Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 616

615 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن الحيري و أبو عبد الله إسحاق بن محمد بن يوسف السوسي قالوا أنا أبو العباس الأصم أنا العباس بن الوليد بن مزيد أنا أبي قال : سمعت الأوزاعي يقول حدثني حسان بن عطية حدثني محمد بن أبي عائشة قال حدثني أبو هريرة رضي الله عنه قال : قال أبو ذر رضي الله عنهما : يا رسول الله ذهب أصحاب الدثور بالأجور يصلون كما نصلي و يصومون كما نصوم و لهم فضول أموال يتصدقون بها و لا نجد ما نصدق به قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا أبا ذر ألا أعلمك كلمات إذا قلتهن أدركت من سبقك و لا يلحق بك أحد بعدك ؟ قال : بلى يا رسول الله ! قال : تكبر في دبر كل صلاة ثلاثا و ثلاثين تكبيرة و تحمد ثلاثا و ثلاثين تحميدة و تسبح ثلاثا و ثلاثين تسبيحة و تختمها بلا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك و له الحمد و هو على كل شيء قدير

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو احمد بن حسن حیری نے اور ابو عبداللہ اسحاق بن محمد بن یوسف سوسی نے ، ان کو ابو العباس اصم نے ، ان کو عباس بن ولید بن فروز نے ، ان کو ان کے والد نے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اوزاعی سے ، وہ کہتے تھے کہ مجھے حدیث بیان کی ہے حسان بن عطیہ نے ، ان کو محمد بن ابو عائشہ نے ، وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ، فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مالدار لوگ سارا ثواب لے گئے ہیں ہماری طرح نماز بھی پڑھتے ہیں ،ہماری طرح روزے بھی رکھتے ہیں ، مگر ان کے پاس فاضل مال ہیں ، جن کے ساتھ وہ صدقہ کرتے ہیں ۔ ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ، جس کا ہم صدقہ کریں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ابو ذر ! کیا تجھے وہ کلمات نہ سکھاؤں کہ تو وہ کلمات پڑھے تو اس کو پالے جس نے تجھ سے سبقت کی تھی اور تیرے بعد کوئی تجھ سے لاحق نہ ہو سکے ۔ عرض کیا جی ہاں یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ پڑھ ،اور تینتیس مرتبہ الحمد اللہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر اور اس کے بعد یہ پڑھ : لا الٰہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ ، لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شی ء قدیر ۔

أَبُو ذَرٍّ ← أَبُو هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ اَبِیْ عَائِشَۃَ، ← حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 616

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 617

616 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو عبد الله السوسي قالا ثنا أبو العباس الأصم ثنا سعيد بن عثمان التنوخي ثنا بشر بن بكر حدثني الأوزاعي : بإسناده نحوه و كذلك رواه عطاء بن يزيد عن أبي هريرة رضي الله عنه : من ذلك الوجه أخرجه مسلم في الصحيح

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور عبداللہ سو سی نے ، کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ابو العباس اصم نے ، ان کو سعید بن عثمان تنوخی نے ، ان کو بشر بن بکر نے ، کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے اوزاعی نے اپنی اسناد کے ساتھ مذکورکی مثل اور اس کو اسی طرح روایت کیا ہے عطاء بن یزید نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اسی طریقہ سے اس کوروایت کیا ہے مسلم نے صحیح میں ۔

أبي هريرة من ذلك الوجه أخرجه مسلم في الصحيح ← الأوزاعي بإسناده نحوه و كذلك رواه عطاء بن يزيد ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو عبد الله السوسي

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 617

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 618

617 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر محمد بن عمرو بن البختري الرزاز قراءة عليه ثنا محمد بن عبد الملك الدقيقي ثنا يزيد بن هارون أنا ورقاء عن سمي عن أبي صالح عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قالوا يا رسول الله صلى الله عليه و سلم : ذهب أهل الدثور بالدرجات و النعيم المقيم قال : كيف ذلك ؟ قالوا : صلوا كما صلينا و جاهدوا كما جاهدنا و أنفقوا من فضول أموالهم و ليس لنا أموال و قال : أفلا أخبركم بأمر تدركون من كان قبلكم و تسبقون من جاء بعدكم و لا يأتي أحد بمثل ما جئتم به إلا من جاء بمثله تسبحون في دبر كل صلاة عشرا و تحمدون عشرا و تكبرون عشرا رواه البخاري في الصحيح عن إسحاق عن يزيد

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ، ان کو ابو جعفر محمد بن عمر بن بختر ی رزاز نے ، ان کو محمد بن عبدالملک دقیقی نے ، ان کو یزید بن ہارون نے ، ان کو ورقاء نے، ان کو سمی نے ، ان کو ابو صالح نے ، ان کو ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ، کہتے ہیں کہ لوگوں نے کہا ، یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مالدار لو گ درجے بھی لے گئے ہیں اور دائمی نعمتیں بھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ کیسے ؟ بولے کہ جیسےہم نماز یں پڑھتے ہیں وہ بھی پڑھتے ہیں ، جیسے ہم روزے رکھتے ہیں وہ بھی رکھتے ہیں ، جیسےہم جہاد کرتے ہیں وہ بھی کرتےہیں ۔ مگر وہ فاضل مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ، مگر ہمارے پاس مال تو نہیں ہیں کہ خرچ کریں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں ایسی بات کی خبر نہ دوں کہ تم اس کے ذریعے اس کےمرتبے کو پالو جو تم سے آگے ہے اور جو تمہارے بعد آئے تم اس سے آگے بڑھ جاؤ اور کوئی ایسی نیکی نہ کر پائے جو تم کر پاؤ ۔ مگر وہ شخص جو وہی نیکی کرے کہ تم ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سبحان اللہ ، دس مرتبہ الحمد اللہ اور دس مرتبہ اللہ اکبر پڑھو۔ بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں اسحاق بن یزید سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ ← وَرْقَاءُ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ ← أبو جعفر محمد بن عمرو بن البختري الرزاز قراءة عليه ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 618

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 619

618 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان ثنا أحمد بن يوسف السلمي ثنا عبيد الله بن موسى ثنا مسعر عن المسعودي عن إبراهيم السكسكي عن عبد الله بن أبي أوفى : أن رجلا أتى إلى النبي صلى الله عليه و سلم فذكر أنه لا يستطيع أن يأخذ من القرآن شيئا و سأله أن يعمله شيئا يجزئ من القرآن فقال له : قل سبحان الله و الحمد لله و لا إله إلا الله و الله أكبر و لا حول و لا قوة إلا بالله

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ، ان کو ابو بکر محمد بن حسین قطان نے ، ان کو احمد بن یوسف سلمی نے ، ان کو عبید اللہ بن موسیٰ نے ، ان کو مشعر نے مسعودی سے ، ان کو ابراہیم سکسکی نے ، ان کو عبداللہ بن ابی اوفیٰ نے اکہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور ذکر کیا کہ وہ قرآن میں سے کچھ بھی نہیں سیکھ سکتا اور اس سے سوال کیا کہ مجھے کوئی ایسی چیز سکھادیں جو قرآن کی جگہ اس کو کفایت کرجائے ۔ فرمایا کہ کہو: سبحان اللہ والحمد اللہ و لا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا بااللہ العلی العظیم ۔

اِبْرَاھِیْمَ السَّکْسَکِیَّ ← الْمَسْعُودِيِّ ← مِسْعَرٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 619

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 620

619 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز ثنا الحسن بن ثواب أبو علي حدثني عمار بن عثمان الحلبي أبو عثمان و كان أحمد بن حنبل يوثقه و تأسف على أنه لم يكتب عنه شيئا حدثني جعفر بن سليمان الضبعي عن ثابت عن أنس قال : جاء أعرابي إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال يا رسول الله علمني خيرا فأخذ النبي صلى الله عليه و سلم بيده فقال : قل سبحان الله و الحمد لله و لا إله إلا الله و الله أكبر قال : فعقد الأعرابي على يده و مضى فتفكر ثم رجع فتبسم النبي صلى الله عليه و سلم قال : تفكر البائس فجاء فقال يا رسول الله سبحان الله و الحمد لله و لا إله إلا الله و الله أكبر هذا لله فمالي ؟ فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : يا أعرابي إذا قلت سبحان الله قال الله : صدقت و إذا قلت الحمد لله قال الله : صدقت و إذا قلت لا إله إلا الله قال الله : صدقت و إذا قلت الله أكبر قال الله : صدقت و إذا قلت اللهم اغفر لي قال الله : قد فعلت و إذا قلت اللهم ارحمني قال الله : فعلت و إذا قلت اللهم ارزقني قال الله : قد فعلت قال : فعقد الأعرابي على سبع في يده ثم ولى

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ، ان کو ابو جعفر محمد بن عمر و رزا ز نے ، ان کو حسان بن ثواب ابو علی نے ان کو عمار بن عثمان حلبی نے ، ان کو ابو عثمان نے اور احمد بن حنبل ان کی تو ثیق کرتے تھے اور اس بات پر افسوس کرتے تھے کہ آپ نے اس سے کوئی شے نہیں لکھی۔ ان کو جعفر بن سلیمان ضبعی نے ، ان کو ثابت نے ، ان کو حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولایا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے کوئی خیر سکھلائیے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا، یہ کہو: سبحان اللہ والحمد اللہ ولا الٰہ الا اللہ و اللہ اکبر ۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر پکا عہد کیا اور چل دیا ۔ پھر کچھ سوچنے لگا۔ پھر واپس لوٹ آیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا یہ سو چنا تا مایوس کا ہے ۔ وہ آگیا اور بولا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ سبحان اللہ والحمد اللہ ولا الٰہ الا اللہ و اللہ اکبر۔ یہ تو ساری بات اللہ کے لئے ۔ میرے لئے کیاہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے دیہاتی جب تم یہ کہتے ہو سبحان اللہ ( اللہ پاک ہے ) ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، تم نے سچ کہا ہے اور جب تم کہتے ہوا لحمد اللہ (سب تعریف اللہ کے لئے ہے ) ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تو نے سچ کہا اور جب تم کہتے ہواللہ اکبر ( اللہ سب سے بڑا ہے )۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تم نے سچ کہا اور جب تم کہتے ہو اللھم اغفرلی( اے اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمادے ، مجھے بخش دے ) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ، بالکل میں نے تجھے بخش دیا ہے اور جب تم یہ کہتے ہو اللھم ارحمنی ( اے اللہ مجھ پر رحم فرما)۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں بالکل میں نے رحم کر دیا اور جب تم کہتے ہوئے اللھم ارزقنی ( اے اللہ مجھے رزق دے ) ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں بالکل میں رزق دوں گا۔ چنانچہ وہ دیہاتی اس رسی پر بیٹھا جو اس کے ہاتھ میں تھا پھر واپس چلا گیا ۔

الحسن بن ثواب أبو علي ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 620

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 621

620 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا إبراهيم بن سليمان ابن أبي داود البرلسي ثنا محمد بن عبيد الطنافسي ثنا يونس بن أبي إسحاق السبيعي حدثني إبراهيم بن محمد بن سعد بن أبي وقاص حدثني والدي محمد عن أبيه سعد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : دعوة ذي النون التي دعا بها في بطن الحوت لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين لم يدع بها مسلم في كربة إلا استجاب الله له

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو ابراہیم بن سلیمان ابن ابی داؤد برلسی نے ، ان کو محمد بن عبید طنافسی نے ، ان کو یونس بن ابی اسحٰق سبیعی نے ، ان کو ابراہیم بن محمد بن سعد بن ابی وقاص نے ، کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی ہے میرے والد محمد انے انے والد سعد سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ: حضرت یونس علیہ السلام نے دعا کی، جس کے ساتھ انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں دعا کی تھی : لاالٰہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین کوئی معبود نہیں سوائے تیرے ۔ تو پاک ہے ۔ بے شک میں ظالموں میں سے ہوں۔ جو شخص بھی کسی تکلیف اور پریشانی میں اس کے ساتھ دعا مانگتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرماتے ہیں ۔

أَبِيهِ سَعْدٍ ← وَالِدِي مُحَمَّدٌ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ← إبراهيم بن سليمان ابن أبي داود البرلسي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 621

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 622

621 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا أحمد بن علي الخزاز ثنا سعيد بن سليمان عن موسى بن خلف العمي عن عاصم بن بهدلة عن أبي صالح عن أم هانئ بنت أبي طالب رضي الله عنها قالت : مر بي رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات يوم هنا فقلت يا رسول الله إني قد كبرت وضعفت ـ أو كما قالت ـ فمرني بعمل أعمله و أنا جالسة قال : تسبحين الله مائة تسبيحة فإنها تعدل مائة رقبة تعتقينها من ولد إسماعيل و أحمدي الله مائة تحميدة فإنها تعدل مائة فرس ملجمة مسرجة تحملين عليها في سبيل الله تعالى و كبري الله مائة فإنها تعدل لك مائة بدنة مقلدة متقبلة و تهللي الله مائة تهليلة ـ قال : موسى أحسب قال ـ تملأ ما بين السماء و الأرض و لا يرفع لأحد يومئذ عمل مثل عملك إلا من أتى مثل ما أتيت به

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ، ان کو احمد بن عبید صفار نے ، ان کواحمد بن علی خزاز نے ، ان کو سعید بن سلیمان نے ، ان کو موسیٰ بن خلف عمی نے ، ان کو عاصم بن بھدلہ نے ، ان کو ابو صالح نے ، ان کو اُمِ ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ، فرماتی ہیں میرے پاس سے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گذرے ، میں نے کہا یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بڑی عمر کی ہو چکی ہوں یا یوں کہا کہ میں ضعیف ہو چکی ہوں یا جیسے بھی کہا ہوگا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے کسی ایسے عمل کا حکم فرمائے جو عم میں بیٹھے بیٹھے کر لیا کروں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آپ ایک سو بار سبحان اللہ پڑھئے ۔ یہ ایک سو غلام آزاد کرنے کے برابر ہو گا جسے آپ اولاد اسماعیل علیہ السلام میں سے آزاد کریں اور ایک سو بار الحمد اللہ پڑھئے ۔ یہ آپ کے لئے ایک سو لگام چڑھائے ہونئے زین کسے ہوئے گھوڑوں کے برابر ہو گا جس پر سوار ہو کر آپ اللہ کی راہ میں جہاد کریں اور ایک سو بار اللہ اکبر پڑھئے ، یہ آپ کے لئے ایک سو قلادہ اور پٹہ ڈلے ہوئے ایک سو اونٹوں کے برابر ہو گا جو اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں قربانی کے لئے قبول ہو چکے ہوں اور ایک بار لا الٰہ الا اللہ پڑھئے ۔ موسیٰ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ یہ فرمایا تھا اس سے آسمان و زمین کا خلا نیکیوں سے بھرجائے گا اور اس دن تیرے عمل سے بہتر کسی کا عمل اللہ کی طرف بلند نہیں ہوگا ۔ ہاں اس کا جو تیری مثل عمل کرے گا۔

أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← مُوسَی بْنُ خَلَفٍ الْعَمِّیُّ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 622

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 623

622 - أخبرنا أبو علي بن شاذان ببغداد أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا أبو الربيع سليمان بن داود العتكي ثنا المعتمر عن داود الطفاوي ثنا أبو مسلم البجلي عن زيد بن أرقم رضي الله عنه : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يقول دبر صلاته : اللهم ربنا و رب كل شيء أنا شهيد أنك أنت الرب وحدك لا شريك لك اللهم ربنا و رب كل شيء أنا شهيد أن محمدا عبدك و رسولك اللهم ربنا و رب كل شيء أنا شهيد أن العباد كلهم إخوة اللهم ربنا و رب كل شيء اجعلني مخلصا لك و أهلي في كل ساعة من الدنيا و الآخرة يا ذا الجلال و الإكرام اسمع و استجب الله أكبر الأكبر الله نور السموات و الأرض الله أكبر الأكبر حسبي الله و نعم الوكيل الله أكبر الأكبر

ہمیں خبر دی ابو علی بن شاذان نے بغداد میں ، ان کو عبداللہ بن جعفر نے ، ان کو یعقوب بن سفیان نے ، ان کو ابو الر بیع سلیمان بن داؤد عتکی نے ، ان کو معمتدنے ، ان کو داؤد طفاوی نے ان کو ابو مسلم بجلی نے ، ان کو حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ، یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر نماز کے بعد پڑھتے تھے ۔ اللھم ربنا ورب کل شئ انا شہید انک انت الرب وحدک لا شریک لک ۔ اللھم ربنا و رب کل شئ انا شہید ان محمد اً عبدک ورسولک ۔ اللھم ربنا و رب کل شئی ۔ انا شہیدان العباد کلھم اخوۃ ۔ اللھم ربنا و رب کل شئی ۔ اجعلنی مخلصا لک واھلی فی کل ساعۃ من الدنیا و الاخرۃ یاذالجلال و الاکرام ۔ اسمع و استجب اللہ اکبر الا کبر ۔ اللہ نورسموت والا ارض اللہ اکبر الاکبر ، حسبی اللہ و نعم الوکیل اللہ اکبر الا کبر ۔ اے اللہ ، اے ہمارے رب اور ہر شے کے رب ۔ میں گواہ ہوں کہ بے شک تو ہی رب ہے تو اکیلا ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔ اے اللہ ، اے ہمارے رب اور ہر شے کے رب ، میں گواہ ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) تیرا بندہ ہے اور تیر ا رسول ہے ۔ اے اللہ ، اے ہمارے رب اور ہر شے کے رب میں گواہ ہوں کہ بندے سارے کے سارے بھائی بھائی ہیں ۔ اے اللہ ، اے ہمارے رب اور ہر شے کے رب مجھے اور میرے گھر والوں کو اپنے لئے مخلص بنادے ، ہر لمحے دنیا میں اور آخرت میں ۔ اے عظمت اور بزرگی والے ، میری دعا سن لے اور قبول فرمالے ، اللہ سب سے بڑا ہے بڑا ہے ۔ اللہ تعالیٰ آسمانوں کو او رزمین کو روشن کرنے والا ہے ۔ اللہ سب سے بڑا ہے ، سب سے بڑا ہے ، مجھے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے ۔ اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سےبڑا ہے۔

زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← أَبُو مُسْلِمٍ الْبَجَلِيُّ، ← دَاوُدَ الطُّفَاوِيُّ، ← الْمُعْتَمِرُ، ← أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَکِيُّ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أبو علي بن شاذان ببغداد،

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 623

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 624

623 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الحميد الحارثي ثنا أبو أسامة عن أسامة عن محمد بن كعب عن عبد الله بن شداد عن عبد الله بن جعفر قال : علمني علي رضي الله عنه كلمات علمهن رسول الله صلى الله عليه و سلم إياه يقولهن عند الكرب و الشيء يصيبه لا إله إلا الله الحليم سبحان الله و تبارك الله رب العرش العظيم و الحمد لله رب العالمين

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ، دونوں نے کہ کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو احمد بن عبدالحمید حارثی نے ، ان کو ابو اسامہ نے ، ان کو اسامہ نے ، ان کو محمد بن کعب نے ، ان کو عبداللہ سداد نے ، ان کو عبداللہ بن جعفر نے ، فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چند کلمات سکھلائے تھے ۔ ان کو وہ کلمات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سکھلائے تھے جنہیں وہ کرب اور پریشانی میں پڑھتے تھے ۔ لا لٰہ الا اللہ الحلیم ۔ سبحان اللہ وتبارک اللہ رب العرش العظیم و الحمد اللہ رب العلمین ۔ اللہ کے سوا کوئی معبود و مشکل کشا نہیں ، وہ حوصلے والا ہے ۔ اللہ پاک ہے اور اللہ برکت والا ہے ۔ عرش کا مالک ہے ۔ ساری تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں جو کہ سارے جہانوں کا پالنے والا ہے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، ← أُسَامَةُ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 624

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 625

624 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد الملك بن عمير حدثني مصعب : أن عبد الملك ابن مروان كتب إلى عامله بالمدينة هشام بن إسماعيل أنه بلغني أن الحسن بن الحسن يكاتب أهل العراق فإذا جاءك كتابي هذا فابعث إليه فليؤت به قال : فجيء به و شغله شيء قام فقام إليه علي بن الحسين فقال : يا ابن عم قل كلمات الفرج : لا إله إلا الله الحليم الكريم لا إله إلا الله العلي العظيم سبحان الله رب السماوات السبع و رب العرش العظيم الحمد لله رب العالمين قال فخلا للآخر وجهه فنظر إليه فقال أرى وجها قد قشب بكذبة خلوا سبيله و ليراجع أمير المؤمنين

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ، دونوں کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو حسن بن علی بن عفان نے ، ان کو حسین بن علی نے زائدہ سے ، ان کو عبدالملک بن عمیر نے ، ان کو مصعب نے یہ کہ عبدالملک بن مروان نے مدینے میں اپنے عامل ھشام بن اسماعیل کو لکھا کہ مجھے یہ اطلاع پہنچی ہے کہ حضرت حسن بن حسن اہل عراق کے ساتھ خط و کتابت کر رہے تھے ۔ تیرے پاس جب میرا یہ خط پہنچے تو ان کے پاس پیغام بھیج کر انہیں گرفتار کر لیا جائے ۔ مصعب کہتے ہیں کہ ان کے پاس جب وہ لائے گئے ہشام کچھ مصروف تھے ، چنانچہ ان کے پاس علی بن حسین اٹھے اور فرمایا کہ اے چچازاد بھائی مشکل کشائی کے کلمات پڑھے لیجئے ۔ ( وہ یہ ہیں ) لا الٰہ الا اللہ الحلیم الکھیم ، لا الٰہ الا اللہ العلی العظیم ۔ سبحان اللہ رب السموات السبع ورب العرش العظیم ۔ الحمد اللہ رب العلمین ۔ مصعب فرماتے ہیں کہ ہشام نے ان کو دیکھ کر چہرہ دوسری طرف پھیر لیا اور کہنے لگا میں نے دیکھا ہے کہ یہ ایسا چہرہ ہے جو جھوٹ کے ساتھ گرفتار کیا گیا ہے ۔ اس کا راستہ چھوڑ دیا جائے اور امیر المومنین سے بات اور مر اجعت کر لی جائے ۔

مصعب ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← زَائِدَۃَ، ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 625

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 626

625 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ ثنا حامد بن أبي حامد المقرئ ثنا إسحاق بن سليمان يعني الرازي أنا عبد الرحمن بن عبد الله يعني المسعودي عن عبد الله بن المخارق بن سليم عن أبيه عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال : إذا حدثناكم بحديث أتيناكم بتصديق ذلك من كتاب الله عز و جل إن العبد إذا قال : سبحان الله و الحمد لله و لا إله إلا الله و الله أكبر و تبارك الله قبض عليهن ملك فضمهن تحت جناحه فصعد بهن لا يمر بهن على جمع من الملائكة إلا استغفروا لقائلهن حتى يجيء بهن وجه الرحمن تبارك و تعالى ثم تلا عبد الله : قوله : { إليه يصعد الكلم الطيب و العمل الصالح يرفعه }

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب حافظ نے ، ان کو حامد بن ابی حامد مقری نے ، ان کو اسحٰق بن سلیمان رازی نے ، ان کو عبدالرحمٰن بن عبداللہ یعنی مسعودی نے ، ان کو عبداللہ بن محارق بن سلیم نے، ان کو ان کے والد نے ، ان کو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے، فرماتے ہیں کہ جس وقت ہم تمہیں کوئی حدیث بیان کرتےہیں تو ہم تمہارے پاس کتاب اللہ سے اس کی تصدیق بھی پیش کرتے ہیں بے شک بندہ جب کہتا ہے : سبحان اللہ ، والحمد اللہ ، والاالٰہ الا اللہ ، واللہ اکبر و تبارک اللہ ۔ تو ایک فرشہ ان کلمات کو اپنے قبضے میں لے لیتا ہے اور انہیں اپنے پر کے نیچے محفوظ کر لیتا ہے ۔ پھر ان کو لے کر وہ اوپر کو چڑھ جا تا ہے ، وہ ان کلمات کو لئے ہو فرشتوں کی جس کسی جماعت کے ساتھ گذرتا ہے تو وہ اس کے لئے استغفار کرتے ہیں جس نے یہ الفاظ پڑھے تھے ۔ یہاں تک کہ انہیں لے کر وہ رحمٰن کے سامنے پہنچ جا تا ہے ۔ اس کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ آیت پڑھی: الیہ یصعد الکلم الطیب و العمل الصالح یر فعہ(فاطر) اسی کی بار گاہ میں چڑھتے ہیں پاکیزہ کلمات اور عمل صالح بلند کرتا ہے اسی کو ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُخَارِقِ بْنِ سُلَيْمٍ ← عبد الرحمن بن عبد الله يعني المسعودي ← إسحاق بن سليمان يعني الرازي ← حامد بن أبي حامد المقري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 626

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 627

626 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق ثنا الحسن بن موسى الأشيب ثنا حماد عن ثابت البناني : أن رجلا أعتق أربع رقاب في الرحبة فقال رجل سبحان الله و الحمد لله و لا إله إلا الله و الله أكبر ثم دخل المسجد فإذا حبيب السلمي و أصحابه فقال : ما تقولون في رجل أعتق أربع رقاب فقال آخر اللهم إن هذا أعتق أربع رقاب و إني أقول سبحان الله و الحمد لله و لا إله إلا الله و الله أكبر فأيهم أفضل ؟ فنظروا هنية فقالوا ما نعلم شيئا أفضل من ذكر الله عز و جل

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو محمد بن اسحٰق نے ، ان کو حسن بن موسیٰ اشیب نے ، ان کو حماد نے ، ان کو ثابت بنانی نےکہ ایک آدمی نے فراخی میں چار غلام آزاد کئے اور دوسرے آدمی نے کہا: سبحان اللہ ۔ والحمد اللہ والا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر ۔ پھر مسجد میں داخل ہو اتو دیکھتا ہے حبیب سلمی او اس کے رفقاء بیٹھے ہیں ۔ ا س نے ان سے پوچھا ، آپ لوگ اس آدمی کے بارے میں کیا کہتے ہو جس نے چار غلام آزاد کئے اور دوسرے نے کہا اے اللہ اس نے تو چار گردنیں غلامی سے آزاد کرائی ہیں اور میں تنہاہوں ۔ سبحان اللہ ۔ والحمد اللہ والا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر۔ دونوں میں سے کون افضل ہے ؟ پس تھوڑی سی دیر انہوں نے غور کیا ، پھر بولے ہم اللہ کے ذکر سے افضل کوئی چیز نہیں سمجھتے ۔

ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادٌ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 627

chevron_left Previous
1…212223…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood