شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تعليم القرآن · حديث 2209
2209 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو سهل بن زياد ثنا يحيى بن أبي طالب ثنا إسحاق بن سليمان الرازي ثنا الجراح بن الضحاك الكندي عن علقمة عن أبي عبد الرحمن عن عثمان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خيركم من تعلم القرآن و علمه قال أبو عبد الرحمن فذاك الذي أقعدني هذا المقعد قال أبو عبد الرحمن : فضل القرآن على سائر الكلام كفضل الرب على خلقه و ذاك إنه منه قال الحليمي رحمه الله : و إنما استنقص الناس المعلمين لقصرهم زمانهم على معاشرة الصبيان ثم النساء حتى أثر ذلك في عقولهم ثم لابتغائهم عليه الأجعال و طمعهم في أطعمة الصبيان فأما نفس التعليم فإنه يوجب التفضيل و التشريف و بسط الكلام في ذلك
ہمیں خبر دی عبداللہ حافظ نے ان کو ابوسہل بن زیاد نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو اسحٰق بن سلیمان رازی نے ان کو جراح بن ضحاک کندی نے ان کو علقمہ نے ان کو ابو عبدالرحمٰن نے ان کو عثمان نے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تم میں سے بہترین شخص وہی ہے جو قرآن مجید سیکھے اور سکھائے ۔ ابو عبدالرحمٰن نے کہ ا کہ اسی چیز نے مجھے اس مرتبے پربٹھایا۔ ابو عبدالرحمٰن نے کہا ۔ قرآن کی فضیلت تما م کلاموں پر ایسے ہے جیسے رب تعالیٰ کو تمام مخلوق پر۔ یہ بات اس لئے ہے کہ یہ کلام الٰہی کی طر سے جو ہے ۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا یقینی بات ہے کہ لوگوں نے(قرآن کے ) معلم اور استاذ لوگوں کی عزت کو کم کرتے ہیں بوجہ کوتاہی کرنے ان کے اپنے زمانے سے بوجہ میل جول رکھنے ان کے لڑکوں سے پھر عورتوں سے حتیٰ اس بات نے ان کی عقلوں پر اثر کیا ہے اس کے بعد بوجہ طلب کرنے ان کے تنخواۃ اور تحائف کے اور طمع کرنے ان کے بچوں سے کھانوں میں ۔ بہر حال رہا نفس تعلیم تو وہ شرف و فضیلت کو لازم کرتی ہے۔ شیخ نہ اس میں تفصیلی کلام کیا ہے ۔
عُثْمَانَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَلْقَمَةَ ← الْجَرَّاحِ بْنِ الضَّحَّاكِ الْكِنْدِيِّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in teaching the Qur’an · Hadith 2209
