Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 2029

2029 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا محمد بن الفضيل بن غزوان ثنا عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : من قرأ القرآن و اتبع ما فيه هداه الله من الضلالة و وقاه يوم القيامة سوء الحساب و ذلك بأن الله عز و جل قال : فمن اتبع هداي فلا يضل و لا يشقى

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن بن احمد حافظ نے ان کو ابوالعباس جعفر بن محمد مستغفری نے ان کو ابو سعید بن احمد قاضٰ نے ان کو ابو نصر بن ابوداؤد نے ان کو عبدالملک بن شعیب بن لیث نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے ان کو خالد بن یزید نے ان کو سعید بن ابوہلال نے ان کو موسیٰ بن سعید نے ان کو ناجیہ بن عبداللہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے انہوں نے کہا کہ قرآن کو پڑھو اس سے پہلے کہ اٹھا لیا جائے بے شک قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ قرآن اٹھا لیا جائے گا لوگوں نے پوچھا کہ کیا یہ مصحف یعنی کتابیں پوری اٹھالی جائیں گی ؟ تو اس کا کیا ہوگا جو لوگوں کے سینوں میں ہے؟ فرمایا کہ ایک رات گزاریں گے کہ ان کے سینوں سے بھی اٹھا لیا جائے گا صبح کریں گے تو کہیں گے گویا ہم کوئی شے نہیں جانتے اس کے بعد شر میں پڑ جائیں گے ۔ ابو بکر نے فرمایا یہ ناجیہ بن عبداللہ بن عقبہ بن مسعود ہے اس کے لئے اس حدیث کے علاوہ کوئی حدیث نہیں ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 2029

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 2030

2030 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر بن الحسن و أبو زكريا بن أبي إسحق قالوا ثنا أبو العباس الأصم ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا محمد بن الفضيل عن هارون بن عنترة عن أبيه عن ابن عباس : أنه سئل أي الأعمال أفضل قال ذكر الله أكبر رددها ثلاث مرات ثم قال : ما جلس قوم في بيت من بيوت الله يتعاطون كتاب الله و يتدارسونه إلا كانوا ضيافا لله و أظلت عليهم الملائكة أجنحتها و كانوا زوارا لله حتى يخوضوا في حديث غير و من سلك طريقا يطلب فيها علما سهل الله له طريقا إلى الجنة و من يبطئ به عمله لا يسرع به نسبه

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابومنصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے سفیان نے ان کو عبدالعزیز نے انہوں نے سنا شداد بن معقل سے انہوں نے سنا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے وہ فرماتے ہیں پہلی چیز جسے تم اپنے دین میں سے گم پاؤ گے وہ امانت ہے اور آخر میں جو چیز باقی رہے گی وہ نماز ہوگی اور بے شک یہ قرآن مجید جو تمہارے مابین ہے قریب ہے کہ اٹھا لیا جائے لوگوں نے پوچھا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے وہ تو ہمارے قلوب مین اللہ نے ثبت کر دیا ہے اور ہم نے اس کو مصاحف میں ثبت کر دیا ہے فرمایا کہ اس پر ایک رات گزرے گی لہذا جو کچھ تمہارے دلوں میں ثبت ہے وہ نکل جائے گا اور جو کچھ مصاحف میں ہے وہ اٹھ جائے گا اس کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعود نے یہ آیت پڑھی:۔"ولئن شئنالندھبن بالذی او حینا الیک ثم لا تجدلک بہ علینا وکیلا" (سورہ اسراء 86) اور البتہ اگر ہم چاہیں تو ضرور بالضرور کردیں ( لے جائیں) اس قرآن کو جس کو ہم نے تیری طرف وحی کیا ہے ، پھر نہیں پائیں گے آپ اپنے لئے ہمارے اوپر کوئی وکیل۔

ابْنِ عَبَّاسٍ،أَنَّهُ سُئِلَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ ← أَبِيهِ ← هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 2030

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 2031

2031 - أخبرنا أبو عبد الله و محمد بن موسى قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحق ثنا سعيد بن عامر عن شعبة عن قتادة عن يونس بن جبير : صاحبنا جندبا حتى إذا بلغنا ( حض الكاب ) قلنا أوصنا قال : أوصيكم بتقوى الله و أوصيكم بالقرآن كان ينور الليل المظلم و هدى النهار فاتلوه على ما كان من جهد و فاقه فإن عرض لك بلاء فاجعل مالك دون دمك فإن تجاوزك البلاء فاجعل مالك و دمك دون دينك فإن المسلوب من سلب دينه و المخروب من خرب دينه إنه لا فاقة بعد الجنة و لا غنى بعد النار إن النار لا يستغني فقيرها و لا يفك أسيرها هذا هو المحفوظ جندب من قوله و كذلك رواه سعيد بن أبي عروبة عن قتادة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے بطور اجازت کے اور بطور قرأت کے اپنی کتاب میں اس کتاب میں جس میں ان پر مستدرک میں سے پڑھا جاتاتھا۔ یہ ابوبکر حفید نے ان کو حدیث بیان کی ہے ۔ ہمیں حدیث بیان کی ہمارے دادا عباس بن حمزہ نے ان کو ابوکریب نے اور ہمیں خبر دی ابو مسعود احمد بن محمد رازی نے بطور اجازت دینے کے اور یہ لفظ انہی کے ہیں ان کو خبر دی ابو احمد حسین بن علی بن یحییٰ تمیمی نے ان کو ابو قریش محمد بن جمعہ بن خلف حافظ نے ان کو ابو کریب سے ان کو ابو معاویہ نے ان کو ابومالک نے ان کو ربعی بن خراش نے اپنے دادا سے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ۔ اسلام ایسے مٹا دیا جائے گا جیسے کپڑا مٹا دیا جاتا ہے یہاں تک کہ معلوم نہ ہوگا روزہ نہ کوئی صدقہ نہ قربانی رات گزرے گی کتاب اللہ پر حتیٰ کہ دھرتی پر اس کی ایک بھی آیت باقی نہیں رہے گی اور لوگوں میں سے کچھ گر وہ باقی رہیں گے جو سب سے بڑے بوڑے ہوں گے وہ کہیں گے ہم نے اپنے اباؤ اجداد کو کلمہ لا الٰہ الا اللہ پر پایا تھا اور ہم بھی وہی کہتے ہیں ۔ چنانچہ اس کو صلہ نے کہا کہ پھر ان کو الاالٰہ الا اللہ تو کوئی فائدہ نہیں دے گا ایسے کہ وہ نہیں جانتے کہ نماز کیا ہے صدقہ کیا ہے ، حج اور قربانی کیا ہے ۔ چنانچہ حذیفہ نے ان سے منہ پھیر لیا اور اس نے یہی بات تین بار دہرائی ۔ ہر دفعہ حذیفہ اس سے منہ پھیرتے رہے اس کے تیسری باری پر وہ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے صلہ ( کلمہ) ان کو آگ سے جہنم سے نجاد دے گا وہ ان کو آگ سے نجات دے گا۔

يونس بن جبير صاحبنا جندبا حتى إذا بلغنا حض الكاب قلنا أوصنا ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 2031

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 2032

2032 - و قد أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا العباس بن الوليد بن مزيد البيروتي أنا أبو شعيب أخبرني عبد القدوس بن حبيب سمع الحسن كوفي عن سمرة بن جنادة قال : أوصى رسول الله صلى الله عليه و سلم بعض أصحابه فقال : أوصيكم بتقوى الله و القرآن فإنه نور الظلمة و هدى النهار فاتلوه على ما كان من جهد و فاقه فإن عرضك بلاء فاجعل مالك دون دينك و إن جاورك البلاء فاجعل مالك و دمك دون دينك فإن المسلوب من سلب دينه و المحروم من حرم دينه ألا لا فاقه بعد الجنة و لا غنى بعد النار النار لا يستغني فقيرها و لا يفك أسيرها عبد القدوس بن حبيب الشامي هذا ضعيف مرة و قد أخطأ في إسناد هذا المتن إن لم يتعده و الله أعلم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو محمد بن فضل نے بن غزوان ، ان کو عطا ء بن سائب نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے انہوں نے فرمایا جس نے قرآن مجید پڑھا اور اس میں جو احکامات ہیں اس پر عمل بھی کیا اللہ تعالیٰ اس کو گمراہی سے ہدایت عطاء کریں گے اور قیامت کے دن بد ترین عذاب سے اس کو بچا لیں گے ۔ یہ بات اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :۔ "فمن اتبع ھدای فلا یضل ولا یشقی" جس شخص نے میری ہدایت کی تابعداری کی وہ نہ ہی گمراہ ہوگا اور نہ ہی محروم اور بدبخت ہوگا۔

أوصى رسول الله صلى الله عليه و سلم بعض أصحابه ← سمرة بن جنادة ← الحسن كوفي ← عَبْدِ الْقُدُّوسِ بْنِ حَبِيبٍ، ← أَبُو شُعَيْبٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و قد

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 2032

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 2033

2033 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أخبرني أبو الطيب محمد بن محمد بن المبارك الخياط أنا جعفر بن أحمد الشاماتي ثنا سعيد بن إسماعيل ثنا كثير عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نوروا منازلكم بالصلاة و قراءة القرآن

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو بکر بن حسن اور ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس اصم نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو محمد بن فضیل نے ان کو ہارون بن عنترہ نے ان کو ان کے باپ نے ان کو بن عباس نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابن عباس نے کہ ان سے پوچھا گیا کہ تمام اعمال میں سے کون ساعمل افضل ہے انہوں نے فرمایا کہ ذکر اللہ بہت بڑا ہے تین مرتبہ یہی دہرایا اس کے بعد فرمایا کچھ لوگ جب اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں بیٹھتے ہیں کتاب اللہ کا دور کرتے ہیں اور س کو پڑھتے پڑھاتے ہیں تو وہ لوگ اللہ کے مہمان بن جاتے ہیں اور فرشتے اپنے پروں سے ان پر سایہ کرتے ہیں اور وہ لوگ اللہ کی ملاقات کرنے والے ہوتے ہیں ۔ یہاں تک کہ وہ کسی دوسری بات میں لگ جائیں اور جو شخص کسی ایسے راستے پر چلتا ہے جس کو میں وہ علم کی تلاش کرتا ہے اس کے اللہ تعالیٰ جنت کا راستہ آسان کر دیتے ہیں اور وہ شخص جس کو اس کا عمل سست کردے اس کا نسب اس کو چست نہیں کر سکے گا (یعنی جس نے عمل کے ذریعے نجات کا سامان نہیں کیا اس کا نسب اس کو نجات نہیں دلوائے گا ) ۔(مترجم)

أَنَسٍ، ← کَثِيرٍ ← سعيد بن إسماعيل ← جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ الشَّامَاتِيُّ، ← أبو الطيب محمد بن محمد بن المبارك الخياط ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 2033

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 2034

2034 - أخبرنا أبو سعد الزاهد ثنا أبو سعد العلائي ثنا عمران بن موسى السجستاني ثنا عثمان بن أبي شيبة ثنا محمد بن بشر ثنا مسعر عن عمرو بن مرة عن أبي عبيدة قال : قالت امرأة لعيسى عليه السلام : طوبى لبطن حملك و طوبى لثدي أرضعك قال طوبى لمن قرأ كتاب الله و اتبع ما فيه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا ہے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو سعید بن عامر نے ان کو شعبہ نے ان کو قتادہ نے ان کو یونس بن جبیر نے ہم جندب کے مصاحب ہوئے جب ہم مقام حض الکاب میں پہنچے ہم نے ان سے کہا کہ آپ ہمیں وصیت کیجئے انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں اور تمہیں قرآن کے ساتھ وصیت کرتا ہوں ۔ وہ تاریک رات کو روشن کر دیتا ہے اور دن کو رہنمائی کرتا ہے ۔ اس کو پڑھو جس حال میں بھی ہو سکے مشقت ہو فاقہ اور اگر تیرے سامنے کوئی آزمائش آجائے بس پھر اپنے خون کے علاوہ سب کچھ کر دے (یعنی قربان کردے ) اگر تجھ سے آزمائش اور مصیبت ٹل جائے تو جو کچھ تیرے پاس ہے اس کو قربان کرے ماسوا اپنےدین کے کیونکہ کٹا ہوا درحقیقت وہ ہوتا ہے جس کا دین لٹ جائے برباد اور ویران درحقیقت وہ ہوتا ہے جس کا دین برباد ہو جائے اس لئے کہ جنت جانے کے بعد کوئی فاقہ نہیں ہوگا اور جہنم میں جانے کے بعد کوئی غنی ہونا فائدہ نہیں دے گا اس لئے کہ جہنم اپنے فقیر کو غنی نہیں بناتی اور اپنے قیدی کو رہائی نہیں دلواتی ۔ یہی جندب کے قول میں سے محفوظ ہے اور اس کو اسی طرح روایت کیا ہے سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے۔

طوبى لمن قرأ كتاب الله و اتبع ما فيه ← امرأة لعيسى طوبى لبطن حملك و طوبى لثدي أرضعك ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← مِسْعَرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عمران بن موسى السجستاني، ← أبو سعد العلائي ← أبو سعد الزاهد

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 2034

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 2035

2035 - أخبرنا أبو إسحق الحسن بن محمد بن حبيب المفسر من أصله ثنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى أنا محمد بن إسحق الثقفي قال أخبرني إبراهيم بن الحفيد حدثني عبد الرحمن بن عون ثنا محمد بن فضيل بن عياض قال : رأيت عبد الله بن المبارك في المنام فقلت يا أبا عبد الرحمن ما صنع بك ربك قال غفر لي مغفرة بعد مغفرة قلت بأي شيء قال : بتلاوتي القرآن و أشار بيده يريد الغزو قال لي يا أبا محمد إن حورا تلقني اليوم في الجنة

اور تحقیق ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن ولید بن مزید بیروتی نے ان کو ابو شعیب نے ان کو خبر دی عبدالقدوس بن حبیب نے اس نے سنا حسن کوفی سے اس نے سمرہ بن جنادہ سے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے وصیت فرمائی تھی اپنے بعض اصحاب کو اور فرمایا تھا میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں اور قرآن پڑھنے کی وہ اندھیرے میں روشنی دن کی ہدایت اسے پڑھو جس حال میں بھی ہو مشقت کے اور فاقہ کے باوجود اگر تیرے لئے کوئی مصیبت پیش آئے تو اپنے مال کو اپنے دین کے بچانے کے لئے پیش کر دے اور اگر تجھ سے آزمائش ٹل جائے تو اپنے مال اور جان دینے کے لئے پیش کر دے اس لئے کہ لٹ جانے والا وہ ہوتا ہے جس کا دین لٹ جائے اور محروم وہ ہوتا ہے جو اپنے دین سے محروم ہو جائے ورنہ تو جنت میں داخلے کے بعد کوئی فاقہ نہیں ہے اور جہنم میں جانے کے بعد کوئی غنا نہیں ہے ۔ جہنم اپنے فقیر کو استغنا نہیں دیتی اور جس کو پکڑتی ہے اس کو چھوڑتی نہیں ہے ۔ عبدالقدوس بن حبیب شامی سے یہ ضعیف ہے ایک مرتبہ اور اس نے اس حدیث کی اسناد میں غلطی کی ہے اگر چہ اس نے عمداً نہ کی ہو۔

محمد بن فضيل بن عياض ← عبد الرَّحْمَن بن عون ← إبراهيم بن الحفيد ← محمد بن إسحق الثقفي ← أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ← أبو إسحق الحسن بن محمد بن حبيب المفسر من أصله

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 2035

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 2036

2036 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا إسماعيل بن الفضل ثنا عبد الله بن أبي شيبة ثنا عبد الله بن نمير ثنا الأعمش عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله قال : قرأت على النبي صلى الله عليه و سلم فقال : أحسنت

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو خبر دی ابوالطیب محمد بن مبارک خیاط نے ان کو جعفر بن احمد شاماتی نے ان کو سعید بن اسماعیل نے ابن کو کثیر نے ان کو انس رضی اللہ عنہ نے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ۔ اپنے اپنے گھروں کو نماز کے ساتھ روشن رکھو اور قرآن کی تلاوت کے ساتھ۔

على النبي صلى الله عليه و سلم فقال أحسنت ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 2036

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إحضار القارئ قلبه ما يقرأه و التفكر فيه · حديث 2037

2037 - و قد روينا في هذا الكتاب عن أبي ذر أنه قال : قام النبي صلى الله عليه و سلم بآية حتى أصبح و الآية { إن تعذبهم فإنهم عبادك وإن تغفر لهم فإنك أنت العزيز الحكيم } أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق أنا أبو المثنى ثنا مسدد ثنا يحيى بن سعيد ثنا قدامة بن عبد الله العامري قال : حدثني الجسرة بنت دجاجة قالت سمعت أبا ذر يقول فذكره

تحقیق ہم نے اس کتاب میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک آیت کو کھڑے ہو کر تہجد میں بار بار اتنی دیر پڑھا کہ صبح کر دی وہ آیت یہ ہے ۔" ان تعذبحم فانھم عبادک وان تغفرلھم فانک انت العزیز الحکیم" ( اے اللہ ) اگر ان لوگوں کو عذاب دے تو بے شک یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو بخش دے تو بے شک تو غالب حکمت والا ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے صلوٰۃ اللیل میں اس آیت کو بار بار پڑھا یہاں تک کہ صبح ہو گئی ۔ واضح رہے کہ آپ اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے اللہ کی بارگاہ میں سرگوشی کر رہے اور التجا کر رہے تھے کسی عام وظیفہ پڑھنے والے کی طرح محض وظیفے کے طور پر تکرار نہیں کر رہے تھے ظاہر ہے کہ التجا اور سر گوشی مکمل حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم قلب کے بغیر نہیں ہو سکتی اور بار تکرار کرنا آیت کے معنی کی طرح محض وظیفے کے طور پر تکرار نہیں کر رہے تھے ظاہر ہے کہ التجا اور سر گوشی مکمل حضور قلب کے بغیر نہیں ہو سکتی اور باربار تکرار کرنا آیت کے معنی اور مفہوم میں مکمل غوروفکر کو تقاضا کرتا ہے ۔ تو یہ آیت واضح دلیل ہے اس بات کی کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم قرآن مجید کی قرأت حضور قلب کے ساتھ اور غور فکر کے ساتھ کرتے اور دلیل ہے اس بات کی کہ تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ حضور قلب اور غوروفکر کے ساتھ تلاوت کریں اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ مسلمان صرف الفاظ قرآنی تک محدود نہ رہیں بکہ معانی اور مفہوم کو بھی جانیں تاکہ قرآن صرف زبان اور حلق سے اوپر نہ رہے بلکہ نیچے اتر کر دل پر اپنا اثر کرے اور وہ معنی اور مفہوم جانے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ (مترجم) خبر ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر بن اسحٰق نے ان کو ابو المثنی نے ان کو مسدد نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو قدامہ بن عبداللہ عامری نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے جسرہ بنت دجاجہ نے وہ کہتی ہیں کہ میں نے سنا ابوذر سے وہ فرماتے تھے پھر اس نے مذکورہ حدیث ذکر کی۔

فَذَكَرَهُ. ← أَبَا ذَرٍّ ← الجسرة بنت دجاجة ← قُدَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَامِرِيُّ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو الْمُثَنَّى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← قام النبي صلى الله عليه و سلم بآية حتى أصبح و الآية ← أَبِي ذَرٍّ أَنَّهُ ← و قد روينا في هذا الكتاب

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on bringing the reader to his heart what he reads and thinking about it · Hadith 2037

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إحضار القارئ قلبه ما يقرأه و التفكر فيه · حديث 2038

2038 - أنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس بن يعقوب ثنا الربيع بن سليمان ثنا أسد بن موسى ثنا محمد بن فضيل بن غزوان عن كليب العامري عن جسرة العامرية عن أبي ذر قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يردد آية حتى أصبح بها يركع و بها يسجد { إن تعذبهم فإنهم عبادك وإن تغفر لهم فإنك أنت العزيز الحكيم } قال فقلت يا رسول الله ما زلت تردد هذه الآية حتى أصبحت فقال إني سألت ربي الشفاعة لأمتي فأعطانيها و هي نائلة من لا يشرك بالله شيئا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس بن یعقوب نے ان کو ربیع بن سلیمان ان کو اسد بن موسیٰ نے ان کو محمد فضیل بن غروان نے ان کو کلیب عامری نے ان کو جسرہ عامریہ نے ان کو ابو ذر نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے کہ وہ ایک آیت کو مکرر پڑھ رہے تھے یہاں تک کہ اس کو پڑھتے ہوئے صبح ہو گئی اسی کے ساتھ رکوع بھی کر رہے تھے اور سجدہ بھی ہو مذکورہ آیت یہ تھی:۔ " ان تعذبھم فانھم عبادک ان تغفرلھم فانک انت العزیز الحکیم"۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم آپ ہمیشہ اس آیت کو مکرر پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ نے صبح کر دی آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ میں اپنے رب سے اپنی امت کے لئے شفاعت کا حق مانگا تھا اللہ تعالیٰ نے وہ مجھے عطا کر دیا یہ شفاعت ہر اس انسان کو نصیب ہو گی جو اللہ کے ساتھ کسی شے کو شریک نہیں کرتا ۔

فَقُلْتُ: ← اَبِیْ ذَرٍّ ← جَسْرَةَ الْعَامِرِيَّةِ ← كليب العامري ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on bringing the reader to his heart what he reads and thinking about it · Hadith 2038

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إحضار القارئ قلبه ما يقرأه و التفكر فيه · حديث 2039

2039 - و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا تمتام ثنا أبو مسلم ثنا زيد بن الحباب عن إسماعيل بن مسلم العبدي عن أبي نضرة عن أبي سعيد : أن النبي صلى الله عليه و سلم ردد آية حتى أصبح

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو تمتام نے ان کو ابو مسلم کو زید بن حباب نے ان کو اسماعیل مسلم عبدی نے ان کو ابو نضرہ نے ان کو ابو سعید نے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایک آیت کو رات بھر دھراتے رہے یہاں تک کہ صبح کر دی۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيِّ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← أَبُو مُسْلِمٍ ← تَمْتَامٌ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on bringing the reader to his heart what he reads and thinking about it · Hadith 2039

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إحضار القارئ قلبه ما يقرأه و التفكر فيه · حديث 2040

2040 - أخبرنا عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا الحسن بن محمدا الزعفراني ثنا إسماعيل بن علية عن أيوب عن أبي حمزة قال : قلت لابن عباس أني سريع القرآن أني أقرأ القرآن في ثلاث قال لئن أقرأ البقرة في ليلة أتدبرها و أرتلها أحب إلى أن أقرأه كما تقرأ

ہمیں خبر دی عبداللہ بن یوسف اصبھانی نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو حسن بن محمد زعفرانی نے ان کو اسماعیل بن علیہ نے ان کو ایوب نے ان کو ابو حمزہ نے وہ کہتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا میں قرآن مجید تیز پڑھتا ہوں میں تین دن میں قرآن مجید پڑھ لیتا ہوں ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر پوری رات میں سورۃ بقرہ کی تلاوت پوری کروں اور میں اس سورۃ میں تدبر کروں غوروفکر کروں اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھوں تو مجھے یہ زیادہ محبوب ہے اس پڑھنے سے جو تم پڑھتے ہو۔

قلت لابن عباس أني سريع القرآن أني أقرأ القرآن في ثلاث ← أَبِي حَمْزَةَ، ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← الحسن بن محمدا الزعفراني ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on bringing the reader to his heart what he reads and thinking about it · Hadith 2040

chevron_left Previous
1…333435…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood