Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 604

603 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا إسماعيل بن الفضل ثنا أحمد بن عيسى المصري ثنا ابن وهب : فذكره بإسناده مثله غير أنه قال : قولي

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو خبردی احمد بن عبید نے ان کو اسماعیل بن فضل نے ان کو احمد بن عیسیٰ مصری نے ، ان کو ابن وھب نے ، پھر ا س کو ذکر کیا ہے اس کی اسناد کے ساتھ اسی کی مثل ، علاوہ ازیں آپ نے فرمایا (قولی) اے خاتون آپ کہئے۔

قولي ← ابن وهب فذكره بإسناده مثله غير أنه ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 604

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 605

604 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الحسن أحمد بن محمد العنزي ثنا عثمان بن سعيد الدرامي ثنا علي بن المديني ثنا سفيان ثنا محمد بن عبد الرحمن مولى آل طلحة قال : سمعت كريبا أبا راشدين يحدث عن ابن عباس رضي الله عنهما إن النبي صلى الله عليه و سلم خرج ذات غداة من عند جويرية رضي الله عنها بنت الحارث الخزاعية و كان اسمها برة فحول رسول الله صلى الله عليه و سلم اسمها جويرية و كره أن يقال خرج من عند برة فخرج و هي في المسجد ـ قال مرة أخرى : فخرج من عندها و هي مصلاها ـ و رجع بعد ما ارتفعت الشمس فقال : و أنت في مجلسك هذا منذ خرجت ؟ قالت : نعم قال : لقد قلت بعدك أربع كلمات ثلاث مرات لو زانت بكلمات لوزنتهن سبحان الله و بحمده عدد خلقه و رضا نفسه وزنه عرشه ومداد كلماته أخرجه مسلم في الصحيح من حديث سفيان

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو الحسن احمد بن محمد عنزی نے ، ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ، ان کو علی بن مدینی نے ، ان کو سفیان نے ، ان کو محمد بن عبدالرحمٰن مولیٰ ال طلحہ نے ، کہتے ہیں کہ میں نے سنا کریب ابوراشد ین سے ، وہ حدیث بیان کرتے تھے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک صبح جو یر یہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بنت حارث خزاعیہ کے ہاں سے باہر تشریف لائے ۔ جویر یہ کا نام برہ تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا نام بدل کر جویریہ رکھا تھا ۔ آپ نے اس بات کو ناپسند کیا کہ یوں کہا جائے کہ برہ کے ہاں سے نکل گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نکلے تو جویریہ نماز میں تھیں یا فرمایا کہ سجدے میں تھیں ۔ دوسری بار انہوں نے کہا کہ آپ نکلے تو نماز پڑھ رہی تھی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت واپس آئے جب سورج اونچا ہو چکا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جویریہ کو اس حالت میں دیکھ کر فرمایا، کیا تم اپنی اسی مجلس میں ہو جب سے میں نکلا تھا ؟ بولی جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تیرے پاس سے جانے کے بعد چار کلمات تین تین بار پڑھے تھے ۔ اگر تم وزن کرو ( اس عبادت کو ) وزن کرلوں میں ان کلمات کے ساتھ ۔ وہ یہ ہیں : سبحان اللہ وبحمدہ عدد خلقہ ور ضا نفسہ وزنۃ عرشہ و مداد کلماۃ مسلم نے اس کو نقل کیا ہے صحیح میں سفیان کی روایت کے ساتھ ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كريبا أبا راشدين ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، ← سُفْيَانَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← عثمان بن سعيد الدرامي ← أبو الحسن أحمد بن محمد [العنزي. ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 605

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 606

605 - أخبرنا أبو علي الحسن بن محمد المقرئ أنا الحسن بن محمد إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا أحمد بن عيسى ثنا ابن وهب أنا عمرو عن دارج عن أبي الهيثم عن أبي سعيد رضي الله عنه : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : استكثروا من الباقيات الصالحات قيل ما هن يا رسول الله ؟ قال : المسألة قيل و ما هي ؟ قال : التكبير و التسبيح و التهليل و الحمد و لا حول و لا قوة إلا بالله

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد اسحاق نے ، ان کو یوسف بن یعقوب نے ، ان کو احمد بن عیسیٰ نے ، ان کو ابن وھب نے ، ان کو عمر و بن دارج نے ابو الھثیم سے ، انہوں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: استکثرو من الباقیات الصالحات باقی رہنے والی نیکیاں کثرت کے ساتھ کرو ۔ پوچھا گیا یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ کونسی ہیں ؟ فرمایاکہ سوال کرنا ۔ پو چھا گیا کہ وہ کیا ہے ؟ فرمایا کہ : اللہ اکبر ۔سبحان اللہ ۔ لا الٰہ الااللہ ۔ الحمد اللہ ۔ ولاحول ولا قوۃ الا بااللہ کہنا ۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← دارج ← عَمْرٍو، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أحمد بن عيسى، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الحسن بن محمد إسحاق ← أبو علي الحسن بن محمد المقرئ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 606

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 607

606 - أخبرنا أبو محمد عبد الرحمن بن علي بن عبد الرحمن الساوي أنا أبو بكر أحمد بن جعفر بن حمدان القطيعي ثنا إسحاق الحربي ثنا أبو عمرو الضرير ثنا عبد العزيز بن مسلم ثنا ابن عجلان عن ابن عجلان عن سعيد المقبري عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خذوا جنتكم قلنا يا رسول الله أمن عدو حضر ؟ قال : لا جنتكم من النار قولوا سبحان الله و الحمد لله و لا إله إلا الله و الله أكبر يأتين يوم القيامة مقدمات معقبات محببات هن الباقيات الصالحات

ہمیں خبر دی ابو محمد عبدالرحمٰن بن علی بن عبدالرحمٰن ساوی نے ، ان کو ابو بکر احمد بن جعفر بن حمد ان قطیعی نے ، ان کو اسحاق حربی نے ان کو ابو عمر و ضریر نے ، ان کو عبدالعزیز بن مسلم نے ، ان کو ابن عجلان نے ، ان کو سعید مقبری نے ، ان حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا خذو اجنتکم ۔ اپنی ڈھال پکڑلو ۔ ہم نے عرض کیا، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم من عدد حضر ؟ کیا کسی دشمن سے جو پہنچ چکا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ جنتکم من النار ۔ جہنم کی آگ سے ڈھال اور بچا ؤ یوں کہو: سبحان اللہ والحمد اللہ ولا الٰہ الا اللہ واللہ اکبر قیامت کے دن یہ کلمات آئیں گے ۔ آگے پیچھے محبت کرنے والے ۔ وہی باقی رہنے والی نیکیاں ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ← أَبُو عَمْرٍو الضَّرِيرُ، ← إِسْحَاقُ الْحَرْبِيُّ، ← أبو بكر أحمد بن جعفر بن حمدان القطيعي ← أبو محمد عبد الرحمن بن علي بن عبد الرحمن الساوي

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 607

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 608

607 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو علي بن الحسين بن علي الحافظ ثنا مهران بن هارون بن علي الرازي ثنا سفيان بن عقبة أخو قبيصة عن حمزة الزيات و سفيان الثوري عن زبيد عن مرة عن عبد الله رضي الله عنه : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : إن الله قسم بينكم أخلاقكم كما قسم بينكم أرزاقكم و إن الله يعطي المال من يحب و من لا يحب و لا يعطي الإيمان إلا من يحب فإذا أحب عبدا أعطاه الإيمان فمن ضن بالمال أن ينفقه و هاب الليل أن يكابده و خاف العدو أن يجاهده فليكثر من سبحان الله و الحمد و لا إله إلا الله و الله أكبر فإنهن مقدمات مجنبات و معقبات و هن الباقيات الصالحات

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو علی ھسین بن علی حافظ نے ، ان کو شھران بن ھارون بن علی رازی نے ان کو سفیان بن عقبہ نے (جو کہ قبیصہ کے بھائی تھے ) انہوں نے حمزہ زیات سے اور سفیان ثوری سے ، انہوں نے زبید سے ، اس نے مرہ سے ، اس نے عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان تمہارے اخلاق اس طرح تقسیم کردیئے ہیں ، جیسے تمہارے درمیان تمہارے رزق تقسیم کئے ہیں ۔ بے شک اللہ تعالیٰ مال عطا کرتے ہیں اس کو جس کو پسند کرتے ہیں اور اس کو بھی جس کو ناپسند کرتے ہیں ۔ مگر ایمان صرف اسی کو دیتے ہیں جس کو پسند کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ جس کو پسند کرتے ہیں اس کو ایمان عطا کرتے ہیں ۔ جو شخص مال کو خرچ کرنے سےبخل کرتا ہے اور رات کو عبادت کر کے شب بیداری سے ڈرتا ہے اور دشمن کے ساتھ جہاد کرنے سے ڈرتا ہے ، اسے ان کلمات پڑھنے کی کثرت کرنی چاہئے ۔ سبحان اللہ والحمد اللہ والا الہ الا اللہ و اللہ اکبر یہ کلمات آگے سے آنے والے پیچھے آنے والے اور دائیں بائیں آنے والے ہیں (یعنی ہر طرف سے حفاظت کرنے والے ہیں اور یہ ہاقیات الصالحات ہیں ۔

النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← عَبْدُ اللَّهِ ← مُرَّۃُ ← زُبَيْدٍ، ← حمزة الزيات و سفيان الثوري ← سفيان بن عقبة أخو قبيصة ← مهران بن هارون بن علي الرازي ← أبو علي بن الحسين بن علي الحافظ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 608

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 609

608 - أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن شجاع الصوفي أنا أبو بكر بن الأنباري ثنا محمد بن أبي العوام ثنا يزيد بن هارون أنا العوام بن حوشب عن عمرو بن مرة عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال : أتانا رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى وضع رجله بيني و بين فاطمة فعلمنا ما نقول إذا أخذنا مضاجعنا ثلاثا و ثلاثين تسبيحة و ثلاثا و ثلاثين تحميدة و أربعا و ثلاثين تكبيرة قال علي رضي الله عنه : فما تركتهن بعد فقال له رجل و لا ليلة صفين ؟ قال : و لا ليلة صفين مخرج في الصحيح من حديث مجاهد و الحكم عن عبد الرحمن

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حسین بن شجاع صوفی نے ، ان کو ابو بکر بن انباری نے ، ان کو محمد بن العلوم نے ، ان کو یزید بن ھارون نے ، ان کو عوام بن حوشب نے ، ان کو عمر و بن مرد نے ، ان کو عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے ، ان کو علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اور اپنا چہرہ مبارک میرے درمیان اور فاطمہ کے درمیان رکھا ۔ پھر ہمیں وہ کلمات سکھلائے جو ہم پڑھتے ہیں ۔ وہیں جس وقت ہم سونے لگتے ہیں ۔ تینتیس مرتبہ سبحان اللہ اور تینتیس مرتبہ الحمد ا للہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں نے اس کے بعد ان کو کبھی ترک نہیں کیا ۔ کسی نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے ان کو جنگ صفین والی رات کو بھی ترک نہیں کیا تھا ؟ فرمایا کہ نہیں صفین والی رات کو بھی ترک نہیں کیا ۔ یہ حدیث صحیح ہیں منقول ہے مجاہد اور حاکم کی روایت سے عبدالرحمٰن سے ۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْعَوَّامِ، ← أبو بكر بن الأنباري ← أبو عبد الله الحسين بن شجاع الصوفي

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 609

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 610

609 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران ثنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ثنا إسحاق بن الحسن بن ميمون الحربي ثنا حرمي بن حفص أبو علي ثنا عبيد بن مهران قال سمعت الحسن يحدث عن عمران بن حصين رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أيعجزكم أحدكم أن يعمل كل يوم عملا مثل أحد ؟ قالوا يا رسول الله و من يستطيع أن يعمل كل يوم مثل أحد ؟ قال : كلكم يستطيعه قالوا : يا رسول الله ما ذاك ؟ قال : سبحان الله أعظم من أحد و لا إله إلا الله أعظم من أحد و الله أكبر أعظم من أحد قال الحليمي رحمه الله : و قد خصت هذه الأذكار صلاة شرع التنفل بها لمن أحب فذكر صلاة التسبيح و قد ذكرنا إسنادها في كتاب الدعوات

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو بکر احمد بن سلیمان فقیہ نے ان کو اسحٰق بن حسن بن میمون حربی نے بن حفص نے ان کو ابو علی نے ان کو عبید بن مہران نے کہتے ہیں کہ میں نے سنا تھا جس سے وہ حدیث بیان کرتا تھا عمران بن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، کیا تم میں سے ایک آدمی عاجز ہے اس بات سے یعنی کہ روزانہ اوحد پہاڑ کےبرابر نیکیاں کر لے ؟ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا ، یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کون طاقت رکھتا ہے کہ اوحد پہاڑ کے برابر نیکیاں کرے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص اس کی طاقت رکھتا ہے۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا کہ وہ کیسے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سبحان اللہ احد پہاڑ سے بہت بڑا ہے ۔ الحمد اللہ احد سے بہت بڑا ہے ۔ لا الٰہ الا اللہ احمد پہاڑ سے بہت بڑا ہے ۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ۔ یہ مذکورہ تمام از کار تو نماز کے ساتھ مختص کر دیئے گئے ہیں ، ان کے ساتھ اضافی عبادت کے طور پر جو پسند کرے ۔ شیخ نے صلوٰۃ تسبیح کا ذکر بھی کیا ہے ۔ ہم نے اس کی اسناد کتاب الدعوات میں ذکر کی ہے۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْحَسَنِ، ← عُبَيْدُ بْنُ مِهْرَانَ، ← حرمي بن حفص أبو علي ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ الْحَرْبِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 610

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 611

610 - أخبرنا أبو سهل محمد بن نصرويه بن أحمد المروزي بنيسابور ثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن خنب أنا أبو بكر يحيى بن أبي طالب أنا زيد بن حباب أنا موسى بن عبيدة الربذي ثنا يزيد بن أبي سعيد مولى أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عن أبي رافع رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم للعباس رضي الله عنه : يا عم ألا أصلك ؟ ألا أحبوك ؟ ألا أنفعك ؟ قال : بلى ! يا رسول الله قال : صل أربع ركعات و اقرأ في كل ركعة بفاتحة الكتاب و سورة فإذا انقضت القراءة فقل الله أكبر و الحمد لله و سبحان الله و لا إله إلا الله خمس عشرة مرة قبل أن تركع ثم اركع فقلها عشرا قبل أن ترفع رأسك ثم ارفع رأسك فقلها عشرا قبل أن تسجد ثم اسجد فقلها عشرا قبل أن ترفع رأسك ثم ارفع رأسك فقلها عشرا قبل أن تسجد ثانية ثم اسجد فقلها عشرا قبل أن ترفع رأسك ثم ارفع رأسك فقلها عشرا قبل أن تقوم فتلك خمسة و سبعون في كل ركعة و هي ثلاثمائة في أربع ركعات لو كانت ذنوبك مثل رمل عالج لغفرها الله لك فقال يا رسول الله و من يستطيع أن يقولها في كل يوم ؟ قال : فإن لم تستطع فقلها في كل جمعة فإن لم تستطع فقلها في كل شهر فإن لم تستطع فقلها في كل سنة قال البيهقي رحمه الله : هذا الحديث أخرجه أبو عيسى الترمذي في كتاب الجامع بهذا الإسناد و أخرجه أبو داود بالإسناد الذي ذكرناه في كتاب الدعوات و في كتاب السنن و كان عبد الله بن المبارك يفعلها و تداولها الصالحون بعضهم من بعض و فيه تقوية للحديث المرفوع و بالله التوفيق

ہمیں خبر دی ہے ابو سھل محمد بن نصر و یہ بن احمد مروزی نے نیساپوری میں ، ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن خنب نے، ان کو ابو بکر یحییٰ بن ابو طالب نے ، ان کو زید بن حباب نے ، ان کو موسیٰ بن عبدہ زیدی نے ، ان کو یزید ابو سعید مولیٰ ابی بکر بن محمد بن عمر و بن حزم نے ، ان کو ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ، فرماتے ہیں کہ فرمایا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، اے چچا جان ، کیا میں تیرے ساتھ صلہ رحمی نہ کروں؟ کیا میں تیری حفاظت نہ کروں ؟ کیا میں تجھے فائدہ نہ پہنچاؤں ۔ انہوں نے عرض کیا ، کیوں نہیں یار سول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ آپ چار رکعت پڑھئے ، اس طرح کہ ہر ہررکعت میں پہلے سورہ فاتحہ پڑھئے ، ان کے بعد اور کوئی سی سورۃ بھی جب سورۃ پوری ہو جائے تو پھر رکوع میں جانے سے قبل یہ پڑھئے ، اللہ اکبر ۔ والحمد اللہ و سبحان اللہ ولا الٰہ الا اللہ پندرہ مرتبہ ۔ اس کے بعد آپ رکوع کیجئے ۔ پھر رکوع ہی میں سر اٹھانے سے قبل اسے دس مرتبہ پڑھئے ۔ پھر رکوع سے سر اُٹھایئے ( او رقورمہ میں ) سجدہ میں جانے سے قبل دس مرتبہ پڑھئے ۔ اس کے بعد سجدہ کیجئے اور پہلے سجدہ میں سر اٹھانے سے قبل دس مرتبہ پڑھئے ۔ اس کے بعد سر اٹھائیے اور (جلسے میں ) دوسرے سجدے سے قبل دس مرتبہ ۔ اس کے بعد دوسرا سجدہ کیجئے اور دوسرے سجدہ میں سر اٹھانے سے قبل دس مرتبہ ۔ اس کے بعد اپنا سر اٹھایئے اور دس مرتبہ پڑھئے کھڑا ہونے سے قبل ۔ یہ پچھتر ہوا ہر رکعت میں اور یہ چاروں رکعات میں تین سو بار ہے ۔ ( اس کو پڑھنے سے اللہ تعالیٰ) تیرے سارے گناہ معاف کردیں گے اگر چہ وہ تہہ بہ تہہ ریت کی مثل ہوں ۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سوال کیا یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے ہر روز کون پڑھ سکے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تو روزانہ پڑھنے کی استطاعت نہ رکھے تو پھر ہر جمعہ کے دن (یعنی ہفتے میں ایک بار ) اگر تو اس کی استطاعت نہ رکھے تو ہر مہینے میں ایک بار پڑھ لئے ۔ اگر تو اس کی استطاعت نہ رکھے تو اسے پڑھ لے ہر سال میں ۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اسی حدیث کو ابو عیسیٰ ترمذی نے جامع ترمذی میں نقل کیا ہے اسی مذکورہ اسناد کے ساتھ اور اس کو داؤد نے اسی اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے جس کو ہم نے کتاب الدعوات اور کتاب السنین میں ذکر کیا ہے ۔ اور حضرت عبداللہ بن مبارک اس پر عمل کرتے تھے اور صالحین نے اس کو ایک دوسرے سے ہاتھوں ہاتھ لیا ہے اور اس میں حدیث مرفوع کی تائید ہے اور تو فیق اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے ۔

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 611

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 612

611 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو بكر محمد بن عبد الله بن الجراح بمرو ثنا يحيى بن ساسويه ثنا عبد الكريم بن عبد الله ثنا أبو وهب محمد بن مزاحم قال : سألت عبد الله بن المبارك عن الصلاة التي يسبح فيها فقال يكبر ثم يقول سبحانك اللهم و بحمدك و تباك اسمك و تعالى جدك و لا إله غيرك ثم يقول خمس عشرة مرة سبحان الله و الحمد لله و لا إله إلا الله و الله أكبر ثم يتعوذ و يقرأ بسم الله الرحمن الرحيم و فاتحة الكتاب ثم يقول عشر مرات سبحان الله و الحمد لله و لا إله إلا الله ثم يركع فيقولها عشرا ثم يرفع رأسه فيقولها عشرا ثم يسجد فيقولها عشرا ثم يرفع رأسه فيقولها عشرا ثم يسجد الثانية فيقولها عشرا ثم يرفع رأسه فيقولها عشرا فصل أربع ركعات على هذا فذلك خمس و سبعون تسبيحة في كل ركعة و ذلك تمام الثلاثمائة فإن صلاها ليلا فأحب أنبأ يسلم في الركعتين و إن صلاها نهارا فإن شاء سلم و إن شاء لم يسلم قال البيهقي رحمه الله : هكذا اختار ابن المبارك في موضع التسبيح و قوله في آخره ثم يرفع رأسه فيقولها عشرا أظنها زيادة من الكاتب فإنها قد تمت خمسة و سبعين دون ذلك 611 - أخبرنا أبو الفتح محمد بن أحمد بن أبي الفوارس الحافظ أخبرنا أبو بكر محمد بن إبراهيم بن المقرئ أنا أبو شيبة داود بن إبراهيم البغدادي ثنا محمد بن حميد ثنا جرير قال : و جدت في كتابي بخطي عن أبي جناب الكلبي عن أبي الجوزاء عن عبد الله بن عمرو قال : قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا أحبوك ألا أعطيك ألا أصلك ألا أجيزك ؟ أربع ركعات من صلاهن غفر له كل ذنب قديم أو حديث صغير أو كبير خطأ أو عمد تبدأ فتكبر أول الصلاة ثم تقول قبل القراءة خمس عشرة مرة سبحان و الحمد لله و لا إله إلا الله و الله أكبر ثم تقرأ بفاتحة الكتاب و سورة ثم تقولهن عشرا ثم تركع فتقولهن عشرا ثم ترفع رأسك فتقولهن عشرا ثم تسجد فتقولهن عشرا ثم ترفع رأسك فتقولهن عشرا ثم تسجد الثانية فتقولهن عشرا فقال العباس و من يطيق هذا ؟ قال و لو في سنة و لو في شهر و لو في جمعة و لو أن تقرأ قل هو الله أحد

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو بکر محمد بن عبداللہ بن جراح نے مقام مرو میں ، ان کو یحییٰ بن ساسویہ نے ، انکو عبدالکریم بن عبداللہ نے ، ان کو ابو ھب محمد بن مزاحم نے ، کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مبارک سے صلوٰۃ تسبیح کے بارےمیں پوچھا ۔ انہوں نے فرمایا کہ پہلے تکبیر کہے ، پھر سبحانک اللھم و بحمدک و تبارک اسمک و تعالیٰ جد ک ولا الٰہ غیرک پڑھے ۔ اس کے بعد پندرہ مرتبہ یہ پڑھے ۔ سبحان اللہ و الحمد اللہ ولا الٰہ الا للہ و اللہ اکبر ۔ اس کے بعد اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم اور بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اور سورہ فاتحہ پڑھے ۔ اس کے بعد دس مرتبہ پڑھے سبحان اللہ والحمد اللہ ولا الٰہ الا اللہ ۔ اس کے بعد رکوع کرے اور اسی تسبیح کو دس مرتبہ پڑھے ۔ پھر رکوع سے سر اٹھا کر دس مرتبہ اس کو پڑھے ۔ اس کے بعد سجدہ کرے اور دس بار اس کو پڑھے ۔ پھر سجدے سے سر اٹھائے اور دس مرتبہ اس کو پڑھے ۔ اس کے بعد دوسرا سجد ہ کرے اور ان کلمات کو دس مرتبہ پڑھے ۔ دوسرے سجدے سے سر اٹھا ئے اور پھر دس بار ۔ اسی طریقے سے چار رکعات پڑھے ۔ یہ پچھتر تسبیحات ہیں ۔ ہر رکعت میں ۔ اس طرح یہ پوری تین سو ہوں گی ۔ اگر رات کو پڑھے تو میں یہ پسند کرتاہوں کہ دو رکعت پر سلام پھیرے ۔ اگر دن میں پڑھے تو اگر چاہے تو سلام پھیرے اور اگر چاہے تو نہ پھیرے ۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہ ابن مبارک کا اختیار کردہ طریقہ ہے صلوٰہ تسبیح کے بارے میں ۔ آخر میں جو یہ لکھا ہے سر اٹھائے اور اس کو دس مرتبہ پڑھے ، میرا خیال ہے کہ یہ کاتب کی طرف سے اضافہ ہے ۔ اس لئے کہ پچھتر کی تعداد اس کے بغیر پوری ہو جاتی ہے ۔611م ۔ ہمیں خبر دی ہے ابو الفتح محمد بن احمد بن الفوارس نے حافظ سے ، ان کو خبر دی ابو بکر محمد بن ابراہیم مقری نے ، ان کو ابو شیبہ داؤد بن ابراہیم بغداد ی نے ، ان کو محمد بن حمید نے ان کو جریر نے ، کہتے ہیں کہ میں نے اپنی کتاب یعنی اپنے مکتوب میں اپنی تحریر کے ساتھ پایا ہے ۔ ابو جناب کلبی انہوں نے ابو الجوزا سے ، انہوں نے عبداللہ بن عمرو سے کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا میں آپ کا خیال نہ کروں؟ کیا میں آپ کو عطیہ نہ دوں ؟ کیا میں آپ کے ساتھ صلہ رحمی نہ کروں ؟ کیا میں آپ کو اجازت نہ دوں ؟ چار رکعات ہیں جو شخص ان کو پڑھ لے اس کا ہر گناہ بخش دیا جاتا ہے ۔ پرانا ہو یا نیا ہو ، چھوٹا ہو یا بڑا ہو ، قصد اًہو یا غلطی سے ہو ، آغاز کیجئے اور نماز کی تکبیر اولیٰ کہئے ۔ پھر قرات سے پہلے پندرہ مرتبہ پڑھئے۔ سبحان اللہ و الحمد اللہ و لا الٰہ الا اللہ و اللہ اکبر ۔ اس کے بعد فاتحہ پڑھئے اور کوئی سورۃ پڑھئے ۔ اس کے بعد دس مرتبہ پڑھئے ، اس کے بعد رکوع کیجئے اور رکوع میں د س مرتبہ پڑھئے ، پھر رکوع سے سر اٹھا ئیے اور دس بار پڑھئے ، پھر سجدہ کیجئے اور سجدے میں دس بار پڑھئے ، پھر سر اٹھا ئیے اور دس مرتبہ پڑھئے ، پھر دوسرا سجدہ کیجئے اور سجدے میں دس مرتبہ پڑ ھئے ۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پو چھا کہ کون اس کی طاقت رکھے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر چہ سال بھر میں ہو، اگر چہ مہینے میں ہو ، اگر چہ ہفتے میں ہو ، اگر چہ صرف قل ھو اللہ احد پڑھ کر ہو ۔

يكبر ثم ← الصَّلَاةِ الَّتِي يُسَبَّحُ فِيهَا، ← سألت عبد الله بن المبارك ← أَبُو وَهْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُزَاحِمٍ ← عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← يَحْيَى بْنُ سَاسَوَيْهِ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْجَرَّاحِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 612

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 613

612 - قال البيهقي رحمه الله : و هذا يوافق ما رويناه عن ابن المبارك و رواه قتيبة بن سعيد عن يحيى بن سليم عن عمران بن مسلم عن أبي الجوزاء قال : نزل علي عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما فذكر هذا الحديث و خالفه في رفعه فلم يرفعه إلى النبي صلى الله عليه و سلم و لم يذكر التسبيحات ابتداء القراءة إنما ذكر هذا بعد هذا ثم ذكرها في جلسة الاستراحة كما ذكرها سائر الرواة و الله أعلم و كذلك رواه عمرو بن مالك و غيره عن أبي الجوزاء موقوفا

امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : یہ اسی کے مطابق ہے جو ہم حضرت عبداللہ بن مبارک سے روایت کر چکے ہیں اور اس کو قتیبہ بن سعید نے روایت کیا ہے یحییٰ بن سلیم سے ، وہ عمران بن مسلم سے ، وہ ابو الجوزاء سے فرماتے ہیں کہ میرے پاس عبداللہ بن عمرو بن العارص رضی اللہ تعالیٰ عنہما تشریف لائے اور یہ حدیث ذکر فرمائی اور اس کے مرفوع ہونے کی مخالفت کی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک مرفوع نہیں کیا اور تسبیحات کو قرات سے پہلے بھی ذکر نہیں کیا ۔ انہوں نے تسبیحات کو قرات کے بعد ذکر کیا ہے ۔ پھر اس کا ذکر جلسئہ استراحت میں ( دوسجدوں کے درمیان ) کیا ہے جسے دیگر تمام راویوں نے کیا ہے۔ واللہ اعلم ۔ اسی طرح عمرو بن مالک وغیرہ نے ابو الجوزاء سے مرفوعاً کوروایت کیا ہے ۔

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 613

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 614

613 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا أنبأ أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أسيد بن عاصم ثنا الحسين بن حفص عن سفيان عن عطاء بن السائب عن أبيه عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خصلتان لا يحصيهما رجل مسلم إلا دخل الجنة هما قليل و من يعمل بهما قليل قالوا : و هما يا رسول الله ؟ قال : يسبح أحدكم في دبر كل صلاته عشرا و يحمد عشرا و يكبر عشرا فتلك خمسون ومائة باللسان و ألف و خمسمائة في الميزان و إذا أوى إلى فراشه يسبح الله و حمده و كبره مائة فتلك مائة باللسان و ألف في الميزان فأيكم يعمل في اليوم و الليلة ألفين و خمسمائة سيئة ؟ قال : فرأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يعدهن بيده قالوا يا رسول الله و كيف لا يحصيهما ؟ قال : يأتي أحدكما الشيطان فيقول اذكر حاجة كذا و حاجة كذا حتى ينصرف و لا يذكر و ينام و لا يذكر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ سے ، دونوں کہتے ہیں ہمیں خبر دی ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو اسید بن عاصم نے ، ان کو حسین بن حفص نے ، ان کو سفیان نے ، ان کو عطابن یسار نے ، ان کو ان کے والد نے ، ان کو عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو خصلتیں ایسی ہیں جو بھی مسلمان ان کی حفاظت کرے گا جنت میں داخل ہوگا ۔ و ہ دونوں قلیل ہیں اور ان کے ساتھ جو عمل کرتے ہیں وہ بھی قلیل ہیں ۔ لوگوں نے سوال کیا، یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ دونوں کونسی ہیں ؟ فرمایا کہ تم میں سے کوئی بھی ایک بھی ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سبحان اللہ پڑھے اور دس مرتبہ الحمد اللہ پڑھے اور اللہ اکبر دس بار پڑھے ۔ یہ زبان پر ایک سو پچاس ہیں اور ترازوں میں پندرہ سو ہیں ۔ اور رات کو سونے کے لئے جب بستر پر آئے تو سبحان اللہ ، الحمد اللہ ، اللہ اکبر ۔ ایک ایک سو بار پڑھے ۔ یہ زبان پر ایک سو ہیں اور ترازوں میں ایک ہزار ہیں ۔ ( اب سو چو) تم میں سے کونسا ایسا بندہ ہے جو رات دن میں ڈھائی ہزار گناہ کرتا ہے ؟ حضرت ابن عباس عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو اپنے ہاتھوں پرشمار کررہے تھے ۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے کہا یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دو خصلتوں کو کیسے کوئی نہیں کرے گا ؟ اور کیونکر ان کی حفاظت نہیں کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے ایک کے پاس شیطان آتا ہے اور کہتا ہے یاد کر فلاں کام ہے، فلاں کام ہے ، یہاں تک کہ وہ یہ ذکر چھوڑ کر چلاجاتا ہے اور سو جاتا ہے اور ذکر چھوڑ دیتا ہے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ← أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ ← أنبأ أبو العباس محمد بن يعقوب ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 614

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 615

614 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن حليم المروزي ثنا أبو الموجه أنا عبدان أنا عبد الله بن المبارك ثنا مالك بن مغول قال : سمعت الحكم بن عتيبة يحدث عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن كعب بن عجرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : معقبات لا يخيب قائلهن أو فاعلهن دبر كل صلاة مكتوبة ثلاثا و ثلاثين تسبيحة و ثلاثا وثلاثين تحميدة و أربعا و ثلاثين تكبيرة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو حسن بن محمد بن حلیم مروزی نے ، ان کو ابو الموجہ نے، ان کو عبدان نے ، ان کو حضرت عبداللہ بن مبارک نے، ان کو مالک بن مغول نے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حکم بن عتیبہ سے وہ حدیث بیان کرتا ہے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے ، اس نے کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آخر میں پڑھے جانےوالے چند کلمات میں ان کو کہنے والا رسوانہیں ہوتا یا یوں فرمایا تھا ان کو کرنے والا ہر فرض نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ ، تینتیس مرتبہ الحمد اللہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر ۔

کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَبْدَانُ ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← الحسن بن محمد بن حليم المروزي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 615

chevron_left Previous
1…202122…50
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood