Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر الحواميم · حديث 2472

2472 - قال سفيان و حدثني حبيب بن أبي ثابت عن رجل : أنه مر على أبي الدرداء و هو في مسجد أو قال يبني مسجدا فقال في مسجد أو قال ما هذا ؟ فقال : هذا لآل حاميم

سفیان نے کہا اور مجھے حدیث بیان کی ہے حبیب بن ابو ثابت نے ایک آدمی سے کہ وہ حضرت ابو داؤد کے پاس گئے وہ مسجد میں تھے یا یوں کہا کہ وہ مسجد بنارہے تھے انہوں نے فرمایا مسجد میں یا کہا کہ یہ کیا ہے ؟ یعنی کس لیے ابو داؤد نے فرمایا کہ یہ آل حامیم کے لیے ہے۔

ما هذا فقال هذا لآل حاميم ← يبني مسجدا فقال في مسجد أو ← رجل أنه مر على أبي الدرداء و هو في مسجد أو ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← سفيان و

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Male doves · Hadith 2472

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر الحواميم · حديث 2473

2473 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة و أبو بكر أحمد بن إبراهيم الفارسي قالا : ثنا أبو عمرو بن مطر ثنا إبراهيم بن علي ثنا يحيى بن يحيى أنا معاوية عن عبد الرحمن بن أبي بكر ح و أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو سهل بن زياد ثنا أحمد بن محمد بن عيسى ثنا أبو حذيفة نا عبد الرحمن بن أبي بكر المليكي عن زرارة بن مصعب عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قرأ حين يصبح آية الكرسي و آيتين من أول حم تنزيل الكتاب من الله العزيز العليم الحكيم حفظ في يومه ذلك حتى يمسي و إن قرأهما حين يمسي حفظ من ليلته تلك حتى يصبح

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے اور ابوبکر احمد بن ابراہیم فارسی نے دونوں نے کہا کہ ان کو حدیث بیان کی ہے ابو عمرو بن مطر نے ان کو ابراہیم بن علی نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو معاویہ نے ان کو عبدالرحمٰن بن ابوبکر نے ۔ (ح) اور ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو سہل بن زیاد نے ان کو احمد بن محمد بن عیسیٰ نے ان کو حذیفہ نے ان کو عبدالرحمٰن بن ابی بکر ملیکی نے ان کو زرارہ بن مسعب نے ان کو ابو سلمہ نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص صبح کے وقت آیت کرسی اور دو آیات شروع کی حم تنزیل الکتاب من اللہ العزیز العلیم پڑھ گا ۔ اس دن شام تک اس کی حفاظت ہوگی اور اگر ان کو شام کو پڑھ لے اس رات کو صبح تک حفاظت ہوگی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← زُرَارَةَ بْنِ مُصْعَبٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الْمُلَيْكِيِّ ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← و، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ ← مُعَاوِيَةَ، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أبو نصر بن قتادة و أبو بكر أحمد بن إبراهيم الفارسي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Male doves · Hadith 2473

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر الحواميم · حديث 2474

2474 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو أحمد القاسم بن أبي صالح الغداني ( الهمداني ) ثنا إبراهيم بن الحسين بن ديزيل ثنا محمد بن أيوب بن جعفر بن أبي سعيد المقبري ( القرشي ) ثنا محمد بن إسماعيل بن أبي فديك حدثني إسحاق بن إبراهيم و عبد الرحمن بن أبي مليكة عن زرارة بن مصعب عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قرأ هاتين الآيتين آية الكرسي و حم الأولى حتى ينتهي { و إليه المصير } حفظ بها حتى يصبح و من قرأها مصبحا حفظ بها حتى يمسي

ہمیں خبر دی ہے ابو علی روذ باری نے ان کو ابو احمد قاسم بن ابو صالح غدانی (ہمدانی ) نے ان کو ابراہیم بن حسین بن دیزیل نے ان وک محمد بن ایوب بن جعفر بن ابو سعید مقبری (قرشی) نے ان کو محمد بن اسماعیل بن ابی فدیک نے ان کو اسحاق بن ابراہیم اور عبدالرحمٰن بن ابو ملیکہ نے ان کو زرارہ بن مصعب نے ان کو ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص یہ دو آیات آیت الکرسی اور حم (مومن) والیہ المصیر تک پڑھے رات کو تو صبح تک صبح پڑھے تو رات تک حفاظت اس کی رہے گی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← زُرَارَةَ بْنِ مُصْعَبٍ، ← إسحاق بن إبراهيم و عبد الرحمن بن أبي مليكة ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، ← محمد بن أيوب بن جعفر بن أبي سعيد المقبري القرشي ← إبراهيم بن الحسين بن ديزيل ← أبو أحمد القاسم بن أبي صالح الغداني الهمداني ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Male doves · Hadith 2474

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر الحواميم · حديث 2475

2475 - أخبرنا علي بن إبراهيم بن حامد البزاز بهمدان ثنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي ثنا عبد الله بن محمد بن سليمان الحضرمي ثنا محمد بن يزيد ثنا زيد بن الحباب ثنا عمرو بن عبد الله عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من قرأ الدخان في ليله أصبح و هو يستغفر له سبعون ألف ملك و كذلك رواه عمر بن يونس عن عمر بن عبد الله بن أبي خثعم و عمر بن عبد الله منكر الحديث

ہمیں خبر دی ہے علی بن ابراہیم بن حامد بزار نے (ہمدان میں ) ان کو عبدالرحمٰن بن حسن قاضی نے ان کو عبداللہ بن محمد بن سلیمان حضرتمی نے ان کو محمد بن یزید نے ان کو زید بن حباب نے ان کو عمرو بن عبداللہ نے ان کو یحییٰ بن ابو کثیر نے ابو سلمہ سے اس نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا ۔ جو شخص رات کو سورۃ دخان کو پڑھ لے صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کےلیے بخشش مانگتے ہیں اس کو اسی طرح روایت کیا ہے عمرو بن یونس نے عمر بن عبداللہ بن ابو خثعم سے اور عمر بن عبداللہ منکر الحدیث سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ← عبد الله بن محمد بن سليمان الحضرمي ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← علي بن إبراهيم بن حامد البزاز

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Male doves · Hadith 2475

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر الحواميم · حديث 2476

2476 - أخبرنا أبو حسين بن بشران أنا أبو الحسن أحمد بن إسحاق الطيبي ثنا عبد الله بن أحمد الدحيمي ثنا أبو يحيى بن أيوب ثنا مصعب بن سلام عن هشام بن أبي المقدام عن الحسن عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قرأ سورة الدخان في ليلة جمعة أصبح مغفورا له

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابوالحسین احمد بن اسحٰق طیبی نے ان کو عبداللہ بن احمد دحیمی نے ان کو ابو یحییٰ بن ایوب نے ان کو مصعب بن سلام نے ہشام بن ابو مقدام سے ان کو حسن نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص شب جمعہ میں سورۃ دخان پرھ لے صبح کو اس کی مغفرت ہو جاتی ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْحَسَنِ، ← هشام بن أبي المقدام ← مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ، ← أبو يحيى بن أيوب ← عبد الله بن أحمد الدحيمي ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الطِّيبِيُّ ← أبو حسين بن بشران

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Male doves · Hadith 2476

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر الحواميم · حديث 2477

2477 - و حدثنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أحمد بن علي بن الحسن ثنا أحمد بن يوسف السلمي ثنا عمار بن هارون الثقفي ثنا هشام بن زياد عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قرأ ليلة الجمعة حم الدخان و أصبح مغفورا له تفرد به هشام و هو هكذا ضعيف و رواه غيره عن الحسن كما مضى ذكره في سورة يس

اور ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو احمدبن علی بن حسن نے ان کو احمد بن یوسف سلمی نے ان کو عمار بن ہارون ثقفی نے ان کو ہشام بن زیاد نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو شخص شب جمعہ کو حم دخان پڑھ لے اور سورۃ یٰسین صبح کو اس کی مغفرت ہو جاتی ہے ۔ اس روایت میں ھشام منفرد ہے اور وہ اسی طرح ضعیف بھی ہے ۔ اور اس کے علاوہ دیگر نے اس کو حسن سے روایت کیا ہے جیسے اس کا ذکر یٰسین سورۃ میں گزرا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هشام بن زياد ← عمار بن هارون الثقفي ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أحمد بن علي بن الحسن ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Male doves · Hadith 2477

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر الحواميم · حديث 2478

2478 - أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن الحسن بن محمد بن القاسم الغضائري ببغداد ثنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز ثنا أبو عوف عبد الرحمن بن مرزوق البزوري أنا مكي بن إبراهيم ( ح ) و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا بكر بن محمد ثنا عبد الصمد بن الفضل ثنا مكي بن إبراهيم قال : ثنا عبد الله بن أبي حميد عن أبي المليح عن معقل بن يسار قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اعملوا بالقرآن احلوا حلاله و حرموا حرامه و اقتدوا به و لا تكفروا بشيء منه و ما تشابه عليكم منه فردوه إلى الله و إلى أولي العلم من بعدي كما يخبرونكم و آمنوا بالتوراة و الإنجيل و الزبور و ما أوتي النبيون من ربهم و ليسعكم القرآن و ما فيه من البيان فإنه شافع مشفع و ما حل مصدق ألا و إن لكل آية نور القيامة و إني أعطيت سورة البقرة من الذكر الأول و أعطيت طه و طواسين و الحواميم من ألواح موسى و أعطيت فاتحة الكتاب من تحت العرش لفظ حديث عبد الصمد بن الفضل و في رواية أبي عوف أعطيت فاتحة الكتاب و خواتيم البقرة من تحت العرش و المفصل نافلة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حسین بن حسن بن محمد قاسم (غضائری ) نے بغداد میں ان کو ابو جعفر محمد بن عمر و رزاز نے ان کو ابو عوف عبدالرحمٰن بن مرزوق بزوری نے ان کو مکی بن ابراہیم (ح) اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو بکر بن محمد نے ان کو عبدالصمدبن فضل نے ان کو مکی بن ابراہیم نے انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن ابو حمید نے ان کو ابوالملیح نے ان کو معقل بن یسار نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ قرآن مجید پر عمل کرو اس کے حلال کو حلال اور اس کے حرام کو حرام مانو اس کے ساتھ اقتداء کرو اس میں سے کسی شے کے ساتھ بھی کفر نہ کرو۔ اس میں سے جو چیز تمہارے اوپر متشابہ ہو ( جس کی مراد واضح نہ ہو پائے ) اس کو اللہ او ر اہل علم کی طرف میرے بعد لوٹانا جیسے وہ تمہیں حکم کریں اور توراۃ انجیل اور زبور پر اور ان سب پر جو دیگر انبیاء کو ان کے رب کی طرف سے عطا ء کیے ہیں ایمان لاؤ ۔ قرآن اور اس کے اندر کا بیان تمہیں کافی رہے گا ، قرآن شفاعت کرنے والا ہے جس کی شفاعت قبول ہے اور وہ ماحل جھگڑنے والا ہے جس کی تصدیق کی گئی ہے خبر دار بے شک ہر آیت کے لیے قیامت کے دن نور اور روشنی ہو گی بے شک میں پہلے لوگوں کے تذکرے سے سورۃ بقرہ عطا کیا گیا ہوں اور موسیٰ علیہ السلام کے الواح میں سے سورۃ طہٰ اور طواسین اور حوامیم عطا کیا گیا ہوں اور مجھے فاتحۃ الکتاب عرش کے نیچے سے عطا ہوئی ہے یہ الفاظ عبدالصمدن بن فضل کی روایت کے ہیں اور ابو عوف کی روایت میں ہے کہ فاتحۃ الکتاب ، بقرہ کی آخری آیات عرش کے نیچے سے عطا ہوئی ہیں اور ق سے والناس تک زیادہ ہیں۔

مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ← أَبِي الْمَلِيحِ ← عبد الله بن أبي حميد ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَوْفٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَرْزُوقٍ الْبُزُورِيُّ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أبو عبد الله الحسين بن الحسن بن محمد بن القاسم الغضائري ببغداد

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Male doves · Hadith 2478

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر الحواميم · حديث 2479

2479 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا سعدان بن نصر ثنا معمر عن الخليل بن مرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان لا ينام حتى يقرأ تبارك و حم السجدة و قال الحواميم سبع و أبواب جهنم سبع تجيء كل حم منها تقف على باب من هذه الأبواب فتقول اللهم لا تدخل من هذا الباب من كان يؤمن بي و يقرأني هكذا بلغنا بهذا الإسناد المنقطع

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو سعدان بن نصر نے۔ ان کو معمر نے ان کو خلیل بن مرہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوتے نہیں تھے جب تک تبارک الذی اور حم سجدہ نہ پڑھ لیتے تھے اور فرمایا کہ حم ساتھ ہیں اور جہنم کے دروازےسات ہیں ہر حم ایک دروازے سے آئے گی اس دروازے پر ٹھہرے گی اور کہے گی اے اللہ اس دروازے سےا س کو داخل نہ کر جو میرے ساتھ ایمان رکھتا اور مجھے پڑھتا تھا اسی طرح ہمارے پاس یہ روایت منقطع اسناد کے ساتھ پہنچی ہے ۔

الخليل بن مرة ← مَعْمَرٌ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Male doves · Hadith 2479

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر الحواميم · حديث 2480

2480 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا أبو عثمان الخياط حدثني سليمان بن الجراح و كان من أهل السير و الفضل قال : رأيت محمد بن سعيد الترمذي في النوم فقلت له : يا أبا جعفر ما فعل بك ربك ؟ قال : غفر لي قلت : بماذا ؟ قال : بقرائتي رفيع الدرجات ذو العرش

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ہے حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو ابو عثمان خیاط نے ان کو سلیمان بن جراح نے جو کہ اہل سیر اور اہل علم و فضل تھے کہتے ہیں کہ میں نے نیند میں محمد بن ترمذی کو دیکھا اور ان سے پوچھا اے ابو جعفر تیرے رب نے تیرے ساتھ کیا سلوک کیا ہے ؟ فرمایا کہ اس نے مجھے معاف کر دیا ہے میں نے کہا کس چیز کے بدلے میں میرے یہ پڑھنے کے سبب ۔ رفیع الدرجات ذوالعرش۔

سليمان بن الجراح و كان من أهل السير و الفضل ← أَبُو عُثْمَانَ الْخَيَّاطُ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Male doves · Hadith 2480

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر الحواميم · حديث 2481

2481 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو علي الحسين بن صفوان البردعي ثنا عبد الله بن محمد القرشي ثنا يوسف بن موسى قال : سمعت جريرا يقول : رأيت إبراهيم الصائغ في النوم قال : و ما عرفته قط فقلت : بأي شيء نجوت ؟ قال : بهذا الدعاء اللهم عالم الخفيات رفيع الدرجات ذو العرش تلقى الروح على من تشاء من عبادك غافر الذنب و قابل التوب شديد العقاب ذو الطول لا إله إلا أنت

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو علی حسین بن صفوان بردعی نے ان کو عبداللہ بن محمد قرشی نے ان کو یوسف بن موسیٰ نے انہوں نے سنا جریر سے انہوں نے خواب میں ابراہیم صائغ کو دیکھا اور میں اس کو پہچان نہ سکا میں نے پوچھا کس چزی کے بدلے میں آپ نے نجات پائی ہے فرمایا کہ اس دعا کے سبب ۔ " اللھم عالم الخفیات رفیع الدرجات ذوالعرش تلقی الروح علی من تشاء من عباک غافر الذنب و قابل التوب شدید العقاب ذوالطول الا الہ الا انت"۔ اے اللہ اے مخفی باتوں کو جاننے والے اے بلند درجات کے مالک اے عرش کے مالک تو جس پر چاہے روح ڈال دے اور اپنے بندوں میں سے گناہوں کو معاف کرنے والا توبہ قبول کرنے والا سخت پکڑنے والا طاقت والا تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے ۔

و ما عرفته قط فقلت بأي شيء نجوت ← رَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ الصَّائِغَ فِي النَّوْمِ ← جَرِيرًا، ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← عبد الله بن محمد القرشي ← أبو علي الحسين بن صفوان البردعي ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Male doves · Hadith 2481

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر الحواميم · حديث 2482

2482 - أخبرنا أبو بكر بن أبي إسحاق أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا محمد بن عبد الوهاب أنا جعفر بن عون أنا مسعر عن سعد بن إبراهيم قال : كن الحواميم تسمين العرش

ہمیں خبر دی ہے ابوبکر بن ابو اسحاق نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبدالوہاب نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو مسعر نے ان کو سعد بن ابراہیم نے انہوں نے کہا کن الحوامیم (تسمیں العرش ) غیر واضح ہے اصل کے اندر۔

كن الحواميم تسمين العرش ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مِسْعَرٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو بكر بن أبي إسحاق

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Male doves · Hadith 2482

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة الفتح · حديث 2483

2483 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي أنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد ثنا يحيى بن بكير ثنا مالك ( ح ) قال : و ثنا القعنبي فيما قرأ على مالك عن زيد بن أسلم عن أبيه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يسير في بعض أسفاره و عمر بن الخطاب يسير معه فسأله عمر عن شيء فلم يجبه ثم سأله فلم يجبه ثلاث مرات فقال عمر ثكلتك أمك يا عمر نزرت رسول الله صلى الله عليه و سلم ثلاثا لا يجيبك قال عمر : فحركت بعير حتى تقدمت أمام الناس و خشيت أن يزل في قرآن فما نشبت أن سمعت صارخا يصرخ قال : قلت لقد خشيت أن يكون نزل في قرآن قال : فجئت رسول الله صلى الله عليه و سلم فسلمت عليه فقال : لقد أنزلت علي الليلة سورة لهي أحب إلي مما طلعت عليه الشمس ثم قرأ { إنا فتحنا لك فتحا مبينا * ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تأخر } رواه البخاري في الصحيح عن القعنبي و غيره

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابو اسحاق مزکی نے ان کو ابوالحسن احمد بن محمدبن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو یحییٰ بن بکیر نے ان کو مالک نے (ح) انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے قعنبی نے اس میں سے جوا نہیں مالک سے انہوں نے زید بن اسلم سے اس نے اپنے والد سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی سفر میں جارہے تھے اور عمر بن خطاب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جارہے تھے تو عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو جواب نہ دیا پھر انہوں نے سوال کیا پھر بھی جواب نہیں دیا تین مرتبہ ایسا ہوا حضرت عمر کو کہنے لگے گم پائے تجھے تیری ماں اے عمر تین مرتبہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا مگر انہوں نے تجھے جواب نہیں دیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اتنے میں میں نے اپنے اونٹ کو حرکت دی یہاں تک کہ میں لوگوں کے آگے آیا اور میں ڈر گیا کہ کہیں میرے خلاف قرآن نہ اتر جائے بس میں ذرا سا ہی ٹھہرا تھا کہ اتنے میں میں نے پکارنے والے کی آواز سنی جو چیخ رہا تھا ۔ کہتے ہیں کہ میں ڈر گیا کہ شائد میرے بارے میں قرآن اترا ہے کہتے ہیں میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے السلام علیکم کہا آپ نے (جواب کے بعد ) فرمایا کہ آج آج رات مجھ پر ایک سورۃ اتری ہے جو کہ میرے نزدیک ان تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے اس کے بعد آپ نے پڑھنا شروع کیا:انا فتحنالک فحا ً مبینا لیغفرلک اللہ ماتقدم من ذنبک وماتاخر ۔ بے شک آپ کو فتح مبین عطا کی ہے تاکہ اللہ تعالیٰ معاف کر دے آپ کے اگلے پچھلے گناہ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں قعنبی وغیرہ سے۔

أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← و، ← مَالِكٍ، ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Fath · Hadith 2483

chevron_left Previous
1…567…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood