Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة البقرة و آل عمران · حديث 2377

2377 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي ثنا عبد الله بن أحمد بن عبد الرحمن الدشتكي حدثني أبي ثنا عمرو بن أبي قيس عن عاصم عن أبي الأحوص عن عبد الله : عن النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو سعید احمد بن یعقوب ثقفی نےان کو عبداللہ بن احمد بن عبدالرحمٰن دشتکی نے ان کو حدیث بیان کی ان کے والد نے ان کو عمرو بن ابی قیس نے ان کو عاصم نے ان کو الاحوص نے ان کو عبداللہ نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← عَاصِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ← أَبِي ← عبد الله بن أحمد بن عبد الرحمن الدشتكي ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Baqarah and Al Imran · Hadith 2377

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة البقرة و آل عمران · حديث 2378

2378 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا محمد بن أحمد بن العودي ثنا أبو الجهم ثنا حسان عن إبراهيم ثنا خالد بن سعيد المدني عن أبي حازم عن سهل بن سعد الساعدي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن لكل شيء سناما و إن سنام القرآن سورة البقرة من قرأها في بيته نهارا لم يقرب بيته الشيطان ثلاثة أيام و من قرأها في بيته ليلا لم يدخل بيته الشيطان ثلاث ليال

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو محمد بن احمد عودی نے ان کو ابو جھم نے ان کو حسان نے ان کو ابراہیم نے ان کو خالد بن سعید مرفی نے ان کو ابو حازم نے ان کو سہل بن سعد ساعدی نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہر شے کی ایک چوٹی ہوتی ہے اور قرآن مجید کی چوٹی سورۃ بقرہ ہے جو شخص اس کو اپنے گھر میں پڑھے گا دن کے وقت ۔ تین دن تک شیطان اس کے گھر کے پاس نہیں آئے گا اور جو شخص اس کو رات کے وقت پڑھے گا اپنے گھر میں تین رات تک شیطان اس کے گھر میں داخل نہیں ہوگا۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← أَبِي حَازِمٍ ← خَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَدَنِيُّ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَسَّانُ ← أَبُو الْجَهْمِ، ← محمد بن أحمد بن العودي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Baqarah and Al Imran · Hadith 2378

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة البقرة و آل عمران · حديث 2379

2379 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر مكرم بن أحمد بن مكرم القاضي ثنا محمد بن إسماعيل السلمي ( ح ) و أخبرنا أبو القاسم عبد الخالق بن علي بن عبد الخالق المؤذن أنا أبو بكر محمد بن أحمد بن خنب البغدادي ثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السلمي ثنا سليمان بن سليمان حدثني أبو بكر بن أبي أويس عن سليمان بن بلال عن محمد بن عجلان عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص عن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا ألفين أحدكم يضع إحدى رجليه على الأخرى يتغنى و يدع سورة البقرة يقرأها فإن الشيطان يفر من البيت الذي يقرأ فيه سورة البقرة و إن أصفر البيوت الجوف الصفر من كتاب الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر مکرم بن احمد بن مکرم قاضی نے ان کو محمد بن اسماعیل سلمی نے ۔۔۔ ح۔۔۔ اور ہمیں خبر دی ابو القاسم عبدالخالق بن علی بن عبدالخالق موذن نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن خنب بغدادی نے ان کو ابو اسماعیل محمد بن اسماعیل سلمی نے ان کو سلیمان بن سلیمان نے ۔ مجھے حدیث بیان کی ہے ابوبکر بن ابی اویس نے ان کو سلیمان بن بلال نے ان کو محمد بن عجلان نے ان کو ابو سحاق نے ان کو ابو الا حوص نے ابن مسعود سے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔ البتہ ضرور پایا جائے گا ایک تمہارا (ایسا بدقسمت بھی ) کہ ایک ٹانگ دوسری پر چڑھائے ہوئے گانا گائے گا مگر سورۃ بقرہ کو چھوڑ دے گا۔ کہ اس کو بھی پڑھ لے ۔ بے شک شیطان بھاگتا ہے اس گھر سے بھی جس کے اندر سورۃ بقرۃ زور زور کے ساتھ پڑھی جائے بےشک خالی ترین گھر وہ دل ہے یا وہ سینہ ہے جو کتاب اللہ سے خالی ہو۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ← سليمان بن سليمان، ← أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السلمي ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنُ خَنْبٍ الْبَغْدَادِيُّ ← أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ ← و، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ ← أبو بكر مكرم بن أحمد بن مكرم القاضي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Baqarah and Al Imran · Hadith 2379

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة البقرة و آل عمران · حديث 2380

2380 - رواه عاصم بن أبي النجود عن أبي الأحوص عن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اقرؤا سورة البقرة في بيوتكم فإن الشيطان لا يدخل بيتا فيه سورة البقرة أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن موسى القاضي ثنا إبراهيم بن يوسف بن خالد ثنا يوسف بن موسى ثنا الحسين بن علي الجعفي عن زائدة عن عاصم فذكره 2380 - مكرر و رواه سلمة بن كهيل عن أبي الأحوص موقوفا : ـ

روایت کیا ہے اس کو عاصم نے بن ابو بخود نے ان کو ابو لا حوص نے ان کو عبداللہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا سورۃ بقرہ کو اپنے گھروں میں پڑھا کرو بے شک شیطان اس گھر میں داخل نہیں ہوتا جس میں سورۃ بقرہ کی تلاوت ہو۔ ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبداللہ محمد بن احمد بن موسیٰ قاضی نے ان کو ابراہیم بن یوسف بن خالد نے ان کو یوسف بن موسیٰ نے ان کو حسین بن علی جعفی نے ان کو زائدہ عاصم سے پھر مذکورکو ذکر کیا ہے۔مکرر ہے اس کو روایت کیا ہے سلمہ بن کھیل نے ان کو ابوالا حوص نے بطور موقوف روایت کے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← رواه عاصم بن أبي النجود

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Baqarah and Al Imran · Hadith 2380

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة البقرة و آل عمران · حديث 2381

2381 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الفضل بن إبراهيم ثنا أحمد بن سلمة ثنا قتيبة بن سعيد ثنا يعقوب بن عبد الرحمن عن سهيل عن أبيه عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا تجعلوا بيوتكم مقابر فإن الشيطان يفر من البيت الذي يقرأ فيه سورة البقرة رواه مسلم في الصحيح عن قتيبة بن سعيد

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الفضل بن ابراہیم نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو قتیبہ بن سعید نے ان کو یعقوب بن عبدالرحمٰن نے سہیل سے اس نے اپنے والد سے اس نے ابو ہریرہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ (یعنی تلاوت قرآن سے ویران اور خالی نہ رکھو) بے شک شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس کے اندر سورۃ بقرہ پڑھی جائے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں قتیبہ بن سعید سے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Baqarah and Al Imran · Hadith 2381

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة البقرة و آل عمران · حديث 2382

2382 - أخبرنا أبو عبد الله بكر بن محمد الصيرفي ثنا عبد الصمد بن الفضل البلخي ثنا مكي بن إبراهيم ثنا عبيد الله بن أبي حميد عن أبي المليح عن معقل بن يسار قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أعطيت سورة البقرة من الذكر الأول و حديث نزول الملائكة عند قراءة أسيد بن حضير سورة البقرة قد ذكرناه في هذا الكتاب

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ بکر بن صیرفی نے ان کو عبدالصمد بن فضل بلخی نے ان کو مکی بن ابراہیم نے ان کو عبید اللہ بن ابو حمید نے ان کو ابو الملیح نے ان کو معقل بن یسار نے انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا میں ذکر اول میں سے سورۃ بقرہ عطا کیا گیا ہوں اور فرشتوں کے نازل ہونے والی حدیث حضرت اسید بن حضیر کی قرأت کے وقت جب وہ سورۃبقرہ پڑھ رہے تھے ہم اسی کتاب میں پہلے ذکر کر چکے ہیں۔

مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ← أَبِي الْمَلِيحِ ← عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنِ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ ← أبو عبد الله بكر بن محمد الصيرفي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Baqarah and Al Imran · Hadith 2382

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة البقرة و آل عمران · حديث 2383

2383 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة قال : أنا عبد الله بن محمد بن عبد الله الرازي ثنا إبراهيم بن زهير ثنا مكي بن إبراهيم ( ح ) و حدثني أبو الحسين عبد الله بن طاهر البوشنجي إملاء أخبرني أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بن إدريس أنا أبو مسلم البصري ثنا أبو عاصم النبيل قالا ثنا عبيد الله بن أبي زياد ثنا شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اسم الله الأعظم في هاتين الآيتين { الم * الله لا إله إلا هو الحي القيوم } و { إلهكم إله واحد } لفظ حديث أبي عاصم و في رواية مكي بن إبراهيم قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن في هاتين الآيتين اسم الله الأعظم و هما { و إلهكم إله واحد لا إله إلا هو الرحمن الرحيم } و { الم * الله لا إله إلا هو الحي القيوم }

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی عبداللہ بن محمد بن عبداللہ رازی نے ان کو ابراہیم بن زہیر نے ان کو مکی بن ابراہیم نے ۔۔۔ ح۔۔۔ اور ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو الحسین عبداللہ طاہر بن بو شنجی نے بطور املاء کے ان کو خبر دی ابومحمد عبدالرحمٰن بن محمد بن ادریس نے ان کو ابو مسلم بصری نے ان کو ابو عاصم نبیل نے دونوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے عبید اللہ بن ابوزیاد نے ان کو شہر بن حوشب نے ان کو اسماء بنت یزید نے کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کا اسم اعظم ان دو آیات میں ہے : (1) الم اللہ لا الہ الا ھوا لحی القیوم ۔ (2) والھکم الہ واحد۔ یہ الفاظ ابو عاصم کی روایت کے ہیں اور مکی بن ابراہیم کی روایت میں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سنا فرمارہے تھے ان دو آیات میں اللہ کا اسم اعظم ہے اور وہ دو آیات یہ ہیں (1)والھکم الہ واحد لاا لہ الا ھو الرحمٰن الرحیم اور الم اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ← أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، ← أَبُو مُسْلِمٍ الْبَصْرِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِدْرِيسَ، ← أبو الحسين عبد الله بن طاهر البوشنجي إملاء ← و، ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ زُهَيْرٍ، ← عبد الله بن محمد بن عبد الله الرازي ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Baqarah and Al Imran · Hadith 2383

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة البقرة و آل عمران · حديث 2384

2384 - أخبرنا علي عن أحمد بن عبيد ثنا أبو عمارة المستملي ثنا محمد بن الضو يعني ابن الصلصال بن الدلهمس ثنا أبي أن أباه حدثه : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من قرأ سورة البقرة توج بتاج الجنة

ہمیں خبر دی ہے علی نے احمد بن عبید سے ان کو ابو عمارہ مستملی نے ان کو محمد بن الضویعنی بن صلصال بن دکہمس نے ان کو ان کے والد نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جو شخص سورۃ بقرہ پڑھے گا اس کو جنت کا تاج پہنایا جائے گا۔

أبي أن أباه ← محمد بن الضو يعني ابن الصلصال بن الدلهمس ← أبو عمارة المستملي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيٍّ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Baqarah and Al Imran · Hadith 2384

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة البقرة و آل عمران · حديث 2385

2385 - و بإسناده : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : اقرؤا سورة البقرة في بيوتكم و لا تجعلوها قبورا 2385 - مكرر ـ و بإسناده : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من قرأ آية الكرسي في دبر كل صلاة لم يكن بينه و بين أن يدخل الجنة إلا أن يموت فإذا مات دخل الجنة أبو عمارة المستملي أظنه أحمد بن زيد المهدي

اور اسی کے اسناد کے ساتھ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اپنے گھروں میں سورۃ بقرہ پڑھا کرو ان کو قبریں نہ بناؤ۔ مکرر ہے اور اسی کی اسناد کے ساتھ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جو شخص آیت الکرسی پڑھے ہر نماز کے بعد اس کے درمیان اور جنت کے داخلے کے درمیان کوئی مانع نہیں رہتا کہ وہ جنت میں داخل ہو جائے ۔ مگر صرف موت جس وقت مر جائے گا جنت میں داخل ہو جائے گا۔ ابو عمارہ مستملی میرا خیال ہے کہ وہ احمد بن زید مہری ہے۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Baqarah and Al Imran · Hadith 2385

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص آية الكرسي بالذكر · حديث 2386

2386 - حدثنا محمد بن الحسين بن داود العلوي املاء ثنا أبو حامد بن الشرقي ثنا عبد الرحمن بن بشر بن الحكم و أحمد بن الأزهر بن منيع و أحمد بن يوسف قالوا ثنا عبد الرزاق أنا سفيان عن سعيد الجريري عن أبي السليل عن عبد الله بن رباح الأنصاري عن أبي بن كعب : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أيت آية في الكتاب أعظم ؟ قال : أبي الله و رسوله أعلم قال : فردها مرارا ثم قال : أبي آية الكرسي فقال النبي صلى الله عليه و سلم يهنك العلم أبا المنذر إن لها لسانا و شفتين تقدس الملك عند ساق العرش

ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن حسین بن داؤد علوی نے بطور املاء کے ان کو ابو حامد بن شرفی نے ان کو عبدالرحمٰن بن بشر بن حکم نے اور احمد بن ازہر بن منیع نے اور احمد بن یوسف نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے عبدالرزاق نے ان کو سفیان نے ان کو سعید جریری نے ان کو ابولاسلیل نے ان کو عبداللہ بن رباح نے ان کو ابی بن کعب نے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔ کتاب اللہ میں سب سے بڑی عظمت والی آیت کون سی ہے ؟ حضرت ابی نے عرض کی اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ۔ ابی بن کعب کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم یہ بات بات دہراتے رہے اس کے بعد ابی نے کہا کہ وہ آیت الکرسی ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اے ابوالمنذر تجھے علم مبارک ہو بے شک اس آیت کرسی کی زبان ہے اور دوہونٹ ہیں بادشاہ (حقیقی) کی پاکیزگی گرتی ہے عرش کے پائے کے پاس ۔ ( یا قیامت میں کریں گے)۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocation of the Holy Ayat to mention · Hadith 2386

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص آية الكرسي بالذكر · حديث 2387

2387 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا إبراهيم بن عبد الله أنا يزيد بن هارون ثنا الجريري ( ح ) قال : و أخبرني أبو عمرو بن عبدوس أنا الحسن بن سفيان ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا عبد الأعلى عن سعيد عن أبي السليل عن عبد الله بن رباح الأنصاري عن أبي بن كعب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أبا المنذر أي آية معك أعظم من كتاب الله ؟ قال : قلت { الله لا إله إلا هو الحي القيوم } قال : فضرب في صدري فقال ليهن العلم لك أبا المنذر فو الذي نفسي بيده أن لهذه الآية لسانا و شفتين تقدس الملك عند ساق العرش لفظ حديث عبد الأعلى و في رواية يزيد أي آية في كتاب الله عز و جل معك أعظم قال : قلت : { الله لا إله إلا هو الحي القيوم } قال : فضرب صدري و قال ليهنك العلم أبا المنذر رواه مسلم في الصحيح عن أبي بكر بن أبي شيبة

اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن عبداللہ نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو جریری نے (ح) انہوں نے کہا کہ مجھے خبر دی ہے ابو عمرو بن عبدوس نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو ابو بکر بن ابو شیبہ نے ان کو عبدالاعلیٰ نے ان کو سعید نے ان کو ابو السلیل نے ان کو عبداللہ بن رباح انصاری نے ان کو ابی بن کعب نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اے ابو المنذر تیرے پاس کتاب اللہ کی کون سی سب سے عظیم آیت ہے ؟ کہتے ہیں میں نے کہا اللہ لا الہ الا ھوالحی القیوم۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا تیرے لیے علم مبارک ہو اے ابو المنذر پس قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے بے شک اس آیت کی زبان ہے اور دوہونٹ ہیں عرش کے پائے کے پاس وہ اللہ کی تقدیس بیان کرتی ہے ۔ یا قیامت میں زبان ہو گی اور وہ تقدیس کرے گی۔ یہ الفاظ عبدالا علیٰ کی حدیث کے ہیں اور یزید کی روایت میں ہے ۔ کون سی آیت ہے تیرے پاس کتاب اللہ میں جو سب سے زیادہ عظیم ہے۔ فرماتے ہیں میں نے عرض کی اللہ لا الہ الا ھوالحی القیوم۔ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا تجھے علم مبارک ہو اے ابو المنذر۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں ابو بکر بن ابو شیبہ سے۔"

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ ← أَبِي السَّلِيلِ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أبو عمرو بن عبدوس ← و، ← الْجُرَيْرِيِّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocation of the Holy Ayat to mention · Hadith 2387

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص آية الكرسي بالذكر · حديث 2388

2388 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ ثنا السري بن خزيمة ثنا عثمان بن الهيثم ثنا عوف عن محمد بن سيرين عن أبي هريرة قال : و كلني رسول الله صلى الله عليه و سلم بزكاة رمضان فكنت أحفظها فأتاني آت من الليل فجعل يحثو من ذلك الطعام فأخذته فذكر الحديث في إطلاقه و عوده ثلاث ليال إلى أن قال : قلت لأرفعنك إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : دعني فإني لا أعود و أعلمك كلمات ينفعك الله قال : و ما هي قال : إذا أويت فراشك فاقرأ بهذه الآية { الله لا إله إلا هو الحي القيوم } حتى تختمها فإنه لن يزال عليك من الله حافظا و لا يقربك شيطان حتى تصبح فذكره الحديث إلى أن قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنه قد صدقك و هو كذوب أتدري من تخاطب منذ ثلاث ليال يا أبا هريرة ؟ قال : لا قال : ذاك شيطان رواه البخاري في الصحيح فقال : و قال عثمان بن الهيثم و قد أخرجناه في كتاب الدعوات و دلائل النبوة بتمامه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر محمد بن صالح بن ہانی نے ان کو سری بن خزیمہ نے ان کو عثمان بن ہیثم نے ان کو عوف نے ان کو محمد بن سیرین نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے رمضان کی زکوٰۃ یعنی فطرے کے سامان کی حفاظت کی ذمہ داری سپرد کردی تھی میں اس کی حفاظت کیا کرتا تھا۔ رات کو کوئی آنے والا آیا اور اس کھانے کے سامان میں سے چلو بھرنے لگا میں نے اس کو پکڑ لیا پھر حدیث ذکر کی۔ اس کو چھوڑ دینے اور اس کے تین رات واپس آنے کے بارے میں یہاں تک کہ کہتے ہیں میں نے اس سے کہا کہ میں تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس لے جاؤں گا اس نے کہا مجھے چھور دیجیے میں واپس نہیں آؤں گا اور تجھے کچھ کلمات سکھاتا ہوں اللہ تعالیٰ تجھے ان کے ساتھ فائدہ دے گا کہتے ہیں میں نے پوچھا کہ وہ کیا ہیں اس شخص نے کہا جب تم اپنے بستر پر آو تو یہ آیت پڑھ لیا کرو۔ اللہ لا الہ الا ھوالحی القیوم یہاں تک کہ تم اسے ختم کر لو بے شک تیرے اوپر اللہ کی طرف سے ہمیشہ ایک حفاظت کرنے والا مقرر ہو گا اور تیرے پاس شیطان قریب نہیں آ سکے گا یہاں تک کہ تم صبح کرو گے ۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث ذکر کی یہاں تک کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ۔ بے شک اس نے تجھ سے سچ کہا حالانکہ وہ بہت بڑا جھوٹا تھا کیا تم جانتے ہو کہ مسلسل تین راتوں سے تم کس سے مخاطب تھے اے ابوہریرہ انہوں نے کہا کہ نہیں ۔ فرمایا کہ یہ شیطان تھا۔ (یعنی جن تھا) اس بخاری نے صحیح میں روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ عثمان بن ہیثم نے کہا کہ ہم نے اس کو نقل کیا ہے کتاب الدعوات میں اور کتاب دلائل النبوۃ میں مکمل نقل کیا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← عَوْفٌ، ← عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocation of the Holy Ayat to mention · Hadith 2388

chevron_left Previous
1…62636465
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood