شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك المماراة في القرآن · حديث 2269
2269 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحق ثنا أبو بكر بن أبي بالكوفة ثنا أحمد بن موسى بن إسحق ثنا عبيد بن يعيش ثنا أبو بكر بن عياش عن هشام عن ابن سيرين عن عبيدة عن عبد الله قال : نزل القرآن على سبعة أحرف فهو كقول أعجل أسرع توخ
ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا ابو اسحٰق نے ان کو ابوبکر بن ابی نے کوفے میں ان کو احمد بن موسیٰ بن اسحٰق نے ان کو عبید بن یعیش نے ان کو ابو بکر بن عیاش نے ان کو ہشام نے ان کو ابن سیرین نے ان کو عبیدہ نے ان کو عبداللہ نے انہوں نے کہا کہ : " نزل القرآن علی سبعۃ احرف فھو کقول اعجل اسرع ۔ لوح۔" قرآن مجید سات طریقوں پر نازل کیا ہے ۔ وہ ایسے ہیں جیسے آپ کہتے ہیں اعجل اسرع لوح تو تینوں کا معنی ہے جلدی کر۔
نزل القرآن على سبعة أحرف فهو كقول أعجل أسرع توخ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عُبَيْدَةُ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← هِشَامٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ ← أحمد بن موسى بن إسحق ← أبو بكر بن أبي بالكوفة ← أبو زكريا بن أبي إسحق
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on leaving the practice in the Qur’an · Hadith 2269
