Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة الكهف · حديث 2448

2448 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه أنا الحسن بن علي بن زياد ح و أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو العباس محمد بن إسحاق الصبغي ثنا الحسن بن علي بن زياد ثنا ابن أبي أويس حدثني محمد بن عبد الرحمن الجدعاني عن سليمان بن مرقاع عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن ابن عباس : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : قراءة سورة الكهف التي تدعى في التوراة الحائلة تحول بين قارئها و بين النار تفرد به محمد بن عبد الرحمن هذا و هو منكر

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابو بکر احمد بن اسحٰق فقیہ نے ان کو حسن بن علی بن زیاد نے (ح) اور ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو العباس محمد بن اسحٰق صبغی نے ان کو حسن بن علی بن زیاد نے ان کو ابن ابی اویس نے ان کو حدیث بیان کی محمد بن عبدالرحمٰن جدعانی نے ان کو سلیمان بن مرقاع نے ان کو عمر بن شعیب نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابن عباس نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سورۃ کہف کا پڑھنا جس کو توراۃ میں الحائلہ کے نام کے ساتھ پکاری جاتی ہے ۔ وہ حائل ہو جاتی ہے اس کو پڑھنے والے اور جہنم کے درمیان ۔ محمد بن عبدالرحمٰن اس کے ساتھ منفرد ہے اور وہ منکر ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← سليمان بن مرقاع ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَدْعَانِيُّ، ← ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ← الحسن بن علي بن زياد ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّبُغِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ← و، ← الحسن بن علي بن زياد ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Kahf · Hadith 2448

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة بني إسرائيل و الكهف و مريم و طه و الأنبياء · حديث 2449

2449 - أخبرنا أبو علي الروذباري ثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن محمديه العسكري ثنا جعفر بن محمد القلانس ثنا آدم بن أبي إياس ثنا شعبة عن أبي إسحاق قال : سمعت عبد الرحمن بن يزيد يقول : سمعت ابن مسعود يقول في بني إسرائيل و الكهف و مريم و طه و الأنبياء أنهم من العتاق الأول و هن من تلادي رواه البخاري في الصحيح عن آدم بن أبي إياس و العتاق جمع عتيق و العرب تجعل كل شيء بلغ الغاية في الجودة عتيق يريد تفضيل هذه السور لما تضمن من ذكر القصص و أخبار الأنبياء عليهم الصلاة السلام و أخبار الأمم و التلاد ما كان قديما من المال يريد أنهما من أوائل السور المنزلة في أول الإسلام لأنها مكية و أنها من أول ما قرأه و حفظه من القرآن و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابو علی روز باری نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن محمدیہ عسکری نے ان کو جعفر بن محمد قلانس نے ان کو آدم بن ابو ایاس نے ان کو شعبہ نے ان کو ابو اسحٰق نے انہوں نے کہا کہ میں نے سنا عبدالرحمٰن بن یزید سے وہ کہتے تھے میں نے سنا ابن مسعود سے وہ فرماتے تھے کہ سورۃ بنی اسرائیل ، سورۃ کہف ، سورۃ مریم ، سورۃ طہ ، سورۃ انبیاء ، یہ ساری سورتیں عتاق اول ہیں جو اپنی جودۃ میں اعلیٰ درجے پر ہیں اور قرآن کی پہلی پہلی سورتوں میں سے ہیں ۔ اس کو بخاری نے صحیح میں روایت کیا ہے آدم بن ابو ایاس نے ۔ عتاق تقیق کی جمع ہے۔ عربوں کی عادت تھی کہ وہ ہر اس چیز کو جو جودۃ میں اچھی ہونے میں اپنی انتہا کو پہنچ جاتی اس کو عتیق کہتے تھے گویا کہ بقول ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان سورتوں میں لفظی اور معنوی اعلیٰ درجے کی جودۃ ہے فصاھت ہے بلاغت ہے ۔ امام بیہقی فرماتے ہیں کہ مذکورہ الفاظ سے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان سورتوں کی فضیلت مراد لی ہے جو بوجہ اس کے کہ یہ سورتیں مشتمل ہیں ذکر قصص پر اور اخبار انبیاء علیہم السلام پر اور اجتہاد و الم پر اور حلاد کہتے ہیں اس مال کو جو قدیم اور پرانا ہو ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس سے مراد ہے کہ یہ پانچوں سورتیں ان پہلی پہلی سورتوں میں سے ہیں جو ابتداء اسلام میں نازل ہوئی تھیں کیونکہ یہ پانچوں سورتیں مکی ہیں اور ان سورتوں میں سے ہیں جن کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے پہلے پڑھا تھا اور حفظ کیا تھا۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← جعفر بن محمد القلانس ← أبو بكر محمد بن أحمد بن محمديه العسكري ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Bani Israel, the Cave, Maryam, Taha, and the Prophets · Hadith 2449

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة بني إسرائيل و الكهف و مريم و طه و الأنبياء · حديث 2450

2450 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي ثنا يحيى بن محمد بن عمران البالسي و عبد الله بن موسى بن الصقر و أحمد بن موسى بن الحوية و عمران بن موسى السجستاني ح و أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو عمرو بن مطر ثنا عبد الله بن الصقر بن موسى بن حلال و خشنام بن بشر بن العنبر قالوا : ثنا إبراهيم بن المنذر الحزامي بمكة عن إبراهيم بن المهاجر بن مسمار حدثني عمر بن حفص بن ذكوان عن مولى الحرقة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله تبارك و تعالى قرأ طه و يس قبل أن يخلق آدم بألف عام فلما سمعت الملائكة القرآن قالوا : طوبى لأمة ينزل هذا عليها و طوبى لا جواف تحمل هذا و طوبى لألسن تكلم بهذا قوله : قرأ يعني تكلم بهما و أفهمهما ملائكته

ہمیں خبر دی ابو مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی نے ان کو یحییٰ بن محمد بن عمران بالسی نے اور عبداللہ بن موسیٰ بن صقر نے اور احمد بن موسیٰ بن الحویہ اور عمران بن موسیٰ سجستانی نے (ح) اور ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو عمرو بن مطر نے ان کو عبداللہ بن صقر بن موسیٰ بن حلال نے اور خشام بن بشر بن عنبر نے انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ابراہیم بن منذر حزامی نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابراہیم بن جہاجرین مسمار نے ان کو عمر بن حفص بن ذکوان نے ان کو مولیٰ الحرقہ نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے پڑھا تھا طہ کو یٰسین کو آدم کی پیدائش سے ایک ہزار سال قبل جب فرشتوں نے قرآن مجید سنا تو بولے مبارک ہو اس امت کے لیے جس پر ایسا قرآن اترے گا اور مبارک ہوں گے وہ سینے جو اس کو اٹھائیں گے اور مبارک ہوں گی وہ زبانیں جو اس کو تکلم کریں گی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ قول ۔ قراء۔ اس کا مطلب ہے ان دونوں کے ساتھ کلام فرمایا اور ان دونوں سورتوں کو فرشتوں کو سمجھایا تھا۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Bani Israel, the Cave, Maryam, Taha, and the Prophets · Hadith 2450

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة الحج و سورة النور في سور سواها · حديث 2451

2451 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي ثنا يحيى بن عثمان بن صالح السهمي حدثني أبي ثنا ابن وهب أخبرني يونس بن يزيد عن ابن شهاب حدثني حميد بن عبد الرحمن بن عوف عن المسور بن مخرمة أنه سمع عمر بن الخطاب رضي الله عنه يقول : تعلموا سورة البقرة و سورة النساء و سورة المائدة و سورة الحج و سورة النور فإن فيهن الفرائض

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر محمد بن محمد بن عبداللہ بغدادی نے ان کو یحییٰ بن عثمان بن صالح سہمی نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابن وہب نے ان کو یونس بن یزید نے ان کو ابن شہاب نے ان کو حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے مسور بن مخزمہ سے انہوں نے سنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرماتے تھے کہ سورۃ بقرہ ، سورۃ نساء اور سورۃ مائدہ، سورۃ حج اور سورۃ نور کو سیکھو بے شک ان میں فرائض یعنی احکامات ہیں۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَنَّهُ ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبِي ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ السَّهْمِيُّ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Hajj and Surat Al-Nour in Surat Al-Sowha · Hadith 2451

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة الحج و سورة النور في سور سواها · حديث 2452

2452 - و روينا عن حصين عن أبي عطية قال : كتب عمر أو قال عمر تعلموا سورة براءه و علموا نساءكم سورة النور

ہمیں نے روایت کی ہے حصین سے اس نے ابو عطیہ سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے لکھایا فرمایا کہ سورۃ برأۃ ۔ تم لوگ خود سیکھو اور اپنی عورتوں کو سورۃ نور سکھاؤ۔

عمر تعلموا سورة براءه و علموا نساءكم سورة النور ← عُمَرَ، أَوْ ← أَبِي عَطِيَّةَ ← حُصَيْنٍ ← و روينا

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Hajj and Surat Al-Nour in Surat Al-Sowha · Hadith 2452

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة الحج و سورة النور في سور سواها · حديث 2453

2453 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو علي الحافظ أنا محمد بن محمد بن سليمان ثنا عبد الوهاب بن الضحاك ثنا شعيب بن إسحاق عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تنزلوهن الغرف و لا تعلموهن الكتابة يعني النساء و علموهن الغزل و سورة النور

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو علی حافظ نے ان کو محمد بن محمد بن سلیمان نے ان کو عبدالوہاب بن ضحاک نے ان کو شعیب بن اسحاق نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کوسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا ۔ انہیں بالا خانوں میں نہ بٹھاؤ اور نہ ہی ان کو تحریر سکھاؤ یعنی عورتوں کو بلکہ انہیں سوت کاتنا اور سورۃ نور کی تعلیم دو۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ ← محمد بن محمد بن سليمان، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Hajj and Surat Al-Nour in Surat Al-Sowha · Hadith 2453

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة الحج و سورة النور في سور سواها · حديث 2454

2454 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن محمد بن الحسن السراج ثنا مطين ثنا محمد بن إبراهيم الشامي ثنا شعيب بن إسحاق : فذكره بإسناده نحوه و هو بهذا الإسناد منكر و الله أعلم 2454 - مكرر و روينا : في تعليمهن سورة النور عن مجاهد عن النبي صلى الله عليه و سلم مرسلا ذكر سورة ألم تنزل السجدة و تبارك الذي بيده الملك

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو الحسن محمد بن حسن سراج نے ان کو مطین نے ان کو محمد بن ابراہیم شامی نے ان کو شعیب بن اسحٰق نے پھر اس کو ذکر کیا اس کی اسناد کے ساتھ اسی کی مثل اور وہ حدیث اس اسناد کے ساتھ منکر ہے۔مکرر ہے ۔ ہم نے روایت کی ہے سورۃ نور کی ان کو بھی عورتوں کو تعلیم دینے کے بارے میں تو یہ مجاہد سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مرسلاً ہے۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Hajj and Surat Al-Nour in Surat Al-Sowha · Hadith 2454

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة الحج و سورة النور في سور سواها · حديث 2455

2455 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن علي المقرئ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا محمد بن أبي بكر ثنا معتمر عن ليث عن أبي الزبير عن جابر : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان لا ينام حتى يقرأ { الم * تنزيل } السجدة و { تبارك الذي بيده الملك }

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد بن علی مقرمی نےان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن ابوبکر نے ان کو معتمر نے ان کو ابولیث نے ان کو ابوزبیر نے ان کو جابر نے کہ نبی کریم ق اس وقت تک سوتے نہیں تھے جب تک کہ سورۃ الم تنزیل السجدہ نہ پڑھ لیتے اور تبارک الذی بیدۃ الملکم ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← لَيْثٌ، ← مُعْتَمِرٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Hajj and Surat Al-Nour in Surat Al-Sowha · Hadith 2455

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة الحج و سورة النور في سور سواها · حديث 2456

2456 - قال طاوس : يفضلان على سائر القرآن بستين حسنة 2456 - مكرر ـ أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا جعفر بن محمد بن نصير الخواص ثنا الحارث بن أبي أسامة ثنا أبو النضر هاشم بن القاسم ثنا أبو خيثمة زهير بن معاوية قال : قلت لأبي الزبير أسمعت جابرا يذكر أن النبي صلى الله عليه و سلم كان لا ينام حتى يقرأ { الم * تنزيل } السجدة و { تبارك الذي بيده الملك } فقال أبو الزبير حدثنيه صفوان أو أبو صفوان

طاؤس نے کہا کہ فضیلت رکھتی ہیں یہ دونوں سورتیں پورے قرآن مجید پر ساٹھ نیکیاں۔ مکرر ہے ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو جعفر بن محمد بن نصیر خواص نے ان کو حارث بن ابو اسامہ نے ان کو ابو لنضر ہاشم بن قاسم نے ان کو ابو خیثمہ نے زہیر بن معاویہ نے وہ کہتے ہیں میں نے ابو الزبیر سے کہا کہ آپ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت تک نہیں سوتے تھے جب تک وہ سورۃ الم سجدہ اور سورۃ ملک نہ پڑھ لیتے تھے ابو الزبیر نے کہا کہ مجھے حدیث بیان کی ہے ابو صفوان اور یا کہا کہ صفوان نے ۔

قلت لأبي الزبير أسمعت جابرا يذكر ← أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ الْخَوَّاصُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← طاوس يفضلان على سائر القرآن بستين حسنة مكرر

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Hajj and Surat Al-Nour in Surat Al-Sowha · Hadith 2456

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة يس · حديث 2457

2457 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أخبرني أبو الطيب محمد بن محمد بن المبارك الخياط ثنا محمد بن عبد الرحيم ثنا عبدان ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفار ثنا الحسن بن علي بن بحر بن البري ثنا عارم بن الفضل أبو النعمان قالا : ثنا عبد الله بن المبارك عن سليمان التيمي عن أبي عثمان و ليس بالنهدي عن أبيه عن معقل بن يسار قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : سورة يس اقرؤها عند موتاكم و في رواية عبدان اقرؤها على موتاكم قال الحليمي رضي الله عنه : يعني على المحتضرين

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ان کو خبر دی ہے ابو الطیب محمد بن مبارک خیاط نے ان کو محمد بن عبدالرحیم نے ان کو عبدان نے ۔ (ح) اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن عبداللہ صفار نے ان کو حسن بن علی بن بحر بن بری نے ان کو عارم بن فضل نے ان کو ابوانعمان نے دونوں نے کہا کہ ان کو حدیث بیان کی عبداللہ بن مبارک نے سلیمان تیمی سے ان کو ابو عثمان نے جو کہ نہدی نہیں ہے ان کو ان کے والد نے ان کو معقل بن یسار نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ اپنے مرنے والوں کے قریب سورۃ یٰسین پڑھ کر اور عبدان کی روایت میں ہے اپنے موتیٰ پر شیخ حلیمی رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا یعنی مختصر ین پر یعنی جن پر موت حاضر ہو گئی ہو یعنی موت کے وقت ۔

مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ← أَبِيهِ ← أبي عثمان و ليس بالنهدي ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ أَبُو النُّعْمَانِ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرِ بْنِ الْبُرِّيِّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← عَبْدَانُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ← أبو الطيب محمد بن محمد بن المبارك الخياط ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Surah Yaseen mentioned · Hadith 2457

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة يس · حديث 2458

2458 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا أبو مسلم إبراهيم بن عبد الله ثنا أبو عمر الضرير ثنا المعتمر بن سليمان عن أبيه عن رجل عن معقل بن يسار المزني : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من قرأ يس ابتغاء وجه الله عز و جل غفر له ما تقدم من ذنبه فأقرؤها عند موتاكم

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمدبن عبید صفار نے ان کو ابو مسلم ابراہیم بن عبداللہ نے ان کو ابو عمر ضریر نے ان کو معتمر بن سلیمان نے ان کو ان کے والد نے ایک آدمی سے اس نے معقل بن یسار مزنی سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص سورۃ یٰسین پڑھے اللہ کی رضا کے لیے اس کے سابقہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں اس کو اپنے موتیٰ کے پاس یعنی انتقال کے وقت ان کے پاس پڑھا کرو۔

مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ الْمُزَنِيّ ← رَجُلٌ: ← أَبِيهِ ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← اَبُوْ عُمَرَ الضَّرِیْرُ ← أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Surah Yaseen mentioned · Hadith 2458

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة يس · حديث 2459

2459 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا إسماعيل بن عياش عن أسيد بن عبد الرحمن الخثعمي عن حسان بن عطية : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من قرأ يس فكأنما قرأ القرآن عشر مرات هذا مرسل

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو اسماعیل بن عیاش نے ان کو اسید بن عبدالر حمن حتیعمی نے ان کو حسان بن عطیہ نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ جس نے سورۃ یٰسین پڑھی گویا کہ دس مرتبہ قرآن مجید پڑھا ۔ یہ حدیث مرسل ہے ۔

حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ، ← أسيد بن عبد الرحمن الخثعمي ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Surah Yaseen mentioned · Hadith 2459

chevron_left Previous
12345…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood