Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك المماراة في القرآن · حديث 2269

2269 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحق ثنا أبو بكر بن أبي بالكوفة ثنا أحمد بن موسى بن إسحق ثنا عبيد بن يعيش ثنا أبو بكر بن عياش عن هشام عن ابن سيرين عن عبيدة عن عبد الله قال : نزل القرآن على سبعة أحرف فهو كقول أعجل أسرع توخ

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا ابو اسحٰق نے ان کو ابوبکر بن ابی نے کوفے میں ان کو احمد بن موسیٰ بن اسحٰق نے ان کو عبید بن یعیش نے ان کو ابو بکر بن عیاش نے ان کو ہشام نے ان کو ابن سیرین نے ان کو عبیدہ نے ان کو عبداللہ نے انہوں نے کہا کہ : " نزل القرآن علی سبعۃ احرف فھو کقول اعجل اسرع ۔ لوح۔" قرآن مجید سات طریقوں پر نازل کیا ہے ۔ وہ ایسے ہیں جیسے آپ کہتے ہیں اعجل اسرع لوح تو تینوں کا معنی ہے جلدی کر۔

نزل القرآن على سبعة أحرف فهو كقول أعجل أسرع توخ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عُبَيْدَةُ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← هِشَامٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ ← أحمد بن موسى بن إسحق ← أبو بكر بن أبي بالكوفة ← أبو زكريا بن أبي إسحق

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on leaving the practice in the Qur’an · Hadith 2269

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك المماراة في القرآن · حديث 2270

2270 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا هشام بن علي ثنا ابن رجاء أنا محمد بن طلحة عن زبيد بن عبد الرحمن بن عابس عن رجل عن عبد الله بن مسعود أنه : أتاه ناس من أهل الكوفة فقرأ عليهم السلام و أمرهم بتقوى الله عز و جل و أن لا يختلفوا في القرآن و لا يتنازعوا فيه فإنه لا يختلف و لا ينسا و لا ينفذ لكثرة الرد أفلا ترون إن شريعة الإسلام فيه واحدة حدودها و فرائضها و أمر الله فيها و لو كان شيء من الحرفين ينهى عنه الحرف الآخر كان ذلك الاختلاف و لكنه جامع لذلك كله و إني لأرجو أن يكون قد أصبح فيكم اليوم من الفقه و العلم من خير ما في الناس و لو أعلم أحدا تبلغه الإبل هو أعلم بما أنزل على محمد صلى الله عليه و سلم لقصدته حتى أزداد علما إلى علمي فقد علمت أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يعرض عليه القرآن كل عام مرة فغرض عام توفي فيه مرتين فكنت إذا قرأت عليه أخبرني أني محسن فمن قرأ على قراءتي فلا يدعنها رغبة عنها و من قرأ على شيء من هذه الحروف فلا يدعه رغبة عنه فإن من جحد حرف منه جحد به كله

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمدبن عدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ہشام بن علی نے ان کو ابن رجاء نے ان کو محمد بن طلحہ نے ان کو زبید بن عبدالرحمٰن بن عابس نے ایک آدمی سے اس نے عبداللہ بن مسعود سے کہ ان کے پاس اہل کوفہ کے کچھ لوگ آئے تھے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ سلام دعا کی اور انہیں اللہ سے ڈرنے کا حکم فرمایا اور یہ کہ قرآن میں اختلاف نہ کریں اور نہ ہی اس میں جھگڑا کریں۔ بےشک وہ نہ تو مختلف ہوتا ہے اور نہ ہی بھولتا ہے اور نہ ہی پرانا ہو گا باربار دہرانے سے کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ بے شک اسلامی شریعت اور طریقہ اس میں ایک ہی ہے اس کے حدود اور فرائض اور اللہ تعالیٰ کا اس میں حکم ( سب ایک ہے ان میں کوئی اختلاف نہیں ہے ) اگر دو مختلف قرأتوں میں کوئی شے ہوتی کہ اس سے ایک حرف روکتا دوسرا حکم کرتا تو یہ اختلاف ہوتا لیکن وہ اس سبب کا جامع ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ آج تمہارے اندر رفقہ اور علم ایسا ہو گا جو بہترین لوگوں میں ہوتا ہے ۔ اگر میں یہ جان لوں کہ کوئی آدمی ایسا بھی ہے جس کے پاس اونٹ پہنچ سکتا ہے اور اس کے پاس اللہ کی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر اترنے والی کتاب کا علم ہے تو میں اپنے علم میں اضافہ کرنے کے لئے اس کے پاس جانے کے لئے بھی تیار ہوں ۔ مگر میں جانتا ہوں کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر ہر سال قرآن ( نئے سرے سے) پیش کیا جاتا تھا اور جس سال وفات پائی آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس سے دو مرتبہ پیش کیا گیا ( اور دو مرتبہ ان کے ساتھ دور کیا گیا یا دو دفعہ دہرایا گیا) گویا یہ تو بات طے ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس قرآن پورا اور تصدیق شدہ تھا) اور میں جب حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے آگے قرأت کرتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم مجھے خبر دیتے تھے کہ میں درست اور صحیح پڑھتا ہوں لہذا جو شخص میری قرأت کے مطابق پڑھے لہذا اس سے اعراض کرتے ہوئے اس کو کوئی نہ چھوڑے اور جو شخص قرأت کرے ان حروف میں سے کسی شے پر وہ اس سے اعراض کرتے ہوئے اسے نہ چھوڑے ۔ بے شک جو شخص کوئی ایک حرف قرآن میں سے چھوڑ دے اس نے پورا قرآن چھوڑدیا۔

رَجُلٌ: ← زبيد بن عبد الرحمن بن عابس ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ← ابْنُ رَجَاءٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on leaving the practice in the Qur’an · Hadith 2270

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك المماراة في القرآن · حديث 2271

2271 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد أنا إسماعيل بن إسحق القاضي ثنا إسماعيل بن أبي أويس ثنا سليمان بن بلال عن يونس عن ابن شهاب عن عبيد الله بن عبد الله عن ابن عباس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أقرأني جبريل عليه السلام على حرف فلم أزل أستزيده فيزيدني حتى انتهى إلى سبعة أحرف قال ابن شهاب : بلغني أن تلك السبعة الأحرف إنما هي في الأمر إذا كان واحدا لا يختلف فيه في حلال و لا حرام رواه البخاري عن إسماعيل بن أبي أويس قال البيهقي رحمه الله و الصحيح أن يكون المراد بالحروف السبعة اللغات السبع التي هي شائعة في القرآن و إليه ذهب أبو عبيدة و عليه ما دل ما روينا عن ابن مسعود إنما هو كقول أحدهم أقبل و هلم و تعال و أنه إنما يجوز قراءته على الحروف التي هي مثبتة في المصحف الذي هو الإمام بإجماع الصحابة و حملوا عن الصحابة دون غيرها من الحروف و إن كانت جائزة في اللغة نحو هذا ما لم تختم آية عذاب بآية رحمة أو رحمة بعذاب فهذا حديث إسناده لا بأس به غير أن الشيخين لم يخرجاه في الصحيح و يحتمل أن يكون هذا التفسير و لما هو في حديث عثمان و لابن عباس و غيرهما فمن روى هذا الحديث عن النبي صلى الله عليه و سلم فإن صح ذلك فيحتمل أن يكون المراد به : أن ذلك في حمله ما نزل من القرآن غير أنه قرأه في غير الموضع الذي نزل فيه فلا يأثم به ما لم يختم آية رحمة بعذاب أو آية عذاب برحمة و في كل ذلك ورد ما

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کواحمد بن عبید نے انکو اسماعیل بن اسحٰق قاضی نے ان کو اسماعیل بن ابو اویس نے ان کو سلیمان بن بلال نے ان کو یونس نے ان کو ابن شہاب نے ان کو عبداللہ بن عبداللہ نے ان کو ابن عباس نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔ مجھے جبرائیل علیہ السلام نے ایک حرف پر پڑھایا تو میں ہمیشہ اس سے زیادہ (حرف) کی طلب کرتا رہا پھر اس نے مجھے زیادہ کر دیا یہاں تک کہ وہ ساتھ تک پہنچ گیا ۔ ابن شہاب نے کہا کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ یہ سات حروف یقینی بات ہے کہ ایسے معاملے میں ہے جب وہ ایک ہی ہو اس میں حلال اور حرام میں اختلاف نہ ہو اور اس کو نجار نے روایت کیا ہے اسماعیل بن ابی اویس سے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← إسماعيل بن إسحق القاضي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on leaving the practice in the Qur’an · Hadith 2271

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك المماراة في القرآن · حديث 2272

2272 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا سفيان عن الأعمش عن إبراهيم بن همام قال : قال عبد الله : ليس الخطأ أن يقرأ غفور رحيم مكان عزيز حكيم و لكن الخطأ أن يقرأ ما ليس منه أو يختم آية رحمة بآية عذاب أو آية عذاب بآية رحمة قال البيقهي رحمه الله : يعني ـ و الله أعلم ـ ليس الخطأ المأثوم به مخطئه أن يقرأه هكذا لأن الذي قراءه من جملة ما نزل من القرآن و هو من أسماء الله عز و جل فلا يأثم بقراءته في غير موضعه و الله أعلم

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو سفیان نے انکو اعمش نے ان کو ابراہیم بن ہمام نے وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ نے کہا۔ خطاء (فی القرأۃ) یہ نہیں ہے کہ عزیز حکیم کی جگہ غفور رحیم پڑھ دے لیکن خطا فی القرأت یہ ہے کہ وہ لفظ پڑھے جو قرآن میں سے نہ ہو۔ یا آیت رحمت کو عذاب کے لفظ کے ساتھ ختم کرے یا عذاب کے الفاظ کو رحمت کے الفاظ سے ختم کرے۔امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں یعنی خطا سے مراد وہ خطا جس پر گناہ لاگو ہو اور مذکورہ صورت میں گناہ لاگو نہیں ہوگا اس لئے کہ مذکورہ صورت میں اس نے منجملہ ان الفاظ میں سے پڑھا جو قرآن میں اترے ہیں اور اسماء اللہ ہیں لہذا ان کی بے موقع قرأت کرنےسے بھی گناہ گار نہیں ہوگا۔

إبراهيم بن همام ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on leaving the practice in the Qur’an · Hadith 2272

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك المماراة في القرآن · حديث 2273

2273 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد الأعرابي ثنا الحسن بن محمد الزعفراني ثنا إسماعيل بن علية عن سعيد بن الحبحاب قال : كان أبو العالية إذا قرأ عنده رجل لم يقل ليس كما يقرأ و يقول : أما أنا فأقرأ كذا و كذا فذكرت ذلك لإبراهيم فقال : انظر صاحبك سمع أنه من كفر بحرف منه فقد كفر به كله

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد بن یوسف نے انکو ابو سعید اعرابی نے ان کو حسن بن محمد زعفرانی نے ان کو اسماعیل بن علیہ نے ان کو سعید بن حجاب نے وہ کہتے ہیں کہ ابو العالیہ کی حالت یہ تھی کہ جب کوئی آدمی ان کے پاس قرأت کرے وہ یوں نہیں کہتے تھے کہ ایسے نہیں ہے جیسے یہ شخص پڑھتا ہے بلکہ وہ یوں کہتے تھے کہ میں تو ایسے ایسے پڑھتا ہوں ۔ میں نے یہ بات ابراہیم سے ذکر کی تو انہوں نے فرمای آپ اپنے ساتھی کو دیکھئے اگر اس نے ایسے آدمی سے سنا تھا جو کسی حرف کے ساتھ قرأت کرکے کافر ہو گیا تھا تو ایسا کرنے سے سارے کافر ہو جائیں گے۔

سعيد بن الحبحاب ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أَبُو سَعِيدٍ الْأَعْرَابِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on leaving the practice in the Qur’an · Hadith 2273

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك المماراة في القرآن · حديث 2274

2274 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق ثنا خلف بن الوليد ثنا أبو جعفر الرازي عن الربيع بن أنس عن أبي العالية قال : آيتان ما أشدهما على الذين يجادلون في القرآن { ما يجادل في آيات الله إلا الذين كفروا } { و إن الذين اختلفوا في الكتاب لفي شقاق بعيد } v

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو خلف بن ولید نے ان کو ابو جعفر لازی نے ان کو ربیع بن انس نے انکو ابوالعالیہ نے وہ کہتے ہیں کہ : دو آیات ایسی ہیں جو کتنی سخت ہیں ان لوگوں پر جو قرآن میں جدال کرتے ہیں ۔ (1) ۔۔۔ مایجادل فی ایات اللہ الذین کفروا"۔ نہیں جھگڑا کرتے اللہ کی آیات میں مگر وہ لوگ جو کافر ہیں۔(2) و ان الذین اختلفو ا فی الکتاب لفی شقاق بعید"۔ بے شک جو لوگ کتاب اللہ میں اختلاف کرتے ہیں البتہ وہ دور دراز کی مخالفت میں ہیں۔

أَبِي الْعَالِيَةِ ← الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ← أبو جعفر الرازي ← خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on leaving the practice in the Qur’an · Hadith 2274

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التفسير بالظن · حديث 2275

2275 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحق أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب أنا أبو أحمد محمد بن عبد الوهاب أنا قبيصة بن عقبة ثنا سفيان عن عبد الأعلى عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قال في القرآن بغير علم فليتبوأ مقعدة من النار

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے انکو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو ابو احمد بن عبدالوہاب نے ان کو قبیصہ بن عقبہ نے ان کو سفیان نے ان کو عبدالا علیٰ نے ان کوسعید بن جبیر نے ان کو ابن عباس سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:۔ " من قال فی القرآن بغیر علم فلیتبوا مقعدہ من النار"۔ جو شخص علم کے بغیر قرآن کی تشریح کرے اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہیے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو زكريا بن أبي إسحق

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in leaving the interpretation with thought · Hadith 2275

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التفسير بالظن · حديث 2276

2276 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري قال : أنا الحسن بن محمد بن إسحق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا محمد بن أبي بكر ثنا يحيى بن سعيد عن سفيان عن عبد الأعلى عن سعيد بن جبير عن ابن عباس : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من قال في القرآن بغير علم فليتبوأ مقعدة من النار

ہمیں ابو الحسن علی بن محمد مقری نے ان کو ابو الحسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقب نے ان کو محمد بن ابوبکر نے انکو یحییٰ بن سعید نے ان کو سفیان نے اس کو عبدالا علیٰ نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جو شخص قرآن میں کوئی بغیر علم کے کہہ دے اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہیے۔

فِي الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ. ← مَنْ ← النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الحسن بن محمد بن إسحق ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in leaving the interpretation with thought · Hadith 2276

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التفسير بالظن · حديث 2277

2277 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن يعقوب الفقيه بالطابران حدثني أبو الحسن محمد بن علي بن حبيش ثنا أبو العباس محمد بن سهل الأشناني ثنا بشر بن الوليد الكندي ثنا سهيل أخو حزم عن أبي عمران الجوني عن جندب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قال في القرآن برأيه فأصاب فقد أخطأ قال البيهقي رحمه الله : و هذا أصح فإنما أراد ـ و الله أعلم ـ الرأي الذي يغلب على القلب من غير دليل قام عليه فمثل هذا الرأي لا يجوز الحكم به في النوازل فكذلك لا يجوز تفسير القرآن به و أما الرأي الذي يسنده برهان فالحكم به في النوازل جائز و كذلك تفسير القرآن به جائز و هذا هو المعنى أيضا فيما روي عن أبي بكر الصديق رضي الله عنه في ذلك ما :

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسن محمد بن یعقوب فقیہ نے طابر ان میں ان کو ابو الحسن محمد بن علی بن حبیش نے ان کو ابو العباس محمد بن سہل اشنانی نے ان کو بشر بن ولید کندی نے ان کو سہیل اخوحزم نے ان کو ابو عمران جونی نے ان کو جندب نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:۔ جس نے قرآن مجید ( کی تفسیر میں ) کوئی بات اپنی رائے سے کہ اور درست رائے ہو گئی (اتفاق سے ) پس اس نے غلطی کی۔

جُنْدُبٍ ← أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ← سهيل أخو حزم ← بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ، ← أبو العباس محمد بن سهل الأشناني ← أبو الحسن محمد بن علي بن حبيش ← أبو الحسن محمد بن يعقوب الفقيه بالطابران

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in leaving the interpretation with thought · Hadith 2277

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التفسير بالظن · حديث 2278

2278 - أخبرنا الحسن بن محمد المفسر أنا إسحق بن مسعد بن الحسن ثنا جدي الحسن بن سفيان إن هدبة بن خالد حدثهم ثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد بن جدعان عن القاسم بن محمد : أن أبا بكر الصديق رضي الله عنه قال : أي سماء تظللني و أي أرض تقلني إذا قلت في كتاب الله برأي

ہمیں خبر دی ہے حسن بن محمد مفسر نے ان کواسحٰق بن سعد بن حسن نے ان کو ان کے دادا حسن بن سفیان نے جو بے شک ہدبہ بن خالد نے ان کو حدیث بیانکی ہے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو علی بن زید بن جدعان نے ان کو قاسم بن محمد نے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ مجھ پر کون سا آسمان سایہ کرے گا اور مجھے کون سی زمین اٹھائے گی جب میں کتاب اللہ میں اپنی رائے کے ساتھ قول کرو۔

القاسم بن محمد أن أبا بكر الصديق ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← جدي الحسن بن سفيان إن هدبة بن خالد ← إسحق بن مسعد بن الحسن ← الحسن بن محمد المفسر

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in leaving the interpretation with thought · Hadith 2278

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التفسير بالظن · حديث 2279

2279 - و رواه ابن أبي مليكة عن أبي بكر كذلك مرسلا و قال في متنه : إذا أنا قلت في آية من كتاب الله بغير ما أراد الله سبحانه و تعالى

اور اس کو روایت کیا ہے ابن ابی ملیکہ نے ان کو ابو بکر نے اسی طرح مرسلاً اور اس کے متن میں کہا ہے کہ جس وقت میں کتاب اللہ کی کسی آیت کے بارے میں قول کروں اس بات کا جس کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ نہ کیا ہو ( تو پھر مجھے کون سا آسمان پناہ دے گا اور کون سی زمین مجھے پناہ دے گی)۔

في متنه إذا ← أبي بكر كذلك مرسلا و ← و رواه ابن أبي مليكة

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in leaving the interpretation with thought · Hadith 2279

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التفسير بالظن · حديث 2280

2280 - أخبرنا أبو القاسم بن حبيب المفسر أنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا يحيى بن سليمان الجعفي ثنا أبو سعيد ثنا أحمد بن بشير عن مجالد عن الشعبي عن مسروق عن عبد الله بن مسعود قال : القرآن كلام الله فمن قال فليعلم ما يقول فإنما يقول على الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابو القاسم بن حبیب مفسر نے ان کو ابوالحسن احمد بن محمد بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو یحییٰ بن سلیمان جعفی نے ان کو ابو سعید نے ان کو احمد بن بشیر نے ان کو مجالد نے شعبی سے ان کو مسروق نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے انہوں نے فرمایا :۔ " القران کلام اللہ فمن قال فلیعلم مایقول فانما یقول علی اللہ "۔ قرآن اللہ کا کلام ہے جو شخص کچھ کہے وہ یہ جان لے کہ کیا کہہ رہا ہے کیونکہ جو کچھ کہہ رہا ہے وہ اللہ تعالیٰ پر کہہ رہا ہے ( سچ یا جھوٹ صحیح یا غلط)

على الله عز و جل ← فَإِنَّمَا ← فليعلم ما ← «الْقُرْآنُ كَلَامُ اللَّهِ، فَمَنْ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مَسْرُوقٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← مجالد ← أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ ← أَبُو سَعِيدٍ ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ ← أبو القاسم بن حبيب المفسر

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in leaving the interpretation with thought · Hadith 2280

chevron_left Previous
1…535455…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood