Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر فاتحة الكتاب · حديث 2365

2365 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا محمد بن عبد الله الصفار ثنا أبو المثنى ثنا أبي عن شعبة ( ح ) قال : و ثنا أبو المثنى ثنا عمرو بن مرزوق ثنا شعبة عن عبد الله بن أبي السفر عن الشعبي عن خارجة بن الصلت عن عمه : أنه مر بقوم فقالوا إنك جئت من عند هذا الرجل بخبر فأرق هذا الرجل و أتوه برجل معتوه في القيود فرقاه بأم الكتاب ثلاثة أيام غدوة و عشية كلما ختمها جمع بزاقه ثم تفل فكأنما أنشط من عقال فأعطوه شيئا فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فذكر له فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم كل فلعمري لمن أكل برقية باطل لقد أكلت برقية حق 2365 - مكرر أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عمرو بن السماك ثنا علي بن إبراهيم ثنا وهب بن جرير ثنا شعبة : بنحوه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن عبداللہ صفار نے ان کو ابو المثنی نے ان کو ان کے والد نے ان کو شعبہ نے((ح)) انہوں نے فرمایا ہمیں حدیث بیان کی ہے عمرو بن مرزوق نے ان کو شعبہ نے ان کو عبداللہ بن ابو السفر نے ان کو شعبی ان کو خارجہ بن صلت نے اپنے چچا سے کہ وہ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے تھے انہوں نے کہا بے شک تم خبر لائے ہو اس آدمی کی جانب سے (یعنی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کی)۔ لہذا تم ( ہمارے اس بیمار)آدمی پر دم کرو اور اس کے پاس ایک پاگل آدمی کو لائے جو بیڑیوں میں جکڑا ہوا تھا۔ اس نے اس لئے ام الکتاب کے ساتھ کیا کہ تین دن تک صبح بھی اور شام بھی جب بھی سورۃ ختم کرتے تھے اپنا لعاب دہن جمع کرتے ، پھر اس پر تھوک دیتے۔ بس گویا کہ وہ چھوٹ گیا پیر میں بندھی رسی۔ ان لوگوں نے اس کو کوئی چیز (بطور عطیہ دی) وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور آپ کے سامنے اس بات کا ذکر کیا۔ پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم اس چیز کو کھاؤ میری جان کی قسم البتہ وہ شخص بھی ہے جو باطل منتر یا جھوٹے دم سے کھاتے ہیں۔ البتہ تحقیق تم نے تو کھایا ہے سچے دم کے ساتھ یا سچے منتر کے ذریعے ۔مکرر ہے۔ ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے۔ ان کو ابو عمرو بن سماک نے۔ ان کو علی بن ابراہیم نے۔ ان کو وھب بن حریر نے، ان کو شعبہ نے مذکور کی مثل۔

عَمِّہٖ ← خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ ← الشَّعْبِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْمُثَنَّى ← و، ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← أَبُو الْمُثَنَّى ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the beginning of the book · Hadith 2365

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر فاتحة الكتاب · حديث 2366

2366 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق ثنا إسماعيل بن قتيبة ثنا يحيى بن يحيى ثنا هشيم عن أبي بشر عن أبي المتوكل عن أبي سعيد الخدري : أن ناسا من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم كانوا في سفر فمروا بحي من أحياء العرب فاستضافوهم فلم يضيفوهم فقالوا لهم هل فيكم راق فإن سيد الحي لديغ أو مصاب فقال رجل منهم نعم فرقاه بفاتحة الكتاب فبرأ الرجل فأعطى قطيعا من غنم فأبى أن يقبلها و قال : حتى أذكر ذلك لرسول الله صلى الله عليه و سلم فأتى رسول الله فذكر ذلك له و قال : يا رسول الله و الله ما رقيته إلا بفاتحة الكتاب فتبسم و قال : ما أدراك أنها رقية ثم قال : خذوها منهم و اضربوا لي بسهم معكم رواه مسلم عن يحيى بن يحيى و أخرجاه من حديث شعبة عن أبي بشر و فيه من الزيادة : فجعل يقرأ بأم الكتاب و يجمع بزاقه و يتفل فبرأ

ہمیں خبر دی ہےابو عبداللہ بن حافظ نے، ان کو ابوبکر بن اسحٰق نے، ان کو اسماعیل بن قتیبہ نے، ان کو یحیٰ نے، ان کو ہشیم نے، ان کو ابو بشر نے، ان کو ابوالمتوکل نے،ان کو ابو سعید خدری نے یہ کہ کچھ لوگ اصحاب رسول میں سے سفر میں تھے۔ چنانچہ وہ عرب کی بستیوں میں سے کسی بستی پر گذرے اور اہل بستی سے ضیافت اور مہمانی کا کھانا طلب کیا ۔ تو ان لوگوں نے ان کو کھانا نہ دیا۔ پھر انہوں نے پوچھا کہ کیا تم لوگوں میں سے کوئی منتر پڑھتا ہے، دم کرتا ہے۔ اس لئے کہ بستی کا سردار بیمار ہے یا کہا کہ اس کو کسی زہریلے جانور نے کاٹ لیا۔ ایک آدمی نے صحابہ سے کہا جی ہاں میں کرتا ہوں ۔ چنانچہ اس نے اس بیمار پر سورہ فاتحہ کے ساتھ دم کیا تو وہ آدمی ٹھیک ہو گیا۔ لہذا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسا واقعہ ہوا ہے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کی قسم میں نے اس پر صرف فاتحہ الکتاب کے ساتھ دم پڑھا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے اور فرمانے لگے۔ تجھے کیسے معلوم ہوا کہ یہ دم کرنے کی چیز ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، ← أَبِي بِشْرٍ، ← هُشَيْمٌ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the beginning of the book · Hadith 2366

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر فاتحة الكتاب · حديث 2367

2367 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان ببغداد ثنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا موسى بن الحسن المستملي ثنا محمد بن الجنيد الضبي ثنا علي بن هاشم عن أبيه عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن جابر بن عبد الله أنه قال : رأيت النبي صلى الله عليه و سلم و هو يبول فوقفت عليه فقلت السلام عليك فلم يرد علي ثم قلت السلام عليك يا رسول الله فلم يرد علي ثم قلت السلام عليك يا رسول الله فلم يرد علي قال : و نهض و دخل بعض حجره قال : فملت إلي أسطوانة في المسجد فجلست إليها و أنا كئيب حزين فبينا أنا كذلك إذ خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم فتوضأ قال : فأقبل حتى وقف علي ثم قال : عليك السلام و رحمة الله و عليك السلام و رحمة الله و عليك السلام و رحمة الله ثم قال : يا جابر ألا أخبرك بخير سورة نزلت في القرآن قال : قلت بلى يا رسول الله قال : فاتحة الكتاب قال علي و أحسبه قال : فيها شفاء من كل داء

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن فضل قطان نے بغداد میں اس کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو موسیٰ بن حسن مستملی نے ان کو محمدبن جنید ضبی نے ان کو علی بن ہاشم نے ان کو ان کے والد نے ان کو عبداللہ بن محمد بن عقیل نے ان کو جابر بن عبداللہ نے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا۔ وہ پیشاب کر رہے تھے میں رک گیا اور کہا کہ السلام علیک حضور نے مجھے سلام کا جواب نہ دیا پھر میں نے کہا السلام علیک یا رسول اللہ آپ نے پھر بھی جواب نہ دیا۔ پھر میں نے کہا السلام علیکم یا رسولاللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر ہمیں جواب نہ دیا۔ کہتے ہیں کہ آپ اٹھے اور اپنے بعض کمروں میں چلے گئےمیں مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کی طرف مڑا اور اس کی طرف ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اور میں دکھیارہ سا اور غمگین سا ہو گیا۔ میں اسی حالت میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر نکلے آپ نے وضو کیا کہتے ہیں اس کے بعد آپ سیدھے میری طرف آئے اور مجھ پر آ کر رک گئے پھر فرمایا و علیک السلام و رحمتہ اللہ و علیک السلام ہ ر حمتہ اللہ وعلیک السلام ورحمتہ اللہ پھر فرمایا اے جابر کیا میں تجھے ایک بہترین سورۃ کی خبر دوں جو قرآن مجید میں اتری ہے میں نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ ۔ فرمایا کہ فاتحتہ الکتاب مجھ پر یہ بات کہی اور میرا خیال ہے کہ یہ بھی فرمایا کہ اس میں ہر بیماری کی شفا ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← أَبِيهِ ← عَلِيِّ بْنِ هَاشِمٍ ← محمد بن الجنيد الضبي ← موسى بن الحسن المستملي ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the beginning of the book · Hadith 2367

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر فاتحة الكتاب · حديث 2368

2368 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا سلام الطويل عن زيد العمي عن ابن سيرين عن أبي سعيد الخدري : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فاتحة الكتاب شفاء من السم قال أبو بكر البيهقي رضي الله عنه :

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو سلام نے ان کو زید عمی نے ان کو ابن سیر ین نے ان کو ابو سعید خدری نے کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ فاتحۃ الکتاب میں ہر زہر سے شفا ہے۔ امام ابو بکر بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ← سَلَّامُ الطَّوِيلُ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the beginning of the book · Hadith 2368

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر فاتحة الكتاب · حديث 2369

2369 - و عندي إن هذا الاختصار من الحديث الذي رواه محمد بن سيرين عن أخيه عن معبد بن سيرين عن أبي سعيد : في رقية اللديغ بفاتحة الكتاب و قد ذكرناه في كتاب المعرفة و هو نحو حديث خارجة بن الصلت في المعتوه و قريبا من معناه

میرے پاس ثبوت ہے کہ یہ اختصار ہے اس حدیث سے جس کو محمد بن سرین نےاپنے بھائی سے روایت کیا ہےاس نے معبد بن سیرین سے اس نے ابوسعید سے کہ زہریلے جانور کے ڈسے ہوئے کے منتر اور دم میں فاتحہ الکتاب کے ذریعے اور تحقیق ہم نے اس کو ذکر کیا ہے کتاب المعرفت میں اور وہ مثل ہے حدیث خارجہ بن صلت نے پاگل آدمی کے بارے میں قریب قریب اسی کا مفہوم ہے۔

مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ ← أَخِيهِ ← و عندي إن هذا الاختصار من الحديث الذي رواه محمد بن سيرين

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the beginning of the book · Hadith 2369

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر فاتحة الكتاب · حديث 2370

2370 - أخبرناه أبو عبد الله الحسين بن محمد بن فنجويه الدينوري ثنا أحمد بن الحسن بن ماجه القزويني ثنا محمد بن منده ثنا الحسين بن حفص ثنا سفيان عن عبد الملك بن عمير : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : فاتحة الكتاب شفاء من كل داء و هذا منقطع و هو شاهد لما تقدم

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حسین بن محمد بن فنجو یہ دینوری نے ان کو احمد بن حسن بن ماجہ قزوینی نے ان کو محمد بن مندہ نے ان کو حسین بن حفص نے ان کو سفیان نے ان کو عبدالملک بن عمیر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ نے فرمایا کہ فاتحۃ الکتاب ہر مرض کی شفاء ہے ۔ یہ روایت منقطع ہے مگر یہ حدیث مذکوراحادیث کے لئے شاہد ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَنْدَهْ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَاجَةَ الْقَزْوِينِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فَنْجَوَيْهِ الدَّيْنَوَرِيُّ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the beginning of the book · Hadith 2370

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر فاتحة الكتاب · حديث 2371

2371 - أخبرنا أبو القاسم بن حبيب ثنا محمد بن صالح بن هانئ ثنا الحسين بن الفضل ثنا عفان بن مسلم عن الربيع بن صبيح عن الحسن قال : أنزل الله عز و جل مائة و أربعة كتب من السماء أودع علومها أربعة منها التوراة و الإنجيل و الزبور و الفرقان ثم أودع علوم التوراة و الإنجيل و الزبور الفرقان ثم أودع علوم القرآن المفصل ثم أودع علوم المفصل فاتحة الكتاب فمن علم تفسيرها كان كمن علم تفسير جميع كتب الله المنزلة

ہمیں خبر دی ہے ابو القاسم بن حبیب نے ان کو محمد بن صالح بن ہانی نے ان کو حسین بن فضل نے ان کو عفان بن مسلم نے ان کو ربیع بن صبیح نے ان کو حسن نے انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نےایک سو چار کتابیں آسمان سےنازل فرمائی ہیں پھر اللہ نے ان سب کا علم چارت کتب میں ودیعت رکھا تھا تو راۃ انجیل زبور اور قرآن مجید پھر توراۃ انجیل زبور کا علم ودیعت کیا فرقان میں ۔ پھر علوم قرآن کو ودیعت رکھا مفصل سورتوں میں پھر مفصل سورتوں کے علوم کو ودیعت رکھا فاتحۃ الکتاب میں جو شخص اس کی تفسیر جان لے وہ ایسے ہے جیسے کہ اللہ کی نازل کردہ تمام کتابوں کا علم جان لے۔

الْحَسَنِ، ← الرَّبِيعُ بْنُ صَبِيحٍ ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ← أبو القاسم بن حبيب،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the beginning of the book · Hadith 2371

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة البقرة و آل عمران · حديث 2372

2372 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسين بن الحسن بن أيوب الطوسي ثنا أبو حاتم محمد بن إدريس الرازي ثنا أبو توبة ثنا معاوية بن سلام بن أبي سلام الحبشي عن أخيه زيد بن سلام أنه سمع أبا سلام أنه سمع أبا أمامة الباهلي يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اقرؤا القرآن فإنه يجيء يوم القيامة شفيعا لأصحابه اقرؤا البقرة و آل عمران فإنهما الزهراوان يأتيان يوم القيامة كأنهما غمامتان أو غبايتان أو كأنهما فرقان من طير صواف يحاجان عن صاحبهما اقرؤا سورة البقرة فإن أخذها بركة و تركها حسرة و لا يستطيعها البطلة قال معاوية بن سلام : البطلة السحرة رواه مسلم عن الحسن بن علي الحلواني عن أبي توبة الربيع بن نافع

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسین بن حسن بن ایوب طوسی نے ان کو ابو حاتم محمد بن ادریس رازی نے ان کو ابو توبہ نے ان کو معاویہ بن ابو سلام حبشی نے ان کو ان کے بھائی زید بن سلام نے انہوں نے سنا ابو سلام سے انہوں نے سنا ابو امامہ باہلی سے وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ نے فرمایا۔ قرآن کو پڑھو اس لئے کہ یہ قیامت کے دن اپنے اصحاب کے لئے سفارش بن کر آئے گا۔ سورۃ بقرہ اور سورۃ آل عمران کو پڑھو یہ دونوں تر و تازہ چمکدار اور روشن ہیں۔ قیامت کے دن بادلوں کی مانند آئیں گی جیسے کوئی سایہ دار چیز جیسے کہ وہ پروں کو پھیلا کر صف باندھنے والے پرندوں کے غول ہیں وہ دونوں اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے ان کی نجات کے لئے بحث کریں گی سورۃ بقرہ کو پڑھو اس کو اخذ کرنا برکت ہے اور اس کو چھوڑنا حسرت و افسوس ہے اہل باطل یا جادو گر اس کی تاب نہیں رکھتے۔ معاویہ بن سلام کہتے ہین کہ البطلتہ سے مراد السحرۃ ہیں(یعنی جادوگر) اس کو مسلم نے روایت کیا ہے حسن بن علی حلوانی سے اس نے ابو توبہ ربیع بن نافع سے۔

أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ ← أبا سلام أنه ← اَخِیْہِ زَیْدِ بْنِ سَلَّامِ اَنَّہٗ ← معاوية بن سلام بن أبي سلام الحبشي ← أَبُو تَوْبَةَ، ← أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الرَّازِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Baqarah and Al Imran · Hadith 2372

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة البقرة و آل عمران · حديث 2373

2373 - أخبرنا أبو علي الحسين بن محمد الروذباري أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور الرمادي ثنا عبد الرحمن بن إبراهيم دحيم الدمشقي ثنا الوليد بن مسلم عن محمد بن مهاجر عن الوليد بن عبد الرحمن الجرشي عن جبير بن نفير عن النواس بن سمعان قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : يؤتى بالقرآن يوم القيامة و أهله الذين كانوا يعلمون به تقدمهم سورة البقرة و آل عمران و ضرب لهما رسول الله صلى الله عليه و سلم ثلاثة أمثال ما نسيتهن بعد قال : كأنهما غمامتان أو ظلتان سوداوان بينهما سور أو كأنهما فرقان من طير صواف يحاجان عن صاحبهما

ہمیں خبر دی ابو علی حسین بن محمد روذہاری نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور رمادی نے ان کو عبدالرحمٰن بن ابراہیم و حیم مشقی نے ان کو ولید بن مسلم نے ان کو محمد بن مہاجر نے ان کو ولید بن عبدالرحمٰن جرشی نے ان کو جبیر بن نفیر نےان کو نواس بن سمعان نے انہوں نے کہا میں نے سنا رسول اللہ فرماتے تھے قیامت کے دن قرآن مجید آئے گا اور اہل قرآن جو اس پر عمل کرتے تھے وہ بھی آئیں گے سورۃ بقرہ اور سورۃ آل عمران ان کے آگے آگے ہوں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں سورتوں کے لئے تین مثالیں بیان فرمائی تھیں جن کو میں ابھی تک بھولا نہیں ہوں۔ فرمایا جیسے کہ وہ بادل ہیں یا جیسے کہ وہ سیاہ سائبان ہیں ان میں دیواریں ہیں یا جیسے کہ وہ پروں کو پھیلا کر صف باندھنے والے پرندوں کے غول ہیں وہ اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے حجت کریں گی اور جھگڑا کریں گی۔

النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ، ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، دُحَيْمٌ الدِّمَشْقِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Baqarah and Al Imran · Hadith 2373

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة البقرة و آل عمران · حديث 2374

2374 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عمرو بن أبي جعفر ثنا عبد الله بن محمد ثنا إسحق بن منصور أنا يزيد بن عبد ربه ثنا أبو الوليد بن مسلم : فذكره بإسناده نحوه غير أنه قال : سمعت النواس بن سمعان الكلابي يقول : و قال بينهما شرق أو كأنهما حزقان رواه مسلم عن إسحاق بن منصور

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عمرو بن ابو جعفر نے ان کو عبداللہ بن محمد نے ان کو اسحٰق بن منصور نے ان کو یزید بن عبدابہ نے ان کو ابو الولید بن مسلم نے پھر اس کو اسناد کےساتھ مذکور کی مثل ذکر کیا۔ سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے نواس بن سمعان کلابی سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ انہوں نے فرمایا کہ ان دونوں کے درمیان چمک ہو گی گویا کہ وہ دو روشن بتیاں ہیں اس کو مسلم نے روایت کیا ہے اسحٰق بن منصور سے۔

إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ← بينهما شرق أو كأنهما حزقان رواه مسلم ← و، ← النواس بن سمعان الكلابي ← أبو الوليد بن مسلم فذكره بإسناده نحوه غير أنه ← يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ← إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Baqarah and Al Imran · Hadith 2374

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة البقرة و آل عمران · حديث 2375

2375 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه و أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه قالا أنا محمد بن أحمد بن النضر ثنا معاوية بن عمرو ثنا زائدة عن حكيم بن جبير عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن لكل شيء سناما و إن سنام القرآن سورة البقرة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحٰق فقیہ اور ابو بکر بن احمد بن بالویہ نے دونوں نے کہا کہ ان کو ضبر دی ہے محمد بن احمد بن نضر نے ان کو معاویہ بن عمرو نے ان کو زائدہ نے ان کو حکیم بن جبیر نے ان کو ابو صالح ے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا۔ ہر سے کی کوہان یعنی اونچائی بلندی و رفعت ہوتی ہے اور قرآن کی رفعت و بلندی اور اونچائی سورۃ البقرہ ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← حكيم بن جبير ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرٍ ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه و أبو بكر محمد بن أحمد بن ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Baqarah and Al Imran · Hadith 2375

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة البقرة و آل عمران · حديث 2376

2376 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا حامد بن أبي حامد المقرئ ثنا عبد الرحمن بن عبد الله الدشتكي ثنا عمرو بن أبي قيس عن عاصم بن أبي النجود عن أبي الأحوص عن عبد الله بن مسعود قال : إن لكل شيء سناما و سنام القرآن سورة البقرة و إن الشيطان إذا سمع سورة البقرة تقرأ خرج من البيت الذي تقرأ فيه سورة البقرة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو حامد بن ابو مقری نے ان کو عبدالرحمٰن بن عبداللہ دشتکی نے ان کو عمرو بن ابی قیس نے ان کو عاصم بن ابو نجود نے ان کو ابوالا حوص نے ان کو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں بے شک ہر چیز کی چوٹی ہوتی ہے اور قرآن مجید کی چوٹی سورہ بقرہ ہے اور شیطان جب سنتا ہے کہ سورۃ بقرہ پڑھی جا رہی ہے تو اس گھر سے نکل جاتا ہے جس میں سورۃ بقرہ پڑھی جا رہی ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الدَّشْتَكِيُّ، ← حامد بن أبي حامد المقري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Baqarah and Al Imran · Hadith 2376

chevron_left Previous
1…6162636465
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood