Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التفسير بالظن · حديث 2281

2281 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا إبراهيم بن عبد الله التميمي أنا يزيد بن هارون أنا حميد عن أنس ح قال : و ثنا أبو عبد الله بن يعقوب حدثني أبي ثنا إسحق أنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد ثنا أبي عن صالح عن ابن شهاب أن أنس بن مالك أخبره : أنه سمع عمر بن الخطاب رضي الله عنه يقرأ : { فأنبتنا فيها حبا * وعنبا وقضبا * وزيتونا ونخلا * وحدائق غلبا * وفاكهة وأبا } فكل هذا قد عرفنا فما للأب ثم نفض ما كان في يده فقال : هذا لعمر الله التكلف اتبعوا ما تبين لكم من هذا الكتاب

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبداللہ محمد بن یعقوب نے انکو ابراہیم بن عبداللہ تمیمی نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو حمید نے ان کو انس نے۔۔۔۔ح۔۔۔۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبداللہ بن یعقوب نے ان کو ان کے والد نے ان کو اسحٰق نے ان کو یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے ان کو ان کے والد نے ان کو صالح نے ان کو ابن شہاب نے ان کو انس بن مالک نے ا س نے خبر دی کہ انہوں نے سنا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ وہ پڑھ رہے تھے۔ " فانبتنا فیھا جبا و عنبا وقضبا وزیتونا ونخلا وحدائق غلباً وفا کھۃ وابا"۔ میں یہ تما م چیزیں ہم جانتے ہیں یہ اب کیا ہے ؟ پھر ہاتھ میں جو کچھ تھا اس کو جھاڑ دیا۔ پھر فرمایا یہ اللہ کی قسم تکلف ہے ۔ اس کی اتباع کرو جو کچھ تمہارے لئے اس کتاب میں سے واضح ہے ۔

أَنَّهُ ← ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، ← صَالِحٍ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← إِسْحَقُ ← أَبِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ ← و، ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← إبراهيم بن عبد الله التميمي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in leaving the interpretation with thought · Hadith 2281

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التفسير بالظن · حديث 2282

2282 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس بن يعقوب ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا أبو أسامة من ابن عون عن محمد قال : سألت عبيدة عن آية من كتاب الله تعالى فقال عليك فقد ذهب الذين يعلمون فيم نزل القرآن

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس بن یعقوب نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو ابو اسامہ نے ابن عون سے اس نے محمد سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے عبیدہ سے کتاب اللہ کی ایک آیت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا آپ اپنے آرضی اللہ عنہ کو بچائیے تحقیق وہ لوگ گزر گئے ہیں جو یہ جانتے تھے کہ کس چیز کے بارے میں قرآن اترا ہے ۔

عليك فقد ذهب الذين يعلمون فيم نزل القرآن ← آية من كتاب الله تعالى ← سَأَلْتُ عَبِيْدَةَ ← مُحَمَّدٍ ← أبو أسامة من ابن عون ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in leaving the interpretation with thought · Hadith 2282

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التفسير بالظن · حديث 2283

2283 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا هشيم ثنا العوام بن حوشب ثنا إبراهيم التميمي قال : خلا عمر بن الخطاب ذات يوم فجعل يحدث نفسه فأرسل إلى ابن عباس فقال : كيف تختلف هذه الأمة فكتابها واحد و بنيها واحد و قبلتها واحدة قال ابن عباس : يا أمير المؤمنين أنا أنزل علينا القرآن فقرأناه و علمنا فيم نزل و أنه يكون بعدنا أقوام يقرؤن القرآن لا يعرفون فيم نزل فيكون كل يوم فيه رأي فإذا كان لقوم فيه رأي اختلفوا فإذا اختلفوا اقتتلوا فزبره عمر و انتهره فانصرف ابن عباس ثم دعاه بعد فعرف الذي قال ثم قال : أيها اعد

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو ھیثم نے ان کو عوام بن حوشب نے ان کو ابراہیم تمیمی نے انہوں نے کہا کہ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلوت میں بیٹھے اپنے آپ سے باتیں کرنے لگے لہذا انہوں نے حضرت ابن عباس کو اپنے پاس بلا کر سوال کیا کہ یہ امت کیسے اختلاف میں پڑ سکتی ہے ؟ حالانکہ اس کی کتاب ایک ہے اس کا نبی ایک ہے اور اس کا قبیلہ ایک ہے ۔ حضرت ابن عباس نے جواب دیا ۔ اے امیر المومنین ہم لوگوں پر قرآن نازل ہوا ہے ہم نے اسے پڑھا ہے اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ کس چیز کے بارے میں نازل ہوا ہے اور حالت یہ ہے کہ ہمارے بعد جو قومیں ہوں گی وہ قرآن کو تو پڑھیں گے مگر وہ یہ نہیں سمجھیں گے کہ کس چیز کے بارے میں یہ اترا ہے لہذا روزانہ اس کے بارے میں ایک نئی رائے سامنے آئے گی جب قرآن کے بارے میں ایک قوم کی ایک رائے ہوگی تو ظاہر ہے اس سے کوئی اختلاف بھی کرے گا جب اختلاف ہو گا تو وہ باہم لڑ پڑیں گے قتال کریں گے چنانچہ حضرت عمران پرغالب آئے اور ان کو جھڑک دیا ۔ حضرت ابن عباس چلے گئے پھر بعد میں حضرت عمر نے ان کو بلایا اب حضرت عمر کی سمجھ میں وہ بات آ گئی تھی جو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہی تھی پھر فرمانے لگے وہ بات دوبارہ کہو۔

إبراهيم التميمي ← الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in leaving the interpretation with thought · Hadith 2283

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التفسير بالظن · حديث 2284

2284 - أخبرنا محمد بن موسى بن الفضل ثنا أبو العباس الأصم ثنا يحيى بن أبي طالب ثنا محمد بن عبيد الطنافسي ثنا الأعمش عن مسلم قال : سمعت مسروقا يقول : ما نسأل أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم عن شيء إلا وجدناه في كتاب الله إلا أن رأينا يقصر عنه

ہمیں خبر دی ہے محمد بن موسیٰ بن فضل نے ان وک ابو العباس اصم نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو محمد بن عبید طنافسی نے ان کو اعمش نے ان کو مسلم نے انہوں نے کہا کہ میں نے سنا تھا مسروق سے وہ کہتے تھے ہم لوگ جو بھی سوال اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کرتے تھے تو اس کا جواب ان کے پاس ہم کتاب اللہ پاتے تھے مگر ہم لوگوں کی رائے اس علم سے قاصر ہے۔

شيء إلا وجدناه في كتاب الله إلا أن رأينا يقصر عنه ← ما نسأل أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ← مَسْرُوقًا، ← مُّسْلِمٍ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in leaving the interpretation with thought · Hadith 2284

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التفسير بالظن · حديث 2285

2285 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة ثنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا حماد بن يحيى ثنا مروان الأصغر قال : كنت عند سعيد بن جبير جالسا فسئله رجل عن آية من كتاب الله فقال سعيد الله أعلم فقال الرجل قل فيها أصلحك الله برأيك فقال : أقول في كتاب برأيي فردد مرتين أو ثلاثا و لم يجبه بشيء

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو منصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو حماد بن یحییٰ نے ان کو مروان اصغر نے انہوں نے کہا کہ میں سعید بن جبیر کے پاس بیٹھا ہوا تھا ان سے ایک آدمی نے کتاب اللہ کی کسی آیت کے بارےمیں سوال کیا تو حضرت سعید بن جبیر نے واللہ اعلم کہہ کر جواب دینے سے معذرت کر لی اس آدمی نے اصرار کرتے ہوئے کہا اللہ تعالیٰ آپ کی اصلاح فرمائے آپ اس بارے میں کچھ تو کہئے اور اپنی رائے تو دیجئے ۔ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ بولے میں اللہ کی کتاب میں اپنی رائے سے کچھ کہوں تین بار یہی جملی دہرایا اور اس کو کوئی جواب نہ دیا۔

الرجل قل فيها أصلحك الله برأيك ← سعيد الله أعلم ← آية من كتاب الله ← كنت عند سعيد بن جبير جالسا فسئله رجل ← مَرْوَانَ الْأَصْغَرِ ← حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in leaving the interpretation with thought · Hadith 2285

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التفسير بالظن · حديث 2286

2286 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس هو الأصم ثنا محمد بن إسحق الصغاني ثنا عبيد الله بن عمر حدثني عبد الرحمن بن مهدي ثنا سفيان عن مغيرة عن إبراهيم قال : كانوا يكرهون أن يتكلموا في القرآن

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس نے ان کو محمد بن اسحٰق صغانی نے ان کو عبید اللہ بن عمر نے ان کو عبدالرحمٰن بن مہدی نے ان کو سفیان نے ان کو مغیرہ نے ابراہیم سے انہوں نے کہا صحابہ ناپسند کرتے تھے کہ قرآن کے بارے میں ( اپنی رائے سے ) کوئی کلام کریں ۔

كانوا يكرهون أن يتكلموا في القرآن ← إِبْرَاهِيمَ، ← مُغِيرَةَ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← محمد بن إسحق الصغاني ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in leaving the interpretation with thought · Hadith 2286

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التفسير بالظن · حديث 2287

2287 - سمعت أبا لقاسم حيث يقول سمعت أبا عبد الله الميداني الخطيب يقول : سمعت أبا قريش الحافظ يقول : سمعت يحيى بن سليمان بن فضلة يقول : سمعت مالك بن أنس يقول : لا أوتي برجل غير عالم بلغات العرب يفسر ذلك إلا جعلته نكالا

میں نے ابو القاسم سے سنا جیسے وہ کہتے تھے کہ میں نے سنا ابو عبداللہ میدانی خطیب سے وہ کہتے تھے میں نے سنا ابو قریش حافظ سے وہ کہتے تھے میں نے سنا یحییٰ بن سلیمان بن فضلۃ سے وہ کہتے تھے کہ میں نے سنا حضرت مالک بن انس سے وہ کہتے تھے میرے پاس اگر ایسا آدمی لایا جائے جو لغات کا عالم نہ ہو مگر اس کے باوجود وہ کتاب اللہ کی تفسیر کرے تو میں اس کو عبرت ناک سزا دوں گا۔

لا أوتي برجل غير عالم بلغات العرب يفسر ذلك إلا جعلته نكالا ← مالک بن أنس ← يحيى بن سليمان بن فضلة ← أبا قريش الحافظ ← أبا عبد الله الميداني الخطيب ← أبا لقاسم حيث

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in leaving the interpretation with thought · Hadith 2287

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في صيانة المسافر بمصاحف القرآن إلى أرض العدو · حديث 2288

2288 - أخبرنا أبو عبد الله بن يوسف أنا ابن الأعرابي ثنا الحسن بن الصباح الزعفراني ثنا إسماعيل بن علية عن أيوب السختياني عن نافع عن ابن عمر قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يسافر بالقرآن إلى أرض العدو مخافة أن يناله العدو

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ بن یوسف نے ان کو ابن اعرابی نے ان کوحسن بن صباح زعفرانی نے ان کو اسماعیل بن علیہ نے ان کو ایوب ستخیانی نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس بات سے منع کیا تھا کہ دشمن کی سر زمین کی طرف کوئی مسافر قرآن مجید کو لے جائے اس خوف کی وجہ سے کہ کہیں کفار اس کی بے حرمتی نہ کریں۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ← ابن الأعرابي ← أبو عبد الله بن يوسف

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on the traveler’s maintenance with Qur’an copies to enemy territory · Hadith 2288

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في صيانة المسافر بمصاحف القرآن إلى أرض العدو · حديث 2289

2289 - أخبرنا عبد الخالق بن علي المؤذن ثنا ابن خنب ثنا موسى بن سهل بن كثير الوشاء أنا إسماعيل : فذكره بإسناده مثله رواه مسلم في الصحيح عن زهير بن حرب عن إسماعيل و أخرجاه من حديث مالك و غيره عن نافع

ہمیں خبر دی عبدالخالق بن علی موذن نے ان کو ابن خنب نے ان کو موسیٰ بن سہل بن کثیر الوشاء نے ان کو اسماعیل نے پھر اسی حدیث کو اس نے اپنی اسناد کے ساتھ ذکر کیا مزکورہ کی مثل اور مسلم نے اس کو روایت کیا ہے زہیر بن حرب سے اس نے اسماعیل سے اور دونوں نے اس کو نقل کیا ہے حدیث مالک سے اور دیگر سے نافع سے۔

نَافِعٍ ← إسماعيل و أخرجاه من حديث مالك و غيره ← زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ← إسماعيل فذكره بإسناده مثله رواه مسلم في الصحيح ← مُوسَى بْنُ سَهْلِ بْنِ كَثِيرٍ الْوَشَّاءُ، ← ابن خنب ← عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيٍّ الْمُؤَذِّنُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on the traveler’s maintenance with Qur’an copies to enemy territory · Hadith 2289

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في قراءة القرآن بالتفخيم و الإعراب · حديث 2290

2290 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ أنا محمد بن الحسين بن مكرم ثنا نصر بن علي الجهضمي أنا بكار بن عبد الله ثنا محمد بن عبد العزيز بن عمر بن عبد الرحمن حدثني أبو الزناد عن خارجة بن زيد عن زيد بن ثابت : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أنزل القرآن بالتفخيم كهيئة الطير عذرا و نذرا و الصدفين و ألا له الخلق و الأمر و أشباه هذا في القرآن قال الحليمي رحمه الله و معنى هذا ـ و الله أعلم ـ أن يقرأ على قراءة الرجل و لا يخضع الصوت به ليكون مثل كلام النساء و لا يدخل في هذا كراهية الامالة التي اختار بعض القراء و قد تجوز أن يكون القرآن نزل بالتفخيم و رخص مع ذلك في إمالة ما يحسن إمالته على لسان جبريل عليه السلام قال البيهقي رحمه الله : و على هذا لو صح هذا الإسناد فيجوز أن يكون نزول هذه الألفاظ كما روي في هذا الخبر و وردت الرخصة على لسان جبريل عليه السلام في قراءة بعضها على ما ذهب إليه بعض القراء و في حديث عبد الله بن سعيد بن أبي سعيد المقبري عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم : اعربوا القرآن و التمسوا غرائبه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو علی حسین بن علی حافظ نے ان کو محمد بن حسین بن مکرم نے ان کو نصر بنعلی جہضمی نے ان کو بکار بن عبداللہ نے ان کو محمد بن عبدالعزیز بن عمر بن عبدالرحمٰن نے ان کو ابو الزناد نے خارجہ بن زید ابن ثابت سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن مجید نفخیم العظم پر وقار آواز کے ساتھ نازل کیا گیا ہے پرندے کی صورت پر دفع کرنے عذروبہانہ کے لئے اور ڈرانے کے لئے د و گھاٹیاں اور خبر دار اس کی ہی تخلیق ہے اور اس کاہی حکم چلے گا اور اس کے مشابہات قرآن میں ہیں۔شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ۔ اس کا معنی و مطلب یہ ہے کہ قرآن مرودوں کی قرأت پر پڑھا جائے اور اس کے ساتھ آواز پست نہ کی جائے کہ عورتوں کے کلام جیسا کلام بن جائے۔ اور اسی میں امالہ کی کراہیت داخل نہیں ہے جسے بعض قراء نے پسند کر لیا ہے اور تحقیق جائز ہے کہ قرآن تفخیم اور موٹی آواز کے ساتھ اترا ہو مگر اس کے باوجود امالے کی رخصت دی گئی ہو کسی نہ کسی امالے کی جہاں لسان جبریل پر اس کا امالہ کرنا خوب صورت ہو۔ اما بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا۔ مذکورہ روایت کی بنا پر اگر یہ اسناد صحیح ہو تو یہ جائز ہے کہ ان الفاظ کا نزول ہو جیسے اس خبر میں مروی ہے اور رخصت وارد ہوئی ہو لسان جبریل پر بعض قرأت میں اس بنا پر کہ بعض قراء اس کی طرف گئے ہیں۔ اور عبدالہ بن سعید بن ابو سعید مقبری کی حدیث میں ہے اس نے اپنے والد سے اس نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس نے نبی کریم سے روایت کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اعربو القرانن والتمسو اغرئبہ۔ قرآن مجید کو واضح اور ظاہر کرکے پڑھو اور اس کے عجائبات تلاش کرو (یعنی حدود اور فرائض کو اپناؤ)۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، ← أَبُو الزِّنَادٍ، ← محمد بن عبد العزيز بن عمر بن عبد الرحمن ← بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُکْرَمٍ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on reading the Qur’an with glorification and parsing · Hadith 2290

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في قراءة القرآن بالتفخيم و الإعراب · حديث 2291

2291 - أخبرناه علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا أبو مساور الجوهري ثنا أبو معمر ثنا ابن أبي زائدة عن عبد الله بن سعيد : فذكره

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ابو مساور جوھری نے ان کو ابو معمر نے ان کو ابن ابی زائدہ نے عبداللہ بن سعید سے پھر انہوں نے اس حدیث کو ذکر فرمایا۔

عبد الله بن سعيد فذكره ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← أَبُو مَعْمَرٍ، ← أبو مساور الجوهري ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on reading the Qur’an with glorification and parsing · Hadith 2291

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في قراءة القرآن بالتفخيم و الإعراب · حديث 2292

2292 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا إسحق بن سعد بن الحسن بن سفيان الشيباني حدثنا جدي ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا أبو معاوية حدثني عبد الله بن سعيد المقبري عن أبيه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اعربوا القرآن و التمسوا غرائبه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو اسحاق بن سعد بن حسن بن صوفیان الشیبانی نے ان کو ان کے دادا نے ان کو ابوبکر بن ابی شیبہ نے ان کو ابو معاویہ نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن سعید مقبری نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نےفرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: "اعربواالقرآن والتمسوا (غرائبہ) قرآن مجید کو واضح اور ظاہر کرکے پڑھو اور اس کے عجائبات کو تلاش کرو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← جَدِّي، ← إسحق بن سعد بن الحسن بن سفيان الشيباني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on reading the Qur’an with glorification and parsing · Hadith 2292

chevron_left Previous
1…545556…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood