا سعيد القطان ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← أبو سعيد محمد بن شاذان الجندفرجي ← أبو الحسن محمد بن أحمد بن زكريا، ← أَبُو حَازِمٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 657

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 658

657 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا محمد بن عبيد الله أبي داود ثنا المقرئ عبد الله بن يزيد ثنا أبو صخر المدني حميد بن زياد أن عبد الله بن عبد الرحمن بن عبد الله بن عمر أخبره أن سالم بن عبد الله أخبره أن أبا أيوب رضي الله عنه أخبره : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم ليلة أسري به مر على سيدنا إبراهيم عليه السلام فقال إبراهيم لجبرائيل عليه السلام : من هذا ؟ قال : هذا محمد فقال إبراهيم : يا محمد مر أمتك فليكثروا من غراس الجنة فإن تربتها طيبة و أرضها واسعة قال محمد لإبراهيم : و ما غراس الجنة ؟ قال : لا حول و لا قوة إلا بالله كذا قال

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن بن بشران نے ، ان کو اسماعیل بن صفار نے ان کو محمد بن عبید اللہ ابو داؤد نے ، ان کو المقر ی عبداللہ بن یزید نے ، ان کو ابو صخر مدنی حمید بن زیادہ نے یہ کہ عبداللہ بن عبدالرحمٰن عبداللہ بن عمر نے اس کو خبر دی ہے اس کو سالم بن عبداللہ نے، ان کو ابو ایوب نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شب معراج میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام پر گذرے ۔ ابراہیم علیہ السلام نے جبرائیل علیہ اسلام سےپوچھا کہ یہ کون ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نےفرمایا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اپنی امت کو حکم دیجئے کہ وہ جنت میں شجر کار اور پودے لگانے کی کثرت کریں۔ اس لئے کہ جنت کی مٹی بڑی پاکیزہ ہے، جنت کی زمین بڑی فراخ ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےحضرت ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا کہ جنت کی شجر کاری یا کاشت کاری کیا چیز ہے؟ انہوں نےفرمایا کہ لا حول ولا قوۃ الا باللہ پڑھنا ۔ ایسے ہی فرمایا ۔

أبو صخر المدني حميد بن زياد ← الْمُقْرِئُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ← محمد بن عبيد الله أبي داود ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 658

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 659

658 - أخبرنا أبو الحسن بن بشران أنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السماك ثنا عبد الله بن أبي سعيد ثنا خالد بن خداش ثنا عبد الله بن وهب عن أبي صخر أن عبد الله بن عبد الرحمن مولى سالم حدثه قال : أرسلني سالم إلى محمد بن كعب القرظي : أحب أن تلقاني عند زاوية القبر فالتقيا فقال له سالم : الباقيات الصالحات ؟ فقال له محمد بن كعب : سبحان الله و الحمد لله و لا إله الله و الله أكبر و لا حول و لا قوة إلا بالله فقال له سالم : متى زدت فيها لا حول و لا قوة إلا بالله ؟ فقال : ما زلت أقولها فراجعه مرتين أو ثلاثا كل ذلك يقول : ما زلت أقولها قال : فأثبت فإن أبا أيوب الأنصاري رضي الله عنه حدثني قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لما أسري بي مررت بإبراهيم عليه السلام فقال لجبريل عليه السلام : من هذا ؟ قال : محمد صلى الله عليه و سلم فرحب بي و سلم علي و قال : مر أمتك يكثروا من غراس الجنة فإن تربيتها طيبة و أرضها واسعة قال قلت : و ما غراس الجنة ؟ قال : لا حول و لا قوة إلا بالله أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا ثنا خالد بن خداش فذكره بإسناده نحوه و قد ذكر البخاري في التاريخ اختلافهما في ذلك

ہمیں خبر دی ہےابو الحسن بن بشران نے، ان کو ابو عمر عثمان بن احمد بن سماک نے ا ن کو عبداللہ بن ابو سعید نے ، ان کو خالد بن خداش نے ، ان کو عبداللہ بن وھب نے ، ان کو ابو صخرہ نے یہ کہ عبداللہ بن عبدالرحمٰن مولیٰ سالم نے ان کو حدیث بیان کی ہے ، فرماتے ہیں کہ مجھے سلام نے محمد بن کعب قرضی کے پاس بھیجا (یہ کہہ کر کہ) میں چاہتاہوں کہ وہ مجھے قبرشریف کے کونے کے پاس ملیں ۔ جب دونوں کی ملاقات ہوئی تو سالم نے ان سے کہا ۔ باقیات الصالحات کیا ہیں ؟ محمد بن کعب نے اس سےکہا کہ: سبحان اللہ والحمد اللہ ۔ والا الٰہ الا اللہ و اللہ اکبر ۔ ولا حول والا قوۃ الا باللہ ۔ تو سالم نے ان سے کہا اس میں آپ نے لا حول ولا قوۃ الا بااللہ کا اضافہ کب سےکر لیا ہے؟ انہوںنے جواب دیا کہ میں ہمیشہ سے اس کو کہتا آیا ہوں ۔ دوتین بار انہوں نے اس بات پر سوال و جواب کیا ۔ ہر دفعہ وہ کہتے رہےکہ میں ہمیشہ سےیہ کہتا آیا ہوں ۔ وہ بولے بس میں ثابت کروں گا کہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے حدیث بیان کی ہے ۔ فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتےسنا ہےکہ جب مجھے شب معراج میں سیر کرائی گئی میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کےپاس سےگذرا تو انہوں نے جبرئیل علیہ السلام سےپوچھا کہ یہ کون ہے؟ اس نے بتایا کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ۔ انہوں نے مجھےخوش آمدید کہا او رمجھ پر سلام کہا اور فرمایا کہ اپنی امت کو حکم دیجئے کہ وہ جنت میں درخت لگانےکی کثرت کریں ۔ اس کی مٹی پاکیزہ ہے اور اس کی زمین وسیع ہے ۔ فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا جنت میں درخت لگانا کیسے ہوگا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ : لاحول ولا قوۃ الا باللہ ۔ اور ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نےکہ احمد بن عبید صفار نے ان کو خبر دی ہے اور ان کو عبداللہ بن محمد بن ابو دنیا نے ، ان کو خالد بن خداش نے ، پھر اس کو ذکر کیا انہوں نے اپنی اسناد کےساتھ اسی مذکور کی مثل اور تحقیق بخاری نے اپنی تاریخ میں اس کو ذکر کیا ہے اور اس میں ان دونوں کا اختلاف ذکر کیا ہے۔

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 659

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 660

659 - أخبرنا عمر بن عبد العزيز بن عمر بن قتادة أنا حامد بن محمد الهروي أنا علي بن عبد العزيز ثنا عبد الله بن رجاء أنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن كميل بن زياد عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا أدلك على كنز من كنوز الجنة ؟ قلت : بلى قال : لا حول و لا قوة إلا بالله لا ملجأ من الله إلا إليه

ہمیں خبر دی ہے عمر بن عبدالعزیز بن عمر بن قتادہ نے ، ان کو حامد بن محمد ھروی نے ، ان کو علی بن عبدالعزیز نے ، ان کوعبداللہ بن رجاء نے ، ان کو اسرائیل نے ابو اسحٰق سے کمیل بن زیاد سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: الا ادلکم علی کنز من کنز الجنۃ ؟ قلت بلی قال لا حول و لا قوۃ الا باللہ لا ملجاء من اللہ الا لیہ کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ بتانہ دوں ۔ میں عرض کیا جی ضرور بتائیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا کہ وہ ہے لا حول الخ ۔۔۔۔ گناہوں سے بچنا اور نیکی کی طاقت رکھنا صر ف اللہ تعالیٰ کی مہر بانی سے ہے ۔ کہیں کوئی جائے پناہ نہیں ہے ، سوائے اللہ کے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← كُمَيْلِ بْنِ زِيَادٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَرَوِيُّ ← عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 660

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 661

660 - أخبرنا أبو الحسن العلوي أنا أحمد بن محمد بن الحسن الحافظ ثنا أبو الأزهر ثنا وهب بن جرير ثنا أبي قال : سمعت منصور بن زاذان يحدث عن ميمون بن أبي شبيب عن قيس بن سعد بن عبادة : أن أباه دفعه إلى النبي صلى الله عليه و سلم فخدمة قال : فأتى علي النبي صلى الله عليه و سلم و قد صليت ركعتين فضربني برجله و قال : ألا أدلك على باب من أبواب الجنة ؟ قال قلت : بلى قال : لا حول و لا قوة إلا بالله

ہمیں خبر دی ہے ابو حسن علوی نے ، ان کو احمد بن محمد بن حسن حافظ نے، ان کو ابو الازھر نے، ان کو وھب بن جریرنے ، ان کو ان کے والد نے ، فرماتے ہیں کہ میں نے منصور بن ذاذان سےسنا ، وہ حدیث بیان کرتے تھے میمون بن ابی شبیب سے، وہ قیس بن سعد بن عبادہ سےکہ ان کے والد نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیا تھا ۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کرتا تھا (ایک مرتبہ ) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں دو رکعت نماز پڑھ چکا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے پیر سے ہلکی ٹھوکر ماری اور فرمایا کہ کیا میں تجھے جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے کی رہنمائی نہ کروں ؟ کہتے ہیں کہ میں نے کہا ضرور کیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ ہے : لا حول ولا قوۃ الا باللہ ۔

قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ← مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ← مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 661

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 662

661 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أخبرنا أبو جعفر الرزاز ثنا حنبل بن إسحاق ثنا موسى بن إسماعيل أبو سلمة ثنا جرير بن حازم : فذكره بإسناده غير أنه زاد قال : فدخلت المسجد فصليت ركعتين فأتى النبي صلى الله عليه و سلم و قد صليت ركعتين و اضطجعت فضربني برجله

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ، ان کو ابو جعفر رزاز نے ، ان کو حنبل بن اسحٰق نے ، ان کو موسیٰ بن اسماعیل ابو سلمہ نے ، ان کو جریر حازم نے ، پھر اس کو اس نے اپنی اسناد کے ساتھ ذکر کیا ہے ۔ علاوہ ازیں اس نے کہا کہ میں مسجد میں داخل ہوا اور میں نے دو رکعت نماز ادا کی ۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے ، حالانکہ میں دو رکعت نماز پڑھ کر لیٹا ہوا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پیر مبارک کے مجھے ٹھوکر ماری ۔

جرير بن حازم فذكره بإسناده غير أنه زاد ← موسى بن إسماعيل أبو سلمة ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 662

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 663

662 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن أبي طالب أنا علي بن عاصم أنا خالد الحذاء عن أبي عثمان عن أبي موسى رضي الله عنه قال : كنا مع النبي صلى الله عليه و سلم في غزاة فجعلنا لا نصعد شرفا و لا نهبط واديا إلا رفعنا أصواتنا بالتكبير فالتفت إلينا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا أيها الناس غضوا من أصواتكم فإنكم لا تدعون أصم و لا غائبا إن الذي تدعون دون ركابكم و قال : يا عبد الله بن قيس يعني أبا موسى قلت : لبيك يا رسول الله قال : أدلك على كنز من كنوز الجنة ؟ قلت : بلى قال لا حول و لا قول إلا بالله أخرجاه في الصحيح

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ، دونوں کہتے ہیں کہ ہمیں خبردی ابو العباس بن محمد بن یعقوب نے ، ان کو یحییٰ بن ابی طالب نے ، ان کو علی بن عاصم نے ، ان کو خالد حذاء نے ان کو ابو عثمان نے ، ان کو ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ،کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوات میں ہوتے تھے ہم جب کسی چڑھائی پر چڑھتے یا کسی گہرائی میں اترتے تو ہم لوگ زور زور کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے ( ایک مرتبہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اورفرمایا : لوگوں اپنی آواز وں کو پست کرلو ، اس لئے کہ تم کسی بہرے کو نہیں پکار رہے ہو اور نہ ہی کسی غائب کو ، بے شک تم لوگ جس کو پکار رہے وہ تمہاری رکاب سے بھی قریب تر ہے اور فرمایا کہ اے عبداللہ بن قیس آپ ارادہ کرتے تھے ابوموسیٰ کا ۔ میں کہا لبیک یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ فرمایا کہ میں تجھے جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانے کی دلالت نہ کروں؟ میں عرض کیا ضرور کیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ہے لاحول ولا قوۃ الا باللہ ۔ بخاری مسلم نے اس کو اپنی صحیح میں نقل کیا ہے۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي عُثْمَانَ ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 663

chevron_left Previous
1…242526…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood