Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر فاتحة الكتاب · حديث 2353

2353 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا ثنا أبو العباس ثنا إبراهيم بن مرزوق ثنا أبو عامر العقدي عن سفيان الثوري عن السدي عن عبد خير عن علي قال : السبع المثاني فاتحة الكتاب

ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا کہ ان کو حدیث بیان کی ہے ابو العباس ابراہیم میں مرزوق نے ان کو ابو عامر عقدی نے ان کو سفیان ثوری نے ان کو سدی نے ان کو عبد خیر نے ان کو علی نے انہوں نے فرمایا کہ سبع مثانی فاتحۃالکتاب ہے ۔

السبع المثاني فاتحة الكتاب. ← عَلِيٍّ، ← عبد خير ← السُّدِّيِّ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← محمد بن عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the beginning of the book · Hadith 2353

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر فاتحة الكتاب · حديث 2354

2354 - و روينا في ذلك عن عمر و عبد الله بن مسعود و أبو هريرة و جماعة من التابعين : ـ

اور ہم نے روایت کی ہے اس بارے میں عمر اور عبداللہ ابن مسعود ، ابوہریرہ اور تابعین کی ایک جماعت سے ۔

و روينا في ذلك

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the beginning of the book · Hadith 2354

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر فاتحة الكتاب · حديث 2355

2355 - و عن قتادة قال : هي فاتحة الكتاب تثني في كل ركعة مكتوبة أو تطوع

اور حضرت قتادہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ یہی فاتحۃ الکتاب ہے فرضی ہو یا نفلی نماز کی ہر رکعت میں بار بار پڑھی جاتی ہے ۔

هي فاتحة الكتاب تثني في كل ركعة مكتوبة أو تطوع ← قَتَادَةَ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the beginning of the book · Hadith 2355

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر فاتحة الكتاب · حديث 2356

2356 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن القاضي قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا محمد بن فضيل عن الكلبي عن أبي صالح عن ابن عباس في قوله : ـ { و لقد آتيناك سبعا من المثاني و القرآن العظيم } أما السبع المثاني فهي أم القرآن تثني في كل صلاة في كل ركعتين و يقال هي الطول

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور احمد بن حسن قاضی نے دونوں نے کہا کہ ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو محمد بن فضیل نے کلبی سے ان کو ابو صالح نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس قول کے بارے میں : "ولقد آتیناک سبعا من المثانی والقرآن العظیم"۔ بہرحال سبع مثانی یہ تو ام القرآن ہے یہ ہر نماز کی ہر دو رکعتوں میں دہرائی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ طویل ہے ۔

اَبِیْ صَالِحٍ ← الكلبي ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن القاضي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the beginning of the book · Hadith 2356

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر فاتحة الكتاب · حديث 2357

2357 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا تمتام ثنا عمرو بن عون عن هشيم عن الحجاج عن الوليد بن ميزاب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : هي السبع الطول و لم يعطن إلا النبي صلى الله عليه و سلم و أعطى منهن موسى عليه السلام آيتين قوله : سبعا من المثاني كذا قال و التفسير الأول أولى لموافقة الحديث المرفوع

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو تمتام نے ان کو عمرو بن عون نے ان کو ھیثم نے ان کو حجاج نے ولید بن میزاب نے سعید بن جبیر سے ا س نے ابن عباس سے انہوں نے کہا کہ یہ سبع طول ہیں ۔ اس جیسا کوئی نبی نہیں دیا گیا سوائے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اور موسیٰ علیہ السلام ان میں سے صرف دو آیات دئیے گئے تھے ۔ اللہ تعالیٰ کا قول سبعاً من المثانی ۔ ایسے ہی فرمایا اور رتفسیر اول اولیٰ ہے اس لئے کہ وہ حدیث مرفوع کے مطابق ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الوليد بن ميزاب ← الْحَجَّاجِ، ← هُشَيْمٌ ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ← تَمْتَامٌ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the beginning of the book · Hadith 2357

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر فاتحة الكتاب · حديث 2358

2358 - أخبرنا أبو الحسين علي بن محمد بن عبد الله بن بشران أنا أبو علي الصفار هو إسماعيل بن محمد ثنا موسى بن الحسن الشبلي ثنا علي بن عبد الحميد المعني ثنا سيلمان بن المغيرة عن ثابت عن أنس بن مالك قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم في مسير فنزل يمشي رجل من أصحابه إلى جانبه فالتفت إليه النبي صلى الله عليه و سلم فقال : ألا أخبرك بأفضل القرآن قال : فتلى عليه الحمد لله رب العالمين

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین علی بن محمد بن عبداللہ بن بشران نے ان کو ابو علی صفار نے وہ اسماعیل بن محمد سے ہے ان کو موسیٰ بن حسن شبلی نے ان کو علی بن عبدالحمید نے ان کو سلیمان بن مغیرہ نے ان کو ثابت نے ان کو انس بن مالک نے انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سفر میں تھے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اترے ایک آدمی کے اصحاب میں سے ایک کی جانب چلا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس کی طرف توجہ دی اور فرمایا کیا میں تجھے خبر دوں افضل قرآن کے بارے میں کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس پر الحمد للہ رب العالمین تلاوت فرمائی۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← سيلمان بن المغيرة ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْمَعْنِيُّ ← موسى بن الحسن الشبلي ← أبو علي الصفار هو إسماعيل بن محمد ← أبو الحسين علي بن محمد بن عبد الله بن بشران

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the beginning of the book · Hadith 2358

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر فاتحة الكتاب · حديث 2359

2359 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا ثنا أبو العباس الأصم ثنا العباس بن محمد الدوري ثنا علي بن عبد الحميد المعني : فذكره بإسناده غير أنه قال : نزل رجل من أصحابه فمشى إلى جانبه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں کو ابوالعباس اصم نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو علی بن عبدالحمید معنی نے پھر اس کو انہوں نے ذکر کیا اس کی اسناد کے ساتھ سوائے اس کے کے انہوں نے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک آدمی اترا اور آپ کی جانب چلا۔

نزل رجل من أصحابه فمشى إلى جانبه ← علي بن عبد الحميد المعني فذكره بإسناده غير أنه ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the beginning of the book · Hadith 2359

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر فاتحة الكتاب · حديث 2360

2360 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحق الفقيه أنا محمد بن أحمد بن النضر ثنا الحسن بن الربيع ثنا أبو الأحوص ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن سفيان ثنا أبو عاصم أحمد بن حواش الحنفي ثنا أبو الأحوص عمار بن رزيق عن عبد الله بن عيسى عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : بينما جبريل عليه السلام جالس عند النبي صلى الله عليه و سلم إذ سمع نقيضا من فوقه فرفع رأسه إلى السماء فقال إن هذا الباب من السماء قد فتح ما فتح قط قال : فنزل منه ملك قال إن هذا الملك قد نزل ما نزل إلى الأرض قال : فجاء الملك إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فسلم عليه و قال : يا محمد أبشر بنورين أوتيتهما لم يرتهن نبي قبلك فاتحة الكتاب و خواتيم سورة البقرة لن تقرأ حرفا منهما إلا أوتيته رواه مسلم في الصحيح عن الحسن بن الربيع و أحمد بن جواس

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر بن اسحٰق فقیہ نے ان کو محمد بن احمد بن نضر نے ان کو حسن بن ریبع نے ان کو ابو الا حوص نے ۔۔۔ ح۔۔۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو ابو عاصم احمد بن حواش حنفی نے ان کو ابوالا حوص نے ان کو عمار بن رزیق نے ان کو عبداللہ بن عیسیٰ نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے اچانک اوپر سے ایک آواز سنائی دی اس نے سر آسمان کی طرف اٹھایا اور فرمایا کہ یہ دروازہ ہے آسمان کو جو ابھی کھلا ہے اس سے پہلے کبھی نہیں کھلا اس سے ایک فرشتہ اترا ہے فرمایا کہ یہ فرشتہ اترا ہے زمین پر پہلے نہیں اترا اتنے میں وہ فرشتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا ۔ اے محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم آپ خوش ہو جائیے دونور اور روشنیوں کے ساتھ جو صرف آپ کو عطا ہوئی ہیں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے پہلے کسی نبی کو وہ نہیں دی گئیں ایک سورۃ فاتحہ اور دوسری سورۃ بقرہ کی آخری آیات آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم جو بھی اس کا حرف پڑھیں گے آپ کو آپ کا اجر فوراً ملے گا۔

بينما جبريل جالس عند النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَی ← أبو الأحوص عمار بن رزيق ← أبو عاصم أحمد بن حواش الحنفي ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیْعِ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرٍ ← أبو بكر بن إسحق الفقيه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the beginning of the book · Hadith 2360

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر فاتحة الكتاب · حديث 2361

2361 - أخبرنا أبو زكريا يحيى بن إبراهيم أنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد ثنا يحيى بن بكير ثنا مالك ح قال : و ثنا القعنبي فيما قرأ على مالك عن العلاء بن عبد الرحمن أنه سمع أبا السائب مولى هشام بن زهرة يقول : سمعت أبا هريرة يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من صلى صلاة و لم يقرأ فيها بأم القرآن فهي خداج فهي خداج فهي خداج غير تمام قلت يا أبا هريرة إني أكون أحيانا وراء الإمام قال : فغمز ذراعي و قال : يا فارس اقرأ بها و قال العقنبي اقرأها في نفسك فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : قال الله عز و جل : قسمت الصلاة بيني و بين عبدي نصفين نصفها لي و نصفها لعبدي و لعبدي ما سأل قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اقرؤا يقول العبد { الحمد لله رب العالمين } يقول الله : حمدني عبدي يقول العبد { الرحمن الرحيم } يقول الله ( أثنى علي عبدي ) يقول العبد { مالك يوم الدين } يقول الله ( مجدني عبدي ) يقول العبد { إياك نعبد و إياك نستعين } فهذه الآية بيني و بين عبدي و لعبدي ما سأل يقول العبد : { اهدنا الصراط المستقيم * صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم و لا الضالين } فهؤلاء لعبدي و لعبدي ما سأل أخرجه مسلم في الصحيح من حديث مالك قال الحليمي رضي الله عنه : و ليس في ابتداء القسمة من قوله { الحمد لله رب العالمين } دليل يقطع إن { بسم الله الرحمن الرحيم } ليست الآية الأولى لا يجوز أن يكون أراد فإذا انتهى العبد إلى الحمد لله رب العالمين قال الله حمدني عبدي ذاك جميع الجزء الأول من هذه السورة كما قال صلى الله عليه و سلم و إذا قال الإمام و لا الضالين فقولوا آمين و إنما أراد فإذا انتهى في القراءة إلى هذا القول لأن جميع ذلك قراءة و الله أعلم و أما التفسير فليس في الحديث أن التنصيف بالآي فإذا كانت تنصف مع ابتدائها بالتسمية و الكلام و الحروف نصفين فقد وقع بذلك الخروج من عهدة الخبر و الله أعلم و علم أنه إن ثبت أن المراد به أن تنصف السورة نصفين بالآي فقد يجوز أن يكون نصفها الأول أطول من التالي كما أن الشهر إذا لم يجاوز تسعا و عشرين لم يخل من التنصف و يكون نصفه الأول خمسة عشر و نصفه الآخر أربعة عشر حتى لو قال رجل لامرأته في أول الشهر إذا انتصف هذا الشهر فأنت طالق طلقت إذا انتصف من أيامه خمسة عشر يوما و لو نقص منه يوما من أن الطلاق كان واقعا قبل الوقت الذي ذكرنا

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا یحییٰ بن ابراہیم نے ان کو ابو الحسن احمد بن محمد بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو یحییٰ بن بکیر نے ۔۔۔ح۔۔۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی قعنبی نے اس میں جو اس نے پڑھا مالک پر علاء بن عبدالرحمٰن سے انہوں نے سنا ابو السائب مولیٰ ہشام بن زہرہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز پڑھے جس میں فاتحہ نہ پڑھے وہ ناقص ہے ادھورا ہے نامکمل ہے حذاج کا مطلب ہے ادھوری نا مکمل ۔ میں نے کہا اے ابو ہریرہ میں کبھی امام کے پیچھے ہوتا ہوں ۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے میرا بازو ہلایا او رکہا اے فارس اسے پڑھیے اور قعنبی نے کہا آپ اسے اپنے دل میں پڑھیے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سنا تھا فرما رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ نماز تقسیم کی گئی ہے ۔ میرے اور میرے بندے کے درمیان آدھی آدھی ۔ آدھی میرے لئے ہے اور آدھی میرے بندے کے لئے ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا پڑھو بندہ کہتا ہے الحمد للہ رب العالمین تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے نے میری حمد کی ہے ۔ بندہ کہتا ہے الرحمٰن الرحیم اللہ تعالیٰ کہتا ہے میرے بندے نے میری ثناء بیان کی ہے ۔ بندہ کہتا ہے مالک یوم الدین۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری تمجید اور بزرگی بیان کی ہے ۔ بندہ کہتا ہے ایاک نعبدو ویاک نستعین ۔ یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کے لئے سب کچھ ہے جو اس نے مانگا ہے ۔ بندہ کہتا ہے اھدنالصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم غیر المغضوب علیھم ولا الضالین۔ یہ سب میرے بندے کے لئے ہے اور میرے بندے کے لئے وہ سب کچھ ہے جو اس نے مانگا ہے ۔ اس کو مسلم نے صحیح میں حدیث مالک سے نقل کیا ہے ۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← و، ← مَالِكٍ، ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ ← أبو زكريا يحيى بن إبراهيم،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the beginning of the book · Hadith 2361

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر فاتحة الكتاب · حديث 2362

2362 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو العباس عبيد الله بن محمد بن نافع الزاهد قراءة عليه من أصل كتابه ثنا أبو زكريا ثنا يحيى بن محمد ( ) أبادي ثنا عيسى بن محمد بن موسى الطريثيثي ثنا أبو نصر ثنا مقاتل بن سليمان عن الضحاك بن مزاحم عن ابن عباس : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن الله عز و جل قد أنزل علي سورة لم ينزلها على أحد من الأنبياء و الرسل قبلي قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قال الله تعالى : قسمت الصلاة بيني و بين عبادي فاتحة الكتاب جعلت نصفها لي و نصفها لهم و آية بيني و بينهم فإذا قال العبد { بسم الله الرحمن الرحيم } قال الله عز و جل : عبدي دعاني باسمين رقيقين أحدهما أرق من الآخر فالرحيم أرق من الرحمن و كلاهما رقيقان فإذا قال : { الحمد لله } قال : شكرني عبدني و حمدني فإذا قال : { رب العالمين } قال الله : شهد عبدي أني رب العالمين يعني رب الجن و الإنس و الملائكة و الشياطين و سائر الخلق و رب كل شيء و خالق كل شيء فإذا قال : { الرحمن الرحيم } قال : مجدني عبدي فإذا قال : { مالك يوم الدين } يعني بيوم الدين يوم الحساب قال الله : شهد عبدي أنه مالك ليوم الحساب أحد غيري و إذا قال { مالك يوم الدين } فقد أثنى علي عبدي { إياك نعبد } يعني الله أعبد و أوحد { و إياك نستعين } قال الله هذا بيني و بين عبدي إياك نعبد فهذه لي و إياك نستعين فهذه له و لعبدي ما سأل بقية هذه السورة اهدانا أرشدنا الصراط المستقيم يعني دين الإسلام لأن كل دين غير الإسلام فليس بمستقيم الذي ليس فيه التوحيد صراط الذي أنعمت عليهم يعني به النبيين و المؤمنين الذين أنعم الله عليهم بالإسلام و النبوة و غير المغضوب عليهم يقول : أرشدنا غير دين هؤلاء الذي غصبت عليهم و هم اليهود و لا الضالين و هم النصارى و هم النصارى أضلهم بعد الهدى بمعصيتهم غضب الله عليهم فجعل منهم القردة و الخنازير و عبد الطاغوت يعني الشيطان أولئك شر مكانا في الدنيا و الآخرة يعني شر منزلا من النار و أضل عن سواء السبيل من المؤمنين يعني أضل عن قصد السبيل المهدي من المسلمين قال النبي صلى الله عليه و سلم : فإذا قال الإمام و لا الضالين فقولوا آمين يجبكم الله قال النبي صلى الله عليه و سلم قال : لي يا محمد هذه نجاتك و نجاة أمتك و من اتبعك على دينك من النار و قوله رقيقان قيل : هذا تصحيف وقع في الأصل و إنما هما رفيقان و الرفيق من أسماء الله تعالى

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ہے ابوالعباس عبید اللہ بن محمد بن نافع زاہد نے بطور قراۃ علیہ کے اس کی اصل کتاب میں سے ان کو خبر دی ابو زکریا یحییٰ بن محمد (۔۔۔ ) ابادی نے ان کو عیسیٰ بن محمد بن موسیٰ طریشیشی نے ان کو ابو نصر نے ان کو مقاتل بن سلیمان نے ان کو ضحاک بن مزاحم نے ان کو ابن عباس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ایک سورۃ نازل کی ہے جو کہ مجھ سے پہلے انبیاء پر اور رسولوں پر نازل نہیں کی گئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے نماز تقسیم کر دی گئی ہے اور میرے اور میرے بندے کے دمیان فاتحۃالکتاب نصف میرے لئے کر دی گئی ہے اور نصف ان کے لئے ہے اور ایک آیت میرے اور ان کے مابین ہے جب بندہ کہتا ہے ۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اللہ عزوجل فرماتا ہے ۔ میرے بندے نے مجھے دو ناموں سے پکارا ہے دونوں رقیق اور نرم ہیں ایک دوسرے سے زیادہ نرم ہے تو رحیم زیادہ نرم ہے رحمٰن سے اور وہ دونوں ہی رقیق ہیں ۔ جب بندہ کہتا ہے الحمد للہ تو اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے میرا شکر کیا ہے اور میری حمد کی ہے جب بندہ کہتا ہے رب العلمین تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے میرے بندے نے شہادت دے دی ہے کہ میں رب العلمین ہوں ( سارے جہانوں کو میں پالتا ہوں) یعنی جنوں کا بھی رب ہوں اور انسانوں کا بھی رب ہوں فرشتوں کا بھی رب ہوں شیاطین کا بھی اور ساری مخلوق کا اور ہر شے کا اور ہر چیز کا خالق ہوں۔ اور جب بندہ کہتا ہے الرحمٰن الرحیم اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے میر تمجید بیان کی ہے جب بندہ کہتا ہے مالک یوم الدین ۔ یوم الدین سے مراد لیتا ہے یوم الحساب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے نے شہادت دے دی ہے کہ میں ہی یوم حساب کا مالک ہوں میرے سوا کوئی ایک بھی مالک نہیں ہے اور جب کہتا ہے مالک یوم الدین تو میرا بندہ میری ثنا کرتا ہے ۔ ایاک نعبد یہ میرے لئے ہے اور ایاک نستعین یہ میرے لئے اور میرے بندے کے لئے ہے اور میرے بندے کے لئے وہ ہے جو کچھ اس نے مانگا ہے ۔ اس سورۃ کا بقیہ یہ ہے " اھدنا " کا مطلب ہے کہ ہمیں صراط مستقیم کی رہنمائی فرما یا یعنی دین اسلام کی اس لئے کہ ہر دین جو اسلام کے علاوہ ہے وہ مستقیم نہیں ہے سیدھا اور درست نہیں ہے جس میں توحید نہیں ہے ۔ " صراط الذین انعمت علیھم"۔ اس سے انبیاء اور مومنین مراد ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے اسلام اور نبوت کا انعام فرمایا ہے ۔ "غیر المغضوب علیھم" فرماتے ہیں کہ ہمیں رہنمائی فرما اس دین کی جو ایسے لوگوں کا نہ ہو جن پر غضب ہوا ہے وہ یہودی ہیں ( یعنی یہودیوں کا دین نہ دے )۔ ولا الضالین وہ انصار اور عیسائی ہیں جن کو اللہ نے ان کے گناہوں کے سبب ہدایت کے بعد گمراہ کر دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہے بعض کو ان میں سے اس نے بندر بنایا بعض کو سور بنایا بعض طاغوت کے پجاری بنے یعنی شیطان نے وہ لوگ دنیا اور آخرت میں بد ترین لوگ ہیں یعنی منزل اور ٹھکانے کے اعتبار سے کیونکہ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور سیدھی راہ سے سب سے زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں مومنوں میں سے یعنی مسلمانوں کے ہدایت والے راستے کے قصد اور ارادے سے بھی بد تر گمراہ ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا " اذا قال الامام ولا لضالین فقولو امین ، یحییکم اللہ کہ جب امام والاضالین کہے تو تم آمین کہو اللہ تعالیٰ تمہاری دعا قبول کرے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے محمد یہی تیری نجات ہے اور تیری امت کی نجات ہے اور یہی تیری امت کے ہر اس فرد کی نجات ہے جہنم سے جو تیرے دین پر تیری اتباع کرے گا۔ اور حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم یہ قول رقیقان کہ وہ نرم میں غالباً غلطی ہے جو کہ اصل کتاب واصل مسودے میں واقع ہوئی ہے ۔ وہ اصل میں رفیقان اور " رفیق " اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the beginning of the book · Hadith 2362

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر فاتحة الكتاب · حديث 2363

2363 - أخبرنا أبو العباس أحمد بن إبراهيم بن أحمد بن حاغان العرام بهمدان أنا أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن الأسدي ثنا محمد بن أيوب ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا صالح المري عن ثابت عن أنس : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن الله أعطاني فيما من به علي أني أعطيتك فاتحة الكتاب و هو كنز من كنوز عرشي ثم قسمتها بيني و بينك نصفين

ہمیں خبر دی ہے ابوالعبا س احمد بن ابراہیم بن احمد حاغان العدام نے ہمدان میں ان کو ابوالقاسم عبدالرحمٰن بن حسن السری نے ان کو محمد بن ایوب نے ان کو مسلم بن ابراہیم نے ان کو صالح مری نے ان کو ثابت نے ان کو انس نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمائی ہے ان چیزوں میں سے جن کا اس نے مجھ پر انعام فرمایا ہے (اس نے فرمایا کہ)بے شک میں نے تجھے فاتحہ الکتاب دی ہے وہ ایک خزانہ میرے عرش کے خزانوں میں سے پھر میں نے اس کو تقسیم کر دیا ہے میرے اور تیرے درمیان آدھی آدھی۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← صالح المري ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن الأسدي ← أبو العباس أحمد بن إبراهيم بن أحمد بن حاغان العرام بهمدان

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the beginning of the book · Hadith 2363

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر فاتحة الكتاب · حديث 2364

2364 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو أحمد بكر بن محمد الصيرفي بمرو ثنا عبد الصمد بن الفضل البلخي ثنا مكي بن إبراهيم عن عبيد الله بن أبي حميد عن أبي المليح عن معقل بن يسار قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : أعطيت فاتحة الكتاب من تحت العرش و المفصل النافلة

ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر احمد بن محمد صیرف نے مقام مرو میں ان کہ عبدالصمد بن فضل بلخی نے ان کو مکی بن ابراہیم نے ان کو عبید اللہ بن ابی حمید نے ان کو ابوالملیح نے ان کو معقل بن یسار نے انہوں نےفرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے فاتحہ الکتاب دی گئی ہے عرش کے نیچےسے اور مفصل سورتیں مزید اضافہ ہیں۔

مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ← أَبِي الْمَلِيحِ ← عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنِ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ ← أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the beginning of the book · Hadith 2364

chevron_left Previous
1…606162…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood