Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في البكاء عند قراءة القرآن · حديث 2065

2065 - أخبرنا أحمد بن أبي خلف الصوفي ثنا أبو سعيد محمد بن إبراهيم الواعظ قال : سمعت أبا بكر بن رجاء يقول : سمعت إسحاق بن إبراهيم الحنظلي يقول : كان المعتمر بن سليمان يبكي فادخلت عليه فلم يرفع إلي رأسه فلما فرغ قال لي يا أبا يعقوب لم أرى و القارئ يقرأ القرآن ( ) الاستعاذة عند الإفتتاح بالقراءة قال الله عز و جل : { فإذا قرأت القرآن فاستعذ بالله من الشيطان الرجيم } و معناه و الله أعلم : إذا أردت القراءة لقوله عز و جل : { إذا قمتم إلى الصلاة فاغسلوا وجوهكم } و معناه إذا أردتم القيام لأن الاستعاذة الاحتراز في معارضة الشيطان قارى القرآن في حال قراءته و الاتيان بها قبل القراءة الأولى و أجمع لأحوال القراءة من الاستعاذة بعدها و قد ذكرنا الأخبار الواردة في الاستعاذة و كيفيتها في كتاب السنن

ہمیں خبر دی ہے احمد بن ابی خلف صوفی نے ان کو سعید محمد بن ابراہیم واعظ نے انہوں نے سنا ابوبکر بن رجاء سے انہوں نے سنا اسحٰق بن ابراہیم حنظلی سے وہ کہتے ہیں کہ معتز بن سلیمان روتے رہتے تھے میں ان کے پاس داخل ہوا تو انہوں نے میری طرف سر اٹھا کر بھی نہ دیکھا اپنے معمول سے فارغ ہوئے تو انہوں نے مجھ سے کہا اے ابو یعقوب میں کیسے دیکھتا حالانکہ قاری قرآن پڑھ رہا ہو اور تلاوت کے آغاز میں اللہ سے پناہ مانگ چکا ہے : " فاذا قرأت القرآن فاستعذ باللہ من الشیطن الرجیم"۔جب تلاوت کرتے تو اللہ کی پناہ مانگو شیطان مردود سے ۔ اس کا مطلب (اللہ بہتر جانتا ہے ) شاید یہی ہے کہ جب تو تلاوت کا ارادہ کرے کیونکہ اس کی مثال موجود ہے اس آیت میں کہ : "اذ قمتم الی الصلوٰۃ فا غسلو اوجوھکم "۔ اس کا مطلب بھی اسی طرح ہے کہ جب تم نماز کے لئے قیام کا ارادہ کرو تو اپنے چہرے کو دھولو۔ اس لئے کہ استعاذہ در حقیقت احتراز ہے اور بچنا ہے شیطان کے مقابلے میں قرآن پڑھنے والے کے ساتھ اس کی قرأت کے دوران لہذا اس اعتبار سے استعاذ کا قرأت سے پہلے اولیٰ ہے اور زیادہ جامع ہے احوال قرأت کے لیے بعد میں استعاذہ کرنے سے ۔ تحقیق ہم نے وہ اخبارذ کرکئے ہیں جو استعاذے کی بابت وارد ہوئے ہیں اور اس کی کیفیت کے بارے میں کتاب السنس میں۔

إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← أبا بكر بن رجاء ← أبو سعيد محمد بن إبراهيم الواعظ ← أحمد بن أبي خلف الصوفي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in crying when reading the Qur’an · Hadith 2065

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في البكاء عند قراءة القرآن · حديث 2066

2066 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الشيباني ثنا إبراهيم بن عبد الله السعدي ثنا أحمد بن أبي طيبة ثنا ورقاء عن عطاء بن السائب عن أبي عبد الرحمن عن عبد الله قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يعلمنا أن نقول اللهم إني أعوذ بك من الشيطان الرجيم من همزة و نفخه قال عطاء : همزة الموتة و نفثه الشعر و نفخه الكبرياء في قطع القراءة بحمد الله تعالى على ما أنعم عليه بالقرآن و هداه للإيمان و تصديق الله فيما أخبر به ( ) الآخرة و الصلاة على رسول الله إذ هو السبب في وقوفنا على القرآن و وصولنا إليه و الشهادة له بالتبليغ

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ شیبانی نے ان کو ابراہیم بن عبداللہ سعدی نے ان کو احمد بن ابی طیبۃ نے ان کو ورقاء نے ان کو عطا بن سائب نے ان کو ابو عبدالرحمٰن نے عبداللہ سے انہوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں تعلیم دیا کرتے تھے کہ ہم یوں دعا کریں:"اللھم انی اعوذ بک من الشیطان الرجیم من ھمزہ ونفخہ ونفشہ"۔ اے اللہ بے شک میں تیری پناہ چاہتا ہوں شیطان کے گھوسے سے اور اس کے پھونکنے سے اور اس کے تھتکار نے سے ۔ حضرت عطا فرماتے ہیں ۔ شیطان کے گھونسے سے مراد موت اس کا تھتکارنا شعر میں اور اس کا پھونک مارنا تکبر اور بڑائی ہے قرآن کو روکنے چھوڑنے میں اللہ کی حؐد کے ساتھ اور شکر کے ساتھ اس نعمت پر جو اللہ نے اس پر قرآن کے ساتھ انعام کیا ہے اور اس کو ایمان کی ہدایت کی ہے اور اللہ کی تصدیق کے لیے اس میں جس میں اس نے آخرت کی خبر دی ہے اور رول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت نازل ہوں کیونکہ سبب ہیں ہمارے قرآن پر واقف ہونے کا اور قرآن تک پہنچنے کا اور اس کی شہادت دینے کا تبلیغ کے ساتھ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← وَرْقَاءُ ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي طَيْبَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الشَّيْبَانِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in crying when reading the Qur’an · Hadith 2066

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في البكاء عند قراءة القرآن · حديث 2067

2067 - و قد روينا في الحديث الثابت عن أبي بكرة : في خطبة النبي هنا أنه قال في آخرها : ألا هل بلغت قالوا اللهم نعم

اور تحقیق ہم روایت کر چکے ہیں اس حدیث میں جو ثابت ہے ابو بکرۃ رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطبے میں یہاں پر کہ انہوں نے فرمایا " سنو کیا میں تبلیغ کر چکا" لوگوں نے کہا ۔ " جی ہاں"

اللَّهُمَّ نَعَمْ ← في آخرها ألا هل بلغت ← أبي بكرة في خطبة النبي هنا أنه ← و قد روينا في الحديث الثابت

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in crying when reading the Qur’an · Hadith 2067

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في البكاء عند قراءة القرآن · حديث 2068

2068 - أخبرنا أبو عثمان سعيد بن محمد بن محمد بن عبدان ثنا أبو الحسن الكارزي ثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم بن حنظلة عن عبد الكريم البصري عن سعيد بن جبير عن حذيفة قال : صليت خلف النبي صلى الله عليه و سلم فقرأ سورة فلما ختمها قال : اللهم ربنا لك الحمد فقلت لعبد الكريم كم مرة ؟ قال : سبع مرات ثم قرأ الذي بعدها فلما ختمها قال : نحوا من ذلك حتى بلغ سبعا و إذا قرأ جميع القرآن فختمه فقد قلنا أن له آدابا : منها أن يرجع القارئ إلى أول القرآن فيقرأ شيئا منه ثم يقطع

ہمیں خبر دی ہے ابو عثمان سعید بن محمد نے ان کو محمد نے ان کو محمد بن عبدان نے ان کو ابو حسن کارزی نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے ان کو ابو نعیم بن حنظلہ نے ان کو عبدالکریم بصری نے ان کو سعید بن جبیر نے حذیفہ سے انہوں نے فرمایا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک سورۃ پڑھی ۔ جب اسے ختم کیا تو فرمانے لگے " اللھم ربنا لک الحمد" تو میں نے عبدالکریم سے کہا کتنی مرتبہ؟ اس نے کہا سات مرتبہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بعد والی سورۃ پڑھی۔ جب اسے مکمل کر چکے تو کہا اسی طرح (پہلے کی طرح " اللھم ربنا لک الحمد) یہاں تک کہ ساتھ تک پہنچایا ۔ اور جب قاری قرآن مکمل کر چکے تو ہم نے کہا تھا کہ اس کے لئے کچھ آداب ہیں ۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ قاری شروع قرآن کی طرح لوٹ کر اس میں سے کچھ پڑھ لے ۔ پھر قرأت بند کرے۔

سبع مرات ثم قرأ الذي بعدها فلما ختمها ← اللهم ربنا لك الحمد فقلت لعبد الكريم كم مرة ← صليت خلف النبي صلى الله عليه و سلم فقرأ سورة فلما ختمها ← حُذَيْفَةَ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عبد الكريم البصري ← أبو نعيم بن حنظلة ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ← أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in crying when reading the Qur’an · Hadith 2068

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في البكاء عند قراءة القرآن · حديث 2069

2069 - و الأصل فيه ما أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عمرو عثمان بن أحمد الدقاق ثنا أحمد بن حيان بن ملاعب ثنا عمرو بن عاصم الكلابي ثنا صالح المري ثنا قتادة عن زرارة بن أوفى عن ابن عباس : أن رجلا قال : يا رسول الله أي الأعمال أفضل قال : الحال المرتحل قالوا يا رسول الله و ما الحال المرتحل قال : الذي يقرأ من أول القرآن إلى آخره و من آخره إلى أوله و روينا من حديث زيد بن الحباب عن صالح و فيه من الزيادة : كلما حل ارتحل و من أدبه أن يجمع القارئ عند الختم أهله و ولده و يتحرى أن يكون أول النهار أو أول الليل

اور اس میں اصل وہ ہے ہمیں جس کی خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عمرو عثمان بن احمد دقاق نے ان کو احمد بن حیان بن ماعب نے ان کو عمرو بن عاصم کلابی نے ان کو صالح مری نے ان کو قتادہ نے ان کو زرارہ بن اونی سے ان کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہ ایک آدمی نے کہا ۔ افضل عمل کون سا ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حال اور مرتحل لوگوں نے پوچھا کہ حال مرتحل کیا ہوتا ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص قرآن مجید اول سے آخر تک پڑھے اور آخر سے اول تک اور ہم نے روایت کی ہے حدیث زید بن حباب صالہ سے اور اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں جب بھی منزل پر اترے دوبارہ کوچ کر لے یعنی جیسے ہی ختم کرے دوبارہ شروع کردے۔ اور قرآن مجید کے آداب میں سے ہے کہ جس وقت ختم قرآن کرے اس وقت اپنے اہل کو اور اولاد کو جمع کرے اور کوشش کرے کہ یہ کام رات کے اول یا دن کے اول حصے میں کرے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← صالح المري ← عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْکِلَابِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ حَيَّانَ بْنِ مُلاعِبٍ، ← أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و الأصل فيه ما

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in crying when reading the Qur’an · Hadith 2069

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في البكاء عند قراءة القرآن · حديث 2070

2070 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور عن ثابت البناني عن أنس : أنه كان إذا ختم القرآن جمع أهله هذا هو الصحيح موقوف و قدر روي من وجه آخر عن قتادة عن أنس مرفوعا و ليس بشيء

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو جعفر بن سلیمان نے ان کو ثابت بنانی نے ان کو انس نے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ جب قرآن مجید ختم کرتے تھے تو اپنے گھر والوں کو جمع کرتے تھے ۔ یعنی ختم میں شریک کرنے کے لئے )۔ یہ صحیح ہے موقوف ہے اور تحقیق ایک دوسرے طریق سے مروی ہے حضرت قتادہ سے اس سے بطور مرفوع روایت مگر وہ کوئی چیز نہیں ہے ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in crying when reading the Qur’an · Hadith 2070

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في البكاء عند قراءة القرآن · حديث 2071

2071 - أخبرنا أبو الحسين بن حشيش المقرئ بالكوفة ثنا أبو الحسين علي بن أبي الحسن القطان البلخي ثنا عمرو بن عثمان أبو عمرو الحافظ العبدي البغدادي بالرملة ثنا أحمد بن إبراهيم بسلم مكرم ثنا محمد بن موسى الدولابي ثنا أبو نعيم عن مسعر عن قتادة عن أنس : أن النبي صلى الله عليه و سلم إذا ختم القرآن جمع أهله رفعه وهم و في إسناده مجاهيل و الصحيح رواية ابن المبارك عن مسعر موقوفا على أنس بن مالك و هو في الرقاق

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن بن حشیش مقری نے کوفہ میں ان کو ابوالحسین علی بن ابی الحسین قطان بلخی نے ان کو عمرو بن عثمان ابو عمرو حافظ عبدی بغدادی نے رملہ میں ان کو احمد بن ابراہیم (بسلم مکرم ) نے ان کو محمد بن موسیٰ دولابی نے ان کو ابو نعیم نے مسعر سے اس کو قتادہ نے ان کو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب قرآن مجید ختم کرتے تھے تو اپنے گھر والوں کو جمع کرتے تھے ۔ اس کو مرفوع کرنا وہم ہے اور اس کی سند میں کئی مجہول راوی ہیں اور صحیح روایت ابن مبارک کی ہے مسعر سے جو کہ موقوف ہے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ تک اور وہ رقاق میں شامل ہے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← مِسْعَرٍ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الدُّولَابِيُّ ← أحمد بن إبراهيم بسلم مكرم ← عمرو بن عثمان أبو عمرو الحافظ العبدي البغدادي بالرملة ← أبو الحسين علي بن أبي الحسن القطان البلخي ← أبو الحسين بن حشيش المقرئ بالكوفة

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in crying when reading the Qur’an · Hadith 2071

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في البكاء عند قراءة القرآن · حديث 2072

2072 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسين عبد الصمد بن علي إملاء ثنا عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا ثنا علي بن الجعد أنا شعبة عن الحكم قال : أرسل مجاهد و عبده بن أبي لبابة قالا أنا أرسلنا إليك أنا نريد أن نختم القرآن و كان يقال إن الدعاء يستجاب عند ختم القرآن فلما فرغوا من ختم القرآن دعوا بدعوات

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابوالحسین عبدالصمد بن علی نے بطور املاء کے ان کو عبداللہ بن محمد ابن ابوالدنیا نے ان کو علی بن جعد نے ان کو شعبہ نے ان کو حکم نے انہوں نے کہا کہ مجاہد اور ان کا غلام ابن ابی لبابہ دونوں نے کہا ہم آپ کے پاس بھیجے گئے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ ہم قرآن مجید ختم کریں اور ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ مستجاب الدعوات ہیں ۔ نیز ختم قرآن کے وقت دعا قبول ہوتی ہے جب وہ ختم قرآن سے فارغ ہوئے تو سب نے دعائیں کیں۔

أرسلنا إليك ← أرسل مجاهد و عبده بن أبي لبابة ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا ← أبو الحسين عبد الصمد بن علي إملاء ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in crying when reading the Qur’an · Hadith 2072

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في البكاء عند قراءة القرآن · حديث 2073

2073 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا محمد بن عبد الله الزاهد ثنا عبد الله بن محمد : فذكره بمثله

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن عبداللہ زاہد نے ان کو عبداللہ بن محمد نے پھر اس کو انہوں نے پہلے کی طرح ذکر کیا ہے ۔

عبد الله بن محمد فذكره بمثله ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in crying when reading the Qur’an · Hadith 2073

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في البكاء عند قراءة القرآن · حديث 2074

2074 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أحمد بن سلمان الفقيه ثنا بشر بن موسى حدثني عمر بن عبد العزيز جليس كان لبشر بن الحارث ( ح ) و أخبرنا أبو علي الروذباري ثنا أبو عمر محمد بن عبد الواحد النحوي ثنا بشر بن موسى ثنا عمر بن عبد العزيز شيخ له قال : سمعت بشر بن الحارث يقول ثنا يحيى بن اليمان عن سفيان عن حبيب بن أبي عمرة قال : إذا ختم الرجل القرآن قبل الملك بين عينيه قال بشر بن موسى قال لي عمر بن عبد العزيز : فحدثت به أحمد بن حنبل فقال لعل هذا من هنات سفيان و استحسنه أحمد بن حنبل جدا لفظ حديث الفقيه

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن اسحٰق بن ابو اسحٰق نے ان کو احمد بن سلمان فقیہ نے ان کو بشر بن موسیٰ نے ان کو حدیث بیان کی ہے عمر بن عبدالعزیز نے یہ بشر بن حارث کے ہم نشین تھے ۔۔ اور ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو ابو عمر محمد بن عبدالواحد نحوی نے ان کو بشر بن موسیٰ نے ان کو عمر بن عبدالعزیز نے ان کو ان کے شیخ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نےسنا بشر بن حارث سے وہ کہتے تھے ہمیں حدیث بیان کی یحییٰ بن یمان نے ان کو سفیان نے ان کو حبیب ابن ابو عمرو نے انہوں نے کہا کہ جب کوئی آدمی ختم کرے اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان فرشتہ بوسہ دیتا ہے ۔ بشر بن موسیٰ نے کہا کہ مجھے عمر بن عبدالعزیز نے بتایا ۔ میں نے اس بات کے بارے میں احمد بن حنبل کو بیان کیا انہوں نے کہا کہ شاید یہ سفیان کے توہمات ہوں اور احمد بن حنبل نے اس کو انتہائی مستحسن سمجھا۔ یہ حدیث فقیہ کے الفاظ ہیں۔

به أحمد بن حنبل ← لي عمر بن عبد العزيز ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← إِذَا خَتَمَ الرَّجُلُ الْقُرْآنَ قَبَّلَ الْمَلَكُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ. ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، ← سُفْيَانَ، ← يحيى بن اليمان ← بِشْرُ بْنُ الْحَارِثِ ← عمر بن عبد العزيز شيخ له ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو عُمَرَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ النَّحْوِيُّ، ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ← و، ← عمر بن عبد العزيز جليس كان لبشر بن الحارث ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in crying when reading the Qur’an · Hadith 2074

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في البكاء عند قراءة القرآن · حديث 2075

2075 - أخبرنا أبو حسين بن بشران ثنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا سعدان بن نصر ثنا شجاع بن الوليد عمن سمع من محمد بن حماد يحدث عن وبرة بن عبد الرحمن بن الأسود قال : من قرأ القرآن فختمه نهارا غفر له ذلك اليوم و من خمته ليلا غفر له تلك الليلة

ہمیں کبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو سعد ان بن نصر نے ان کو شجاع بن ولید نے اس شخص نے جس سے سنا تھا محمد بن حماد سے وہ بیان کرتا تھا وبرہ عبدالرحمٰن بن اسود سے انہوں نے کہا جو شخص قرآن مجید پڑھے اور اس کو دن میں ختم کرے اس کے اس دن کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور جو شخص اس کو رات میں ختم کرے اس رات کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔

وبرة بن عبد الرحمن بن الأسود ← من محمد بن حماد ← شجاع بن الوليد عمن ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أبو حسين بن بشران

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in crying when reading the Qur’an · Hadith 2075

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في البكاء عند قراءة القرآن · حديث 2076

2076 - و يذكر عن إبراهيم التيمي : أنهم كانوا يقولون إذا ختم الرجل القرآن صلت عليه الملائكة بقية يومه أو بقية ليلته و كانوا يستحبون أن يختموا في قبل الليل أو قبل النهار

ابراہیم تیمی سے مذکور ہے کہ وہ لوگ کہا کرتے تھے جب کوئی آدمی قرآن ختم کرتا ہے اس پر فرشتے رحمت و مغفرت کی دعا کرتے ہیں بقیہ سارا دن یا بقیہ ساری رات اور یہ تمام اہل علم پسند کرتے تھے کہ ختم قرآن شروع رات میں ہو یا شروع دن میں ۔ یعنی دن رات کے پہلے حصے میں ہو۔

و يذكر

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in crying when reading the Qur’an · Hadith 2076

chevron_left Previous
1…363738…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood