Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص آية الكرسي بالذكر · حديث 2389

2389 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا علي بن حمشاذ ثنا بشر بن موسى ثنا الحميدي ثنا سفيان حدثني حكيم بن حبير الأسدي عن أبي صالح عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : سورة البقرة فيها فيها آية القرآن لا تقرأ في بيت و فيه شيطان إلا خرج منه آية الكرسي

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن حمشاد نے ان کو بشر بن موسیٰ نے ان کو حمیدی نے ان کو سفیان نے ان کو حکیم بن حبیر اسدی نے ان کو ابو صالح نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ سورۃ البقرہ میں ایک آیت ہے جو کہ قرآن مجید کی آیت ہے جو قرآن مجید کی آیات کی سردار ہے جس گھر میں شیطان (جن) ہو اور اس آیت کو پڑھا جائے پس وہ اس گھر سے نکل جاتا ہے وہ آیت آیت الکرسی ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← حكيم بن حبير الأسدي ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocation of the Holy Ayat to mention · Hadith 2389

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص آية الكرسي بالذكر · حديث 2390

2390 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد محمد بن موسى قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا وكيع عن المسعودي قال : أنبأني أبو عمرو الدمشقي ( ح ) و أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أخبرني علي بن عبد الرحمن السبيعي بالكوفة ثنا أحمد بن حازم الغفاري ثنا يعلى بن عبيد ثنا المسعودي عن أبو عمر عن عبيد بن الخشخاش عن أبي ذر قال : انتهيت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى الله عليه و سلم و هو في المسجد فجلست إليه فذكر فضل الصلاة و الصيام و الصدقة قال : قلت : يا رسول الله أيما آية أنزلت عليك أعظم قال : { الله لا إله إلا هو الحي القيوم } و ذكر الآية حتى ختمها و في رواية وكيع قال : قلت يا رسول الله أي القرآن أنزل عليك أعظم قال آية الكرسي { الله لا إله إلا هو }

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو سعید محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو وکیع نے مسعود سے وہ کہتے ہیں مجھے خبر دی ہے ابو عمرو دمشقی نے (ح) اور ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے اور ان کو خبر دی ہے علی بن عبدالرحمٰن سبیعی نے کوفے میں ان کو احمد بن حازم غفاری نے ان کو یعلی بن عبید نے ان کو مسعودی نے ان کو ابوعمر نے ان کو عبید بن خشخاش نے ان کو ابوذر نے وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس پہنچا آپ مسجد نبوی میں تشریف فرما تھے میں جا کر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے نماز کی فضیلت روزے کی اور صدقہ کرنے کی فضیلت ذکر فرمائی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم آپ کے اوپر سب سے زیادہ عظمت والی کون سی آیت اتری ہے ۔ فرمایا اللہ لا الہ الا ھوالحی القیوم۔ آپ نے پوری آیت کرسی پڑھ کر سنائی اور وکیع کی ایک روایت میں ہے کہ فرمایا میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کون سا قرآن سب سے زیادہ عظمت والا اترا آپ کے اوپر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ آیت الکرسی۔ اللہ لا الہ الا ھوالحی القیوم۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عُبَيْدِ بْنِ الْخَشْخَاشِ ← أَبُو عُمَرَ ← الْمَسْعُودِيِّ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّبِيعِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← أَبُو عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ← الْمَسْعُودِيِّ ← وَكِيعٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocation of the Holy Ayat to mention · Hadith 2390

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص آية الكرسي بالذكر · حديث 2391

2391 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ حدثني أحمد بن كوفي الأصبهاني ثنا محمد بن عبد الله بن الحسن الأصبهاني ثنا سهل بن عثمان العسكري ثنا أبو الأحوص ثنا سعيد بن مسروق عن الشعبي قال : جلس مسروق و شتير بن شكل في المسجد الأعظم فلما رآهم الناس تحولوا إليهما قال : شتير لمسروق تحول هؤلاء إلينا لنحدثهم فإما أن تحدث و أصدق و إما أن أحدث و تصدق قال : مسروق حدث و أصدق فقال : ثنا عبد الله بن مسعود أن أعظم آية في كتاب الله { الله لا إله إلا هو الحي القيوم } إلى آخر الآية قال مسروق صدق قال :

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن کوفی نے اصفہانی نے ان کو محمد بن عبداللہ بن حسن اصفہانی نے ان کو سہل بن عثمان عسکری نے ان کو ابوالا حوص نے ان کو سعید بن مسروق نے ان کو شعبی نے وہ کہتے ہیں کہ مسروق اور شیتر ین بن شکل مسجد اعظم میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ جب لوگوں نے ان کو دیکھا تو ان دونوں کی طرف لپکے لہذا شیتر نے مسروق سے کہا ۔ یہ لوگ ہماری طرف لپک رہے ہیں تاکہ ہم ان کو حدیث بیان کریں اب یا تو آپ ان کو حدیث بیان کریں اور میں آپ کی تصدیق کروں گا یا میں حدیث بیان کروں اور آپ میری تصدیق کیجیے گا۔ چنانچہ مسروق نے کہا کہ آپ بیان کیجیے اور میں تصدیق کرتا ہوں چنانچہ شیتر نے کہا ہمیں حدیث بیان کی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ قرآن میں عظیم ترین آیت اللہ لا الہ الاھوالحی القیوم ہے یعنی پوری آیت مسروق نے کہا کہ اس نے یعنی شیتر نے سچ فرمایا۔

الشَّعْبِيِّ، ← سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَسْكَرِيُّ ← محمد بن عبد الله بن الحسن الأصبهاني ← أحمد بن كوفي الأصبهاني ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocation of the Holy Ayat to mention · Hadith 2391

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص آية الكرسي بالذكر · حديث 2392

2392 - و حدثنا : أن أكثر أو أكبر آية في كتاب الله فرحا { قل يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا من رحمة الله } إلى آخر الآية فقال مسروق صدقت قال :

(اور انہوں نے) ہمیں حدیث بیان کی کتاب اللہ میں سب سے بڑی خوشی یا زیادہ خوشی والی آیت قل یا عبادی الذین اسرفواعلی انفسھم لا تقنطو امن رحمۃ اللہ۔ الخ ہے مسروق نے کہا اس نے سچ فرمایا ہے ۔ ترجمہ فرما دیجئے اے پیغمبر اےمیرے بندو جنہوں نے اپنے اوپر زیادتی کی ہے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں ۔

و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocation of the Holy Ayat to mention · Hadith 2392

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص آية الكرسي بالذكر · حديث 2393

2393 - و حدثنا : أن أشد في كتاب الله تفويضا { ومن يتق الله يجعل له مخرجا * ويرزقه من حيث لا يحتسب } قال مسروق صدقت قال :

اور ہمیں حدیث بیان کی کتاب اللہ میں تفویض کے اعتبار سے زیادہ شدید ( یہ آیت) ومن یتن اللہ یبجعل لہ مخرجاً ویرزقہ من حیث لا یحتسب مسروق نے کہا کہ آپ نے سچ کہا جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے وہ اس کے لیے راستہ بناتا اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے اس کو گمان نہیں ہوتا۔

مسروق صدقت ← أن أشد في كتاب الله تفويضا ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocation of the Holy Ayat to mention · Hadith 2393

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص آية الكرسي بالذكر · حديث 2394

2394 - و حدثنا : أن أجمع آية في كتاب الله عز و جل { إن الله يأمر بالعدل والإحسان وإيتاء ذي القربى } الآية قال مسروق صدقت

اور اس نے ہمیں حدیث بیان کی قرآن میں سب سے زیادہ جامع آیت یہ ہے ان اللہ یامر بالعدل والا حسان و ایتاء ذی القربیٰ الخ مسروق نے کہا کہ آپ نے سچ فرمایا: ترجمہ : بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے عدل کا اور احسان کرنے کا اور قرابت داروں کو دینے کا اور روکنتا ہے تمہیں بے حیائی سے اور بری باتوں سے اور زیادتی سے تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو۔

و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocation of the Holy Ayat to mention · Hadith 2394

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص آية الكرسي بالذكر · حديث 2395

2395 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني القاسم بن غانم بن حمويه بن الحسين بن معاذ ثنا أبو العباس محمد بن إسحاق بن الصباح ثنا أبي ثنا محمد بن عمرو القرشي عن نهشل بن سعيد الضبي عن أبي إسحاق الهمداني عن حبة العرني قال : سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم على أعواد المنبر يقول : من قرأ آية الكرسي دبر كل صلاة لم يمنعه من دخول الجنة إلا الموت و من قرأ حين يأخذ مضجعة أمنه الله على داره و دار جاره و دويرات حوله إسناده ضعيف

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو قاسم بن غانم بن حمویہ بن حسین بن معاذ نے ان کو ابو العابس محمد بن اسحاق بن صباح نے انھ کو حدیث بیان کی ہے ان کے والد نے ان کو محمد بن عمرو قریشی ان کو بہشل بن سعید ضبی ان وک ابو اسحاق ھمدانی نے ان کو حبہ عرفی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا علی بن ابی طالب سے کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم منبر کے لکڑیوں پر بیٹھے فرما رہے تھے جو شخص ہر نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھے اس کو جنت میں داخلے سے کوئی مانع نہ ہوگا سوائے موت کے اور جو اس کو سو تے وقت پڑھے گا تو پناہ دے گا اس کے گھرکو اور اس کے پڑوسی کے گھر کو اور اردگرد کے گھروں کو اس کی اسناد ضعیف ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم على أعواد المنبر ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← حَبَّةَ الْعُرَنِيِّ ← اَبِیْ اِسْحَاقَ الْھَمْدَانِیِّ ← نهشل بن سعيد الضبي ← محمد بن عمرو القرشي ← أَبِي ← أبو العباس محمد بن إسحاق بن الصباح ← القاسم بن غانم بن حمويه بن الحسين بن معاذ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocation of the Holy Ayat to mention · Hadith 2395

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص آية الكرسي بالذكر · حديث 2396

2396 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن عتاب ثنا ابن أبي العوام ثنا عبد الله بن عبد الرحمن اليمامي عن سالم الخياط عن الحسن و المختار عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قرأ في دبر كل صلاة مكتوبة آية الكرسي حفظ إلى الصلاة الأخرى و لا يحافظ عليها إلا نبي أو صديق أو شهيد و هذا أيضا إسناده ضعيف و الله أعلم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن عتاب نے ان کو ابن ابو العوام نے ان کو عبداللہ بن عبدالرحمٰن نے یمامی ، ان کو سالم خیاط نے ان کو حسن نے اور مختار نے ان کو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے وہ فرماتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا۔ جو شخص یہ فرض نماز کے بعد آیت کرسی پڑھے دوسری نماز تک اس کی حفاظت کی جاتی ہے اور نہیں حفاظت کرتا اس کی مگر نبی یا صدیق یا شہید ۔ اس کی بھی اسناد ضعیف ہے ( روایت کیا مطلب ہے واللہ اعلم مترجم)

أَنَسٍ، ← الحسن و المختار ← سَالِمٍ الْخَيَّاطِ ← عبد الله بن عبد الرحمن اليمامي ← ابْنُ أَبِي الْعَوَّامِ، ← أبو بكر بن عتاب ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocation of the Holy Ayat to mention · Hadith 2396

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص آية الكرسي بالذكر · حديث 2397

2397 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا أبو الحسين بن ماتي أنا أحمد بن حازم بن أبي غرزة أنا عبيد الله بن موسى عن إسرائيل عن ثوير عن أبيه عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال : سيد أي القرآن الله لا إله إلا هو الحي القيوم تخصيص خواتم سورة البقرة بالذكر

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو ابو الحسین بن ماتی نے ان کو احمد بن حازم بن ابی غرزہ نے ان کو عبید اللہ بن موسیٰ نے اسرائیل ان کو ثویر عن ابیہ نے ان کو علی بن ابی طالب نے انہوں نے فرمایا: قرآن کی آیات کی سردار آیت اللہ لا الہ الا ھوالحی القیوم ہے ۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِيهِ ← ثُوَيْرٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أبو الحسين بن ماتي ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocation of the Holy Ayat to mention · Hadith 2397

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص آية الكرسي بالذكر · حديث 2398

2398 - حدثنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن مكرم ثنا عثمان بن عمر أنا مالك بن مغول ح و أخبرنا محمد بن موسى بن الفضل القطان ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن أبي طالب ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ثنا يحيى بن جعفر ثنا أبو المنذر إسماعيل بن عمر ثنا مالك بن مغول قال : سمعت الزبير بن عدي يذكر عن طلحة بن مصرف اليامي عن مرة عن ابن مسعود قال : لما أسري برسول الله صلى الله عليه و سلم وانتهى به إلى سدرة المنتهى و هي في السماء السابعة أو السادسة إليها ينتهي ما يعرج من تحتها فيقبض منها و إليها ينتهي ما هبط من فوقها ليقبض منها قال : { إذ يغشى السدرة ما يغشى } قال فراش من ذهب قال : فاعطى رسول الله صلى الله عليه و سلم منها : ثلاثا أعطى الصلوات الخمس و أعطى خواتيم سورة البقرة و غفر لمن لم يشرك من أمته بالله شيئا المقحمات لفظا حديث أبي المنذر أخرجه مسلم من حديث مالك بن مغول

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصبہانی نے ا نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن مکرم نے ان کو عثمان بن عمر نے ان کو مالک بن مغول نے (ح) اور ہمیں خبر دی محمد بن موسیٰ بن فضل عطان نے، ان کو حدیث بیان کی ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن ابی طالب نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر احمد بن سلمان نے ان کو یحییٰ بن جعفر نے ان کو ابومنذر اسماعیل بن عمر نے ان کو مال بن مغول وہ کہتے ہیں میں نے سنا زبیر بن عدی سے ان کو وہ ذکر کرتا ہے طلحہ بن مصرف یامی سے ۔ وہ مرہ سے وہ ابن مسعود سے وہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو معراج کرائی گئی اور ان کو سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچایا گیا وہ ساتویں آسمان پر ہے یا چھٹے آسمان پر ہے جو امور اس کے نیچے سے اوپر کی طرف چڑھتے ہیں وہ وہاں جا کر رک جاتے ہیں پھر وہاں سے وہ امور قبض کر لیے جاتے ہیں اسی طرح جو امور اس کے اوپر سےنیچے کی طرف اترتے ہیں وہاں آ کر رک جاتے ہیں پھر وہیں سے وہ قبض کر لیے جاتے ہیں ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ( اذیغشیالسدرۃ مایغشیٰ) جب چھپا لیتی ہے سدرہ کو جو چھپا لیتی ہے فرمایا وہ سونے کے پتنگے ہیں یا پروانے ہیں۔ کہتے ہیں کہ وہیں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو پانچ نمازیں دی گئی تھیں اور سورۃ بقرہ کی آخری آیات عطا کی گئی تھیں اور یہ بات بھی کہ اللہ تعالیٰ ہر اس بندے کو بخش دے گا جو شرک نہیں کرتا ہوگا ہلاکت میں ڈالنے والی چیزوں کو آپ کی امت میں۔ یہ الفاظ ابوالمنذر کی حدیث کے پاس ہیں اس کو مسلم نے نقل کیا ہے مالک بن مغول کی حدیث سے۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← مُرَّۃُ ← طلحةَ بنِ مصرفٍ الياميِّ، ← الزُّبَيْرَ بْنَ عَدِيٍّ، يَذْكُرُ ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← أَبُو الْمُنْذِرِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ، ← يَحْيَی بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← محمد بن موسى بن الفضل القطان ← و، ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocation of the Holy Ayat to mention · Hadith 2398

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص آية الكرسي بالذكر · حديث 2399

2399 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق ثنا أبو المثنى ثنا مسدد ثنا أبو عوانة ثنا أبو مالك عن ربعي بن حراش عن حذيفة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : فضلت على الناس بثلاث جعلت الأرض كلها لنا مسجدا و جعلت تربتها لنا طهورا و جعلت صفوفنا كصفوف الملائكة و أوتيت هؤلاء الآيات من آخر سورة البقرة من كنز تحت العرش لم يعط أحد منه قبلي و لا يعطي منه أحد بعدي

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر بن اسحاق نے ان کو ابو المثنی نے ان کو مسدد نے ان کو ابو عوانہ نے ان کو ابومالک نے ان کو ربعی بن حراش نے ان کو حذیفہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔ میں تمام لوگوں پر تین چیزوں کے ساتھ فضیلت دیا گیا ہوں پوری زمین ہم مسلمانوں کے لیے مسجد بنادی گئی ہے ( کہ پاک زمین پر کہیں بھی نماز جائز ہے صرف مسجد میں نہیں ) اور اس کی مٹی ہمارے لیے پاک کرنے والی بنادی گئی ہے اور ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں جیسی کر دی گئی ہیں اور میں یہ آیات عطا کیا گیا ہوں سورۃ بقرہ کی آخری آیات عرش کے نیچے خزانے سے مجھ سے پہلے یہ انعام کسی کو نہیں دیے گئے اور نہ ہی میرے بعد کسی کو ملیں گے۔

حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← أَبُو مَالِکٍ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو الْمُثَنَّى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocation of the Holy Ayat to mention · Hadith 2399

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص آية الكرسي بالذكر · حديث 2400

2400 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق ثنا يونس بن محمد ثنا حماد بن سلمة عن أشعث بن عبد الرحمن عن أبي قلابة عن أبي الأشعث الصنعاني عن النعمان بن بشير : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الله عز و جل كتب كتابا قبل أن يخلق السماوات و الأرض بألفي عام فأنزل منه آيتين ختم بهما سورة البقرة فلا تقرا في دار ثلاث ليال في فيقربها شيطان

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو یونس بن محمد نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو اشعث بن عبدالرحمٰن نے ان کو ابو قلابہ نے ان کو ابو الا اشعث صنعانی نے ان کو نعمان بن بشیر نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کی تخلیق سے دو ہزار سال قبل ایک تحریر لکھی تھی پھر اس کتاب میں سے دو آیات اللہ نے نازل فرمائیں جن کے ساتھ سورۃ بقرہ کو ختم فرمایا جس گھر میں وہ تین دن تک پڑھی جائیں اس کے گھر میں شیطان نہیں ٹھہر سکتا۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocation of the Holy Ayat to mention · Hadith 2400

chevron_left Previous
1…62636465
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood