Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترتيل القراءة · حديث 2161

2161 - اخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا ثنا أبو العباس هو الأصم ثنا هارون بن سليمان ثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن منصور عن مجاهد : ـ { و رتل القرآن ترتيلا } قال : بعضه على إثر بعض و كل إنسان الزمناه طائره في عنفه أو عمله

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا ان کو حدیث بیان کی ہے ابو العباس اصم نے ان کو ہارون بن سلیمان نے ان کو عبدالرحمٰن بن مہدی نے ان کو سفیان نے ان کو منصور نے ان کو مجاہد نے ( ورتل القرآن ترتیلا) ٹھہر ٹھہر کر پڑھیے کا مطلب ہے کہ بعض کو بعض کے پیچھے کیجئے اور وکل انسان الزمنہ طائرہ فی عنقہ کی ہر انسان کا اعمال نامہ ہم نے اس کی گردن میں لازم کر دیا ہے یا اس کے عمل میں ۔

مجاهد و رتل القرآن ترتيلا ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in recitation of recitation · Hadith 2161

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في مقدار ما يستحب فيه القراءة · حديث 2162

2162 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا العباس بن محمد ثنا سعد بن حفص الضخم ثنا شيبان بن الرحمن ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس المحبوبي ثنا سعيد بن مسعود ثنا عبد الله بن سفيان عن يحيى عن محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان عن أبي سلمة قال : و احسبني أني قد سمعت أبي سلمة عن عبد الله بن عمرو : قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : اقرأ القرآن في شهر قلت : إني أجد قوة قال : فاقرأه في عشرين ليلة قلت : إني أجد قوة قال : اقرأه في خمس عشرة ليلة فقلت إني أجد قوة قال : فاقرأه في عشر قلت إني أجد قوة قال : فاقرأه في سبع و لا تزد على ذلك رواه البخاري عن إسحق عن عبيد الله بن موسى و عن سعد بن حفص و رواه مسلم عن القاسم بن زكريا عن عبيد لفظ حديثهما سواء غير أن في حديث ابن بشران عن محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان مولى بني زهرة و لم يذكر في قوله لي

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسن بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو عباس بن محمد نے ان کو سعد بن حفص ضخم نے ان کو شیبان بن رحمٰن نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان وک ابو العباس مح بوبنی نے ان کو سعید بن مسعود نے ان کو عبداللہ بن سفیان نے ان کو یحییٰ نے ان کو محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان نے انہوں نے ابو سلمہ سے انہوں نے کہا میرا گمان ہے کہ میں نے سنا ابو سلمہ سے انہوں نے عبداللہ بن عمرو سے کہ مجھے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ قرآن مجید کو ایک مہینے میں ختم کر۔ میں نے کہا کہ میں اس سے جلدی کرنے کی طاقت رکھتا ہوں ۔ انہوں نے فرمایا پھر بیس روز میں ختم کیجئے۔ میں نے کہا کہ میں اس سے جلدی کر سکتا ہوں ۔ انہوں نے فرمایا کہ پھر پندرہ راتوں میں پڑھیے میں نے کہا کہ یں اس سے جلدی کر سکتا ہوں فرمایا پھر دس راتوں میں کیجئے ۔ میں نے کہا میں اس سے جلدی بھی کر سکتا ہوں فرمایا کہ پھر سات راتوں میں ختم کیجئے مگر اس سے زیادہ جلدی نہ کیجئے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے اسحٰق سے اس نے عبید بن موسیٰ سے اور سعید بن حفص سے اور اس کو مسلم نے روایت کیا ہے قاسم بن زکریا سے ا س نے عبید اللہ سے دونوں کی روایت کے الفاظ برابر ہیں سوائے اس کے کہ ابن بشران کی روایت میں محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان مولیٰ بنی زہرہ سے ہے اور اس میں قول " لی" کا ذکر نہیں ہے ۔

اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ← يَحْيَى ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُفْيَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← شيبان بن الرحمن ← سعد بن حفص الضخم ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on how much it is desirable to read · Hadith 2162

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في مقدار ما يستحب فيه القراءة · حديث 2163

2163 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسه ثنا أبو داود ثنا نوح بن حبيب ثنا عبد الرزاق ثنا معمر عن سماك بن الفضل عن وهب بن منبه عن عبد الله بن عمرو أنه : سأل النبي صلى الله عليه و سلم : في كم يقرأ القرآن قال في أربعين يوما ثم قال : في شهر ثم قال : في عشرين ثم قال : في خمس عشرة ثم قال في عشرة ثم قال في سبع لم ينزل عن السبع كذا في هاتين الروايتين

ہمیں خبر دی ہے ابو علی روز باری نے ان کو ابوبکر بن درسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو نوح بن حبیب ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو سماک بن فضل نے ان کو وہب بن منبہ نے ان کو عبداللہ عمرو نے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کتنی مدت میں قرآن مجید کا ختم ہونا چاہیے فرمایا کہ چالیس دن میں اس کے بعد فرمایا کہ ایک ماہ میں پھر فرمایا کہ بیس دن میں پھر فرمایا کہ پندرہ دن میں پھر فرمایا دس دن میں پھر فرمایا کہ سات دن میں ۔ سات سے نیچے نہیں اترنا چاہیے ۔ ان دونوں روایتوں میں ایسے ہے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← سِمَاکِ بْنِ الْفَضْلِ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on how much it is desirable to read · Hadith 2163

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في مقدار ما يستحب فيه القراءة · حديث 2164

2164 - أخبرنا أبو علي أنا أبو بكر ثنا داود ثنا سليمان بن حرب ثنا حماد عن عطاء بن السائب عن أبيه عن عبد الله بن عمرو قال : قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : صم من كل شهر ثلاثة أيام و اقرأ القرآن في شهر فناقصني و ناقصته ثم قال صم يوما و أفطر يوما قال عطاء و اختلفنا عن أبي فقال بعضنا سبعة أيام و قال بعضنا خمسة

ہمیں خبر دی ہے ابو علی نے ان کو ابوبکر نے ان وک داؤد نے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو حماد نے ان کو عطاء بن سائب نے ان کو ان کے والد نے ان کو عبداللہ بن عمر نے انہوں نے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہر مہینے تین روزے رکھیے اور قرآن مجید کو ایک ماہ میں پورا کیجئے۔ پھر انہوں نے کم کیا تو میں نے کم کر والیا پھر آپ نے فرمایا ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن آرام کرو۔ حضرت عطاء نے فرمایا کہ ہم نے والد سے اختلاف کیا لہذا ہم میں سے بعض نے کہا سات دن اور بعض نے کہا پانچ دن۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادٌ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← دَاوُدُ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو عَلِيٍّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on how much it is desirable to read · Hadith 2164

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في مقدار ما يستحب فيه القراءة · حديث 2165

2165 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود الطيالسي ثنا شعبة عن شعبة عن عمرو بن مرة سمع أبا العباس يحدث عن عبد الله بن عمرو : أن النبي صلى الله عليه و سلم أمره أن يقرأ القرآن في خمس

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد طیالسی نے نا کو شعبہ نے ان کو عمرو بن مرہ نے انہوں نے سنا ابو العباس سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں عبداللہ بن عمر سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو حکم دیا تھا کہ وہ قرآن مجید پانچ دن میں پورا کرے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← ابا العباس ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on how much it is desirable to read · Hadith 2165

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في مقدار ما يستحب فيه القراءة · حديث 2166

2166 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن أبي الفوارس قالا ثنا أبو العباس الأصم ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا أسباط بن محمد عن مطرف عن أبي إسحق عن أبي بردة عن عبد الله بن عمرو قال : قلت : يا رسول الله في كم أختم القرآن ؟ قال : اختمه في كل شهر قال : قلت إني أطيق أفضل من ذلك قال : اختمه في عشرين قال : قلت إني أطيق أفضل من ذلك قال : في خمس عشرة قال : قلت إني أطيق أفضل من ذلك قال : اختمه في عشر قال : قلت إني أطيق أفضل من ذلك قال : اختمه في خمس قال : قلت إني أطيق أفضل من ذلك قال : فما رخص لي

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن ابوالفوارس نے دونوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس اصم نے ان کوحسن بن علی بن عفان نے ان کو اسباط بن محمد نے مطرف سے ان کو ابو اسحٰق نے ان کو ابو بردہ نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کتنے دلوں میں قرآن مجید ختم کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اسے ایک مہینے میں پورا کر۔ میں نے کہا کہ میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں فرمایا کہ پھر بیس دن میں کیجئے میں نے کہا میں اس سے جلدی کر سکتا ہوں فرمایا کہ پھر پندرہ دن میں کیجئے۔ میں نے عرض کی کہ میں اس سے جلدی کر سکتا ہوں فرمایا کہ پھر ہر دس دنوں میں ختم کیجئے۔ میں نے کہا کہ میں اس سے بھی جلدی کر سکتا ہوں ۔ فرمایا کہ پھر پانچ روز میں کیجئے ۔ میں نے کہا میں اس سے بھی جلدی کر سکتا ہوں چنانچہ اس سے جلدی کرنے کی مجھے اجازت نہیں ہے ۔

قُلْتُ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبِي إِسْحَقَ ← مُطَرِّفٍ ← أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن أبي الفوارس

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on how much it is desirable to read · Hadith 2166

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في مقدار ما يستحب فيه القراءة · حديث 2167

2167 - و قد أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن عبد الله أنا الحسن بن سفيان ثنا محمد بن بشار ثنا محمد ثنا شعبة عن المغيرة قال : سمعت مجاهدا عن عبد الله بن عمرو : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : صم من الشهر ثلاثة أيام قال إني أطيق أفضل من ذلك : فما زال حتى قال صم يوما و أفطر يوما قال اقرأ القرآن في شهر قال : إني أطيق أفضل من ذلك قال فما زال حتى قال إقرأه في ثلاث رواه البخاري عن محمد بن بشار

تحقیق ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر بن عبداللہ نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو محمد بن بشار نے ان کو محمدبن شعبہ نے ان کو مغیرہ نے کہتے ہیں کہ میں نے سنا مجاہد سے اس نے عبداللہ بن عمرو سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ نے فرمایا ہر مہینے میں تین دن کے روزے رکھیے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ کم کرتے رہے میں بار بار سوال کرتا رہا حتیٰ کہ آپ نے فرمایا کہ ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن آرام کرو اور فرمایا کہ ہر مہینے قرآن مجید کا ختم کیا کرو میں نے کہا میں اس سے جلدی کر سکتا ہوں میں بار بار سوال کرتا رہا اور آپ کم کرتے رہے حتیٰ کہ فرمایا کہ تین دل میں ختم کرو۔

مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← إقرأه في ثلاث رواه البخاري ← فما زال حتى ← إني أطيق أفضل من ذلك ← اقْرأ الْقُرآن في شهرٍ، ← صم يوما و أفطر يوما ← إني أطيق أفضل من ذلك فما زال حتى ← صُمْ مِنْ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ← النبي صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← مُجَاهِدًا، ← الْمُغِيرَةِ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و قد

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on how much it is desirable to read · Hadith 2167

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في مقدار ما يستحب فيه القراءة · حديث 2168

2168 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا همام ثنا قتادة ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الطيب محمد بن عبد الله الشعيري ثنا محمش بن عصام حدثني حفص بن عبد الله حدثني إبراهيم بن طهمان عن شعبة عن قتادة عن يزيد بن عبد الله بن الشخير عن عبد الله بن عمرو أنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لم يفقه من قرأ القرآن في أقل من ثلاث

ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو ہمام نے ان کو قتادہ نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوالطیف محمد بن عبداللہ شعیری نے ان کو محمش بن عصام نے ان کو بیان کی حفص بن عبداللہ نے ان کو ابراہیم بن طہمان نے ان کو شعبہ نے ان کو قتادہ نے ان کو یزید بن عبداللہ بن شخیر نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "لم یفقہ من قرء القرآن فی اقل من ثلاث" جس نے تین دن سے کم میں قرآن ختم کیا اس نے اسے نہیں سمجھا ۔ (معلوم ہوا کہ پڑھنے کا مقصد محض الفاظ کے ورد مقصود نہیں ہوتا بلکہ سمجھ کر پڑھنا ہی مقصود نہیں ہوتا بلکہ سمجھ کر پڑھنا ہی مقصود ہوتا ہے جب ہی تو آپ نے فرمایا کہ جس نے تین سے جلدی ختم کیا اس نے قرآن کو بالکل نہیں سمجھا کاش کہ ہمیں ساری باتیں سمجھ میں آجائیں)۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← مَحْمَشُ بْنُ عِصَامٍ، ← أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّعِيرِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on how much it is desirable to read · Hadith 2168

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في مقدار ما يستحب فيه القراءة · حديث 2169

2169 - أخبرنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن إبراهيم الإمام ثنا أبو بكر أحمد بن إبراهيم الإسماعيلي ثنا محمد بن عبد الله بن سليمان ثنا يحيى بن عبد الحميد ثنا أبو بكر بن عياش عن خيثمة عن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : في كم تقرأ القرآن قال : قلت : في كل ليلة قال : فلا تفعل و لكن اقرأه في ثلاث

ہمیں خبر دی ہے ابو اسحٰق ابراہیم بن محمد بن ابراہیم امام نے ان کو ابو بکر احمد بن ابن ابراہیم اسماعیلی نے ان کو محمد بن عبداللہ بن سلیمان نے ان کو یحییٰ بن عبدالحمید نے ان کو ابوبکر بن عیاش نے ان کو خیثمہ نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کتنے دن میں تم قرآن پڑھ لیتے ہو کہتے ہیں کہ میں نے ہر رات میں آپ نے فرمایا ایسا نہ کرو مگر اسے تین دن میں ختم کرو۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← خيثمة ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← يحيى بن عبد الحميد ← محمد بن عبد الله بن سليمان ← أبو بكر أحمد بن إبراهيم الإسماعيلي ← أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن إبراهيم الإمام

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on how much it is desirable to read · Hadith 2169

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في مقدار ما يستحب فيه القراءة · حديث 2170

2170 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر بن الرزاز ثنا يحيى بن جعفر ثنا يعقوب بن إسحاق الحضرمي ثنا شعبة عن علي بن بذيمة عن أبي عبيدة عن عبد الله قال : من قرأ القرآن في أقل من ثلاث فهو راجز رواه أبو إسحق عن أبي عبيدة و زاد فيه : هذا كهذا الشعر و نثرا كنثر الدقل

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر بن رزاز نے ان کو یحییٰ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن اسحٰق حضرمی نے ان کو شعبہ نے ان کو علی بن بذیمہ ان کو ابو عبیدہ نے ا ن کو عبداللہ نے اس نے کہا کہ جس نے قرآن مجید تین دن سے کم میں پڑھا وہ شعر گوئی کرتا ہے ۔ اس کو ابو اسحٰق نے ابو عبیدہ سے روایت کیا ہے اور اس میں ان الفاظ کا اضافہ کی اہے اور اس نے شعر کی طرح اس کو جلدی کیا ہے اور قرآن کو اس نے ایسے بکھیر ا ہے جیسے ردی کھجور کو پھینک کر بکھیرتے ہیں۔

أبي عبيدة و زاد فيه هذا كهذا الشعر و نثرا كنثر الدقل ← من قرأ القرآن في أقل من ثلاث فهو راجز رواه أبو إسحق ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ ← شُعْبَةُ، ← يعقوب بن إسحاق الحضرمي ← يَحْيَی بْنُ جَعْفَرٍ ← أبو جعفر بن الرزاز ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on how much it is desirable to read · Hadith 2170

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في مقدار ما يستحب فيه القراءة · حديث 2171

2171 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة قال : ثنا سعيد بن منصور ثنا هشيم بن حصين عن عبيد الله بن عبد الله قال : كان ابن مسعود يختم القرآن في ثلاث لا يستعين عليه من النهار إلا باليسير

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے اس نے کہا کہ سعید بن منصور نے کہا ان کو بیان ھیثم بن حصین نے ان کو عبید اللہ بن عبداللہ نے کہ حضرت ابن مسعود تین دن میں ختم کرتے تھے صرف رات رات میں پڑھتے تھے اس میں دن کے وقت سے مدد نہیں لیتے تھے مگر معمولی ساوقت ۔

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← هشيم بن حصين ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on how much it is desirable to read · Hadith 2171

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في مقدار ما يستحب فيه القراءة · حديث 2172

2172 - و روينا عنه من وجه آخر : أنه كان يختم في رمضان في ثلاث و في غير رمضان من الجمعة إلى الجمعة

اور ہم نے روایت کی ہے انہیں سے دوسرے طریق سے کہ وہ رمضان میں تین رات میں ختم کرتے تھے اور رمضان کے علاوہ جمعہ سے جمعہ تک ختم کرتے تھے۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on how much it is desirable to read · Hadith 2172

chevron_left Previous
1…444546…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood