Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في استحباب التكبير عند الختم ـ · حديث 2077

2077 - ما أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني عبد الله بن محمد بن زياد العدل ثنا محمد بن إسحاق بن خزيمة قال سمعت أحمد بن محمد بن القاسم بن أبي بزة يقول : سمعت عكرمة بن سليمان مولى بني شيبة يقول : قرأت على إسماعيل بن عبد الله المكي فلما بلغت الضحى قال لي كبر حتى تختم فإني قرأت على عبد الله بن كثير فأمرني بذلك قال : قرأت على مجاهد فأمرني بذلك و قال إنه قرأ على ابن عباس فأمره بذلك فأخبر ابن عباس أنه قرأ على أبي بن كعب فأمره بذلك قال الإمام ابن خزيمة رحمه الله أنا خائف أن يكون قد أسقط ابن أبي بزة أو عكرمة بن سليمان من هذا الإسناد شبلا يعني ابن إسماعيل و ابن كثير قال البيهقي رحمه الله :

جو ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھ کو خبر دی ہے عبداللہ بن محمد بن زیاد عدل نے ان کو محمد بن اسحٰق بن خزیمہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ہے احمد بن محمد بن قاسم بن ابی بزہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عکرمہ بن سلیمان مولیٰ بنی شیبہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے (قرآن مجید) پڑھا اسماعیل بن عبداللہ مکی کے سامنے جب میں سورۃ الضحیٰ تک پہنچا تو انہوں نے مجھےفرمایا کہ تکبیر پڑھیے حتیٰ کہ تو ختم کرے ۔ بے شک میں نے عبداللہ بن کثیر کے سامنے پڑھا تھا تو انہوں نے مجھے بھی اسی بات کا حکم دیا تھا انہوں نے کہا کہ میں نے قرآن مجید مجاہد کے سامنے پڑھا انہوں نے بھی مجھے اسی بات کا حکم فرمایا اور انہوں نے کہا کہ مجاہد نے حضرت ابن عباس کے سامنے پڑھا تو انہوں نے بھی اسے اسی بات کا حکم دیا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت ابی کعب کے سامنے قرآن پڑھا تو انہوں نے بھی اس کو اسی چیز کا حکم دیا ۔

على عبد الله بن كثير فأمرني بذلك ← لي كبر حتى تختم فإني ← على إسماعيل بن عبد الله المكي فلما بلغت الضحى ← عِكْرِمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، مَوْلَى بَنِي شَيْبَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، الْعَدْلُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← مَا

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on the desirability of saying takbeer when sealing · Hadith 2077

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في استحباب التكبير عند الختم ـ · حديث 2078

2078 - و قد رواه محمد بن يونس الكديمي عن ابن أبي بزة عن عكرمة بن سليمان قال : قرأت على إسماعيل بن عبد الله بن قسطنطين فلما بلغت الضحى قال : كبر مع خاتمة كل سورة حتى تختم فإني قرأت على شبل بن عباد و عبد الله بن كثير فأمراني بذلك و أخبرني عبد الله بن كثير أنه قرأ على مجاهد فأمره بذلك و أخبره مجاهد أنه قرأ على ابن عباس فأمره بذلك و أخبره ابن عباس أنه قرأ على أبي بن كعب فأمره بذلك و أخبرني أبي بن كعب أنه قرأ على رسول الله صلى الله عليه و سلم فأمره بذلك فإن كان الكديمي حفظه ففيه تصحيح لرواية ابن خزيمة و إسماعيل قد سمعه منهما جميعا إلا أن في هذه الرواية ـ و ابن خزيمة رواه موقوفا و سنده معروفا فقد

اور تحقیق اس کو روایت کیا ہے محمد بن یونس کدیمی نے ان کو ابن ابی بزہ نے عکرمہ بن سلیمان سے انہوں نے کہا کہ میں نے پڑھا اسماعیل بن عبداللہ بن قسطنطین کے سامنے جب میں سورۃ الضحیٰ پر پہنچا تو انہوں نے فرمایا ہر سورۃ کے خاتمہ کے ساتھ تکبیر پڑھے حتیٰ کہ آپ ختم کریں ۔ بے شک میں نے قرآن پڑھا تھا شبل بن عباد اور عبداللہ بن کثیر کے سامنے ان دونوں نے مجھے تکبیر پڑھنے کا حکم دیا تھا اور مجھے عبداللہ بن کثیر نے حکم دیا کہ انہوں نے قرآن پڑھا تھا مجاہد کے سامنے انہوں نے بھی مجھ کو تکبیر پڑھنے کا حکم دیا تھا اور اس کو مجاہد نے خبر دی کہ اس نے قرآن مجید پڑھا تھا حضرت عبداللہ بن عباس کے سامنے انہوں نے مجھے تکبیر کا حکم دیا تھا اور مجاہد کو خبر دی ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے قرآن مجید پڑھا تھا ابی بن کعب کے سامنے انہوں نے مجھ کو تکبیر پڑھنے کا حکم دیا تھا اور مجھ کو خبر دی تھی ابی بن کعب نے کہ انہوں نے قرآن مجید پڑھا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اور مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تکبیر کا حکم دیا تھا۔

ابن عباس أنه قرأ على أبي بن كعب فأمره بذلك و ← مجاهد أنه قرأ على ابن عباس فأمره بذلك و ← عبد الله بن كثير أنه قرأ على مجاهد فأمره بذلك و ← على شبل بن عباد و عبد الله بن كثير فأمراني بذلك و ← كبر مع خاتمة كل سورة حتى تختم فإني ← على إسماعيل بن عبد الله بن قسطنطين فلما بلغت الضحى ← عكرمة بن سليمان ← ابْنُ أَبِي بَزَّةَ ← و قد رواه محمد بن يونس الكديمي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on the desirability of saying takbeer when sealing · Hadith 2078

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في استحباب التكبير عند الختم ـ · حديث 2079

2079 - حدثنا أبو عبد الله الحافظ املاء ثنا أبو يحيى محمد بن عبد الله بن محمد بن عبد الله بن يزيد المقرئ الإمام بمكة ثنا أبو عبد الله محمد بن علي بن زيد الصائغ ثنا أحمد بن محمد بن القاسم بن أبي بزة قال : سمعت عكرمة بن سليمان يقول : قرأت على إسماعيل بن عبد الله بن قسطنطين فلما بلغت الضحى قال لي كبر عند خاتمة كل سورة حتى تختم فإني قرأت على عبد الله بن كثير فلما بلغت الضحى قال لي كبر حتى تختم و أخبرني عبد الله بن كثير أنه قرأ على مجاهد فأمره بذلك و أخبره مجاهد أن ابن عباس أمره بذلك و أخبره ابن عباس أن أبي بن كعب بذلك و أخبره أبي أن النبي صلى الله عليه و سلم أمره بذلك

تحقیق ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبداللہ حافظ نے بطور املاء کے ان کو (1) ابو یحییٰ محمد بن عبداللہ بن محمد بن عبداللہ بن یزید مقری نے جو امام حرم تھے ان کو ابو عبداللہ محمد بن علی بن زید صائغ نے ان کو احمد بن محمد بن قاسم بن ابی بزہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عکرمہ بن سلیمان سے وہ کہتے تھے کہ میں قرآن مجید پڑھا اسماعیل بن عبداللہ بن قسطنطین سے میں جب سورۃ الضحیٰ تک پہنچا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ تکبیر پڑھیے ہر سورۃ کے خاتمہ کے وقت یہاں تک کہ تو قرآن مجید ختم کرے ( یعنی تکبیر کے ساتھ)(2) اور مجھے خبر دی عبداللہ بن کثیر نے کہ انہوں نے قرآن مجید پڑھا مجاہد کے سامنے مجاہد نے بھی ان کو تکبیر پڑھنے کا حکم دیا ۔ (3) اور ان کو خبر دی مجاہد نے کہ ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے تکبیر پڑھنے کا حکم دیا تھا۔ (4) اور ان کو خبر دی ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ان کو ابی بن کعب نے تکبیر پڑھنے کا حکم دیا تھا۔ (5) اور ان کو خبر دی ابی نے کہ ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تکبیر پڑھنے کا حکم دیا تھا۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on the desirability of saying takbeer when sealing · Hadith 2079

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في استحباب التكبير عند الختم ـ · حديث 2080

2080 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو عمرو بن مطر أنا يحيى بن عبد الرحمن الشامي بالبصرة أنا أحمد بن محمد بن القاسم بن أبي بزة مؤدب مسجد الحرام أنا عكرمة بن سليمان بن كثير قال : قرأت على إسماعيل بن عبد الله بن قسطنطين فلما بلغت إلى و الضحى قال : كبر مع خاتمة كل سورة فإني قرأت على عبد الله بن كثير فأمرني بذلك و أخبرني عبد الله بن كثير أنه قرأ على مجاهد فأمره بذلك قال : و أخبرني مجاهد أنه قرأ على ابن عباس فأمره بذلك قال : و أخبرني ابن عباس أنه قرأ على أبي بن كعب فأمره بذلك و أخبر به أنه قرأ على النبي صلى الله عليه و سلم فأمره بذلك

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو عمرو بن مطر نے ان کو یحییٰ بن عبدالرحمٰن شامی نے بصرہ میں ان کو احمد بن محمد قاسم بن ابی بزہ مودب مسجد ابو حرام نے ان کو عکرمہ بن سلیمان نے بن کثیر نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے قران مجید پڑھا تھا سمٰعیل بن عبداللہ بن قسطنطین سے جب میں پہنچا سورۃ والضحیٰ پر تو انہوں نے فرمایا کہ تکبیر پڑھیے سورۃ کے اختتام پر بے شک میں نے بھی پڑھا تھا ۔ عبداللہ بن کثیر پر انہوں نے مجھے تکبیر پڑھنے کا اور مجھے خبر دی مجاہد نے کہ انہوں نے قرآن مجید پڑھا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس تو انہوں نے مجھے تکبیر پڑھنے کا حکم دیا اور ان کو خبر دی ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے قران مجید پڑھا ابی بن کعب سے انہوں نے بھی ان کو تکبیر پڑھنے کا حکم دیا تھا اور ان کو خبر دی ابی بن کعب نے کہ انہوں نے قرآن مجید پڑھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا تکبیر پڑھنے کا۔

و، ← مجاهد أنه قرأ على ابن عباس فأمره بذلك ← و، ← عبد الله بن كثير أنه قرأ على مجاهد فأمره بذلك ← على عبد الله بن كثير فأمرني بذلك و ← كبر مع خاتمة كل سورة فإني ← على إسماعيل بن عبد الله بن قسطنطين فلما بلغت إلى و الضحى ← عكرمة بن سليمان بن كثير ← أحمد بن محمد بن القاسم بن أبي بزة مؤدب مسجد الحرام ← يحيى بن عبد الرحمن الشامي بالبصرة ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on the desirability of saying takbeer when sealing · Hadith 2080

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في استحباب التكبير عند الختم ـ · حديث 2081

2081 - و أخبرنا أبو نصر بن قتادة ثنا عمرو بن مطر ثنا ابن صاعد ثنا أحمد بن محمد بن عبد الله بن القاسم بن أبي بزة المكي قال : سمعت عكرمة بن سليمان بن كثير بن عامر مولى بني شيبة : فذكره نحوه قال الحليمي رحمه الله تعالى : و صفة التكبير في أواخر هذه السور أنه كلما ختم سورة وقف وقفة ثم قال الله أكبر و وقف وقفة ثم ابتدأ السورة التي تليها إلى آخر القرآن ثم كبر كما كبر من قبل ثم اتبع التكبير الحمد و التصديق و الصلاة على رسول الله صلى الله عليه و سلم و الدعاء قال أحمد : و قد روي عن النبي صلى الله عليه و سلم في دعاء الختم حديث منقطع بإسناده ضعيف و قد تساهل أهل الحديث في قبول ما ورد من الدعوات و فضائل الأعمال متى ما لم تكن من رواته من يعرف بوضع الحديث أو الكذب في الرواية

اور ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو عمرو بن مطر نے ان کو بن صاعد نے ان کو احمد بن محمد بن عبداللہ بن قاسم نے ان کو ابربزہ مکی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عکرمہ بن سلیمان بن کثیر بن عامر مولیٰ نبی شیبہ سے پھر اسی مذکورہ حدیث کو اس نے ذکر کیا ۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on the desirability of saying takbeer when sealing · Hadith 2081

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في استحباب التكبير عند الختم ـ · حديث 2082

2082 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الفضل بن حمرويه الكرابيسي المهروي بها ثنا أحمد بن نجدة القرشي ثنا أحمد بن يونس ثنا عمرو بن سمرة عن جابر الجعفي عن أبي جعفر قال : كان علي بن حسين يذكر : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه كان إذا ختم القرآن حمد الله بمحامد و هو قائم ثم يقول الحمد الله رب العالمين و الحمد الله الذي خلق السماوات و الأرض و جعل الظلمات و النور ثم الذين كفروا بربهم يعدلون لا إله إلا الله و كذب العادلون بالله و ضلوا ضلالا بعيدا لا إله إلا الله و كذب المشركون بالله من العرب و المجوس و اليهود و النصارى و الصابئين و من ادعى لله ولدا أو صاحبة أو ندا أو شبها أو مثلا أو سميا أو عدلا فأنت ربنا أعظم من أن تتخذ شريكا فيما خلقت والحمد لله الذي لن يتخذ صاحبة و لا ولدا و لم يكن له شريك في الملك و لم يكن له ولي من الذل و كبره تكبيرا الله أكبر كبيرا و الحمد لله كثيرا و سبحان بكرة و أصيلا و { الحمد لله الذي أنزل على عبده الكتاب ولم يجعل له عوجا * قيما } قرأها إلى قوله { إن يقولون إلا كذبا } { الحمد لله الذي له ما في السماوات وما في الأرض وله الحمد في الآخرة وهو الحكيم الخبير * يعلم ما يلج في الأرض } الآية و { الحمد لله فاطر السماوات و الأرض } الآيتين و { الحمد لله وسلام على عباده الذين اصطفى آلله خير أما يشركون } بل الله خير و أبقى و أحكم و أكرم و أجل و أعظم مما يشركون و الحمد لله بل أكثرهم لا يعلمون صدق الله و بلغت رسله و أنا على ذالكم من الشاهدين اللهم صل على جميع الملائكة و المرسلين و ارحم عبادك المؤمنين من السماوات و الأرض و اختم لنا بخير و افتح لنا بخير و بارك لنا في القرآن العظيم و انفعنا بالآيات و الذكر الحكيم ربنا تقبل منا إنك أنت السميع العليم بسم الله الرحمن الرحيم ثم إذا افتتح القرآن قال : مثل هذا و لكن ليس أحد يطيق ما كان نبي الله صلى الله عليه و سلم يطيق

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابوالفضل بن حمرویہ کرابیسی مہروی نے اس بارے میں ان کواحمدبن نجدہ قرشی نے ان کو احمد بن یونس نے ان کو عمرو بن سمرہ نے ان کو جابر جعفی نے ان کو ابو جعفر نے وہ کہتے ہیں کہ علی بن حسن ذکر کرتے رہتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب قرآن مجید ختم کرتے تو اللہ کی حمد کرتے تھے کئی کئی حمد کے طریقوں سے جب کہ آپ بحالت قیام ہوتے تھے اس کے بعد فرماتے تھے: " الحمد للہ رب العالمین الخ۔۔"تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لئے ہیں ، تمام تعریفیں اس ذات کے لئے جس نے آسمان و زمین بنائے جس نے اندھیرے اور روشنی بنائی پھر جو لوگ کافر ہیں وہ شریکوں کو اپنے رب کے برابر کر دیتے ہیں ۔ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں ہے ۔ اللہ کے ساتھ برابری کرنے والے والے جھوٹے ہیں اور وہ گمراہ ہیں بڑی دور کی گمراہی کے ساتھ ۔ اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے اور مشرکوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے وہ عرب ہوں یا وہ مجوس ہوں خواہ یہود ہوں عیسائی یا صابی ہوں جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے بیٹے کا دعویٰ کرتا ہے یا بیوی کا یا کسی شریک کا یا کسی مشابہ کا یا کسی مثال کا یا نام کا یا اس کے برابر کے۔ پس اے ہمارے پروردگار تو اس بات سے بہت ہی بڑا ہے کہ تو شریک بنائے اپنی مخلوق میں تمام تعریفیں اس ذات کے لئے ہیں جس نے نہ تو کوئی بیوی ٹھہرائی ہے اور نہ ہی کسی کو بیٹا ٹھہرایا ہے اور نہ ہی حکومت میں کوئی شریک ہے اور نہ کمزوری ہونے پر اس کا کوئی مددگار ہے ( اے بندے) اسی کی بڑائی بیان کر بہت بڑائی ۔ اللہ بہت بڑا ہے بڑاہے اللہ کے لئے کثیر حمد ہے اللہ کے لئے صبح و شام پاکیزگی ہے ۔ تمام تعریفیں اس ذات کے لیے جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل فرمائی اور اس کے لیے کوئی کجی نہیں چھوڑی وہ سیدھا ہے (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ) ان آیات کو " ان یقولون الا کنبا" تک پڑھا (سورۃ کہف ) تمام تعریف اسی اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس کی ملکیت میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے ۔ آخرت میں حمد اسی کی ہے وہی حکمت والا خبر رکھنے والا وہی جانتا ہے جو کچھ زمین میں گھستا ہے الخ آکر تک آیت پڑھی۔ (سورۃ سبا) تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے از سرے نو آسمان اور زمین کو بنایا ۔(2 آیات فاطر) تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور سلام ہوں اس کے برگزیدہ بندوں پر کیا اللہ بہتر ہے یا وہ جن کو یہ لوگ شریک لاتے ہیں۔ (نحل) تمام تعریفیں اللہ کی ہیں بلکہ اکثر ان میں سے نہیں جانتے اللہ نے سچ فرمایا ہے اور اس کے رسولوں نے اس کا پیغام پہنچا دیا ہے اور میں تمہارے اس معاملہ پر گواہ ہوں۔ اے اللہ رحمتیں نازل فرما تما فرشتوں پر اور تمام رسولوں پر اور رحم فرما اپنے مومن بندوں پر آسمانوں سے اور زمین سے اور ہم سب کا خاتمہ بالخیر فرما اور ہمارے خیر کھول دے اور ہمارے لئے قرآن عظیم میں برکت عطا فرما۔ ہمیں بہرہ ور فرما آیات کتاب کے ساتھ اور حکمت سے لبریز اس ذکر کے ساتھ۔ اے ہمارے رب تو ہم سے قبول فرما بے شک تو ہی سنتا ہے جانتا ہے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پھر جب آپ قرآن مجید شروع کرتے تو اس وقت بھی اسی طرح دعا کرتے تھے مگر کوئی شخص اس کی طاقت نہیں رکھتا جس کی طاقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکھتے تھے ۔

كان علي بن حسين يذكر ← أَبِي جَعْفَرٍ، ← جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ← عمرو بن سمرة ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ الْقُرَشِيُّ، ← أبو الفضل بن حمرويه الكرابيسي المهروي بها ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on the desirability of saying takbeer when sealing · Hadith 2082

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في استحباب التكبير عند الختم ـ · حديث 2083

2083 - أخبرنا أبو عثمان سعيد بن محمد بن محمد بن عبدان ثنا أبو الحسن الكازري أنا علي بن عبد العزيز ثنا إبراهيم عن حنظلة ( ح ) و أخبرنا أبو سعيد محمد بن موسى أنا أبو عبد الله الصفار ثنا أحمد بن محمد البرتي ثنا أبو نعيم ثنا حنظلة القاضي عن عبد الكريم البصري عن سعيد بن جبير عن حذيفة قال : صليت خلف النبي صلى الله عليه و سلم فقرأ سورة البقرة فلما ختمها قال : اللهم لك الحمد قلت : لعبد الكريم كم مرة قال عشرا و سبع مرات ثم قرأ الذي بعدها ففعل مثل ذلك لم يقل ابن عبدان البقرة و قال : اللهم ربنا لك الحمد و قال سبع مرات ثم قرأ التي بعدها فلما ختمها قال نحوا من ذلك حتى بلغ سبعا

ہمیں خبر دی ابو عثمان سعید بن محمد بن محمد عبدان نے ان کو ابو الحسن کا رزی نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے ان کو ابراہیم بن حنظلہ نے ۔۔۔ح۔۔۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو سعید محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو احمد بن محمد برقی نے ان کو ابو نعیم نے ان کو حنظلہ قاضی نے ان کو عبدالکریم بصری نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کو حذیفہ نے انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۃ بقرہ پڑھی جب اسے ختم کر چکے تو فرمایا۔ اے اللہ سب تعریفیں تیرے لیے ہیں تو میں نے عبدالکریم سے کہا ۔ کتنی بار آپ نے یہ جملہ فرمایا انہوں نے کہا کہ دس بار یا سات بار اس کے بعد وہ پڑھا جو اس کے بعد ہے پھر اس کو بھی پہلے کی مثل کیا۔ ابن عبدان نے بقرہ کا لفظ نہیں کہا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ اے اللہ اے ہمارے پروردگار تیرے ہی لیے ہیں تمام تعریفیں یہ جملہ ساتھ بار آپ نے کہا۔ اس کے بعد وہ جملہ کہا جو اس کے بعد ہے جب اسے ختم کر چکے تو پھر اسی جملے کو سات بار دہرایا۔

حُذَيْفَةَ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عبد الكريم البصري ← حنظلة القاضي ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَرْتِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى ← و، ← حَنْظَلَةُ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو الْحَسَنِ الْكَازِرِيُّ ← أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on the desirability of saying takbeer when sealing · Hadith 2083

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في استحباب التكبير عند الختم ـ · حديث 2084

2084 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا محمد بن الفضل بن جابر ثنا بشر بن معاذ ثنا محمد بن دينار ثنا أبان عن الحسن عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قرأ القرآن و حمد الرب و صلى على النبي صلى الله عليه و سلم و يستغفر ربه فقد طلب الخير مكانه أبان هذا مولى ابن عباس و هو ضعيف

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو محمد بن فضل بن جابر نے ان کو بشر بن معاذ محمد بن دینار نے ان کو ابان نے ان کوحسن نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ جس نے قرآن مجید پڑھا اورا پنے رب کی حمد کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت کی دعا کی اور اپنے رب سے استغفار کیا اس نے خیر کو اپنے مقام سے طلب کر لیا۔ یہ ابان مولیٰ ابن عباس ہے اور وہ صغیر راوی ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْحَسَنِ، ← أَبَانُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ؛ ← بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on the desirability of saying takbeer when sealing · Hadith 2084

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في استحباب التكبير عند الختم ـ · حديث 2085

2085 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي ثنا ابن أبي عصمة و محمد بن عبد الحميد الفرعاني و محمد بن علي بن إسماعيل قالوا ثنا علي بن حرب ثنا حفص بن عمرو بن حكيم ثنا عمرو بن قيس الملائي عن عطاء عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أسمع حرفا من كتاب الله طاهر كتبت له عشر حسنات و محيت عنه عشر سيئات و رفعت له عشر درجات و من قرأ حرفا من كتاب الله في صلاة قاعدا كتبت له خمسون حسنة و محيت عنه خمسون سيئة و رفعت له خمسون درجة و من قرأ حرفا من كتاب الله قائما في صلاة كتبت له مائة حسنة و محيت عنه مائة سيئة رفعت له مائة درجة و من قرأه فختمه كتب الله عبده دعوة مجابة معجلة أو مؤخرة فقال له رجل يا ابن عباس كان رجل لم يتعلم إلا سورة أو سورتين قال سأل رجل رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال ختمه من حيث علمه من حيث علمه تفرد به حفص بن عمرو و هو مجهول

ہمیں خبر دی ہے ابو سعد المالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی نے ان کو ابن ابی عصمۃ نے اور محمد بن عبدالحمید فرغانی نے اور محمد بن علی بن اسماعیل نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں بات بتائی علی بن حرب نے اور حفص بن عمرو بن حکیم نے ان کو عمرو بن قیس ملائی نے ان کو عطا نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف بحالت طہارت کسی کو سنایا اس کے لئے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور دس گناہ مٹا دئیے جاتے ہیں اور اس کے لئے دس درجے بلند کر دئیے جاتے ہیں اور جس نے پڑھا ایک حرف کتاب اللہ کا نماز میں بیٹھ کر اس کے لئے پچاس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور پچاس برائیاں مٹادی جاتی ہیں اور اس کے لئے پچاس درجے بلند کر دئیے جاتے ہیں اور جس نے ایک حرف کتاب اللہ کا کھڑے ہو کر پڑھا نماز میں اس کے لیے ایک سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں اس کی ایک سو غلطیاں مٹائی جاتی ہیں اور اس کے سو درجے بلند کئے جاتے ہیں اور جس نے اسے پڑھا اور اس کا ختم کر لیا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو لکھ دیتے ہیں کہ اس کی دعا قبول ہوگی جلدی ہو یا بدیر ہو چنانچہ ایک آدمی نے ان سے کہا اے ابن عباس ایک آدمی ایسا ہے جو ایک دو سورتوں کے علاوہ کچھ نہیں جانتا ؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اس کا ختم اس کے علم کے مطابق ہے اس کا ختم اس کے علم کے مطابق ہے ۔۔۔ اس روایت میں حفص بن عمرو کا تفرد ہے اور وہ مجہول ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ، ← حفص بن عمرو بن حكيم ← عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، ← ابن أبي عصمة و محمد بن عبد الحميد الفرعاني و محمد بن علي بن إسماعيل ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on the desirability of saying takbeer when sealing · Hadith 2085

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في استحباب التكبير عند الختم ـ · حديث 2086

2086 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر الإسماعيلي ثنا عبد الله بن يحيى بن ياسين حدثني حمدون بن أبي عباد ثنا يحيى بن هاشم عن مسعر عن قتادة عن أنس : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : مع كل ختمة دعوة مستجابة في إسناده ضعف و الله أعلم و روي من وجه آجر ضعيف عن أنس

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر اسماعیلی نے ان کو عبداللہ بن یحییٰ بن یاسین نے ان کو حمدون بن ابو عباد نے ان کو یحییٰ بن ہاشم نے ان کو مسعر نے ان کو قتادہ نے ان کو انس نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہرقرآن کے ساتھ مقبول دعا ہوتی ہے ۔ مگر اس کی اسناد میں ضعف ہے ۔(واللہ اعلم ) اور ایک دوسرے طریق سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مگر وہ طریق بھی ضیعب ہے ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← مِسْعَرٍ، ← يَحْيَى بْنُ هَاشِمٍ، ← حمدون بن أبي عباد ← عبد الله بن يحيى بن ياسين ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on the desirability of saying takbeer when sealing · Hadith 2086

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في استحباب التكبير عند الختم ـ · حديث 2087

2087 - أخبرنا أبو طاهر أحمد بن عبد الله بن مهرويه أنا أبو الحسين علي بن أحمد بن محمد البرتاني بمرو أنا عمرو بن عمران ثنا محمد بن علي ثنا أبي ثنا أبو عصمة هو نوح الجامع مروزي عن يزيد الرقاشي عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : له عند ختم القرآن دعوة مستجابة و شجرة في الجنة

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو طاہر احمد بن عبداللہ مہرویہ نے ان کو ابو الحسین علی بن احمد بن محمد برتانی نے مقام مرو میں ان کو عمرو بن عمران ان کو محمد بن علی نے ان کو ان کے والد نے ان کو عصمہ نے وہ نوح الجامع مروزی ہیں ان کو یزید رقاشی نے ان کو انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے وہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ کے ہاں ختم قرآن کے وقت دعا مستجاب ہوتی ہے اور جنت میں ایک درخت لگ جاتا ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ← أبو عصمة هو نوح الجامع مروزي ← أَبِي ← محمد بن علي ← عمرو بن عمران ← أبو الحسين علي بن أحمد بن محمد البرتاني بمرو ← أبو طاهر أحمد بن عبد الله بن مهرويه

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on the desirability of saying takbeer when sealing · Hadith 2087

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في استحباب التكبير عند الختم ـ · حديث 2088

2088 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر الجراجي ثنا يحيى بن ساسويه ثنا عبد الكريم السكري أخبرني علي الفاشاني قال : كان عبد الله بن المبارك يعجبه إذا ختم القرآن أن يكون دعاؤه في السجود

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر جراجی نے ان کو یحییٰ بن ساسویہ نے ان کو عبدالکریم سکری نے ۔ وہ کہتے ہیں مجھے خبر دی ہے علی فاشانی نے انہوں نے کہا حضرت عبداللہ بن مبارک کو یہ بت بہت اچھی لگتی تھی کہ جب وہ ختم قرآن کرتے تو ان کی دعا سجدے میں ہو ۔ یعنی وہ ختم قرآن کے سجدے میں گر کر دعا کرتے تھے کیونکہ بندہ بحالت سجدہ اپنے رب کے قریب تر ہوتا ہے جیسے حدیث میں آیا۔ "اقرب العبدالی اللہ وھو ساجدہ"۔

علي الفاشاني ← عَبْدُ الْكَرِيمِ السُّكَّرِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ سَاسَوَيْهِ، ← أبو بكر الجراجي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on the desirability of saying takbeer when sealing · Hadith 2088

chevron_left Previous
1…373839…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood