Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك المماراة في القرآن · حديث 2257

2257 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا فليح بن سليمان عن سليمان عن سالم أبي النضر عن سليمان بن يسار عن عبد الله بن عمرو : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا تجادلوا في القرآن فإن جدالا فيه كفر قال الحليمي رحمه الله : و هذا ـ و الله أعلم ـ أن يسمع الرجل من الآخر قراءة أو آية أو كلمة لم تكن عنده فيعجل عليه و يخطئه فينسب ما يقرأ إلى أنه ليس يقرأ إلى أنه ليس بقرآن و يجادله في ذلك أو يجادله في تأويل ما يذهب إليه و لم يكن عنده و يخطئه و يضلله لا ينبغي له إن فعل ذلك فإن اللجاج ربما أزاغه عن الحق و لا يقبله و إن ظهر له وجه فيكفر فلهذا حرم المراء في القرآن و سمي كفرا لأنه يشرف بصاحبه على الكفر و إن ذلك لو كان في نفي حرف أو إثباته أو نفي كلمة أو إثباتها لكان الزائغ من الممارين عن الحق بعد ما تبين له كافر لأنه أما إن كان منكر شيء من القرآن أو يكون مدعي زيادة فيه و الله أعلم قال المراء الاصرار على التغليط و التضليل و ترك الإذعان لما يقول من الحجة فأما المباحثة التي لا يكاد المشكك ينصح إلا بها فليست بحرام و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابوبکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو قلیح بن سلیمان نے ان کو سالم ابو النصر نے ان کو سلیمان بن یسار نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ۔ " لا تجادلو فی القرآن فان جدا الا فیہ کفر" ۔ قرآن میں جھگڑا نہ کر اس لئے کہ اس میں جدال کرنا کفر ہے ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، ← سُلَیْمَانَ ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on leaving the practice in the Qur’an · Hadith 2257

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك المماراة في القرآن · حديث 2258

2258 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان ثنا أحمد بن يوسف السلمي ح و أخبرنا أبو حسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد بن الصفار ثنا أحمد بن منصور الرمادي قالا ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال : سمع النبي صلى الله عليه و سلم قوما يتمارون في القرآن فقال : إنما هلك من كان قبلكم بهذا ضربوا كتاب الله بعضه ببعض و إنما ترك كتاب الله يصدق بعضه بعضا و لا يكذب بعضه بعضا ما علمتم منه فقولوا و ما جهلتكم فكلوه إلى عالمه لفظ حديث السلمي

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو بکر محمد بن حسین قطان نے ان کو احمد بن یوسف سلمی نے ۔۔۔ح۔۔۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد بن صفار نے ان کو احمد بن منصور مادی نے دونوں کو عبدالرزاق بن معمر نے ان کو زہری نے ان کو عمرو بن شعیب نے ان کے والد سے ا س نے اپنے دادا سے انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کچھ لوگوں کو قرآن مجید کے بارے میں جھگڑتے سنا تو فرمایا یقیناً تم سے پہلے لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے کہ کتاب اللہ کے بعض کو بعض پر مارا تھا یقینی بات ہے کہ کتاب اللہ ایسی ہے بعض بعض کی تصدیق کرتی ہے اور بعض بعض کی تکذیب نہیں کرتی ۔ اس میں سے تم جو جانتے ہو وہ کہو اور جس بات سے تم بے علم ہو وہ اس کے جاننے والے کے سپر د کردو یہ الفاظ حدیث سلمی کے ہیں۔

النبي صلى الله عليه و سلم قوما يتمارون في القرآن ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّفَّارِ ← أبو حسين بن بشران ← و، ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on leaving the practice in the Qur’an · Hadith 2258

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك المماراة في القرآن · حديث 2259

2259 - أخبرنا أبو عبد الله أنا محمد بن يعقوب ثنا عمران بن موسى ثنا أبو كامل الحجدري ثنا حماد بن زيد ثنا أبو عمران الجوني قال : كتب إلى عبد الله بن رباح الأنصاري أن عبد الله بن عمرو قال : هجرت إلى رسول الله يوما قال : فسمع أصوات رجلين اختلفا في آية فخرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم يعرف في وجهه الغضب فقال : إنما هلك من كان قبلكم باختلافهم في الكتاب رواه مسلم عن أبي كامل

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ نے ان کو محمد بن یعقوب نے ان کو عمر ان بن موسیٰ نے ان کو ابو کامل حجدری نے ان کو حماد بن زید نے ان کو ابو عمران جونی نے انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن رباح انصاری کی طرف لکھا گیا کہ عبداللہ بن عمرو نے فرمایا کہ ایک دن میں گرمی کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں آیا۔ فرمایا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دو آدمیوں کی آوازیں سنیں جو ایک آیت میں اختلاف کر رہے تھے اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے غصہ کرنا چہرے سے نمایاں تھا آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا :۔یقینی بات ہے تم سے پہلے لوگ اللہ کی کتاب میں اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے ۔ اس کو مسلم نے ابو کامل سے روایت کیا ہے ۔

إلى عبد الله بن رباح الأنصاري ← أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أبو كامل الحجدري ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← أَبُو عَبْد اللَّهِ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on leaving the practice in the Qur’an · Hadith 2259

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك المماراة في القرآن · حديث 2260

2260 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا الحسن بن محمد الزعفراني ثنا سعيد بن منصور ثنا الحارث بن عبيد عن أبي عمران الجوني عن جندب عن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اقرؤا القرآن ما أتلفت عليه قلوبكم فإذا اختلفتم فيه فقوموا

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو حسن بن محمد زعفرانی نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو حارث بن عبید نے ان کو ابو عمران جونی نے ان کو جندب نے ان کو عبداللہ نے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا قرآن مجید کو اس وقت تک پڑھو جب تک اس پر تمہارے دل محبت کرتے رہیں جس وقت تم اس میں اختلاف کرنے لگو تو بس پھر اٹھ جاؤ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← جُنْدُبٍ ← أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ← الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on leaving the practice in the Qur’an · Hadith 2260

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك المماراة في القرآن · حديث 2261

2261 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق أنا إسماعيل بن قتيبة ثنا يحيى بن يحيى ثنا الحارث بن عبيد أبو قدامة : فذكره بإسناده مثله و رواه مسلم عن يحيى بن يحيى و استشهد به و بغيره البخاري و أخرجه من حديث حماد بن زياد و سلام بن أبي مطيع عن ابن عمران مرفوعا و وقفه بعضهم على جندب منهم شعبة و حماد بن سلمة و همام بن يحيى قال البخاري و قال ابن عون عن ابن عمران عن عبد الله بن الصامت عن عمر قوله

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر بن اسحٰق نے ان کو اسماعیل بن قتیبہ نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو حارچ بن عبید ابو قدامہ نے پھر اس کو اس نے ذکر کیا ہے اپنی اسناد کے ساتھ مذکور کی مثل۔ اور اس کو مسلم نے روایت کیا ہے یحییٰ بن یحییٰ سے اور بخاری نے اسی کے ساتھ اور اس کے بغیر کے ساتھ شاہد پیش کیا ہے اور اس کو نقل کیا ہے حماد بن زید کی حدیث سےاور سلام بن مطیع کی ابن عمران سے بطور مرفوع روایت کے اور بعض نے اس کو موقوف کیا ہے جندب پر بعض ان میں سے شعبہ اور حماد بن سلمہ اور ہمام بن یحییٰ بن بخاری نے کیا ہے اور ابن عون نے کہا ہے ابن عمران سے عبداللہ بن صامت سے اس نے عمر سے ان کا قول۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on leaving the practice in the Qur’an · Hadith 2261

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك المماراة في القرآن · حديث 2262

2262 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا الحسن بن محمد الزعفراني ثنا إسحق بن يوسف الأزرق أنا ابن عون عن أبي عمران عن عبد الله بن الصامت قال : قال عمر : اقرؤا القرآن ما اتفقتم فإذا اختلفتم فقوموا عنه رواه معاذ عن ابن عون عن ابن عمران عن عبد الله بن الصامت

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد ہمیں خبر دی ہے ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو حسن بن محمد زعفرانی نے ان کو اسحٰق بن یوسف ازرق نے ان کو ابن عون نے ان کو ابو عمران نے ان کو عبداللہ بن صامت نے وہ کہتے ہیں عمر نے کہا کہ قرآن کو پڑھو اس وقت تک جب تک تم متفق ہو اور جب تم اختلاف کرنے لگو تو اس سے اٹھ جاؤ ۔ اس کو معاذ بن معاذ نے ابن عون سے اس نے ابن عمران سے اس نے عبداللہ بن صامت سے روایت کیا ہے ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← ابن عمران ← ابْنِ عَوْنٍ ← عمر اقرؤا القرآن ما اتفقتم فإذا اختلفتم فقوموا عنه رواه معاذ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي عِمْرَانَ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← إِسْحَقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on leaving the practice in the Qur’an · Hadith 2262

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك المماراة في القرآن · حديث 2263

2263 - أخبرنا أبو عمرو الأديب أنا أبو بكر الإسماعيلي ثنا ابن عبد الكريم ثنا بندار ثنا معاذ ثنا ابن عون : فذكره على الوجهين

ہمیں خبر دی ہے ابو عمرو ادیب نے ان کو ابوبکر اسماعیلی نے ان کو ابن عبدالکریم نے ان کو بندار نے ان کو معاذ نے ان کو ابن عون نے پھر اس کو ذکر کیا ہے دو وجوہ پر۔

ابن عون فذكره على الوجهين ← مُعَاذٌ، ← بُنْدَارٌ ← ابن عبد الكريم ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on leaving the practice in the Qur’an · Hadith 2263

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك المماراة في القرآن · حديث 2264

2264 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا ابن الأعرابي ثنا الزعفراني ثنا محمد بن عبيد الطنافسي ثنا إسماعيل بن أبي خالد عن زبيد اليامي عن عبد الله : إن القرآن منارا كمنار الطريق فما عرفتم فخذوه و ما شبه عليكم فذروه

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابن اعرابی نے ان کو زعفرانی نے ان کو محمد بن عبید طنافسی نے اس کو اسماعیل بن ابو خالد نے زیبد یامی سے اس نے عبداللہ سے ۔ کہ بے شک قرآن مجید ایک مینار ہے جیسے راستے پر مینار ہوتا ہے جو کچھ تم پہچانو اسمجھو اس کو لے لے اور جو چیز تم پر خلط ملط ہو جائے اس کو رہنے دو ( اپنے حال پر)۔

زُبَيْدٌ الْيَامِيُّ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ← الزَّعْفَرَانِيُّ، ← ابن الأعرابي ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on leaving the practice in the Qur’an · Hadith 2264

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك المماراة في القرآن · حديث 2265

2265 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن علي المقرئ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا أبو الربيع ثنا إسماعيل بن جعفر ثنا يزيد بن خصيفة عن مسلم بن سعيد مولى بن الحضرمي عن أبي جهيم الأنصاري : أن رجلين من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم تماريا في آية كلاهما يزعم أنه تلقاها من رسول الله صلى الله عليه و سلم فمشيا جميعا حتى أتيا رسول الله صلى الله عليه و سلم و كلاهما ذكر لرسول الله صلى الله عليه و سلم أنه سمعها منه فذكر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن هذا القرآن أنزل على سبعة أحرف فلا تماروا فيه فإن المراء فيه كفر

ہمیں خبر دی ہے ابوالحس علی بن محمد بن علی مقری نے ان کوحسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو ابو الربیع نے ان کو اسماعیل بن جعفر نے ان کو یزید بن خصیفہ نے ان کو مسلم بن سعید مولیٰ بن حضرمی نے ان کو ابو جہم انصاری نے کہ اصحاب رسول میں سے دو آدمیوں نے ایک آیت میں باہم جھگڑا کیا دونوں کا دعویٰ تھا کہ اس نے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے پایا ہے لہذا دونوں اکٹھے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں گئے اور دونوں نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے آگے یہی ذکر کی اکہ اس نے آپ سے ایسے ایسے سنا ہے ابو جہم نے ذکر کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:۔ "ان ھذالقرآن انزل علی سبعۃ احرف فلاتما رو افیہ فان المراء فیہ کفر"۔ بے شک یہ قرآن مجید سات حروف پر ( یا سات لغتوں پر) نازل کیا گیا ہے لہذا اس میں تم لوگ جھگڑا نہ کرو بے شک قران میں جھگڑا کرنا کفر ہے ۔

مسلم بن سعيد مولى بن الحضرمي ← يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ1 ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on leaving the practice in the Qur’an · Hadith 2265

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك المماراة في القرآن · حديث 2266

2266 - أخبرنا أبو الحسن المقرئ أنا الحسن بن محمد بن إسحق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا محمد بن أبي بكر ثنا ابن أبي الوزير ثنا عبد الله بن جعفر المخرمي عن يزيد بن الهاد عن بشر بن سعيد عن أبي قيس مولى عمرو بن العاص عن عمرو بن العاص : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : اقرؤا القرآن على سبعة أحرف فأيما قراءتم أصبتم و لا تماروا فيه فإن المراء فيه كفر

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسن قصری نے ان کو حسن بن محمد اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن ابو بکر نے ان کو ابو لوزیر نے ان کو عبداللہ بن جعفر مخزمی نے ان کو یزید بن ھاد نے ان کو بشر بن سعید نے ان کو ابوقیس مولی عمرو بن العاص نے ان کو عمر بن العاص نے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:۔ "اقرء والقرآن علی سبعۃ احرف فا یما قرء تم اصبتم ولا تمارو ا فیہ فان المراء فیہ کفر"۔ قران مجید کو سات حروف پر ( یا سات لغات پر) پڑھو جو بھی ان میں سے پڑھو گے تم درست کروگے اس میں جھگڑ نہ کر کیوں کہ اس میں جھگڑ ا کرنا کفر ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← بِشْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← یَزِیْدُ بْنُ الْھَادِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيُّ، ← ابْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الحسن بن محمد بن إسحق ← أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on leaving the practice in the Qur’an · Hadith 2266

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك المماراة في القرآن · حديث 2267

2267 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أخبرني أبو الحسن علي بن أحمد بن قرقوب التمار بهمدان ثنا إبراهيم بن الحسين ثنا أبو اليمان الحكم بن نافع أنا شعيب بن أبي حمزة عن الزهري أخبرني عروة بن الزبير عن حديث المسور بن مخرمة و عبد الرحمن بن عبد القارئ أنهما سمعا عمر بن الخطاب رضي الله عنه يقول : سمعت هشام بن حكيم بن حزام يقرأ سورة الفرقان في حياة رسول الله صلى الله عليه و سلم فاستمعت لقراءته فإذا هو يقرؤها على حروف كثيرة لم يقرئنيها رسول الله صلى الله عليه و سلم فكدت أساوره في الصلاة فانتظرت حتى سلم فلما سلم أتيته و قلت له من أقرأك هذه السورة التي سمعتك تقرأ بها فقال : أقرأنيها رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت له كذبت فو الله إن النبي صلى الله عليه و سلم هو أقرأني هذه السورة التي سمعتك تقرأ بها فانطلقت به إلى النبي صلى الله عليه و سلم أقوده فقلت يا رسول الله إني سمعت هذا يقرأ سورة الفرقان على حروف لم تقرئنيها و إنك أقرأتني سورة الفرقان فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم هكذا أنزلت ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم اقرأ عمر فقرأتها القراءة التي اقرأ لي رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم هكذا أنزلت ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن هذا القرآن أنزل على سبعة أحرف فاقرؤا ما تيسر منه رواه البخاري في الصحيح عن أبي اليمان و أخرجاه من أوجه آخر

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے ابوالحسن علی بن احمد بن قرقوب نے ہمدان میں ان کو ابراہیم بن حسین ے ان کو ابو الیمان حکم بن نافع نے ان کو شعیب بن ابو حمزہ نے ان کو زہری نے ان کو خبر دی ہے عروہ بن زبیر نے مسور بن محزمہ اور عبدالرحمٰن بن عبدالقاری کی حدیث سے دونوں نے سنا عمر بن خطاب سے کہتے تھے کہ میں نے سنا ہشام بن حکیم بن حزام سے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی میں سورۃ فرقان کو پڑھتے تھے میں نے ان کی قرأت توجہ کے ساتھ سنی وہ اس کو پڑھتے تھے حروف کیثرہ کے ساتھ جو کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے نہیں پڑھائے تھے ( لہذا مجھے غصہ آیا اور میں قریب تھا کہ نماز میں اس پر حملہ کر دوں مگر میں نے انتظار کیا کہ وہ سلام پھیر لے جب اس نے سلام پھیر لیا تو میں اس کے پاس آیا اور آخر کہا کہ یہ سورۃ آپ کو کس نے اس طرح پڑھائی ہے جو میں نے تم سے پڑھتے ہوئے سنی ہے ۔ اس نے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پڑھائی ہے ۔ میں نے کہا کہ تم جھوٹ بولتے ہو پس اللہ کی قسم بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھے یہی سورۃ پڑھائی تھی جو میں نے تجھے پڑھتے ہوئے سنی ہے چنانچہ میں اس کو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس لے گیا میں نے اسے کھینچ کر لے جارہا تھا میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں نے سنا یہ سورۃ الفرقان کو اس طرح پڑھ رہے تھے ان حروف پر جو آپ نے مجھے نہیں پڑھائے حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سورۃ فرقان مجھے بھی پڑھائی ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ایسے ہی نازل ہوئی ہے پھر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا آپ کو اس سورۃ کو پڑھیے میں نے اسی طرح پڑھی جس طرح حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مجھے پڑھائی تھی تو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ایسے ہی اتری ہے پھر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا بے شک یہ قرآن سات حروف پر یا سات طریقوں پر اتر ا ہے لہذا جو اس میں سے آسان لگے اس کو پڑھو۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبُو الْيَمَانِ الْحَکَمُ بْنُ نَافِعٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ قُرْقُوبٍ التَّمَّارُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on leaving the practice in the Qur’an · Hadith 2267

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك المماراة في القرآن · حديث 2268

2268 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا سفيان عن الأعمش عن شقيق عن عبد الله قال : إني سمعت إلى القراءة فلم أسمعهم إلا متقارين فاقرأوا على ما علمتم و إياكم و التنطع في الاختلاف إنما هو كقول أحدكم أقبل و هلم و تعال

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعد بن ابن منصور نے ان کو سفیان نے ان کو عمس نے ان کو شقیق نے ان کو عبداللہ نے اس نے کہا کہ : بے شک میں نے قرأت کو توجہ سے سنا ہے میں نے نہیں سنی مگر ایک دوسرے سے قریب قریب میں تم ان کو پڑھو اس انداز پر جو تم جانتے ہو تم اپنے آپ کو اختلاف میں پڑنے سے بچاؤ یقینی بات ہے وہ قرأت ایسی ہے جیسے کوئی تم میں سے یہ کہے قبل ، بلم ، تعال ، تینوں کا یعنی ایک جیسا معنی ہے کہ وہ یہ ہے کہ آجا۔

إِنِّي ← عَبْدُ اللَّهِ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on leaving the practice in the Qur’an · Hadith 2268

chevron_left Previous
1…525354…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood