Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في مقدار ما يستحب فيه القراءة · حديث 2173

2173 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو نصر النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عمارة بن عمير عن أبي الأحوص قال عبد الله : اقرؤا القرآن في سبع و لا تقرأوا في أقل من ثلاث و ليحافظ الرجل في يومه و ليلته على جزء

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصورنضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو ابو معاویہ نے اعمش سے ان کو عمارہ بن عمیر نے ان کو ابوالال حوص نے کہ عبداللہ نے کہا کہ قرآن مجید کو سات دن میں ختم کر و اور تین دن سے کم میں تو نہ پڑھوں۔ انسان کو چاہیے کہ اپنے شب و روز میں سے وقت نکال کر قرآن کے ایک پارے یا کچھ حصے کی تلاوت کی حفاظت کیا کرے۔

أَبِي الْأَحْوَصِ، ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أبو نصر النضروي، ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on how much it is desirable to read · Hadith 2173

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في مقدار ما يستحب فيه القراءة · حديث 2174

2174 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور أنا خالد عن أبي قلابة أن أبي بن كعب : كان يختم القرآن في كل ثمان و إن تميم الداري كان يختم في كل سبع و رواه أيوب عن أبي قلابة عن أبي المهلب عن أبي بن كعب

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو خالد نے ان کو ابو قلابہ نے ان کو ابی بن کعب نے جو کہ قرآن مجید کو ہر آٹھ دن میں ختم کر تے تھے اور حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ ہ رسات روز میں ختم کرتے تھے اور اس کو روایت کیا ہے ایوب نے ابو قلابہ سے اس نے مھلب سے اس نے ابی بن کعب سے۔

أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on how much it is desirable to read · Hadith 2174

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في مقدار ما يستحب فيه القراءة · حديث 2175

2175 - أخبرنا أبو طاهر أنا أبو عثمان البصري ثنا أبو أحمد الفراء ثنا يعلى بن عبيد ثنا سفيان عن أيوب عن أبي قلابة عن رجل سماه عن أبي بن كعب قال : إن أهون ما ختم القرآن في ثمان

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر نے ان کو ابو عثمان بصری نے ان کو ابو احمد فراء نے ان کو یعلی بن عبید نے ان کو سفیان نے ان کو ایوب نے ابو قلابہ سے اس نے ایک آدمی سے جس کا انہوں نے نام لیا تھا اس نے ابی بن کعب سے کہ انہوں نے فرمایا ۔ بے شک آسان ترین یہ ہے کہ آٹھ دن میں انسان ختم کرے۔

إن أهون ما ختم القرآن في ثمان ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← رَجُلٍ سَمَّاهُ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← أَبُو أَحْمَدَ الْفَرَّاءُ، ← أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on how much it is desirable to read · Hadith 2175

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في مقدار ما يستحب فيه القراءة · حديث 2176

2176 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن أبي طالب أنا أبو أحمد الزبيري ثنا عبد الله بن عبد الرحمن بن يعلى بن كعب عن عثمان بن عبد الله بن أوس عن جده أوس : أنه كان في الوفد الذي وفدوا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم من بني مالك و أنزلهم في قبة بين المسجد و بين أهله فكان يختلف إليهم و يحدثهم بعد العشاء الآخرة قائما حتى يراوح بين قدميه و أكثر ما يحدثهم عن قريش ثم قال : و لا سواء كنا بمكة مستضعفين مستذلين فلما قدمنا المدينة كانت سجال الحرب لنا و علينا قال : فحبس عنا ليلة فقلنا يا رسول الله لقد أبطأت عنا الليلة عما كنت تأتينا قال : نعم طرأ على حزب من القرآن فأحببت أن لا أخرج حتى أقضيه فلما أصبحنا قلنا لأصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم حدثنا أنه طرأ على حزب من القرآن فقلنا لهم كيف تحزبون القرآن ؟ قالوا : نحزبه ثلاث سور و خمس سور و سبع سور و تسع سور و إحدى عشر سورة و حزب المفصل فما بين قاف و أسفل

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافط نے اور ابو بکر احمد بن حسن نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابوا لعباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو ابو احمد زبیری نے ان کو عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن یعلی بن کعب نے ان کو عثمان بن عبداللہ بن اوس نے ان کے دادا اوس سے کہ وہ اس وفد میں تھے جو وفد بنی مالک سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ٹھہرایا تھا اس خیمے میں جو مسجد کے اور آپ کے گھر کے درمیان میں نصب تھا۔ لہذا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف آتے جاتے تھے اور عشاء کے بعد کھڑے ہو کر ان کو نصیحت فرماتے تھے یہاں تک کہ آپ کے دونوں قدموں کے درمیان فاصلہ ہو جاتا اور زیادہ تر باتیں قریش سے متعلق بھی کرتے تھے ا ن کے ساتھ ۔ اس کے بعد اس سے کہا کہ نہیں برابر ہم لوگ مکہ میں تھے تو کمزور سمجھے جا رہے تھے، ذلیل سمجھے جارہے تھے ۔ بس جب ہم مدینے میں آئے تو جنگ کا ڈول کبھی ہمارے لئے تھا کبھی ہمارا حریف کے لیے اور کہا کہ ایک رات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سے رک گئے ۔ ہم لوگوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آج رات آپ ہمارے پاس تشریف نہیں لائے۔ آپ کس چیز میں ہم سے مصروف تھے ۔ آپ نے فرمایا جی ہاں اوپر قرآن کا ایک حزب ( حصہ ) اترنا شروع ہو گیا تھا لہذا میں نے چاہا کہ میں اس کے پورا ہو جانے سے پہلے نہ نکلوں وہ پورا ہو جائے پھر باہر آؤں ۔ اچانک جب ہم لوگوں نے صبح کی تو ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں یہ بات بتائی ہے کہ مجھے پر قرآن میں سے کے حزب اور (حصے ) کیسے کرتے ہو؟ انہوں نے بتایا کہ ہم اس کے حزب بناتے تھے ۔ تین سورتوں کے پانچ سورتوں کے اور سات سورتوں کے نو سورتوں کے تیرہ سورتیں اور گیارہ سورتیں ، حزب مفصل یعنی سورۃ ق سے آخر تک۔

جَدِّهِ أَوْسٍ ← عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَوْسٍ ← عبد الله بن عبد الرحمن بن يعلي بن كعب ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on how much it is desirable to read · Hadith 2176

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في مقدار ما يستحب فيه القراءة · حديث 2177

2177 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسن ثنا أبو العباس هو الأصم ثنا العباس بن محمد الدوري ثنا محاضر ثنا الأعمش عن شقيق بن سلمة قال : جاء رجل من بجيلة يقال له نهيك بن سنان إلى عبد الله فقال : يا أبا عبد الرحمن كيف تقرأ هذا الحرف أياء هذا أو ألفا ماء غير آسن و ياسن قال : كل القرآن أحصيت غير هذا قال إني أقرأ المفصل في ركعة قال : هذا كهذ الشعر إن قوما يقرؤن القرآن لا يجاوز تراقيهم فإذا وقع في القلب فرسخ نفع إن من أفضل الصلاة الركوع و السجود و إني لأعلم النظائر التي كان يقرأ بها رسول الله صلى الله عليه و سلم سورتين في كل ركعة ثم قام فدخل معه فخرج علينا علقمة قال : فقال من العشرين الأولى من المفصل على تأليف عبد الله سورة الرحمن نظرها عم يتساءلون مخرج في الصحيح من حديث الأعمش

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر احمد بن حسن نے ان کو ابو العباس نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو محاضر نے ان کو اعمش نے ان کو شقیق بن سلمہ نے انہوں نے کہا کہ آیک آدمی بجیلہ سے آیا ۔ اسے ٹھیک بن سنان کہتے تھے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس کے پاس اور کہتے لگا اے ابو عبدالرحمٰن آپ اس حرف کو کیسے پڑھیں گے ۔ کیا یہ یا ء ہے یا الف ہے ۔ ماء آسن یا یاسن ۔ انہوں نے فرمایا کہ پورا قرآن اس نے یاد کیا ہے سوائے اسی ایک حرف کے ۔ فرمایا کہ میں مفصل سورتوں کو ایک رکعت میں پڑھتا ہوں تیزی کے ساتھ جیسے شعر جلدی سے کہتے ہیں۔ بے شک ایک قوم قرآن مجید کو اس طرح پڑھیں گے کہ وہ ان کی ہنسیلوں سے تجاوز نہیں کرے گا۔ جس وقت قرآن دل میں اتر جائے تو پکا ہو جاتا ہے اور نفع دیتا ہے ۔ بے شک افضل نماز رکوع اور سجود ہے ۔ بے شک میں البتہ کئی نظائر جانتا ہوں جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھتے تھے دو سورتیں ہر رکعت میں پھر کھڑے ہوئے اور اندر چلے گئے اس کے ساتھ ۔ پھر علقمہ ہمارے پاس نکل کر آئے ، کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا پہلی بیس میں سے مفسل میں سے حضرت عبداللہ کی ترکیب پر سورۃ الرحمٰن اس کی نظیر و مثال ۔ عم یتساء لون ہے ، یہ صحیح بخاری میں حدیچ اعمش سے منقول ہے ۔

جاء رجل من بجيلة يقال له نهيك بن سنان إلى عبد الله ← شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَاضِرٌ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on how much it is desirable to read · Hadith 2177

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في مقدار ما يستحب فيه القراءة · حديث 2178

2178 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا الحسن بن محمد بن الصباح الزعفراني ثنا عثمان ثنا شعبة ( ح ) و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي ثنا إبراهيم بن الحسين ثنا آدم ثنا شعبة ثنا عمرو بن مرة قال : سمعت أبا وائل يقول : جاء رجل إلى ابن مسعود فقال : إني قرأت المفصل الليلة في ركعة فقال له ابن مسعود هذا كهذ الشعر لقد عرفت النظائر التي كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقرن بينهن عشرين سورة من أول المفصل سورتين في كل ركعة لفظ حديث آدم رواه البخاري في الصحيح عن آدم بن أبي أياس و أخرجه مسلم من وجه آخر عن شعبة

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصبہانی نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو حسن بن محمد بن صباح زعفرانی نے ان کو عثمان نے ان کو شعبی نے ۔۔ ۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ہے عبدالرحمٰن بن حسن قاضی نے ان کو ابراہیم بن حسین نے ان کو آدم نے ان کو شعبہ نے ان کو عمرو بن مرہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو وائل سے سنا وہ کہتے تھے ایک آدمی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا آج رات میں نے ایک رکعت میں مفصل پڑھی۔ ابن مسعود نے ان سے کہا کہ جلدی جلدی پڑھا جیسے شعر پڑھتے ہیں البتہ تحقیق میں نظائر جانتا ہوں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس کے مابین ملاتے اور جوڑتے تھے ۔ بیس سورتیں اول فصل میں سے دو سورتیں ہر رکعت میں پڑھتے تھے۔ ( یہ حدیث آدم کے الفاظ ہیں ) بخاری نے اس کو صحیح میں آدم بن ابو اماس سے اس کو روایت کیا ہے اور اس کو مسلم نے دوسرے طریق سے شعبہ سے۔

أَبَا وَائِلٍ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← شُعْبَةُ، ← عُثْمَانَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on how much it is desirable to read · Hadith 2178

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في مقدار ما يستحب فيه القراءة · حديث 2179

2179 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا الحسن بن محمد الزعفراني ثنا محمد بن الصباح ثنا هشيم ثنا سيار ثنا أبو وائل قال : جاء رجل إلى عبد الله فقال إني قرأت المفصل البارحة فقال عبد الله هذا كهذ الشعر و نثرا كنثر الدقل إني أفصل لتفصلوه و لقد علمت النظائر التي كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقرأ سورتين في ركعة

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو حسن بن محمد زعفرانی نے ان کو محمد بن صباح ان کو ھیثم نے ان کو سیار نے ان کو ابو وائل نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس آیا اور کہنے لگا میں نے کل رات مفصل سورتیں پڑھی تھیں ۔ عبداللہ نے کہا کہ شعروں کی طرح جلدی جلدی پڑھی ہوں گی اور ردی کھجور کی طرح پھینک کر بکھیر دی ہوں گی بے شک میں تفصیل بتاتا ہوں تاکہ تم اس کی تفصیل سمجھو البتہ میں سورتوں کے باہم مشابہ جوڑے جانتا ہوں جن کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو سورتیں ایک رکعت میں پڑھتے تھے۔

الْمُفَصَّلَ الْبَارِحَةَ ← إِنِّي ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللهِ ← أَبُو وَائِلٍ ← سَيَّارٍ، ← هُشَيْمٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on how much it is desirable to read · Hadith 2179

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في مقدار ما يستحب فيه القراءة · حديث 2180

2180 - و روينا عن عائشة : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يقرن بين السور أو قال بين السورتين في ركعة من المفصل

اور ہم نے روایت کی ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کئی سورتوں کو جمع کر لیتے تھے یا یوں کہا کہ مفصل سورتوں میں سے ہر رکعت میں دو سورتوں کو جمع کر لیتے تھے ۔

عَائِشَةَ ← و روينا

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on how much it is desirable to read · Hadith 2180

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في مقدار ما يستحب فيه القراءة · حديث 2181

2181 - و روينا عن عمرو بن عمرو في حديث ابن عمرو الثلاث و روى عنه أكثر منها : ـ

اور ہم نے روایت کی ہے عمرو بن عمرو سے ابن عمرو کی حدیث میں تین سورتیں جمع کرتے تھے اور اس سے زیادہ کو جمع کرنا بھی مروی ہے ۔

و روينا

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on how much it is desirable to read · Hadith 2181

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في مقدار ما يستحب فيه القراءة · حديث 2182

2182 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا عثمان بن عمر ثنا مسدد ثنا عبد الواحد ثنا عاصم الأحول عن أبي العالية قال : حدثني من سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لكل سورة حظها من الركوع و السجود هذا كله على طريق الاستحباب و أما الجواز

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو عثمان بن عمر نے ان کو مسدد نے ان کو عبدالواجد نے ان کو عاصم احول نے ان کو ابو العالیہ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیا ن کی ہے اس نے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا فرماتے تھے ۔ ہر سورۃ کے لئے اس کا حصہ ہے رکوع میں سے اسے اور سجود میں سے ۔ یہ سب کچھ بہ طریق استحباب ہے بہرحال جواز وہ آگے مذکورہ ہوگا۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← مَنْ ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ، ← مُسَدَّدٌ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on how much it is desirable to read · Hadith 2182

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في مقدار ما يستحب فيه القراءة · حديث 2183

2183 - فقد أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا الحسن بن محمد الزعفراني ثنا يزيد بن هارون ثنا محمد بن عمرو عن محمد بن إبراهيم عن عبد الرحمن بن عثمان قال : قمت خلف المقام و أنا أريد أن لا يغلبني عليه أحد تلك الليلة فإذا رجل يغمزني فلم ألتفت ثم غمزني فالتفت فإذا عثمان بن عفان فتجنبت فتقدم فقرأ القرآن في ركعة

بس تحقیق ہمیں خبر دی ہے ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو حسن بن محمد زعفرانی نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو محمد بن عمرو نے ان کو محمد بن ابراہیم نے عبدالرحمٰن بن عثمان سے انہوں نے کہا کہ میں مقام ابراہیم کے پیچھے عبادت کرنے کھڑا ہوا اور میں ارادہ کرتا تھا کہ آج رات مجھ پر کوئی غالب نہیں آ سکتا ۔ اچانک ایک آدمی نے میرا بازو ہلایا میں متوجہ نہیں ہوا ۔ اس نے پھر مجھے ہلایا پھر میں متوجہ ہوا پس اچان عثمان بن عفان تھے میں ایک طرف ہو گیا وہ اگے ہو گئے پھر انہوں نے پورا قرآن مجید ایک رکعت میں پڑھ دیا۔

قمت خلف المقام و ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ ← فَقَدْ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on how much it is desirable to read · Hadith 2183

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في مقدار ما يستحب فيه القراءة · حديث 2184

2184 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار ببغداد ثنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا سعدان بن نصر ثنا أبو معاوية عن عاصم الأحول عن ابن سيرين عن تميم الداري : أنه قرأ القرآن في ركعة

ہمیں خبر دی ابو محمد عبداللہ بن یحییٰ بن عبدالجبار نے بغداد میں ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو سعدان بن نصر نے ان کو ابو معاویہ نے عاصم احوال سے اس نے ابن سیرین سے اس نے تمیم داری سے کہ انہوں نے قرآن مجید ایک رکعت میں پڑھ دیا۔

تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، أَنَّهُ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي رَكْعَةٍ. ← ابْنِ سِيرِينَ، ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار ببغداد

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on how much it is desirable to read · Hadith 2184

chevron_left Previous
1…454647…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood