Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في البكاء عند قراءة القرآن · حديث 2053

2053 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو سعيد ابن الأعرابي ثنا الحسن بن محمد الزعفراني ثنا سفيان ثنا هشيم عن عبد الرحمن بن إسحق عن عبد الملك بن عمير : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إني قارئ عليكم سورة فمن بكى فله الجنة فقرأ فلم يفعل ذلك أحدا منهم فقال أيضا فلم يفعل ذلك أحدا منهم فقال النبي صلى الله عليه و سلم إني قارئ عليكم سورة فمن بكى فله الجنة فإن لم تبكوا فتباكوا هذا مرسل

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو حسن بن محمد زعفانی نے ان کو سفیان نے ان کو ھثیم نے ان کو عبدالرحمٰن بن اسحٰق نے ان کو عبدالملک بن عمیر نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارے سامنے ایک سورۃ پڑھنے والا ہوں جو شخص اسے سن کر رو پڑے گا اس کے لئے جنت ہو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تلاوت کی مگر ان میں سے کوئی ایک بھی نہ رویا پھر دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی کیا پھر بھی کوئی نہ رویا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارے سامنے ایک سورت پڑھنے والا ہوں جو شخص اس کو سن کر رو پڑے گا اس کے لئے جنت ہے اور اگر تم کو رونا نہ آئے تو رونے کی شکل بناؤ یہ حدیث مرسل ہے ۔

عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَقَ ← هُشَيْمٌ ← سُفْيَانَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أبو سعيد ابن الأعرابي، ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in crying when reading the Qur’an · Hadith 2053

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في البكاء عند قراءة القرآن · حديث 2054

2054 - أخبرنا أبو طاهر أحمد بن عبد الله بن مهرويه الفارسي المقيم بمرو قدم علينا بنيسابور أنا أبو العباس محمد بن أحمد بن سلمة القرشي المروزي أنا أبو بكر أحمد بن محمد بن عمرو عن مصعب بن بشر الفقيه ثنا الحسن بن الحسن بن مهاجر السلمي النيسابوري ثنا إبراهيم بن محمد بن يوسف الفريابي ثنا سلام بن واقد ثنا أبو حمزة السكري ثنا أبو إسحاق الهمداني عن جرير بن عبد الله البجلي قال : قال لنا رسول الله صلى الله عليه و سلم إني قارئ عليكم سورة ألهاكم فمن بكى فله الحنة فقرأ فبكى بعضا و لم يبك الباقون قال الذين لم يبكوا لقد جهدنا يا رسول الله أن نبكي فلم نقدر فقال إني قارئها عليكم الثانية فمن بكى فله الجنة و من لم يقدر أن يبكي فليتباك و هذا إسناده ضعيف بمرة تابعه محمد بن إبراهيم بن محمد الفزاري عن إبراهيم بن محمد الفريابي

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر احمد بن عبداللہ بن مھرویہ فارسی نے جو مرو میں مقیم تھے اور ہمارے پاس نیسا پور میں آئے تھے ان کو خبر دی ابو العباس محمد بن احمد بن سلمہ قرشی مروزی نے ان کو ابو بکر احمد بن محمد بن عمرو نے ان کو مصعب بن بشر فقیہ نے ان کو حسن بن حسن مہاجر سلمی نیسا پوری نے ان کو ابراہیم بن محمد یوسف فریابی نے ان کو سلام بن واقد نے ان کو ابو حمزہ سکری نے ان کو ابو اسحٰق ہمدانی نے ان کو جریر بن عبداللہ بجلی نے انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے سامنے ایک سورت پڑھنے والا ہوں یعنی سورت الھکم ۔ جو شخص رو پڑے گا اس کے لئے جنت ہوگی ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۃ پڑھی جس سے کچھ لوگ رو پڑے اور کچھ لوگ نہیں روئے۔ جو نہیں روئے تھے انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم نے پوری پوری رونے کی کوشش کی ہے مگر ہم رونے پر قادر نہیں ہو سکے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں اسے دوبارہ پڑھتا ہوں جو روئے گا اس کے جنت ہے اور رونے پر قادر نہ ہو سکے وہ رونے کی شکل بنائے۔ یہ اسناد ضعیف ہے ایک بار محمد بن ابراہیم بن محمد فرازی نے ابراہیم بن محمد فریابی سے اس حدیث کا متابع بیان کیا ہے ۔

جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ البَجَلِيِّ ← أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ← أَبُو حَمْزَةَ السُّكَّرِيُّ، ← سلام بن واقد ← إبراهيم بن محمد بن يوسف الفريابي، ← الحسن بن الحسن بن مهاجر السلمي النيسابوري ← مصعب بن بشر الفقيه ← أبو بكر أحمد بن محمد بن عمرو ← أبو العباس محمد بن أحمد بن سلمة القرشي المروزي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in crying when reading the Qur’an · Hadith 2054

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في البكاء عند قراءة القرآن · حديث 2055

2055 - و روينا في الحديث الثابت عن عائشة في قصة أبي بكر الصديق رضي الله عنها أنه : ابتنى مسجدا بفناء داره و كان يصلي فيه و يقرأ القرآن فيقف عليه نساء المشركين و أبناؤهم و هم يتعجبون منه و ينظرون إليه و كان أبو بكر رجلا بكاءا لا يملك دمعه حين يقرأ القرآن و هو بإسناده في الجزء الثاني من كتاب الفضائل مذكور

اور ہم نے روایت کیا اس حدیث میں جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ثابت ہے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے قصے میں کہ انہوں نے اپنے گھر کے صحن میں مسجد بنائی تھی اور اس میں نماز پڑھتے تھے اور قرآن مجید پڑھتے تھے لہذا ان کی تلاوت سننے کے لئے مشرکوں کی عورتیں اور ان کے بیٹے اکثر جاتے تھے اور لوگ سن کو اس سے حیران رہ جاتے تھے اور ابو بکر صدیق کی طرف دیکھتے رہ جاتے تھے اور ابو بکر صدیق بہت رونے والے آدمی تھے جب وہ قرآن مجید پڑھتے تو وہ اپنے آنسو کو نہیں روک سکتے تھے ۔ یہ حدیث اپنی اسناد کے ساتھ جز ثانی کتاب الفضائل میں مذکور ہے ۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in crying when reading the Qur’an · Hadith 2055

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في البكاء عند قراءة القرآن · حديث 2056

2056 - و روينا في فضائل عمر بن الخطاب رضي الله عنه عن الحسن قال : كان عمر بن الخطاب يمر بالآية في ورده فتخفيه فيبكي حتى يسقط و يلزم بيته اليوم و اليومين حتى يعاد و يحسبونه مريضا

اور ہم نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے فضائل میں حسن سے روایت کی ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت عمر بن خطاب کسی آیت کے ورد میں گزرتے تھے وہ آیت کے ورد میں گزرے تھے وہ آیت ان کو ایسا ڈرا دیتی کہ آپ رو پڑتے اتنا اثر لے لیتے کہ اپنے گھر میں ایک ایک دودو دن پڑ جاتے یہاں تک کہ لوگ انہیں بیمار سمجھ کر ان کی طبع پرسی کرنے آ جاتے۔

الْحَسَنِ، ← و روينا في فضائل عمر بن الخطاب

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in crying when reading the Qur’an · Hadith 2056

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في البكاء عند قراءة القرآن · حديث 2057

2057 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس بن يعقوب ثنا العباس بن محمد الدوري ثنا يحيى بن معين ثنا ابن عيينة ح و أخبرنا أبو نصر بن قتادة ثنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة قال : ثنا سعيد بن منصور ثنا سفيان عن إسماعيل بن محمد بن سعد سمع عبد الله بن شداد بن الهاد يقول : سمعت نشيج عمر بن الخطاب و أنا في آخر الصفوف في صلاة الصبح يقرأ من سورة يوسف يقول : { إنما أشكو بثي و حزني إلى الله } لفظ الحديث سعيد و رواه يحيى مختصرا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو یحییٰ بن معین نے ان کو ابن عیینہ نے ۔۔۔ح۔۔۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو نصربن قتادہ نے ان کو ابو منصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیا ن کی ہے سعید بن منصور نے ان کو سفیان نے ان کو اسماعیل بن محمد بن سعد نے اس نے سنا عبداللہ بن شداد بن ہاد سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی ہچکیوں کی آواز میں نے سنی جب کہ میں آخری صفوں میں تھا صبح کی نماز میں آپ سورۃ یوسف پڑھ رہے تھے اور کہہ رہے تھے ۔ "الما اشکوبثی وحزنی الی اللہ"۔میں اپنے حزن و غم کی شکایت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کرتا ہوں۔ یہ الفاظ حدیث سعید کے ہیں اور اس کو یحییٰ نے مختصر اً بیان کیا ہے ۔

في آخر الصفوف في صلاة الصبح يقرأ من سورة يوسف ← نشيج عمر بن الخطاب و ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، ← إسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ← سُفْيَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ← و، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in crying when reading the Qur’an · Hadith 2057

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في البكاء عند قراءة القرآن · حديث 2058

2058 - أخبرنا أبو عبد الله ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن مكرم ثنا عثمان بن عمر ثنا ابن جريج عن ابن أبي مليكة عن علقمة بن وقاص قال : صليت خلف عمر بن الخطاب رضي الله عنه عشاء الآخر فقرأ بسورة يوسف فلما أتى على ذكر يوسف نشج عمر حتى سمعت نشيجه و إني لفي آخر الصف

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن مکرم نے ان کو عثمان بن عمر نے ان کو ابن جریج نے ان کو ابن ابی ملیکہ نے ان کو علقمہ بن وقاص نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب کے پیچھے نماز پڑھی تھی وہ عشاء کی نماز تھی انہوں نے سورۃ یوسف کی قرأت کی جب حضرت یوسف کے ذکر پر آئے تو روتے روتے ان کی ہچکی بندھ گئی ۔ ( یا آواز بھرا گئی ) یہاں تک میں نے حضرت عمر کے ہچکی بندھ جانے کی آواز سنی تھی جب کہ میں آخری صف میں تھا۔

عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْد اللَّهِ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in crying when reading the Qur’an · Hadith 2058

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في البكاء عند قراءة القرآن · حديث 2059

2059 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا ثنا أبو العباس بن يعقوب ثنا هارون بن سليمان ثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن الأعمش عن إبراهيم عن أبي معمر : أن عمر قرأ سورة مريم قال هذا السجود فأين البكاء

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد موسیٰ نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس بن یعقوب نے ان کو ہارون بن سلیمان نے ان کو عبدالرحمٰن بن مہدی نے ان کو سفیان نے اعمش سے ان کو ابراہیم نے ابو معمر سے انہوں نے کہا کہ حضرت عمر نے سورۃ مریم پڑھی اور سجدہ کیا سجدے کے بعد فرمایا یہ تو سجدہ ہے رونا کہا ہے ۔

هذا السجود فأين البكاء ← أبي معمر أن عمر قرأ سورة مريم ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in crying when reading the Qur’an · Hadith 2059

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في البكاء عند قراءة القرآن · حديث 2060

2060 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن مكرم ثنا علي بن عاصم بن كليب عن أبي بردة قال : كان أبو موسى إذا قرأ { يا أيها الإنسان ما غرك بربك الكريم } قال : يعني الجهل و يبكي و إذا قرأ { أفتتخذونه و ذريته أولياء من دوني و هم لكم عدو } بكى

اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن مکرم نے ان کو علی بن عاصم بن کلیب نے ابو بردہ سے انہوں نے کہا کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ جب یہ آیت پڑھتے ۔"یا ایھا الا نسان ماغرک بربک الکریم۔ اے انسا تجھے تیرے رب کریم کے بارے میں کس نے دھوکے میں ڈالا ہے تو فرماتے کہ جہ نے دھوکے میں ڈالا اور رو پڑتے تھے اور سورۂ کہف کی یہ آیت پڑھتے تھے۔ " افتخذونہ و زریعتہ اولیاء من دونی وھم لکم عدو" کیا تم لوگ شیطان کو اور ان کی اولاد کو اپنا دوست بناتے ہو مجھے نہیں بناتے ہو حالانکہ وہ تو تمہارا دشمن ہے یہ پڑھ کر رو پڑتے تھے۔

كان أبو موسى إذا قرأ يا أيها الإنسان ما غرك بربك الكريم ← أَبِي بُرْدَةَ، ← علي بن عاصم بن كليب ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in crying when reading the Qur’an · Hadith 2060

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في البكاء عند قراءة القرآن · حديث 2061

2061 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل ثنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا أبو نعيم ثنا صالح بن رستم عن ابن أبي مليكة قال : سمعت ابن عباس من مكة إلى المدينة و من المدينة إلى مكة و كان يصلي ركعتين فإذا نزل قام شطر الليل و يرتل القرآن يقرأ حرفا حرفا و يكثر في ذلك من النشيج و النحيب و يقرأ : { وجاءت سكرة الموت بالحق ذلك ما كنت منه تحيد }

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن فضل نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابو نعیم نے ان کو صالح بن رستم نے ان کو ابن ابی ملیکہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تک اور پھر مدینہ سے مکہ تک۔ آپ دوران سفر دو دو رکعت پڑھتے تھے جب کہیں پڑاؤ کرتے تو آدھی رات قیام کرتے اور ترتیل کے ساتھ قرآن مجید کو حرف حرف کرکے واضح پڑھتے اور کثرت کے ساتھ روتے ہچکیاں بندھ جاتیں اور زور زور سے روتے تھے اور یہ آیت پڑھتے: "وجاءت سکرۃ الموت بالحق ذالک ماکنت منہ تحید"۔ آ گئی بے ہوشی موت کی سچی یہ وہی ہے کہ تو جس سے گریز کرتا تھا۔

ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in crying when reading the Qur’an · Hadith 2061

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في البكاء عند قراءة القرآن · حديث 2062

2062 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة ثنا أبو نصر النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا هشيم ثنا مطين عن عبد الله بن عروة بن الزبير قال : قلت لجدتي أسماء كيف كان أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا سمعوا قالت : تدمع أعينهم و تقشعر جلودهم كما نعتهم الله قال قلت فإن ناسا ههنا إذا سمعت أحدهم القرآن خر مغشيا عليه قالت : أعوذ بالله من الشيطان الرجيم

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو ھشیم نے ان کو مطین نے ان کو عبداللہ بن عروہ بن زبیر نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی دادای محترمہ بی بی اسماء سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کیسے کرتے تھے جب وہ قرآن سنتے تھے وہ بولیں ان کی آنکھوں سے آنسو بہتے تھے اور ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے جلد پر پھریری آجاتی جیسے اللہ تعالیٰ نے ان کی صفت بیان فرمائی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ یہاں بھی کچھ لوگ ہیں کہ ان میں سے کوئی جب قرآن کو سنتا ہے تو گر کر بے ہوش ہو جاتا ہے وہ بولی " اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم" میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← مطين ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أبو نصر النضروي، ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in crying when reading the Qur’an · Hadith 2062

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في البكاء عند قراءة القرآن · حديث 2063

2063 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب قال ثنا العباس بن محمد الدوري ثنا عفان ثنا حماد قال : كان ثابت يقرأ بتلك { أكفرت بالذي خلقك من تراب } و هو يصلي صلاة الليل ينتحب و يرددها

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے عباس بن محمد دوری نے ان کو عفان نے ان کو حماد نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ثابت یہ آیت پڑھا کرتے تھے ۔ "اکفرت بالذی خلقک من تراب " ۔ کیا تم نے کفر کر لیا ہے اس ذات کے ساتھ جس نے تجھے مٹی سے پیدا کیا ہے ۔ حالانکہ صلوٰۃ اللیل یعنی تہجد پڑھ رہے ہوتے تھے روتے بھی رہتے اور اس کو بار بار پڑھتے رہتے تھے ۔

حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in crying when reading the Qur’an · Hadith 2063

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في البكاء عند قراءة القرآن · حديث 2064

2064 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أحمد بن محمد بن العباس الخطيب بمرو ثنا محمود بن والان ثنا محمد بن جابر قال : سمعت بشر بن الحكم النيسابوري يقول : كانت امرأة الفضيل تقول : لا تقرؤا عند إبني بالقرآن قال بشر و كان إذا قرئ عنده القرآن غشى عليه قال بشر : و كان ابن الفضيل لا يقدر على قراءة القرآن فقال لأبيه : يا أبه ادع الله لعلي أستطيع أن أختم القرآن مرة واحدة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن محمد بن عباس خطیب نے مقام مرو میں ان کو محمود بن والان نے ان کو محمد بن جابر نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے بشر بن حکم سے سنا تھا وہ کہتے تھے حضرت فضیل کی بیوی کہتی تھی میرے بیٹے کے سامنے قرآن کی تلاوت کرو اور بشر نے کہا تھا کہ جب اس کے پاس قرآن پڑھا جاتا تو اس پر بے ہوشی طاری ہو جاتی تھی بشر نے کہا تھا کہ ابن فضیل قرآن کی تلاوت پر قدرت نہیں رکھتے تھے چنانچہ انہوں نے اپنے والد سے کہا ابا جان میرے لیے دعا کرو تاکہ میں قرآن پڑھ سکوں اور ایک مرتبہ ختم کر لوں ( یعنی ختم کرنا تو دور کی بات ہے شروع کرتے ہی بے ہوش ہو جاتا تھا)۔

بشر و كان ابن الفضيل لا يقدر على قراءة القرآن ← بشر و كان إذا قرئ عنده القرآن غشى عليه ← كانت امرأة الفضيل تقول لا تقرؤا عند إبني بالقرآن ← بشر بن الحكم النيسابوري ← مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ← محمود بن والان ← أحمد بن محمد بن العباس الخطيب بمرو ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in crying when reading the Qur’an · Hadith 2064

chevron_left Previous
1…353637…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood