شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في مقدار ما يستحب فيه القراءة · حديث 2197
2197 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن محمد بن الحسن السراج ثنا مطير ثنا علي بن حرب الموصلي ثنا حفص بن عمر يعني بن حكيم ثنا عمرو بن قيس عن عطاء عن ابن عباس : قال النبي صلى الله عليه و سلم : من قرأ في ليلة مائة آية لم يكتب من الغافلين و من قرأ مائتي آية كتب من العابدين و من قرأ ثلثمائة آية كتب من القانتين و من قرأ أربعمائة آية أصبح له قنطار من الأجر و القنطار مائة و عشرون قيراطا و القيراط مثل أحد
اور ہمیں خبر دی ہے ابو نصرہ بن قتادہ نے ان کو ابو الحسن محمد بن حسن سراج نے ان کو مطیر نے ان کو علی بن حرب موصلی نے ان کو حفص بن عمرو یعنی بن حکیم نے ان کو عمرو بن قیس نے عطا سے اس نے ابن عباس سے انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایک رات میں ایک سو آیات (تہجد میں ) پڑھ لے وہ غافلوں سے نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص دو سو آیات پڑھ لے وہ عبادت گزار وں میں لکھ دیا جائے گا اور جو شخص تین سو آیات پڑھ لے وہ رضاعت شعاروں میں سے لکھ دیا جاتا ہے اور جو شخص چار سو آیات پر صبح کرے گا تو اس لئے اجر کے دوڈھیر ہوں گے اور ایک ڈھیر ایک سو بیس قیراط کا ہوتا ہے اور ایک قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوتا ہے ۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← عَمْرَو بْنَ قَيْسٍ، ← حفص بن عمر يعني بن حكيم ← عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الْمُوصِلِيُّ، ← مطير ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on how much it is desirable to read · Hadith 2197
