Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك خلط سورة بسورة ـ قال الحليمي رضي الله عنه · حديث 2305

2305 - هكذا روى الحليمي هذا الحديث و الحديث عندنا في قصة أبي بكر من حديث عبد الله بن رباح عن أبي قتادة : و في قصتها و قصة بلال من حديث محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة غير أنه قال : في حديث محمد بن عمرو : و قد سمعتك يا بلال و أنت تقرأ من هذه السورة و من هذه السورة قال : كلام طيب يجمعه الله عز و جل إلى بعض فقال النبي صلى الله عليه و سلم كلكم قد أصاب هكذا أخبرنا أبو علي الروذباري في كتاب السنن أنا أبو بكر بن داسه ثنا أبو داود ثنا أبو حصين الرازي ثنا إسباط بن محمد عن محمد بن عمرو فذكره قد خرجناه في كتاب الصلاة من كتاب السنن

اسی طرح روایت کیا ہے شیخ حلیمی نے اس حدیث کو اور ہمارے نزدیک یہ حدیث سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے قصے میں مذکور ہے عبداللہ بن رباح کی روایت سے ابو قتادہ سے۔ اس قصے میں اور بلال کے قصے میں محمد بن عمرو کی روایت سے ابو سلمی سے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہے علاوہ ازیں اس نے کہا کہ محمد بن عمرو کی حدیث میں ہے ۔ تحقیق میں نے تجھے سنا تھا اے بلال اور تم پڑھ رہے تھے کچھ اس سورت سے اور کچھ اس سورت سے ۔ بلال نے عرض کیا کہ پاکیزہ کلام ہے اس کے بعض کو بعض کے ساتھ جمع کرتا ہے لہذا نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرما یا تم میں سے ہر ایک نے اس طرح درست کیا ہے ۔ اور ہمیں اس بارے میں خبر دی ہے ابو علی روذ باری نے کتاب السنن میں ان کو ابوبکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو ابوحصین رازی نے ان کو اسباط بن محمد نے محمد بن عمرو سے پھر اس کو ذکر کیا ہے ہم نے اس کو کتاب الصلوٰۃ میں نقل کیا ہے کتاب السنن سے۔

أبي هريرة غير ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← أبي قتادة و في قصتها و قصة بلال من حديث محمد بن عمرو

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on not mixing a surah with a surah - Al-Halimi, may God be pleased with him, said · Hadith 2305

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك خلط سورة بسورة ـ قال الحليمي رضي الله عنه · حديث 2306

2306 - و رواه أيضا المشمعل بن ملحان عن محمد بن عمرو : وروى في ذلك أيضا عن علي و أبي بكر و عمر و عمار بن ياسر

اور اس کو مشمعل بن ملحان بن محمد بن عمرو سے روایت کیا ہے اور اس بارے میں روایت کی گئی ہے حضرت علی ، ابوبکر ، عمر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم سے ۔

علي و أبي بكر و عمر و عمار بن ياسر ← محمد بن عمرو وروى في ذلك أيضا ← و رواه أيضا المشمعل بن ملحان

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on not mixing a surah with a surah - Al-Halimi, may God be pleased with him, said · Hadith 2306

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك خلط سورة بسورة ـ قال الحليمي رضي الله عنه · حديث 2307

2307 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا عباس بن الفضل ثنا منجاب ثنا ابن أبي زائدة عن أبيه عن أبي إسحق عن هانئ بن هانئ عن علي قال : كان أبو بكر يخافت إذا قرأ و كان عمر يهجر بقراءته و كان عمار يأخذ من هذه و من هذه فذكر للنبي صلى الله عليه و سلم : : فقيل لأبي بكر لم تخافت قال : إني أسمع من أناجي و قال لعمر : لم تجهر قال : افزع الشيطان و أوقظ الوسنان و قيل : لعمار لم تأخذ من هذه السورة و من هذه السورة قال : اتسمعني اخلط به ما ليس منه قال : لا قال : فكل طيب

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو عباس بن فضل نے ان کو منجانب نے ان کو ابن ابی زائدہ نے اپنے والد سے اس نے ابو اسحٰق سے اس نے ہانی بن ہانی سے اس نے علی سے انہوں نے کہا کہ حضرت ابوبکر صدیق جب پڑھتے تھے تو آہستہ پڑھتے اور حضرت عمر زور سے پڑھتے اور حضرت عمار کچھ ادھر سے کچھ ادھر سے لیتے تھے ۔ یہ بات حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ذکر کی گئی آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ابوبکر سے پوچھا تم آہستہ کیوں پڑھتے ہو انہوں نے کہا میں اس ذات کو سناتا ہوں جس کے ساتھ میں مناجات کر رہا ہوتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت عمر سے پوچھا زور سے کیوں پڑھتے ہو انہوں نے جواب دیا کہ میں شیطان کو بھگاتا ہوں اور سونے والوں کو جگاتا ہوں عمار سے کہا گیا کہ کچھ اس سورت سے اور کچھ اس سورت سے کیوں پڑھتے ہو اس نے کہا کہ کیا آپ نے سنا کہ میں قرآن کے علاوہ کوئی شے اس میں ملا رہا تھا آپ نے فرمایا کہ نہیں تو اس نے جواب دیا کہ پھر سارا ہی پاکیزہ ہے ۔

عَلِيٍّ، ← هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، ← أَبِي إِسْحَقَ ← أَبِيهِ ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← مِنْجَابٌ ← عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on not mixing a surah with a surah - Al-Halimi, may God be pleased with him, said · Hadith 2307

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك خلط سورة بسورة ـ قال الحليمي رضي الله عنه · حديث 2308

2308 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه ثنا محمد بن بشر بن مطر ثنا نصر بن حريش الصامت املاء من كتابه ثنا المشمعل يعني ابن ملحان عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال لأبي بكر الصديق رضي الله عنه يا أبا بكر سمعتك البارحة و أنت تصلي و أنت تخافت بقولك فقال يا رسول الله قد سمعت من ناجيت ثم قال لعمر و سمعتك يا عمر تجهر بالقراءة فقال يا رسول الله أطارد الشيطان و أوقظ الوسنان ثم قال يا بلال و سمعتك البارحة و أنت تصلي تقرأ من هذه السورة و من هذه السورة فقال نعم يا رسول الله كلام الله بعضه إلى بعض فكنت أقرأ من هذه السورة و من هذه السورة قال : كلكم قد أصاب

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر محمد بن احمد بن بالویہ نے ان کو محمد بن بشر بن مطر نے ان کو نصر بن حریش صامت نے بطور املاء کے اپنی کتاب میں سے ان کو مشمعل نے یعنی ابن ملحان نے محمد بن عمر سے ان کو ابو سلمہ نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ابوبکر صدیق صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے کہا اے ابو بکر میں نے گزشتہ رات تجھے سنا تم نماز پڑھ رہے تھے اور آپ اپنی بات آہستہ آہستہ کہہ رہے تھے انہوں نے جواب دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں اس کو سنا رہا تھا جس سے میں مناجات کر رہا تھا پھر آپ نے عمر سے کہا کہ عمر میں نے تجھے سنا آپ قرأت میں جہر کر رہے تھے اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں شیطان کو بھگا رہا تھا اور سونے والے کو جگا رہا تھا پھر پوچھا اے بلال میں نے گزشتہ رات تمہیں سنا آپ نماز پڑھ رہے تھے اور کچھ اس سورت سے اور کچھ اس سے پڑھ رہے تھے اس نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اللہ کا کلام ہے بعض کو بعض سے ملا رہا تھا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہر ایک نے تم میں سے صحیح کہا۔

النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← المشمعل يعني ابن ملحان، ← نصر بن حريش الصامت املاء من كتابه ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَطَرٍ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on not mixing a surah with a surah - Al-Halimi, may God be pleased with him, said · Hadith 2308

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك خلط سورة بسورة ـ قال الحليمي رضي الله عنه · حديث 2309

2309 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن محمد بن الحسن السراج ثنا مطين ثنا عبيد الله بن محمد بن سالم ثنا إبراهيم بن يوسف عن أبيه عن أبي إسحق عن أبي الأحوص عبد الله قال : لا يأس أن يأخذ من هذه السورة و من هذه السورة

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابوالحسن محمد بن حسن سراج نے ان کو مطین نے ان کو عبید اللہ بن محمد بن سالم نے ان کو ابراہیم بن یوسف نے اپنے والد سے اس نے ابو اسحٰق سے اس نے ابوالا حوص عبداللہ سے انہوں نے کہا۔ کوئی حرج نہیں ہے کہ کچھ اس سورت سے لیا اور کچھ اس سورت سے لیا۔

لا يأس أن يأخذ من هذه السورة و من هذه السورة ← أبي الأحوص عبد الله ← أَبِي إِسْحَقَ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ ← عبيد الله بن محمد بن سالم ← مطين ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on not mixing a surah with a surah - Al-Halimi, may God be pleased with him, said · Hadith 2309

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك خلط سورة بسورة ـ قال الحليمي رضي الله عنه · حديث 2310

2310 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرنا إبراهيم بن زياد ثنا محمد بن إسحاق ثنا عبد الرحمن بن بشر ثنا عبد الرزاق أنا ابن نجيح عن عطاء قال : أخبرني يوسف بن ماهك قال إني عند عائشة أم المؤمنين رضي الله عنها إذ جاءها أعرابي فقال يا أم المؤمنين أريني مصحفك قالت لمه قال لعلي أؤلف القرآن عليه و أنا نقرأه غير مؤلف قالت : و ما يضرك أية قرأت قبل إنما أنزل أول ما أنزل منه سورة من المفصل فيها ذكر الجنة و النار حتى إذا ثاب الناس إلى الإسلام ترك الحلال و الحرام و لو نزل أول شيء لا تشربوا الخمر لقالوا لا ندعها أبدا و لو نزل لا تزنوا لقالوا لا ندع الزنا لقد نزل بمكة ـ و إني لجارية ألعب ـ على محمد صلى الله عليه و سلم : { و الساعة أدهى و أمر } و ما نزلت سورة البقرة و النساء إلا و أنا عنده قال : فاطرحت له المصحف فأملت عليه آي السور أخرجه البخاري من حديث ابن جريج قال البيهقي رحمه الله : و أحسن ما يحتج به في هذا الفصل أن يقال هذا التأليف لكتاب الله عز و جل مأخوذ من جمعه النبي صلى الله عليه و سلم و لعله أخذه من جبريل عليه السلام فالأولى بالقارئ أن يقرأه على التأليف المنقول المجتمع عليه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ہے ابراہیم بن زیاد نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو عبداللہ بشر نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو اہل نجیح نے ان کو عطاء نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے کہ یوسف بن ماھک نے اس نے کہا کہ میں ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بیٹھا کہ اچانک ایک دیہاتی آیا ان کے پاس اور کہنے لگا کہ اے ام المومنین مجھے اپنا مصحف ( قرآن مجید ) دکھا دیجئے۔ ام المومنین نے پوچھا کہ کس لئے ؟ تاکہ میں اس کے مطابق قرآن مجید کی تالیف و ترتیب دوں اور ہم اسے غیر مرتب طریقہ پر پڑھتے رہیں ۔ ام المومنین نے جواب دیا تجھے کوئی نقصان نہیں دے گی کوئی آیت جس کو آپ نے پہلے پڑھا ہے ۔ بے شک قرآن اتارا گیا پہلے پہلے جو اس میں اترا وہ ایک سورۃ تھی مفصل میں سے سے اس میں جنت و جہنم کا ذکر ہے یہاں تک کہ جس وقت لوگ اسلام کی طرف مائل ہو گئے تو حلال و حرام بتلایا گیا ۔ اگر پہلی چیز یہ اترتی کہ شراب نہ پیو تو البتہ لوگ کہتے ہم اسے کبھی بھی نہیں چھوڑیں گے اور اگر یہ اتارا جاتا کہ زنانہ کرو تو لوگ یہ کہتے کہ ہم تو اسے نہیں چھوڑیں گے قرآن البتہ اترنا شروع ہوا تھا محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر مکہ میں جب کہ میں لڑکی تھی کھیلتی تھی ( والساعۃ ادھی وامر) قیامت سب سے زیادہ وحشت ناک ہے اور سخت کڑوی ہے اور پھر سورۃ بقرہ اور نساء اس وقت اتریں جب میں ( شادی ہو کر ) حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس تھی ۔ ابن ماہک نے کہا کہ پھر سیدہ عائشہ نے اپنا قرآن ان کو دیا اور اس کے مطابق سورتوں کی آیات املا کروائیں ۔ بخاری نے اس کو نقل کیا ابن جریج کی حدیث سے۔

إِنِّي عِنْدَ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ← يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنِ نَجِيحٍ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on not mixing a surah with a surah - Al-Halimi, may God be pleased with him, said · Hadith 2310

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك خلط سورة بسورة ـ قال الحليمي رضي الله عنه · حديث 2311

2311 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا إبراهيم بن عبد الله السعدي ثنا وهب بن جرير ثنا أبي قال سمعت يحيى بن أيوب يحدث عن يزيد بن أبي حبيب عن عبد الرحمن بن شماسه عن زيد بن ثابت قال : كنا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم نؤلف القرآن من الرقاع فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : طوبى للشام قلنا لأي شيء ذلك قال لأن ملائكة الرحمن باسطة أجنحتها عليهم و قد مضى في هذا الكتاب حديث عثمان بن عفان في وضعهم الآيات و السور في مواضعها بأمر النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن عبداللہ سعدی نے ان کو وہب بن جریر نے ان کو ان کے والد نے انہوں نے سنا یحییٰ بن ایوب سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں یزید بن ابو حبیب سے انہوں نے عبدالرحمٰن بن شماسہ نے زید بن ثابت سے کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس قرآن مجید کو ترتیب دے رہے تھے کاغذ کے ٹکڑوں وغیرہ سے بس رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا مبارک باد ہے شام والوں کے لئے ہم نے کہا کس چیز کے لئے ؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اس لئے کہ رحمٰن کے فرشتے ان کو اپنے پروں کو پھیلائے ہوئے ہیں۔ تحقیق گزر چکی ہے اس کتاب میں حضرت عثمان بن عفان کی حدیث ان لوگوں کے آیات کو اور سورتوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے حکم کے تحت اپنے اپنے مقام پر وضع کرنے اور رکھنے کے بارے میں۔ (ان دونوں روایتوں سے حضرت سیدنا معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی فضیلت و منقبت ثابت ہوتی ہے کیونکہ حضرت معاویہ کاتب وحی تھے حضرت عثمان والی مذکورہ روایت سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ کتاب وحی کے ساتھ ساتھ آیات اور سورتوں کی ترتیب بھی ان کے ذمے تھی (مترجم)

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ شِمَاسَۃَ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on not mixing a surah with a surah - Al-Halimi, may God be pleased with him, said · Hadith 2311

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك خلط سورة بسورة ـ قال الحليمي رضي الله عنه · حديث 2312

2312 - و قد روينا عن ابن مسعود : أنه قيل له أن فلانا يقرأ القرآن منكوسا قال : ذلك منكوس القلب أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو الحسن الكارزي أنا علي بن عبد العزيز عن أبي عبيد ثنا معاوية عن الأعمش عن أبي وائل عن عبد الله فذكره

اور ہم نے روایت کیا ہے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہ ان سے کہا کہ فلاں آدمی قرآن کو منکوش اور الٹا پڑھتا ہے آپ نے فرمایا کہ یہ منکوس القلب ہے ( یعنی اس کا دل اوندھا ہے )۔ ہمیں خبر دی ہے عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابو الحسن کارزی نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے ان کو ابو عبید نے ان کو معاویہ نے ان کو اعمش نے ان کو ابو وائل نے عبداللہ سے پھر اس کو ذکر کیا ہے ۔

عَبْدُ اللَّهِ، فَذَكَرَهُ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← مُعَاوِيَةَ، ← اَبِیْ عُبَیْدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ ← ذلك منكوس القلب ← ابن مسعود أنه قيل له أن فلانا يقرأ القرآن منكوسا ← و قد روينا

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on not mixing a surah with a surah - Al-Halimi, may God be pleased with him, said · Hadith 2312

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك خلط سورة بسورة ـ قال الحليمي رضي الله عنه · حديث 2313

2313 - و أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو عمرو بن مطر ثنا أبو خليفة ثنا محمد بن كثير ثنا سفيان عن الأعمش عن أبي وائل عن عبد الله : أنه سئل عن الذي يقرأ القرآن منكوسا قال ذلك منكس القلب

اور ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو عمرو بن مطر نے ان کو ابو خلیفہ نے ان کو محمد بن کثیر نے ان کو سفیان نے اعمش سے ان کو ابووائل نے عبداللہ سے کہ ان سے اس آدمی کی بابت پوچھا گیا تھا جو کہ قرآن مجید کو الٹا یعنی آخر سے اول کی طرف پڑھتا ہے فرمایا کہ وہ الٹے اور اوندھے دل والا ہے ۔

ذلك منكس القلب ← الذي يقرأ القرآن منكوسا ← عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ سُئِلَ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on not mixing a surah with a surah - Al-Halimi, may God be pleased with him, said · Hadith 2313

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك خلط سورة بسورة ـ قال الحليمي رضي الله عنه · حديث 2314

2314 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو الحسن الكارزي ثنا علي بن عبد العزيز : قال أبو عبيد : في وجهه عند آيات يبدأ من آخر القرآن في المعوذتين ثم يرتفع إلى البقرة كنحو ما يتعلم الصبيان في الكتاب لآن السنة خلاف هذا و إنما جاءت الرخصة في تعليم الصبي و العجمي في المفصل لصعوبة السور الطوال عليهما قال أبو عبيد و قد روي عن الحسن و ابن سيرين من الكراهية فما دون هذا

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابو الحسن کارزی نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے کہ ابو عبیدہ نے کہا کہ کوئی شخص اگر آخر قرآن سے معوذ تین سورتوں سے شروع کرکے واپس سورۃ بقرہ کی طرف چڑھتا ہے جیسے لڑکے کتاب میں تعلیم حاصل کرتے ہیں کیونکہ سنت ان کے خلاف ہے باقی رخصت آئی ہے بچوں کی تعلیم کے لئے اور عجمی کی تعلیم کے لئے مفصل میں رخصت اس لئے ہے کہ بڑی سورتیں ا ن پر مشکل ہوں گی۔ ابو عبید نے کہا تحقیق روایت کیا گیا ہے حسن سے اور ابن سیرین سے کراہت اس کے ماسوا کے لئے ( یعنی رختصت الٰہی کی طرف پڑھنے کی مذکورہ وجوہ سے ہے ورنہ خلاف سنت ہونے کی وجہ سے مکروہ ہے یہ صرف سورتوں کی ترتیب الٹنے کی بات واضح ہے کہ اس دور میں جو عامل اور جادو گر الفاظ قرآنی کو خصوصاً بسم اللہ کو اور سورۃ فاتحہ کو جادو اور عمل کے طور پر اس طرح پڑھتے ہیں کہ سب سے آخری حرف پہلے اس کے بعد دوسرا تیسرا یعنی بسم کی میم سے شروع کرکے باء تک ختم کرتے ہیں اور والضالین کے نو سے شروع کرکے الحمد کے الف پر ختم کرتے ہیں جس سے عربی الفاظ بگڑ کر کوئی جادوئی الفاظ بن جاتے ہیں اور یہ بہت تیز اثر کرنے والا جادو مانا جاتا ہے جادوگروں کے ہاں ۔ واضح رہے کہ ایسا کرنا قرآن مجید کے ساتھ ظلم ہے اور بد ترین استہزاء اور کلام اللہ کی توہین و تحقیر ہے اور ایسا کرنا بد ترین کفر ہے ایسا کرنے والا اگر اس سے توبہ نہ کرے مرتد ہو جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے ۔ آمیں۔ (مترجم)

عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on not mixing a surah with a surah - Al-Halimi, may God be pleased with him, said · Hadith 2314

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك خلط سورة بسورة ـ قال الحليمي رضي الله عنه · حديث 2315

2315 - قال أبو عبيد حدثني ابن أبي عدي عن أشعث عن الحسن و ابن سيرين : أنهما كان يقرآن القرآن من أوله إلى آخره و يكرهان الأوراد

ابو عبید نے کہا مجھے حدیث بیان کی ہے ابن ابو عدی ان کو اشعث نے ان کو حسن اور ابن سیرین نے کہ وہ دونوں قرآن مجید کو اول سے آخر تک پڑھتے تھے اور الٹے پڑھنے کو مکروہ سمجھتے تھے ۔ ( یا ورد وظیفوں کو مکروہ سمجھتے تھے)

أَشْعَثَ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← أَبُو عُبَيْدٍ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on not mixing a surah with a surah - Al-Halimi, may God be pleased with him, said · Hadith 2315

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك خلط سورة بسورة ـ قال الحليمي رضي الله عنه · حديث 2316

2316 - قال و قال ابن سيرين : تأليف الله خير من تألفيكم قال أبو عبيد : و تأويل الأوراد أنهم كانوا أحدثوا أن يجعلوا القرآن أجزاء كل جزء منها فيه سورة مختلفة من القرآن على غير التأليف و لكن جعلوا السورة الطويلة مع أخرى دونها من الطوال ثم ( ) كذلك حتى يختموا الجزء ( ) و الذي كرهها الحسن و ابن سيرين و النكس أكثر من هذا و أشد

انہوں نے کہا کہ ابن سیرین نے کہا تھا تالیف اللہ خیر من تالیفکم ۔ اللہ تعالیٰ کی ترتیب تمہاری ترتیب سے بدرجہا بہتر ہے ۔ ابو عبید نے کہا کہ اور اس کی تاویل ہے کہ بے شک تھے وہ لوگ انہوں نے یہ بات نئی نکالی تھی کہ قرآن مجید کو کئی کئی اجزاء (پارے) کی بنیادیں ان میں سے ہر جز میں قرآن کی مختلف سورتیں ہیں غیر ترتیب پر لیکن انہوں نے طویل سورۃ کو دوسری کے ساتھ کر دیا جو اس سے کم لمبی تھی پھر (1) اس طرح حتیٰ کہ ختم کرتے ہیں جز کو اور وہ چیز جس کو حسن نے اور ابن سیرین نے مکروہ سمجھا ہے اور منکس اور الٹا کرنا اس سے زیادہ ہے اور زیادہ شدید ہے ۔

ابن سيرين تأليف الله خير من تألفيكم ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on not mixing a surah with a surah - Al-Halimi, may God be pleased with him, said · Hadith 2316

chevron_left Previous
1…565758…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood