Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص سور منها بالذكر · حديث 2496

2496 - و بهذا الإسناد عن سليمان بن محمد مرقاع عن محمد بن علي عن فاطمة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم قارئ الحديد و إذا وقعت و الرحمن يدعى في ملكوت السماوات و الأرض ساكن الفردوس تفرد بهما محمد بن عبد الرحمن عن سليمان هذا و كلاهما منكران

اور اسی مذکورہ اسناد کے ساتھ مروی ہے سلیمان بن مرقاع سے ۔ اس نے محمد بن علی سے اس نے فاطمہ سے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سورۃ الحدید ، سورۃ واقعہ ، سورۃ رحمٰن کے قاری کو پڑھنے والے کو آسمان اور زمینوں کی بادشاہت میں ساکن الفردوس کے نام سے پکارا جائے گا۔ اس روایت میں محمد بن عبدالرحمٰن کا سلیمان سے تفرد ہے یہ روایت اور دونوں منکر ہیں۔

فَاطِمَةَ، ← محمد بن علي ← سليمان بن محمد مرقاع ← و بهذا الإسناد

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocate a fence from them by mentioning · Hadith 2496

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص سور منها بالذكر · حديث 2497

2497 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا الحجاج ثنا السري بن يحيى الشيباني أبو الهيثم عن شجاع عن أبي فاطمة أن عثمان بن عفان رضي الله عنه : عاد بن مسعود في مرضه فقال : ما تشتكي ؟ قال : ذنوبي قال : فما تشتهي ؟ قال : رحمة ربي قال : ألا ندعوا لك الطبيب ؟ قال : الطبيب أمرضني قال : ألا آمر لك بعطائك ؟ قال : منعتينه قبل اليوم فلا حاجة لي فيه قال : فدعه لأهلك وعيالك قال : إني قد : إني علمتهم شيئا إذا قالوه لم يفتقروا سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من قرأ سورة الواقعة كل ليلة لم يفتقر تفرد به شجاع أبي طيبة هذا و رواه ابن وهب عن السري بن يحيى أن شجاعا حدثه عن أبي ظبية عن ابن مسعود عن النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن فضل قطان نے ، ان کو عبداللہ بن جعفر نے ، ان کو یعقوب بن سفیان نے ، ان کو حجاج نے ان کو سری بن یحییٰ شیبانی نے ، ان کو ابو الھیثم نے، ان کو شجاع نے اس نے ابو فاطمہ سے ، اس نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے حضرت عبداللہ کی بیماری کے وقت طبع پرسی کی اور پوچھا کہ آپ کو کس چیز کی شکایت ہے ، کیا بیماری ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ میری بیماری میرے گناہوں کی ہے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ آپ کیا چاہتے ہیں ؟ جواب ملا اپنے رب کی رحمت چاہتا ہوں ۔ انہوں نے پوچھا کیا ہم آپ کے لیے طبیب تلاش کریں ؟ جواب ملا طبیب نے ہی تو مجھے بیمار کر دیا ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا میں آپ کے لیے عطا کا حکم کروں ؟ جواب ملا آج سے قبل آپ نے مجھے منع کیا تھا اس سے ، لہذا مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ اس کو اپنے اہل و عیال کے لیے چھوڑ دیجیے گا۔ جواب ملا کہ میں نے ان کو ایک چیز سکھلائی ہے ۔ جب تک اس کو پڑھتے رہیں گے تو نادار نہیں ہوں گے ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے جو شخص ہر رات سورۃ واقعہ کو پڑھ لے ، فقیر و محتاج نہیں ہوگا۔ (یا کبھی نادار نہیں ہوگا)۔اس روایت کے ساتھ شجاع ابو طیبہ منفرد ہےاور اس کو روایت کیا ہے ابن وہب نے سری بن یحییٰ سے یہ کہ شجاع نے اس کو حدیث بیان کی ہے ابو طیبہ سے۔ اس نے عبداللہ بن مسعود سے ، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ۔

أَبي فاطمة ← شجاع ← السري بن يحيى الشيباني أبو الهيثم ← الْحَجَّاجِ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocate a fence from them by mentioning · Hadith 2497

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص سور منها بالذكر · حديث 2498

2498 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه من أصل كتابه ثنا أحمد بن بشر المرثدي ثنا خالد بن خداش ثنا عبد الله بن وهب ثنا السري بن يحيى أن شجاعا حدثه عن أبي ظبية عن ابن مسعود قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من قرأ سورة الواقعة في كل ليلة لم يصبه فاقه كذا قال شيخنا أبي ظبية مقيدا بنقطة فوق الظاء و ذكر البخاري رحمه في التاريخ شجاعا و ذكر أنه يروي عنه السري بن يحيى و هو ذا ابن وهب يروي عن السري عن شجاع عن أبي طيبة و خالف حجاج بن منهال حيث قال عن أبي فاطمة و كذا قاله أيضا غير ابن وهب

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو خبر دی ہے ابو بکر بن اسحاق فقیہ نے اپنی اصل کتاب سے ، ان کو احمد بن بشر مرثدی نے، ان کو خالد بن خداش نے ، ان کو عبداللہ بن وہب نے ، ان کو سری بن یحییٰ نے ، یہ کہ شجاع نے ان کو حدیث بیان کی ہے ابو طیبہ نے ، اس نے ابن مسعود سے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا فرمارہے تھے جو شخص ہر رات سورۃ الواقعہ کو پڑھے اس کو فاقہ نہیں پہنچے گا ۔ ایسے فرمایا تھا ہمارے شیخ نے ابو طیبہ سے (مقبر کے نقطے کے ساتھ ظاء پر) اور بخاری رحمۃاللہ علیہ نے ذکر کیا ہے تاریخ میں " شجاعاً " اور ذکر کیا ہے اس نے اس کو روایت کیا ہے ۔ سری بن یحییٰ سے اور وہ وہی ابن وہب ہے جو سری سے رواتی کرتا ہے ۔ وہ شجاع سے اور ابو طیبہ سے اور مخالفت کی ہے حجاج بن منھال نے وہ اس طرح کہ اس نے کہا کہ ابو فاطمہ سے اور اسی طرح سے اس کو کہا ہے غیر ابن وہب نے۔

أبي فاطمة و كذا قاله أيضا غير ابن وهب ← أبي طيبة و خالف حجاج بن منهال حيث ← شجاع ← السَّرِيُّ، ← أنه يروي عنه السري بن يحيى و هو ذا ابن وهب يروي ← البخاري رحمه في التاريخ شجاعا و ← شيخنا أبي ظبية مقيدا بنقطة فوق الظاء و ← من قرأ سورة الواقعة في كل ليلة لم يصبه فاقه كذا ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِي ظَبْيَةَ، ← السري بن يحيى أن شجاعا ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ بِشْرٍ الْمَرْثَدِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocate a fence from them by mentioning · Hadith 2498

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص سور منها بالذكر · حديث 2499

2499 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد بن بلال ثنا أبو الأحوص إسماعيل بن إبراهيم الإسفرائيني ثنا أبو العباس الفضل البصري ثنا السري بن يحيى ثنا شجاع عن أبي ظبية عن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قرأ سورة في كل ليلة لم يصبه فاقة أبدا و كان ابن مسعود يأمر بناته يقرأنها كل ليلة و كذا يونس بن بكير عن السري

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ، ان کو ابو حامد بن بلال نے ، ان کو ابو الا حوص اسماعیل بن ابراہیم اسفرائنی نے، ان کو ابو العباس بن فضل بن بصری نے ان کو سری بن یحییٰ نے ، ان کو شجاع نے ابو طبیۃ سے ، اس نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص سورۃ واقعہ کو ہر رات کو پڑھے اس کو کبھی فاقہ نہیں پہنچے گا اور حضرت ابن مسعود اپنے بیٹوں سے کہتے تھے کہ وہ ہر رات کو پڑھا کریں اور اسی طرح روایت کیا ہے اس کو یونس بن بکیر نے سیری سے ۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِي ظَبْيَةَ، ← شجاع ← السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَی ← أبو العباس الفضل البصري ← أبو الأحوص إسماعيل بن إبراهيم الإسفرائيني ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocate a fence from them by mentioning · Hadith 2499

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص سور منها بالذكر · حديث 2500

2500 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق ثنا الحسن بن علي بن زياد ثنا أبو حبة محمد بن يوسف ثنا يزيد بن أبي حكيم عن السري بن يحيى عن شجاع عن أبي ظبية كذا و قال شيخنا مقيدا عن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قرأ في كل ليلة إذا وقعت الواقعة لم تصبه فاقه أبدا و روى ابن أبي مريم عن السري بن يحيى عن أبي شجاع عن أبي ظبية الجرجاني عن ابن عمر حدثنا من الدعاء

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابوبکر بن اسحاق نے ، ان کو حسن بن علی بن زیاد نے ان کو ابو حبہ محمد بن یوسف نے ، ان کو یزید بن ابی حکیم نے سری بن یحییٰ سے ، اس نے شجاع سے ، اس نے ابو طبیہ سے ، ایسے کہا تھا ہمارے شیخ نے ( یعنی ظاء کے ساتھ ) اس نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور ابن ابی مریم نے روایت کی سری یحییٰ سے ، اس نے ابو شجاع سے ، اس نے ابو ظبیہ جرجانی سے ، اس نے ابن عمر سے انہوں نے ہمیں دعا بیان فرمائی۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← شيخنا مقيدا ← أبي ظبية كذا و ← شجاع ← السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَی ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَکِيمٍ ← أبو حبة محمد بن يوسف ← الحسن بن علي بن زياد ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocate a fence from them by mentioning · Hadith 2500

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص سور منها بالذكر · حديث 2501

2501 - أخبرنا أبو سعد الماليني ثنا أبو أحمد بن عدي الحافظ ثنا أبو عبد الرحمن النسائي أخبرني عبد الله بن عبد الرحمن السمرقندي ثنا سليم بن عثمان التوزي ثنا محمد بن أبي زياد الألهاني ثنا أبو أمامة الباهلي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قرأ خواتيم الحشر في ليل أو نهار فمات من يومه أو ليلته فقد أوجب الجنة تفرد به سليم بن عثمان هذا عن محمد بن زياد

ہمیں خبر دی ابو سعید مالینی نے ، ان کو ابو احمد بن عدی حافظ نے ، ان کو ابو عبدالرحمٰن نسائی نے، ان کو عبداللہ بن عبدالرحمٰن سمر قندی نے، ان کو سلیم بن عثمان توزی نے ، ان کو محمد بن زیاد الھانی نے ، ان کو ابو امامہ باھلی نے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص رات میں یا دن میں سورۃ حشر کی آخری آیات پڑھ لے پھر اس دن یا اس رات کو انتقال کر جائے ، تحقیق اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے ۔ اس روایت میں سلیم بن عثمان متفرد ہے یہ محمد بن زیاد سے۔

أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ ← محمد بن أبي زياد الألهاني ← سليم بن عثمان التوزي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّمَرْقَنْدِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocate a fence from them by mentioning · Hadith 2501

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص سور منها بالذكر · حديث 2502

2502 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز ثنا أحمد بن الوليد الفحام ثنا أبو أحمد الزبيري ثنا خالد بن طهمان أبو العلاء الخفاف حدثني نافع بن أبي نافع عن معقل بن يسار : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال من قال حين يصبح أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم و قرأ الثلاث من آخر سورة الحشر و كل الله به سبعين ألف ملك يصلون عليه حتى يمسي و من قالها مساءا فمثل ذلك

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے، ان کو ابو جعفر راز نے، ان کو احمد بن ولید فحام ان کو ابو احمد زبیر نے ، ان کو خالد بن طھمان ابوالعلاء خفاف نے ، ان کو نافع بن ابو نافع نے معقل بن یسار سے ، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص صبح کے وقت یہ پڑھے: اعوذ باللہ السمیح العلیم من الشیطن الرجیم اور سورۃ الحشر کی آخری تین آیات پڑھے ۔ اللہ تعالیٰ اس کے لیے ستر ہزار فرشتے مقرر کر تے ہیں جو اس پر رحمت کی دعا کرتے رہتے ہیں شام تک اور جو شخص شام کو پڑھ ، اس کے لیے بھی ایسے ہی ہے ۔

مَنْ ← النبي صلى الله عليه و سلم ← مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ← نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ، ← خَالِدُ بْنُ طَهْمَانَ أَبُو الْعَلَاءِ الْخَفَّافُ، ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocate a fence from them by mentioning · Hadith 2502

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص سور منها بالذكر · حديث 2503

2503 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا العباس بن محمد الدوري ثنا علي بن بشر القطان ثنا بقية بن الوليد ثنا بجير بن سعد عن خالد بن معدان عن ابن أبي بلال عن العرباض بن سارية أنه حدثه : أن صلى الله عليه و سلم كان يقرأ المسبحات و قال إن فيهن آية أفضل من ألف آية

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے، ان کو عباس بن محمد دوری نے، ان کو علی بن بشر قطان نے، ان کو بتیہ بن ولید نے ، ان کو بجیر بن سعد نے ، ان کو خالد بن معدان نے ، ان کو ابن ابو بلال نے ، ان کو عرباض بن ساریہ نے ان کو حدیث بیان کی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسبحات سورتیں پڑھا کرتے تھے اور فرمایا کہ ان میں ایک آیت ہے جو ایک ہزار آیت سے افضل ہے ۔ مسبحات وہ سورتیں ہیں جو سبح للہ سے یا یسبح اللہ سے شروع ہوتی ہے۔ (مترجم)

إن فيهن آية أفضل من ألف آية ← أن صلى الله عليه و سلم كان يقرأ المسبحات و ← العرباض بن سارية أنه ← ابْنِ أَبِي بِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← بُجَيْرِ بْنِ سَعْدٍ ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← علي بن بشر القطان ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocate a fence from them by mentioning · Hadith 2503

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص سور منها بالذكر · حديث 2504

2504 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا الوليد بن عقبة و إبراهيم بن العلاء و عمرو بن عثمان و ابن المصفى قالوا : ثنا بقية بن الوليد : فذكره بإسناده غير أنه قال قيل أن يرقد و يقول إن فيه آية أفضل من ألف آية و لم يذكر أنه حدثه فذكره بإسناده

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل نے ، ان کو عبداللہ بن جعفر نے، ان کو یعقوب بن سفیان نے، ان کو ولید بن عقبہ نے اور ابراہیم بن علاء نے اور عمرو بن عثمان نے اور ابن مصطفیٰ نے انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عقبہ بن ولید نے پھر اس کو ذکر کیا ہے اس کی اسناد کےساتھ۔ سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا ہے کہ کہا گیا ہے کہ سو جاتے تھے اور کہتے اس میں ایک روایت ہے جو ہزار آیت سے افضل ہے۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocate a fence from them by mentioning · Hadith 2504

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص سور منها بالذكر · حديث 2505

2505 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن أبي النضر بمرو ثنا عبد العزيز بن حاتم ثنا عبد الرحمن بن عبد الله المقري ثنا عمرو بن أبي قيس عن عطاء بن السائب عن ميسره : أن هذه الآية مكتوبة في التوراة بسبعمائة آية { يسبح لله ما في السماوات و ما في الأرض الملك القدوس العزيز الحكيم } أول سورة الجمعة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو بکر بن ابو النضر نے مقام مرو میں ، ان کو عبدالعزیز بن حاتم نے ، ان کو عبدالرحمٰن بن عبداللہ مقری نے ، ان کو عمرو بن ابی قیس نے، ان کو عطا ء بن سائب نے ، ان کو میسرہ نے کہ یہ آیت توراۃ میں لکھی ہوئی ہے سات سو آیات کے ساتھ وہ آیت یہ ہے : "یسبح اللہ ما فی السموات ومافی الارض الملک القدوس العزیز الحکیم" سورۃ جمعہ کی پہلی آیات ہے۔

عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُقْرِئُ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ حَاتِمٍ، ← أبو بكر بن أبي النضر بمرو ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocate a fence from them by mentioning · Hadith 2505

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص سورة الملك بالذكر · حديث 2506

2506 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي ثنا إبراهيم بن الحسين ثنا آدم ثنا شعبة ح و أخبرنا أبو الحسن العلوي أنا محمد بن أحمد بن دلويه ثنا أحمد بن حفص بن عبد الله حدثني أبي حدثني إبراهيم بن طهمان ثنا شعبة عن قتادة عن العباس الجمشي عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : سورة في القرآن ثلاثون آية شفعت لصاحبها حتى غفر له زاد أبو عبد الله ـ { تبارك الذي بيده الملك }

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو عبدالرحمٰن بن حسن قاضی نے ، ان کو ابراہیم بن حسین نے ، ان کو آدم نے ، ان کو شعبہ نے (ح) اور ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین علوی نے ، ان کو محمد بن احمد بن دویہ نے ، ان کو احمد بن حفص بن عبداللہ نے ، ان کو ان کے والد نے ، ان کو ابراہیم بن طھمان نے ، ان کو شعبہ نے ، ان کو قتادہ نے ، ان کو عباس جشمی نے، ان کو ابو ھریرۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن میں ایک سورت ہے تیس آیات میں ۔ اپنے پڑھنے والی کے لیے سفارش کرتی رہے گی یہاں تک کہ اس کو بخش دیا جائے۔ ابو عبید اللہ نے یہ اضافہ بھی کیا ہے : تبرک الذی بیدہ الملک .

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← العباس الجمشي ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← محمد بن أحمد بن دلويه ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ ← و، ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Dedicating Surat Al-Mulk to mention · Hadith 2506

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص سورة الملك بالذكر · حديث 2507

2507 - أخبرنا أبو محمد السكري ببغداد ثنا إسماعيل الصفار ثنا عباس بن عبد الله الترفقي ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا بكر بن محمد بن حمدان ثنا عبد الصمد بن الفضل قالا : ثنا حفص بن عمر العدني حدثني الحكم بن أبان عن عكرمة عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : وددت أنها في قلب كل مؤمن يعني { تبارك الذي بيده الملك } و في رواية الترقفي أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لوددت أن { تبارك } في صدر كل إنسان من أمتي

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد سکری نے بغداد میں ان کو اسماعیل صفار نے ان کو عباس بن عبداللہ ترقفی نے (ح) اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو بکر محمد بن حمدان نے ، ان کو عبدالصمد بن فضل نے ، دونوں نے کہا کہ ان کو حدیث بیان کی ہے حفص بن عمر عدنی نے ، ان کو حکم بن ابان نے ، انکو عکرمہ بن ابن عباس نے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں پسند کرتا ہوں کہ ہو سورۃ ہر مومن کے دل میں ہو یعنی تبارک الذی بیدہ الملک اور ترقفی کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، البتہ میں پسند کرتا ہوں کہ سورۃ تبارک میری امت کے ہر انسان کے سینے میں ہو۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← عباس بن عبد الله الترفقي ← إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ← أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Dedicating Surat Al-Mulk to mention · Hadith 2507

chevron_left Previous
1…789…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood