شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في البكاء عند قراءة القرآن · حديث 2053
2053 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد ابن الأعرابي ثنا الحسن بن محمد الزعفراني ثنا سفيان ثنا هشيم عن عبد الرحمن بن إسحق عن عبد الملك بن عمير : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إني قارئ عليكم سورة فمن بكى فله الجنة فقرأ فلم يفعل ذلك أحدا منهم فقال أيضا فلم يفعل ذلك أحدا منهم فقال النبي صلى الله عليه و سلم إني قارئ عليكم سورة فمن بكى فله الجنة فإن لم تبكوا فتباكوا هذا مرسل
ہمیں خبر دی ہے ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو حسن بن محمد زعفانی نے ان کو سفیان نے ان کو ھثیم نے ان کو عبدالرحمٰن بن اسحٰق نے ان کو عبدالملک بن عمیر نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارے سامنے ایک سورۃ پڑھنے والا ہوں جو شخص اسے سن کر رو پڑے گا اس کے لئے جنت ہو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تلاوت کی مگر ان میں سے کوئی ایک بھی نہ رویا پھر دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی کیا پھر بھی کوئی نہ رویا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارے سامنے ایک سورت پڑھنے والا ہوں جو شخص اس کو سن کر رو پڑے گا اس کے لئے جنت ہے اور اگر تم کو رونا نہ آئے تو رونے کی شکل بناؤ یہ حدیث مرسل ہے ۔
عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَقَ ← هُشَيْمٌ ← سُفْيَانَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أبو سعيد ابن الأعرابي، ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in crying when reading the Qur’an · Hadith 2053
