Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في مقدار ما يستحب فيه القراءة · حديث 2197

2197 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن محمد بن الحسن السراج ثنا مطير ثنا علي بن حرب الموصلي ثنا حفص بن عمر يعني بن حكيم ثنا عمرو بن قيس عن عطاء عن ابن عباس : قال النبي صلى الله عليه و سلم : من قرأ في ليلة مائة آية لم يكتب من الغافلين و من قرأ مائتي آية كتب من العابدين و من قرأ ثلثمائة آية كتب من القانتين و من قرأ أربعمائة آية أصبح له قنطار من الأجر و القنطار مائة و عشرون قيراطا و القيراط مثل أحد

اور ہمیں خبر دی ہے ابو نصرہ بن قتادہ نے ان کو ابو الحسن محمد بن حسن سراج نے ان کو مطیر نے ان کو علی بن حرب موصلی نے ان کو حفص بن عمرو یعنی بن حکیم نے ان کو عمرو بن قیس نے عطا سے اس نے ابن عباس سے انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایک رات میں ایک سو آیات (تہجد میں ) پڑھ لے وہ غافلوں سے نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص دو سو آیات پڑھ لے وہ عبادت گزار وں میں لکھ دیا جائے گا اور جو شخص تین سو آیات پڑھ لے وہ رضاعت شعاروں میں سے لکھ دیا جاتا ہے اور جو شخص چار سو آیات پر صبح کرے گا تو اس لئے اجر کے دوڈھیر ہوں گے اور ایک ڈھیر ایک سو بیس قیراط کا ہوتا ہے اور ایک قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوتا ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← عَمْرَو بْنَ قَيْسٍ، ← حفص بن عمر يعني بن حكيم ← عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الْمُوصِلِيُّ، ← مطير ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on how much it is desirable to read · Hadith 2197

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في مقدار ما يستحب فيه القراءة · حديث 2198

2198 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن السراج ثنا مطين ثنا الربيع بن ثعلب ثنا أبو إسماعيل المؤدب عن فطر عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا معشر التجار أيعجز أحدكم إذا رجع من سوقه أن يقرأ عشر آيات فيكتب الله له بكل آية حسنة

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابوالحسن سراج نے ان کو مطین نے ان کو ربیع بن ثعلب نے ان کو ابو اسماعیل مودب نے ان کو فطر نے ان کو حکم نے ان کو مقسم نے ان کو ابن عباس نے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ۔ اے تاجروں کی جماعت کیا تم میں سے کوئی آدمی اس بات سے بھی عاجز ہے کہ وہ جب اپنے بازار سے آئے تو دس آیات پڑھ لے لہذا اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر آیت کے بارے میں ایک نیکی لکھ دے گا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← فِطْرٍ ← أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ ← الرَّبِيعُ بْنُ ثَعْلَبٍ، ← مطين ← أبو الحسن السراج، ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on how much it is desirable to read · Hadith 2198

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في مقدار ما يستحب فيه القراءة · حديث 2199

2199 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا عبيد بن شريك ثنا ابن أبي مريم ثنا يحيى بن أيوب عن حميد بن صخر أن يزيد الرقاشي حدثه أنه سمع أنس بن مالك يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من قرأ أربعين آية في ليلة لم يكتب من الغافلين و من قرأ مائة آية كتب من القانتين و من قرأ مائتي آية لم يحاجه القرآن يوم القيامة و من قرأ خمسمائة آية كتب له قنطار من الأجر

ہمیں خبر دی علی بن احمد نے بن عبدان نے ان کو احمد بن عبد نے ان کو عبید بن شریک نے ان کو ابن ابی مریم نے ان کو یحییٰ بن ایوب نے ان کو حمید بن صخر نے کہ یزید رقاشی نے اس کو بیان کیا کہ اس نے حضرت انس بن مالک سے سنا وہ کہہ رہے تھے جو شخص ایک رات میں چالیس آیات پڑھ لے وہ غافلوں میں سے نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص ایک سو آیات پڑھ لے وہ فرمانبرداروں میں سے لکھ دیا جائے گا اور جو شخص دو سو آیات پڑ ھ لے قرآن اس کی طرف سے جھگڑے گا قیامت کے دن اور جو شخص پانچ سو آیات پڑ ھ لے اس کے لیے اجر کا ایک قنطار لکھ دیا جائے گا۔

حُمَيْدِ بْنِ صَخْرٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on how much it is desirable to read · Hadith 2199

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في مقدار ما يستحب فيه القراءة · حديث 2200

2200 - أخبرنا عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي أنا الحسن بن محمد الزعفراني ثنا أسباط عن الشيباني عن سعيد بن أبي بردة عن أبيه : أن معاذ قال : كيف تقرأ القرآن يا أبا موسى قال : أتفوقه تفوقا قال أبو موسى كيف تقرأ يا معاذ قال : أنام أول الليل لأستعين به على آخره و إني لأرجوا من الأجر في نومتي ما لا أرجوا من الأجر في قيامي

ہمیں خبر دی ہے عبداللہ بن یوسف اصبہانی نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو حسن بن محمد زعفرانی نے ان کو اسباط نے ان کو شیبانی نے ان کو سعید بن ابی بردہ نے ان کو ان کے والد نے کہ معاذ نے کہا آپ قرآن کیسے پڑھتے ہیں اے ابو موسیٰ کیا تفوق کرتے ہو انہوں نے کہا اے معاذ تم کیسے پڑھتے ہو معاذ نے کہا کہ میں اول رات میں آرام کرتا ہوں تاکہ اس کے ذریعے آخر رات کے لئے مد دلوں اور میں اپنی پسند میں اتنی اجر کی امید کرتا ہوں جو میں قیام میں اجر کی امید نہیں کرتا ۔

أبو موسى كيف تقرأ يا معاذ ← أَتَفَوَّقُهُ تَفَوُّقًا ← كيف تقرأ القرآن يا أبا موسى ← أبيه أن معاذ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ← الشَّيْبَانِيِّ ← أَسْبَاطٍ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on how much it is desirable to read · Hadith 2200

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في مقدار ما يستحب فيه القراءة · حديث 2201

2201 - أخبرنا عبد الله أنا ابن الأعرابي ثنا الحسن الزعفراني ثنا يعقوب بن إسحاق أخبرني شعبة عن ابن أبي بردة عن أبيه عن جده : أن معاذا قال : يا أبا موسى كيف تقرأ قال : أقرأه في صلاتي و أقرأه و أنا قائم و أقرأه و أنا على رحلي و أتبرضه تبرض و أتفوقه تفوقا قال معاذ : لكني أصلي ثم أنام فإذا قمت من آخر الليل قرأته فأحتسب نومتي كما أحتسب قومتي قال : فوافق ما قال معاذ

ہمیں خبر دی ہے عبداللہ نے ان کو ابن اعرابی نے ان کو حسن زعفرانی نے ان کو یعقوب بن اسحٰق نے اور مجھے خبر دی ہے شعبہ نے ان کو ابن ابی بردہ سے اس نے اپنے والد سے اس نے اپنے دادا سے کہ معاذ نے کہا اے موسیٰ آپ کیسے پڑھتے ہیں اس نے کہا میں اسے اپنی نماز میں پڑھتا ہوں اور میں اسے قیام کی حالت میں پڑھتا ہوں اور اس کو میں اس وقت پڑھتا ہوں جب میں اپنے سامان پر ہوتا ہوں اور میں اس کو تھوڑا تھوڑا پڑھتا ہوں اور زیادہ سے زیادہ پڑھتا ہوں لیکن میں نماز پڑھتا ہوں پھر سو جاتا ہوں پھر جب میں آخر شب میں اٹھ جاتا ہوں تو اس کو پڑھتا ہوں میں اپنی آرام کو ثواب سمجھتا ہوں جیسے میں اپنے قیام کو ثواب سمجھتا ہوں اور ثواب کی امید کرتا ہوں انہوں نے کہا کہ معاذ نے جو کچھ کہا وہ درست ہے ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← ابْنُ أَبِي بُرْدَةَ ← شُعْبَةُ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← الْحَسَنُ الزَّعْفَرَانِيُّ، ← ابن الأعرابي ← عَبْدُ اللَّهِ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on how much it is desirable to read · Hadith 2201

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تعليم القرآن · حديث 2202

2202 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور الرمادي ثنا عبد الرزاق بن همام أنا معمر عن قتادة عن أنس : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لأبي إن الله أمرني أن أقرأ عليك قال أو سماني لك قال : و سماك لي قال : فبكى أبي

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور مادی نے ان کو عبدالرزاق بن ہمام نے ان کو معمر نے ان کو قتادہ نے ان کو انس نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت ابی بن کعب سے فرمایا تھا بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں قرآن تیرے اوپر ( سامنے ) پڑھوں ( حضرت ابی کعب نے کہا) کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا ہے آپ کےلئے ، حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جی ہاں ۔تیرا نام لیا ہے مجھ سے (حضرت انس کہتے ہیں کہ ) حضرت ابی یہ سن کر رو پڑے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in teaching the Qur’an · Hadith 2202

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تعليم القرآن · حديث 2203

2203 - أخبرنا الإمام أبو إسحق إبراهيم بن محمد بن إبراهيم ثنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي ثنا أبو قلابة ثنا بكر بن بكار ثنا شعبة عن قتادة عن أنس بن مالك قال : لما نزلت { لم يكن الذين كفروا من أهل الكتاب و المشركين } قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لأبي بن كعب إن الله تعالى أمرني أن أقرأ عليك قال : و ذكرني قال : نعم أخرجه البخاري من حديث شعبة و فيه : فبكى أبي و إنما أراد ما يقرأه على أبي ليتعلم منه أبي و ليأخذ عنه

ہمیں خبر دی ہے امام ابو اسحٰق ابراہیم بن محمد ابراہیم نے ان کو ابوبکر محمد بن عبداللہ شافعی نے ان کو ابو قلابہ نے ان کو بکر بن بکار نے ان کو شعبہ ان کو قتادہ نے ان کو اند بن مالک نے انہوں نے کہا کہ : جب یہ سورۃ نازل ہوئی ۔ لم یکن الذین کفرو امن اھل الکتاب و المشرکین"۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت ان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں آپ کے سامنے قرآن مجید پڑھوں (یعنی آپ کو پڑھاؤ) ابی نے پوچھا کیا اللہ تعالیٰ نے میرا ذکر فرمایا ہے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جی ہاں اس کو بخاری نے شعبہ کی حدیث سے نقل کیا ہے۔ اور اس حدیث میں یہ الفاظ ہیں کہ پھر حضرت ابی کعب رو پڑے۔ یہ جو فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم حضرت ابی کے آگے پڑھیں اس سے مراد ہے کہ تاکہ وہ حضرت ابی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے قرآن سیکھ لے اور اس کی تعلیم حاصل کر لے اور حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے قرآن کو اخذ کر لے ۔

لما نزلت لم يكن الذين كفروا من أهل الكتاب و المشركين ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← بكر بن بكار ← أَبُو قِلَابَةَ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ ← الإمام أبو إسحق إبراهيم بن محمد بن إبراهيم

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in teaching the Qur’an · Hadith 2203

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تعليم القرآن · حديث 2204

2204 - و قد روى من حديث سعيد بن أبي عروبة عن قتادة قال : ثنا أنس بن مالك : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لأبي إن الله تعالى أمرني أن أقرئك القرآن و أقرئ عليك القرآن قال الله سماني لك قال : نعم قال : فذكرت عند رب العالمين قال : نعم قال : فذرفت عيناه و أخبرناه أبو عبد الله الحافظ أنا احمد بن جعفر القطيعي ثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا أبي ثنا روح ثنا سعيد فذكره قال أحمد : رواه البخاري عن جعفر المنادي عن روح و هذا كما أن جبريل كان يقرأ على النبي صلى الله عليه و سلم ليأخذ عنه النبي صلى الله عليه و سلم و كذا النبي صلى الله عليه و سلم كان يقرأ على أبي بن كعب تعليما منه لأبي ليأخذ عنه أبي

تحقیق روایت کیا گیا ہے سعید بن ابو عروبہ کی حدیث سے اس نے قتادہ سے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے حضرت انس بن مالک نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت ابی سے فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تجھے قرآن پڑھاؤں اور میں تیرے سامنے قرآن پڑھوں انہوں نے عرض کی کہ کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لے کر آپ سے کہا ہے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جی ہاں ابی بن کعب نے کہا کہ رب العالمین کے ہاں میرا ذکر ہوا؟ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں بس پھر حضرت ابی کی آنکھیں آنسوؤں سے بہنے لگیں۔ اور ہمیں اسی کی خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن جعفر قطیعی نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو ان کے والد نے ان کو روح نے ان کو سعید نے پھر مذکورہ حدیث کو ذکر کیا ہے ۔ احمد نے کہا کہ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے جعفر ماندی سے اس نے روح سے اور جیسے جبرئیل نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر پڑھتے تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس سے قرآن اخذ کریں اور لے سکیں بالکل اسی طرح نبی کریم پڑھتے تھے ابی بن کعب پر اپنی طرف سے ابی کو تعلیم دینے کے لئے اور تاکہ حضرت ابی حضور سے قرآن اخذ کر سکے اور لے سکے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← و قد روى من حديث سعيد بن أبي عروبة

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in teaching the Qur’an · Hadith 2204

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تعليم القرآن · حديث 2205

2205 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد أحمد بن محمد بن زياد البصري بمكة ثنا عبد الرحمن بن محمد الحارثي ثنا يحيى بن سعيد القطان ثنا شعبة و سفيان قالا ثنا علقمة بن مرثد عن سعد بن عبيدة عن أبي عبد الرحمن السلمي عن عثمان بن عفان : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أحدهما خيركم و قال الآخر أفضلكم من تعلم القرآن و علمه

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد بن یوسف اصبہانی نے ان کو ابو سعید احمد بن محمد بن زیاد بصری نے مکہ میں ان کو عبدالرحمٰن بن محمد حارثی نے ان کو یحییٰ بن سعید قطان نے ان کو شعبہ نے اور سفیان نے دونوں نے کہا ان کو حدیث بیان کی علقمہ بن مرثد نے ان کو سعد بن عبیدہ نے ان کو ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ا ن کو عثمان بن عفان نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم آپ نے فرمایا نے کہ دونوں میں سے ایک تمہارا بہتر ہے دوسرے نے کہا افضل تمہارا وہ ہے جو قرآن مجید خود سیکھے اور اسی کو سکھائے۔

الآخر أفضلكم من تعلم القرآن و علمه ← أحدهما خيركم و ← النبي صلى الله عليه و سلم ← عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← شعبة و سفيان ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَارِثِيُّ، ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in teaching the Qur’an · Hadith 2205

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تعليم القرآن · حديث 2206

2206 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن محمد بن يحيى ثنا مسدد ثنا يحيى بن سعيد : فذكره بإسناده مثله و رواه البخاري عن مسدد و يشبه أن يكون يحيى بن سعيد حمل إسناد حديث سفيان على حديث شعبة فإن سفيان لا يذكر فيه سعد بن عبيدة و إنما يذكر شعبة

اور ہمیں خبر دی عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن محمد بن یحییٰ نے ان کو مسدد نے ان کویحییٰ بن سعید نے پھر اس نے مذکورہ روایت کو ذکر کیا اس کی اسناد کے ساتھ اس کی مثل۔ اور اس کو بخاری نے روایت کیا ہے مسدد سے اور عین ممکن ہے کہ یحییٰ بن سعید نے سفیان کی اسناد کو شعبہ کی حدیث پر محمول کیا ہو بے شک سفیان نے اس میں سعد بن عبیدہ کا ذکر نہیں کیا بلکہ وہ ذکر کرتے ہیں شعبہ کا۔

يحيى بن سعيد فذكره بإسناده مثله و رواه البخاري ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in teaching the Qur’an · Hadith 2206

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تعليم القرآن · حديث 2207

2207 - أخبرنا أبو سهل محمد بن نصرويه المروزي ثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن خنب ثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي أبو إسحاق ثنا سليمان بن حرب و عمرو بن مرزوق و مسلم بن إبراهيم و حفص بن عمر الحوضي قالوا : ثنا شعبة عن علقمة بن مرثد عن سعد بن عبيدة عن أبي عبد الرحمن عن عثمان بن عفان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خيركم من تعلم القرآن و علمه قال أبو عبد الرحمن : فذلك الذي أقعدني مقعدي هذا قال : و علم القرآن من زمن عثمان إلى زمن الحجاج

ہمیں خبر دی ہے ابو سہل محمد بن نصرو یہ مروزی نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن خنب نے ان کو اسماعیل بن اسحٰق قاضی نے ان کو سلیمان بن حرب نے اور عمرو بن مرزوق نے اور مسلم بن ابراہیم نے اور حفص بن عمر حوضی نے ان لوگوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے شعبہ نے ان کو علقمہ بن مرثد نے ان کو سعد بن عبیدہ نے ان کو ابو عبدالرحمٰن نے ان کو عثمان بن عفان نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔ "خیر کم من تعلم القرآن و علمہ" تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن مجید سیکھے اور سکھائے۔ یہی چیز ہے جس نے مجھ کو ابو عبدالرحمٰن نے کہا کہ مجھے اس سند پر بٹھایا ہے ۔ ابو عبدالرحمٰن نے حضرت عثمان کے زمانے میں حجاج بن یوسف کے زمانے تک قرآن کی تعلیم دی۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in teaching the Qur’an · Hadith 2207

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تعليم القرآن · حديث 2208

2208 - أخبرنا أبو القاسم بن حبيب المفسر حدثني أبي ثنا إبراهيم بن علي الذهلي ثنا أبو خالد بن زيد بن صالح اليشكري ثنا خارجة بن مصعب عن سعيد بن أبي عروبة عن أشعب الحداني عن شهر بن حوشب عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : فضل القرآن على سائر الكلام كفضل الرحمن على سائر خلقه

ہمیں خبر دی ہے ابو القاسم بن حبیب مفسر نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابراہیم بن علی ذہلی نے ان کو ابو خالد بن زید بن صالح یشکری نے ان کو خارجہ بن مصعب نے ان کو سعید بن ابو عروبہ نے ان کو اشعب حدانی نے ان کو شہر بن حوشب نے ان کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:۔ " فضل القرآن علی سائر الکلام کفضل الرحمٰن علی سائر خلقہ"۔ قرآن مجید کی فضیلت تمام کلاموں پر ایسے ہے جیسے رحمٰن کو اپنی تمام مخلوق پر فضیلت ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← أشعب الحداني ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← خَارِجَةَ بْنِ مُصْعَبٍ ← أبو خالد بن زيد بن صالح اليشكري ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ ← أَبِي ← أبو القاسم بن حبيب المفسر

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in teaching the Qur’an · Hadith 2208

chevron_left Previous
1…474849…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood