شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 532
531 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا ابن أبي الدنيا عن إسحاق بن إسماعيل ثنا جرير ـ ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني علي بن عيسى بن إبراهيم ثنا مسدد بن قطن ثنا عثمان بن أبي شيبة ثنا جرير عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن لله ملائكة فضلا عن كتاب الأيدي يطوفون في الطريق يلتمسون أهل الذكر فإذا وجدوا قوما يذكرون الله تبارك و تعالى ينادون هلم إلى حاجتكم قال : فتحفهم بأجنحتها إلى السماء الدنيا قال : فيسألهم ربهم ـ و هو أعلم بهم ـ ما يقول عبادي ؟ قال : يقولون : يسبحونك و يكبرونك و يحمدونك و يحجدونك قال : و هل رأوني ؟ قال : فيقولون : لا و الله يا رب ما رأوك فيقول : فيكف لو أنهم رأوني ؟ قال : فيقولون : لو رأوك كانوا لك أشد عبادة و أشد تحميدا و أكثر تسبيحا فيقول : فما يسألوني ؟ فيقولون : يسألونك الجنة فيقول : و هل رأوها ؟ فيقولون : لا و الله يا رب ما رأوها فيقول : كيف لو رأوها ؟ فيقولون : لو رأوها كانوا أشد عليها حرصا وأشد لها طلبا و أعظم فيها رغبة فيقول : مما يتعوذون ؟ قال : يتعوذون : من النار فيقول : هل رأوا النار ؟ فيقولون ما رأوها فيقول : كيف لو رأوها ؟ فيقولون : لو رأوها كانوا أشد منها فرارا وأشد لها مخافة فيقول : فإني أشهدكم أني قد غفرت لهم فيقول ملك من الملائكة : فيهم فلان و ليس منهم إنما جاء لجاحة قال : هم الجلساء لا يشقي بهم جليسهم هذا لفظ حديث أبي عبد الله غير أنه كان قد سقط من روايته فيقول مما يعوذون قال : يقولون : من النار و هو في رواية ابن بشران رواه البخاري في الصحيح عن قتيبة عن جرير و أخرجناه في كتاب الدعوات من حديث وهيب عن سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة مرفوعا و فيه من الزيادة قال : فقال قد أجرتهم مما استجاروا و أعطيتهم ما سألوا و من ذلك الوجه أخرجه مسلم في الصحيح و في بعض هذه الروايات فيقولون رب فيهم فلان عبد خطاء إنما مر فجلس معهم قال : فيقول و له قد غفرت هم القوم لا يشقى بهم جليسهم
ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران ان کو حسین بن صفوان نے ان کو ابن ابی الدنیا نے اسحٰق بن اسماعیل نے ان کو جریر نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن عیسیٰ بن ابراہیم نےا ن کو مسند دبن قطن نے ان کو عثمان بن ابی شیبہ نے ان کو جریر نے ان کو اعمش نے ان کو ابو صالح نے ان کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیشک اللہ تعالیٰ کے لیے کچھ اضافی عظمت والے فرشتے ہیں ہاتھوں سے لکھنے والے راستے میں گھومتے پھرتے ہیں جو ذکر کرنے والوں کو تلاش کر تے رہتے ہیں وہ جب کسی ایسی جماعت کو پالیتے ہیں جو اللہ عزوجل کا ذکر کررہے ہوتے ہیں تو وہ پکارتے ہیں ( اپنے دیگر ساتھیوں کو بھی ) کہ ادھر اپنے مقصود کی طرف آجاؤ۔ فرمایا کہ پھر وہ اہل ذکر کو اپنے پروں سے گھیر لیتے ہیں آسمان دنیا تک فرمایا کہ پھر اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے حالانکہ انہیں اچھی طرح جانتا ہے ۔ کیا کہتے ہیں میرے بندے ؟ فرمایاکہ وہ کہتے ہیں تیری تسبیح ۔ تیری تکبیر تیری تمحید ، تیری تمجید کہہ رہے ہیں اللہ تعالیٰ پو چھتے ہیں کہ کیا انہوں نےمجھے دیکھ رکھا ہے ؟ فرمایاکہ وہ جواب دیتے ہیں کہ نہیں انہوں نے آپ کو نہیں دیکھا ہے اللہ کی قسم ہے ۔ فرمایا کہ اگر وہ مجھے دیکھ لیں تو وہ کہتے ہیں کہ اگر تیرے بندے تجھے بندے تجھے دیکھ لیں تو پھر بہت زیادہ سخت ہوں گے عبادت کرنے میں اور تیری تحمید اور تسبیح کرنے میں ۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ کیا مانگ رہے رہیں مجھ سے ۔ فرشتے بتاتے ہیں کہ وہ تیری جنت کا تجھ سے سوال کررہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ پوچھتے ہیں کیا انہوں نے جنت کو دیکھا ہے ؟ فرشتے جواب دیتے ہیں نہیں انہوں نے جنت کو اللہ کی قسم سے نہیں دیکھا ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر وہ جنت کو دیکھ لیتے تو فرشتے جواب دیتے ہیں ۔ اگر وہ دیکھ لیتے تو جنت کا زیادہ حرص کرنے اور جنت کو زیادہ طلب کرتے ۔ اور اس میں بہت بڑی رغبت کرتے ۔ پھر اللہ تعالیٰ پو چھتے ہیں کہ وہ لوگ کس چیز سے پناہ مانگ رہے تھے ؟ وہ کہتے ہیں کہ وہ جہنم سے پناہ مانگ رہے تھے ۔ اللہ تعالیٰ پوچھتے ہیں کہ کیا انہوں اسے دیکھا ہے ۔ فرشتے کہتے ہیں نہیں انہوں نے جہنم کونہیں دیکھا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر وہ اسے دیکھ لیتے تو ۔ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ اگر وہ اسے دیکھ لیتے تو بڑی شدت کے ساتھ اس سے بھاگتے اور بڑی شدت کے ساتھ اس سے ڈرتے اب اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں آپ لوگوں کو گواہ کرتاہوں کہ بے شک میں نے انہیں بخش دیا ہے چنانچہ فرشتوں میں سے ایک فرشتہ کہتا ہے اے اللہ ان لوگوں میں فلاں آدمی بھی ہے جو ان میں سے نہیں وہ کسی ضرورت کے لیے آیا تھا (اور ان میں بیٹھ گیا تھا ) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ ایسے اہل محفل ہیں کہ ان کے ساتھ بیٹھنے وال بھی محروم نہیں کیا جا تا ۔ یہ الفاظ میں ابو عبداللہ کی روایت کے سوائے اس کے کہ اس کی روایت سے یہ الفاظ ساقط ہوگئے تھے (بس اب تو پوچھتا ہے کہ کس چیز سے وہ پناہ مانگتے ہیں ؟ فرمایا کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ جہنم سے ۔ اور ابن بشران کی روایت میں بھی وہی ہے ۔ اور بخاری نے اس کو صحیح میں قتیبہ سے انہوں نے جریر سے اس کو رایت کیا ہے ۔ اور ہم نے اس کو کتاب الدعوات میں وھیب کی روایت میں سہیل بن ابی صالح سے اس نے اپنے والد سے اس نے بوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے ۔ اور اس میں یہ بات زیادہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے انہیں پناہ دی ہے جس چیز سے وہ پناہ مانگ رہے ہیں ۔ اور میں نے انہیں عطا کردیا ہے جو کچھ انہوں نے مانگا ہے ۔ اور اسی طریق سےمسلم نے اس کو صحیح میں نقل کیا ہے ۔ اور بعض ان روایات میں سے ہے کہ فرشتے کہتے ہیں ۔ اسے پروردگار ان میں فلاں گہنگار بندہ بھی ہے جو کہ ان کے قریب سے گذر رہا تھا ان کے پاس بیٹھ گیا تھا ۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس کو بھی میں نے بخش دیا ہے یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کے ساتھ بیٹھنے والا بھی محروم نہیں کیا جا تا ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُسَدَّدُ بْنُ قَطَنٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← جَرِيرٌ ← إسحاق بن إسماعيل ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ
Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 532
