Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إبتداء السورة بالتسمية سوى ( براءة ) و الدليل على أنها آية تامة من فاتحة الكتاب · حديث 2341

2341 - قال عبد الله : أخبرنا حنظلة بن عبد الله عن شهر بن حوشب عن ابن عباس قال : من ترك { بسم الله الرحمن الرحيم } فقد ترك آية من كتاب الله عز و جل

عبداللہ نے کہا ہمیں خبر دی ہے حنظلہ بن عبداللہ نے شہر بن حوشب سے اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہ جس نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم چھوڑ دی تو اس نے کتاب اللہ کی آیت چھوڑ دی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← حنظلة بن عبد الله ← عَبْدُ اللَّهِ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on the beginning of the surah by naming it other than (Baraa'a) and the evidence that it is a complete verse from the opening of the book · Hadith 2341

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إبتداء السورة بالتسمية سوى ( براءة ) و الدليل على أنها آية تامة من فاتحة الكتاب · حديث 2342

2342 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : قرأت بخط أبي عمرو السلمي سمعت أبا أحمد محمد بن عبد الوهاب يقول : سمعت إسحق بن إبراهيم يقول : و سئل عن رجل ترك { بسم الله الرحمن الرحيم } من ( ) من { بسم الله الرحمن الرحيم } متعبدا فصلاته فاسدة لأن الحمد سبع آيات

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو عمرو سلمی کی تحریر میں پڑھا تھا کہ میں نے ابو احمد محمد بن عبدالوہاب سے سنا ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اسحٰق بن ابراہیم سے سنا ہے وہ کہتے ہیں کہ ان سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم چھوڑ دیا انہوں نے کہا کہ جو شخص ۔۔۔۔ عبادت کرتے ہوئے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم چھوڑ دے اس کی نماز فاسد ہے اس لئے کہ الحمد سات آیات ہیں۔

و سئل ← إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أبا أحمد محمد بن عبد الوهاب ← بخط أبي عمرو السلمي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on the beginning of the surah by naming it other than (Baraa'a) and the evidence that it is a complete verse from the opening of the book · Hadith 2342

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إبتداء السورة بالتسمية سوى ( براءة ) و الدليل على أنها آية تامة من فاتحة الكتاب · حديث 2343

2343 - و قال ابن المبارك : من ترك { بسم الله الرحمن الرحيم } فقد ترك مائة و ثلاث عشر آية من كتاب الله

اور حضرت عبداللہ بن مبارک نے فرمایا جس نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم چھوڑ دی اس نے ایک سو تیرہ آیات چھوڑ دیں۔

و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on the beginning of the surah by naming it other than (Baraa'a) and the evidence that it is a complete verse from the opening of the book · Hadith 2343

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر فاتحة الكتاب · حديث 2344

2344 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسن علي بن محمد المصري ثنا مالك بن يحيى ثنا يزيد بن هارون أنا ابن أبي ذئب عن المقري ( ح ) و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو جعفر أحمد بن عبيد الحافظ ثنا إبراهيم بن الحسين ثنا آدم بن أبي إياس ثنا ابن أبي ذئب عن المقبري عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الحمد لله أم القرآن و السبع المثاني لفظ حديث آدم و في رواية يزيد قال : في فاتحة الكتاب هي فاتحة الكتاب و هي السبع المثاني و القرآن العظيم

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوالحسن علی بن محمد مصری نے ان کو مالک بن یحییٰ نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو ابن ابی ذئب نے ان کو المقری نے ۔۔۔ ح۔۔۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر احمد بن عبید حافظ نے ان کو ابراہیم بن حسین نے ان کو ادم بن ابو ایاس نے ان کو ابن ابی ذئب نے ان کو مقبری نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نےآپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ۔ الحمد للہ ام القرآن ہے اور سبع مثانی ہے ۔ یہ آدم کی حدیث کے الفاظ ہیں اور روایت یزید میں ہے کہ فاتحۃالکتاب کے باب میں کہا کہ یہ فاتحۃ الکتاب ہے ۔ یہی سبع مثانی ہے اور قرآن عظیم ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أبو جعفر أحمد بن عبيد الحافظ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← الْمُقْرِئُ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مالك بن يحيى ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the beginning of the book · Hadith 2344

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر فاتحة الكتاب · حديث 2345

2345 - أخبرنا علي بن محمد المقرئ أنا الحسن بن محمد بن إسحق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا عمرو بن مرزوق أنا شعبة عن خبيب بن عبد الرحمن عن حفص بن عاصم عن أبي سعيد بن المعلى الأنصاري : أن النبي صلى الله عليه و سلم دعاه و هو يصلي فصلى ثم أتى فقال ما منعك أن تجيئني إذا دعوتك قال : إني كنت أصلي فقال : لم يقل الله عز و جل : { يا أيها الذين آمنوا استجيبوا لله و للرسول إذا دعاكم لما يحييكم } ثم قال : ألا أعمك أعظم سورة في القرآن قال : فكأنه نسيها أو نسي قلت : يا رسول الله الذي قلت لي قال : { الحمد لله رب العالمين } هي السبع المثاني و القرآن العظيم الذي أوتيته لفظ حديث وهب بن جرير

ہمیں خبر دی ہے علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو عمر و بن مرزوق نے ان کو شعبہ نے ان کو خبیب بن عبدالرحمٰن نے ان کو حفص بن عاصم نے ان کو ابو سعید بن معلیٰ انصاری نے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اسے بلایا اور وہ نماز پڑھ رہے تھے چنانچہ اس نے نماز پوری کر لی پھر آئے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پوچھا آپ کو میرے پاس آنے سے کیا چیز مانع ہوئی جبکہ میں نے تمہیں بلایا تھا۔ اس نے جواب دیا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا:۔ "یا یھا الذین امنو استجیبو اللہ وللرسول اذا دعاکم لما یحییکم "۔ اے اہل ایمان اللہ کی اور اس کے رسول کی احابت کرو جس وقت وہ تمہیں بلائے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں وہ سورۃ سکھاؤں جو قرآن میں بڑے عظیم مرتبے والی ہے ( یہ کہنے کے بعد کوئی اور بات شروع ہو گئی ) آپ یا تو بھول گئے یا بھلوا دیے گئے اس بات کو لہذا میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم وہ بات تو رہ گئی جو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھ سے فرمائی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا وہ الحمد للہ رب العالمین ہے یہی سبع مثانی ہے اور قرآن عظیم ہے جو مجھے دی گئی ہے یہ الفاظ وہب بن جریر کی حدیث کے ہیں۔

أبي سعيد بن المعلى الأنصاري، ← حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ← خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الحسن بن محمد بن إسحق ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the beginning of the book · Hadith 2345

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر فاتحة الكتاب · حديث 2346

2346 - كما أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا أنا أبو العباس الأصم ثنا إبراهيم بن مرزوق ثنا وهب بن جرير ثنا شعبة : فذكره

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا ان کو خبر دی ابو العباس اصم نے ان کو ابراہیم بن مرزوق نے ان کو وہب بن جریر نے ان کو شعبہ نے پھر مذکورہ حدیث کو ذکر کیا ہے ۔

شُعْبَةُ، فَذَكَرَهُ. ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى ← كَمَا

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the beginning of the book · Hadith 2346

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر فاتحة الكتاب · حديث 2347

2347 - و في رواية عمرو بن مرزوق قال : كنت أصلي فدعاني النبي صلى الله عليه و سلم فلم أجبه فلما قضيت الصلاة قال : فما منعك أن يكون أجبتني إذ دعوتك فإن الله تعالى يقول : { يا أيها الذين آمنوا استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم لما يحييكم } ثم لا تخرج من المسجد حتى أعلمك أعظم سورة في القرآن قال : فمشيت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى كاد أن يخرج من المسجد قال : فذكرته قال : فاتحة الكتاب سبع المثاني و القرآن العظيم الذي أوتيته و روي ذلك من حديث أبي بن كعب كما :

اور عمرو بن مرزوق کی ایک روایت میں ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نماز پڑھ رہا تھا پس مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بلایا میں نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو جواب نہ دیا میں نے جب نماز پوری کر لی تو گیا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پوچھا میں نے جب بلایا تو آپ کو میری بات کا جواب دینے سے کیا بات مانع تھی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :۔ "یا یھا الذین امنو استجیبو اللہ وللرسول اذا دعاکم لما یحییکم "۔ پھر تم مسجد سے نہ نکلنا میں تمہیں قرآن میں عظیم مرتبے والی سورت کی تعلیم دوں گا۔ کہتے ہیں کہ پھر میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ چلا ۔ یہاں تک کہ قریب تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم مسجد سے نکلتے تو میں نے ان کو یاد دلایا تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا وہ فاتحۃ الکتاب ہے ۔ سبع مثانی ہے اور قرآن عظیم ہے ۔ جو میں عطا کیا گیا ہوں ۔ روایت ابی بن کعب کی حدیث کی ہے ۔

و في رواية عمرو بن مرزوق

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the beginning of the book · Hadith 2347

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر فاتحة الكتاب · حديث 2348

2348 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن علي بن عفان العامري ثنا أبو أسامة حدثني عبد الحميد بن جعفر عن العلاء بن عبد الرحمن عن أبيه عن أبي هريرة عن أبي بن كعب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا أعلمك سورة ما أنزل في التوراة و لا في الإنجيل و لا في الزبور و لا في القرآن مثلها قلت : بلى قال : إني لأرجو أن لا تخرج من ذلك الباب حتى تعلمها فقام رسول الله صلى الله عليه و سلم و قمت معه فجعل يحدثني ويدي في يده فجعلت أتباطأ كراهية أن يخرج قبل أن يخبرني بها فلما دنوت من الباب قلت يا رسول الله السورة التي وعدتني فقال : كيف تقرأ إذا قمت إلى الصلاة فقرأت فاتحة الكتاب فقال هي هي و هي السبع المثاني التي قال الله عز و جل : { ولقد آتيناك سبعا من المثاني والقرآن العظيم } الذي أعطيت قال البيهقي رضي الله عنه : هكذا رواه عبد الحميد بن جعفر عن العلاء و رواه جهضم بن عبد الله بن العلاء عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم و قال فسأله أبي عنها ورواه محمد بن جعفر بن أبي كثير عن العلاء عن أبيه عن أبي هريرة قال : مر رسول الله صلى الله عليه و سلم على أبي بن كعب فذكره و ذكر فيه الإجابة و رواه روح بن القاسم عن العلاء بن عبد الرحمن

ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن علی بن عفان عامری نے ان کو ابو اسامہ نے ان کو عبدالحمید بن جعفر نے علاء بن عبدالرحمٰن سے اس نے اپنے والد سے اسنے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس نے ابی بن کعب سے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کیا میں تجھے ایسی سورۃ سکھلاؤ کہ اس جیسی سورۃ نہ توراۃ میں اتری ہے نہ انجیل میں نہ ربور میں نہ ہی اس سے پہلے یا بعد قرآن میں ۔ میں نے عرض کی جی ہاں ضرور سکھلائیے ۔ میں امید کرتا ہوں کہ تم دروازے سے باہر اس کو سیکھے بغیر نہیں جاؤ گے۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کھڑے ہوئے تو میں بھی ساتھ کھڑا ہو گیا ۔ آپ مجھ سے باتیں کر رہے تھے اور میرا ہاتھ ان کے ہاتھ میں تھا۔ میں جان بوجھ کر پیچھے ہو رہا تھا کہ کہیں آپ مجھے وہ سورت بتلائے بغیر باہر نہ چلے جائیں جب میں دروازے کے قریب پہنچا تو میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم وہ سورۃ تورہ گئی جس کا آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پوچھا تم نماز کے لئے جب کھڑے ہوتے ہو تو قرأت کیسے کرتے ہو؟ میں نے فاتحۃالکتاب پڑھ دی آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ وہ یہی ہے سبع مثانی جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:۔ "ولقد اتیناک سبعا من المثانی والقرآن العظیم"۔ البتہ تحقیق ہم نے آپ کو سات بار دہرائی ہوئی آیات دی ہیں ۔ یہی ہے جو عطا کی گئی ہے ۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا اسی طرح اس کو روایت کیا ہے عبدالحمید بن جعفر نے علاء سے اور روایت کیا ہے اس کو جھضم بن عبداللہ بن علاء نے ان کو ان کے والد نے ان کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے اور انہوں نے کہا کہ میرے والد نے ان سے اس بارے میں پوچھا تھا۔ اور اس کوروایت کیا ہے محمد بن جعفر بن ابو کثیر نے علاء سے اس نے اپنے والد سے اس نے بوہریرہ سے انہوں نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم ابی بن کعب کے پاس سے گزرے تھے پرھ راوی نے اس حدیث کو اور اس میں اجابت کو ذکر کیا اور اس کو روح بن قاسم نے اس کو علاء بن عبدالرحمٰن سے روایت کیا ہے ۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the beginning of the book · Hadith 2348

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر فاتحة الكتاب · حديث 2349

2349 - و رواه شعبة عن العلاء عن أبيه عن أبي بن كعب مختصرا : ـ

اور اس کو روایت کیا ہے شعبہ نے علاء سے اس نے اپنے والد سے اس نے ابی بن کعب سے مختصراً۔

أبي بن كعب مختصرا ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← و رواه شعبة

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the beginning of the book · Hadith 2349

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر فاتحة الكتاب · حديث 2350

2350 - و رواه مالك بن أنس عن العلاء بن عبد الرحمن أن أبا سعيد مولى عامر بن كريز أخبره : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لأبي بن كعب فذكره مرسلا

اور اس کو روایت کیا ہے مالک بن انس علاء بن عبدالرحمٰن سے یہ کہ ابو سعید مولیٰ عامر بن کریز نے اس کو خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ابی بن کعب سے کہا پھر اس حدیث کو مرسلاً ذکر کیا ۔

الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ، مَوْلَى عَامِرِ بْنِ كَرِيزٍ ← و رواه مالك بن أنس

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the beginning of the book · Hadith 2350

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر فاتحة الكتاب · حديث 2351

2351 - و قد روينا : في باب تعظيم النبي صلى الله عليه و سلم من وجه آخر عن أبي هريرة في قصة أبي فيشبه أن يكون هذا القول مروي من وجهة صاحب الشرع صلى الله عليه و سلم لأبي و لأبي سعيد بن المعلى كلاهما و حديث ابن المعلى رجاله أحفظ و الله أعلم

اور تحقیق ہم نے روایت کی ہے تعظیم نبی کے باب میں ایک دوسری وجہ سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حضرت ابی کے قصے میں مناسب ہے کہ وہ قول مروی ہو صاحب شریعت کی طرف سے ابی کے لئے اور ابو سعد بن معلیٰ دونوں کے لئے اور حدیث بن معلیٰ کے رجال زیادہ احفظ ہیں۔

أبي هريرة في قصة أبي فيشبه أن يكون هذا القول مروي من

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the beginning of the book · Hadith 2351

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر فاتحة الكتاب · حديث 2352

2352 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن الفضل بن صالح بن عبد الله بن عباس الهاشمي بحلب ثنا آدم بن أبي إياس ثنا ابن أبي ذئب ثنا سعيد المقبري عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أم القرآن هي السبع المثاني و القرآن العظيم رواه البخاري في الصحيح عن آدم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن فضل بن صالح بن عبداللہ بن عباس ہاشمی نے حلب میں ان کو آدم بن ابو ایاس نے ان کو ابن ابی ذئب نے ان کو سعید مقبری نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ۔ ام القرآن یہی سبع مثانی ہے اور قرآن عظیم ہے اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح بن آدم سے ۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the beginning of the book · Hadith 2352

chevron_left Previous
1…596061…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood