Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في قراءة القرآن بالتفخيم و الإعراب · حديث 2293

2293 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر القاضي قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن الجهم بن هارون السمري ثنا الهيثم بن خالد عن عبيد بن عقيل أخبرني معارك بن عباد حدثني عبد الله بن سعيد بن أبي سعيد المقبري حدثني أبي عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أعربوا القرآن و اتبعوا غرائبه و غرائبه فرائضه و حدوده فإن القرآن نزل على خمسة أوجه حلال و حرام و محكم و متشابه و أمثال فاعلموا بالحلال و اجتنبوا الحرام و اتبعوا المحكم و آمنوا بالمتشابه و اعتبروا بالأمثال

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو بکر قاضی نے دونوں کو کہا ہمیں حدیث بیان کی ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن جہم بن ہارون سمری نے ان کو ہیثم بن خالد نے ان کو عبید بن عقیل نے ان کو خبر دی معارک بن عباد نے ان کو عبداللہ بن سعید بن ابو سعید مقبری نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابوہریرہ نے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا قرآن مجید کو عربی لہجہ میں پڑھو ( یعنی واضح اور ظاہر کرکے پڑھو) اور اس کے غرائب کی پیروی کرو اور اس کے غرائب اس کے فرائض ہیں اور حدود ہیں ۔ بے شک قرآن مجید پانچ اقسام ( کے مضامین کا جامع ) اترا ہے۔ (1) حلال (2) حرام (3) محکم (4) متشابہ (5) امثال۔ پانچویں اقسام کے حکم کے بارے میں یہ تفصیل ہے کہ :۔حلال پر عمل کرو ۔ حرام سے اجتناب کرو ۔ محکم کی اتباع کرو۔ متشابہ پر صرف ایمان رکھو اور امثال کے ساتھ عبرت پکڑو یعنی اس پر دوسری چیز کو قیاس کر کے اسی جیسا حکم سمجھو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← معارك بن عباد ← عُبَيْدُ بْنُ عَقِيلٍ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ، ← محمد بن الجهم بن هارون السمري ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بَكْر القاضي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on reading the Qur’an with glorification and parsing · Hadith 2293

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في قراءة القرآن بالتفخيم و الإعراب · حديث 2294

2294 - أخبرنا أبو سهل محمد بن نصرويه المرروزي ثنا أبو بكر بن خنب ثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل ثنا محمد بن وهب ثنا بقية عن عبد العزيز بن أبي رواد عن نافع عن ابن عمر قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : من قرأ القرآن فأعرب في قراءته كان له بكل حرف منه عشرون حسنة و من قرأ بغير إعراب كان له بكل حرف عشر حسنات

ہمیں خبر دی ابو سہل محمد بن نصرویہ مروزی نے ان کو ابو بکر بن خنب نے ان کو ابو اسماعیل محمد بن اسماعیل نے ان کو محمد بن وہب نے ان کو بقیہ نے ان کو عبدالعزیز ابو رواد نے نافع سے ان کو ابن عمر نے انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جو شخص قرآن مجید پڑھے اور اپنی قرأت کو خوب واضح اور ظاہر کرے اس کے لئے ہر حرف کے بدلے میں بیس نیکیاں ہو ں گی اور جو شخص بغیر اعراب و اظہار کے پڑھے اس کے لئے اس کے ہر حرف کے بدلے دس نیکیاں ہوں گی۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عَبْد الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ← بَقِيَّةُ ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ ← أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ خَنْبٍ ← أبو سهل محمد بن نصرويه المرروزي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on reading the Qur’an with glorification and parsing · Hadith 2294

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في قراءة القرآن بالتفخيم و الإعراب · حديث 2295

2295 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفار ثنا أبو إسماعيل الترمذي ثنا محمد بن وهب بن عطية ثنا بقية بن الوليد : فذكره

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ صفار نے ان کو ابو اسماعیل ترمذی نے ان کو محمد بن وہب بن عطیہ نے ان کو بقیہ بن ولید نے پھر اسی مذکورہ حدیث کو ذکر کیا ہے۔

بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَذَكَرَهُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ عَطِيَّةَ، ← أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on reading the Qur’an with glorification and parsing · Hadith 2295

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في قراءة القرآن بالتفخيم و الإعراب · حديث 2296

2296 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو جعفر محمد بن عبد الله التاجر ثنا يحيى بن عثمان بن صالح ثنا نعيم ثنا أبو عصمة عن زيد العمي عن سعيد بن المسيب عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قرأ القرآن فأعربه كله فله بكل حرف أربعون حسنة فإن أعرب بعضه و لحن في بعضه فله بكل حرف عشرون حسنة و إن لم يعرب منه شيئا فله بكل حرف عشر

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر محمد بن عبداللہ تاجر نے ان کو یحییٰ بن عثمان بن صالح نے ان کو نعیم نے ان کو ابو عصمہ نے زید العمی سے اس نے سعید بن مسیب سے اس نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔ جو شخص قرآن مجید پڑھے اور پورے قرآن کو زور سے ظاہر کرکے پڑھے اس کے لئے ہر حرف کے بدلے میں چالیس نیکیاں ہوں گی اور اگر بعض کو اعراب سے اور بعض کو لحن کے ساتھ پڑھے اس کے لئے ہر حرف کے بدلے میں بیس نیکیاں ہیں اگر کچھ بھی ظاہر نہ کرے بلکہ آہستہ پڑھے اس کے لئے ہر حرف کے بدلے میں دس نیکیاں ہوں گی ۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ← أَبُو عِصْمَةَ، ← نُعَيْمٌ ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ← أبو جعفر محمد بن عبد الله التاجر ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on reading the Qur’an with glorification and parsing · Hadith 2296

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في قراءة القرآن بالتفخيم و الإعراب · حديث 2297

2297 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا إسماعيل بن عياش عن عبيد الله بن عبيد الكلاعي قال : كان عمر بن الخطاب رضي الله عنه يقول : اعربوا القرآن فإنه عربي و تفقهوا في السنة و أحسنوا عبارة الرؤيا فإذا قص أحدكم على أخيه فليقل اللهم إن كان خيرا فلنا و إن كان شرا فعلى عدونا

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو اسماعیل بن عیاش نے ان کو عبید اللہ بن عبید کلاعی نے انہوں نے کہا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے تھے ۔ قرآن کو عربی لہجے میں پڑھو بے شک وہ عربی ہے اور سنت میں تفقہ حاصل کرو یعنی سمجھ بوجھ حاصل کرو اور خواب کی تعبیر اچھی دو ۔ جب ایک تمہارا اپنے بھائی پر بیان کرے تو اسے چاہیے کہ یوں دعا کرے ۔ اے اللہ اگر خیر ہو تو ہمارے لئے کر دے اور اگر یہ برا ہو تو ہمارے دشمن پر کردے۔

كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ← عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدٍ الْكَلاَعِيِّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on reading the Qur’an with glorification and parsing · Hadith 2297

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في قراءة القرآن بالتفخيم و الإعراب · حديث 2298

2298 - و بإسناده ثنا سعيد بن منصور ثنا حماد بن زيد عن يزيد بن حازم عن سليمان بن يسار قال : خرج عمر على قوم يقرؤن القرآن و يتراجعون فيه فقال : ما هذا فقالوا : نقرأ القرآن و نتراجع فقال : تراجعوا و لا تلحنوا

اور اسی اسناد کے ساتھ ذکر کیا سعید بن منصور نے ان کو حماد بن زید نے ان کو یزید بن حازم نے ان کو سلیمان بن یسار نے انہوں نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کےپاس آئے جو قرآن پڑھ رہے تھے اور سر لگا رہے تھے (یعنی گلے کی آواز کو دہرا خوبصورت بنا رہے تھے ) حضرت عمر نے فرمایا یہ کیا کر رہے ہو ان لوگوں نے کہا ہم قرآن پڑھ رہے ہیں اور سر لگا رہے ہیں ۔ آپ نے فرمایا سر بناؤ مگر بےتکی سر نہ لگاؤ۔

تراجعوا و لا تلحنوا ← نقرأ القرآن و نتراجع ← «مَا هَذَا؟» ← خرج عمر على قوم يقرؤن القرآن و يتراجعون فيه ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← يَزِيدَ بْنِ حَازِمٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← و بإسناده

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on reading the Qur’an with glorification and parsing · Hadith 2298

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في قراءة القرآن بالتفخيم و الإعراب · حديث 2299

2299 - و بإسناده ثنا سعيد ثنا هشيم أنا إسماعيل بن أبي خالد ثنا شيخ قال : قال عبد الله : اعربوا القرآن فإنه عربي و سيكون بعدكم أقوام يتثقفونه و ليس بخياركم

اسی اسناد کے ساتھ ہمیں حدیث بیان کی ہے سعید بن ھثیم نے ان کو اسماعیل بن ابو خالد نے ان کو شیخ انہوں نے کہا کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا۔ قرآن کو عربی لہجے میں پڑھو اس لئے کہ وہ عربی ہے عنقریب تمہارے بعد اقوام ہوں گی جو اسے جلدی جلدی پڑھیں گے وہ تم میں سے بہتر لوگ نہیں ہوں گے۔

شَيْخٌ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدٌ، ← و بإسناده

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on reading the Qur’an with glorification and parsing · Hadith 2299

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في قراءة القرآن بالتفخيم و الإعراب · حديث 2300

2300 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا قبيصة ثنا سفيان عن إسماعيل عن سيار أبي حمزة عن ابن مسعود قال : أعربوا القرآن فإنه عربي و إنه سيجيء أقوام يتثقفونه ليس بخياركم قال الحليمي رضي الله عنه : و معنى إعراب القرآن شيئان : أحدهما : أن يحافظ على الحركات التي بها يتميز لسان العرب على لسان العجم لأن أكثر كلام العجم مبني على السكون وصلا و قطعا و لا يتميز الفاعل من المفعول و الماضي من المستقبل باختلاف المقاطع و الآخر : أن يحافظ على أعيان الحركات و لا يبدل شيء منه بغير لأن ذلك ربما أوقع اللحن أو غير المعنى قال البيهقي رضي الله عنه : و روينا عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه ـ في باب العلم ـ أنه قال تعلموا السنة والفرائض و اللحن كما تعلموا القرآن

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن فضل نے ان کو عبداللہ بن جعفر ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو قبیصۃ نے ان کو سفیان نے ان کو اسماعیل نے سیار ابو حمزہ انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے انہوں نے کہا قرآن مجید کو اعراب و حرکات کے ساتھ واضح کرو کیونکہ عربی ہے کچھ لوگ عنقریب آئیں گے جو اسے تیز کی مانند سیدھا کریں گے وہ لوگ تمہارے پسندیدہ لوگ نہیں ہوں گے۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← سَيَّارٍ أَبِي حَمْزَةَ ← إِسْمَاعِيلُ ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on reading the Qur’an with glorification and parsing · Hadith 2300

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في قراءة القرآن بالتفخيم و الإعراب · حديث 2301

2301 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ أنا خالد بن النضر ثنا عمرو بن علي ثنا عبد الرحمن ثنا يزيد بن إبراهيم عن إبراهيم بن العلاء بن هارون الغنوي عن مسلم بن شداد و كان ينزل على عبيد بن عمير بمكة عن عبيد بن عمير عن أبي بن كعب قال : تعلموا اللحن في القرآن كما تعلمون القرآن

ہمیں خبر دی ہے ابو سعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی حافط نے ان کو خالد بن نضر نے ان کو عمرو بن علی نے ان کو عبدالر حمٰن نے ان کو یزید بن ابراہیم نے ان کو ابراہیم بن علا ء بن ہاروں غنوی نے ان کو مسلم بن شداد نے اور وہ عبید بن عمیر کے مکہ مکرمہ آیا کرتے تھے انہوں نے عبید بن عبیر سے اس نے ابی بن کعب سے انہوں نے فرمایا کہ قرآن میں اچھی آواز سیکھو جیسے تم قرآن سیکھتے ہو۔ (یعنی ترنم سیکھو)

تعلموا اللحن في القرآن كما تعلمون القرآن ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← مسلم بن شداد و كان ينزل على عبيد بن عمير بمكة ← إبراهيم بن العلاء بن هارون الغنوي ← يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← خَالِدُ بْنُ النَّضْرِ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on reading the Qur’an with glorification and parsing · Hadith 2301

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في قراءة القرآن بالتفخيم و الإعراب · حديث 2302

2302 - أخبرنا أبو القاسم بن حبيب أنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن محمد الحفيد ثنا الحسين بن الفضل البجلي ثنا عبد الله بن بكر السهمي حدثني أبي عن سالم بن قتيبة قال : كنت عند هشام بن هبيرة فجرى ذكر الحرب فقال هشام و الله ما اسرى رجلان قط دينهما واحد و حبسهما واحد و مروءتهما واحدة أحدهما يلحن و الآخر لا يلحن و أفضلهما في الدنيا و الآخرة الذي لا يلحن قال : قلت أصلح الله الأمير هذا في الدنيا الفضل فصاحته و عربيته ففضله في الآخرة لماذا ؟ قال : لأنه يقيم كتاب الله على ما أنزل الله عز و جل و هذا يدخل في كتاب الله ما ليس فيه و يخرج ما هو فيه

ہمیں خبر دی ہے ابوالقاسم بن حبیب نے ان کو ابوبکر محمد بن عبداللہ بن محمد حفید نے ان کو حسین بن فضل بجلی ان کو عبداللہ بن بکر سھمی نے ان کو ان کے والد نے ان کو سالم بن تقیبۃ نے انہوں نے کہا کہ میں ہشام بن ہبیرہ کے پاس بیٹھا تھا کہ وہاں جنگ کاذکر چل نکلا تو ہشام نے کہا کہ اللہ کی قسم نہیں چلتے دو آدمی ہر گز کہ دونوں کا دین ایک ہو شریعت نسبی ایک جیسی ہو اخلاق و مروت دونوں کے ایک جیسے ہوں مگر دونوں میں سے ایک اعراب یا لہجہ میں غلطی کرتا ہے اور دوسرا نہیں کرتا ان دونوں میں سے دنیا اور آخرت میں افضل وہ ہے جو غلطی نہیں کرتا ۔ ابن قتیبہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ آپ کوخوش رکھے اے امیر المومنین یہ تو دنیا میں ہے اس کی فضیلت ، اس کی فصاحت ، اس کی عربیت وغیرہ کی وجہ سے اس کی آخرت میں فضیلت کیونکر ہو گی؟ انہوں نے کہا وہ اس لئے ہے کہ وہ شخص کتاب اللہ اس کیفیت پر قائم کرتا ہے جس پر اللہ نے ا س کو نازل کیا ہے اور یہی بات کتاب اللہ میں داخل کر دیتی ہے اس چیز کو جو اس میں سے نہیں تھی اور نکالتا ہے اس میں سے اس چیز کو جو اس میں سے تھی۔

الْحَرْبِ ← كنت عند هشام بن هبيرة فجرى ← سَالِمُ بْنُ قُتَيْبَةَ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَکْرٍ السَّهْمِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ ← أبو بكر محمد بن عبد الله بن محمد الحفيد ← أبو القاسم بن حبيب،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on reading the Qur’an with glorification and parsing · Hadith 2302

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في قراءة القرآن بالتفخيم و الإعراب · حديث 2303

2303 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا جرير عن إدريس و كان من خيار الناس قال : قيل للحسن لو لنا إماما يلحن قال : أخروه

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو جریر نے ان کو ادریس نے اور وہ بہترین لوگوں میں سے تھے انہوں نے کہا کہ حسن سے کہا گیا کہ اگر ہمارے لئے کوئی امام ہو جو اعراب یا لہجے میں غلطی کرے تو ہم کیا کریں ؟ انہوں نے کہا۔ اس کو مؤخر کرو۔

أخروه ← قيل للحسن لو لنا إماما يلحن ← إدريس و كان من خيار الناس ← جَرِيرٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on reading the Qur’an with glorification and parsing · Hadith 2303

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك خلط سورة بسورة ـ قال الحليمي رضي الله عنه · حديث 2304

2304 - و ذلك لما روي : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مر بأبي بكر و هو يتخافت و مر بعمر و هو يجهر و مر ببلال و هو يقرأ من هذه السورة و من هذه السورة فقال لأبي بكر : إني مررت بك و أنت تخافت فقال : إني أسمع من أناجي فقال : ارفع شيئا و قال لعمر : مررت بك و أنت تجهر قال : لأطرد الشيطان و أوقظ الوسنان قال : اخفض شيئا و قال لبلال : مررت بك و أنت تقرأ من هذه السورة و من هذه السورة قال : اخلط الطيب بالطيب قال : اقرأ السورة على وجهها قال البيهقي رحمه الله :

(یہ اوپر والی بات ) اس لئے روایت کی گئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ابوبکر کے پاس سے گزرے تو وہ آہستہ آہستہ پڑھ رہے تھے اور حضرت عمر کے پاس سے گزرے تو وہ زور زور سے پڑھ رہے تھے اور حضرت بلال کے پاس کے گزرے تو وہ کچھ اس سورت سے اور کچھ اس سورت پڑھ رہے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بعدمیں ابر بکر صدیق سے پوچھا کہ میں تیرے پاس سے گزرا تم آہستہ آہستہ پڑھ رہے تھے انہوں نے جواب دیا کہ میں اس ذات کو سنوار رہا تھا جس کے ساتھ میں مناجات اور سرگوشی کر رہا تھا ۔ آپ نے ان کو ہدایت دی کہ تھوڑا سا اونچا پڑھیں پھر حضرت عمر سے کہا کہ تیرے پاس سے گزرا تم زور زور سے پڑھ رہے تھے تو انہوں نے جواب دیا کہ میں شیطان کو بھگا رہا تھا غافل سونے والوں کو جگا رہا تھا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ان سے فرمایا آپ تھوڑا سا آواز کو پست کیجئے اور حضرت بلال سے پوچھا کہ میں تیرے پاس سے گزرا تو تم کچھ اس سورت سے اور کچھ اس سورۃ سے پڑھ رہے تھے انہوں نے جواب دیا کہ میں پاکیزہ چیز سے ملا رہا تھا۔ ( دوسری تعبیر یہ ہے کہ میں خوشبو کو خوشبو سے ملا رہا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس کو ہدایت دی کہ آپ سورت کو اس کے طریقے پر پڑھیے یعنی ایک سورت بالترتیب پوری پڑھیے اس کے بعد دوسری پڑھیے۔ مترجم)

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on not mixing a surah with a surah - Al-Halimi, may God be pleased with him, said · Hadith 2304

chevron_left Previous
1…555657…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood