Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1993

1993 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ ثنا محمد بن خريم الدمشقي ثنا هشام ثنا خالد ثنا مروان الفزاري عن بشر بن نمير عن القاسم الشامي عن أبي أمامة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قرأ ثلث القرآن أعطى ثلث النبوة و من قرأ نصفه أعطى نصف النبوة و من قرأ ثلثاه أعطى ثلث النبوة و من قرأ القرآن كله أعطى النبوة كلها و يقال له يوم القيامة اقرأؤا رق بكل آية درجة حتى ينجز ما معه من القرآن فيقال له اقبض فيقبض فيقال له هل تدري ما في يديك فإذا في يده اليمنى الخلد و في الأخرى النعيم

ہمیں حدیث بیان کی ہے امام ابوالطیب سہل بن محمد بن سلیمان نے بطور املاء کے ان کو عبداللہ بن محمد بن علی بن زیاد عدل نے ان کو عبداللہ بن محمد بن محمد بن عبدالرحمٰن نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم حنظلی نے ان کو سوید بن عبدالعزیز نے ان کو عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن جابر نے ان کو اسماعیل بن عبید اللہ بن مہاجر نے ان کو عبدالرحمٰن بن عثمان نے ان کو معاذ بن جبل نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ۔ جس نے قرآن مجید کو پڑھا اور اس پر عمل کیا اور مسلمان جماعت میں انتقال کیا اللہ تعالیٰ قیامت میں اس کو مقدس فرشتوں اور ماہرین قرآن کے ساتھ اٹھائیں گے اور جو شخص قرآن کو پڑھتا ہے اور وہ اس سے تکلیف اٹھاتا ہے بھولتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو دہرا اجر عطا فرمائیں گے اور جو شخص قرآن سیکھنے پر حریص تھا مگر اسے سیکھ نہ سکا اور سیکھنا ترک نہیں کیا تھا الہ تعالیٰ اس کو قیامت کے روز اس کو اس کے خاندان کے شرفاء کے ساتھ اٹھائیں گے اور وہ سارے لوگ تمام لوگوں پر فضیلت عطا کئے جائیں گے جیسے شاہین تمام پرندوں پر فوقیت رکھتے ہیں اس کے بعد منادی کرنے والی منادی کرے گا کہاں ہیں وہ لوگ جنہیں مویشی چرانا میری کتاب کی تلاوت سے غافل نہیں کرتا لہذا ایسے لوگ کھڑے ہو جائیں گے لہذا تم میں ایک انسان کو عزت والا تاج پہنایا جائے گا اور دائیں ہاتھ میں ملک اور بائیں ہاتھ میں جنت دی جائے گی ۔ اس کے بعد اس کے والدین اگر وہ مسلمان ہیں تو ساری دنیا سے زیادہ قیمتی جوڑا پہنائے جائیں گے وہ کہیں گے یہ ہمارے لئے کیسے میسر ہو گیا حالانکہ ہمارے اعمال تو اس قابل نہیں ہیں ان سے کہا جائے گا کہ یہ اس لئے ہے کہ تمہارا بیٹا قرآن پڑھتا رہتا تھا۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ الشَّامِيِّ ← بِشْرِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ ← خَالِدٌ، ← هِشَامٍ ← محمد بن خريم الدمشقي ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1993

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1994

1994 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا عبد الله بن سعد الحافظ أخبرني موسى بن عبد المؤمن ثنا هارون بن سعيد الآيلي ثنا عبد الله وهب أخبرني حيى بن عبد الله عن أبي عبد الرحمن الحبلى عن عبد الله بن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : الصيام و القرآن يشفعان للعبد يقول الصيام أي رب أني منعته الطعام و الشهوات و بالنهار فشفعني فيه و يقول القرآن منعته النوم بالليل فشفعني فيه فيشفعان

ہمیں خبر دی ہے ابو سعید مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی حافظ نے ان کو محمد بن خریم دمشقی نے ان کو ہشام نے ان کو خالد نے ان کو مروان فزاری نے ان کو بشر بن نمیر نے قاسم شامی سے ان کو ابو امامہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا۔ جس نے قرآن مجید کی ایک تہائی پڑھا وہ(علم ) نبوت کی تہائی عطا کر دیا گیا اور جس نے آدھا قرآن مجید پڑھا اس نے آدھی نبوت حاصل کی جس نے دو تہائی قرآن پڑھا اس نے اتنی ہی علم نبوت حاصل کیا جس نے پورا قرآن مجید پڑھا سیکھا اس نے پورا علم نبوت سیکھا اور قیامت کے دن اس سے کہا جائے گا کہ تلاوت کرو اور جنت کے درجے چڑھو ہر آیت کے بدلے میں ایک درجہ یہاں تک کہ پورا ہو جائے گا جو کچھ قرآن اس کے علم میں ہو گا پھر اس سے کہا جائے گا کہ مٹھی بند کرو وہ بند کرے گا پھر اس کو کہا جائے گا کہ کیا تجھے معلوم ہے کہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے چنانچہ اس کے سیدھے ہاتھ میں جنت اور بائیں ہاتھ میں نعمتیں ہوں گی۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← حُيَيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← عبد الله وهب ← هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ← مُوسَى بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ الْحَافِظُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1994

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1995

1995 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن عمر بن حفص التاجر ثنا إبراهيم بن عبد الله أنا وكيع عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة أو أبي سعيد شك الأعمش قال : يقال لصاحب القرآن يوم القيامة اقرأ وارق تكن منزلتك عند آخر آية تقرأها

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبداللہ بن سعد حافظ نے ان کو خبر دی موسیٰ بن عبد مومن نے ان کو ہارون بن سعید آیلی نے ان کو عبداللہ بن وہب نے ان کو حیی بن عبداللہ نے ان کو ابو عبدالرحمٰن حنبلی نے ان کو عبداللہ بن عمر یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا روزے اور قرآن بندے کے حق میں سفارش کریں گے روزے کہیں گے اے میرے رب میں نے اس کو کھانے سے اور خواہشات نفس سے دن کو روک دیا تھا اور قرآن کہے گا میں نے اس کو راحت میں نیند کرنے سے روک دیا تھا لہذا اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما لہذا دونوں کی شفاعت قبول ہوگی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، أَوْ أَبِي سَعِيدٍ، شَكَّ الْأَعْمَشُ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← أبو بكر محمد بن عمر بن حفص التاجر ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1995

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1996

1996 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا عبد الله بن محمد بن زياد و العدل ثنا محمد بن إسحاق الإمام ثنا عبد الوارث ثنا أبي ثنا شعبة عن عاصم عن ذكوان عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : يجيء صاحب القرآن يوم القيامة فيقول القرآن يا رب حله فيلبس تاج الكرامة ثم يقول يا رب زده النبي رب ارض عنه فيرضى عنه و يقال له اقرأ وارقه و يزاد بكل آية حسنة

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر محمد بن عمر بن حفص تاجر نے ان کو ابراہیم بن عبداللہ نے ان کو وکیع اعمش نے ان کو ابو صالح ے ان کو ابوہریرہ یا ابو سعید نے اعمش کو شک ہے انہوں نے فرمایا کہ قرآن پڑھنے پڑھانے والے کو قیامت کے دن کہا جائے گا کہ قرآن پڑھئیے اور جنت کے درجے چڑھیے تیری منزل وہاں ہو گی جہاں تیری آخری آیت کی انتہا ہو گی۔

القرآن يا رب حله فيلبس تاج الكرامة ثم ← يجيء صاحب القرآن يوم القيامة ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ذَكْوَانَ، ← عَاصِمٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← محمد بن إسحاق الإمام، ← عبد الله بن محمد بن زياد و العدل ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1996

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1997

1997 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني محمد بن أحمد بن بالوية ثنا محمد بن غالب ثنا محمد بن بشار ثنا محمد بن جعفر و حدثنا محمد بن غالب ثنا عبد الوارث بن عبد الصمد ثنا أبي ثنا شعبة عن عاصم عن أبي صالح عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : يجيء القرآن يوم القيامة فيقول يا رب حله فيلبس تاج الكرامة فيقول يا رب زده فيلبس حلة الكرامة ثم يقول يا رب زده فيحلى حلة الكرامة ثم يقول يا رب ارض عنه فيرضى عنه ثم يقال اقرأه و ارقه و يزاد بكل آية حسنة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبداللہ بن محمد بن زیاد عدل نے ان کو محمد بن اسحٰق امام ے ان کو عبدالوارث نے ان کو ان کے والد نے ان کو شیبہ نے ان کو عاصم نے ان کو ذکوان نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ۔ قیامت کے دن صاحب قرآن آئے گا لہذا قرآن کہے گا یا رب اس کو پوشاک پہنا اس کو عزت کا تاج پہنایا جائے گا پھر کہے گا یا رب اور زیادہ عطا فرما اے رب تو اس سے راضی ہو جا چنانچہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جائے گا پھر اس سے کہا جائے گا کہ آپ پڑھیے اور درجات پر چڑھیےاور ہر آیت کے ساتھ ایک نیکی کا اضافہ ہوگا۔

يا رب زده فيحلى حلة الكرامة ثم ← يا رب زده. فيلبس حلة الْكَرَامَةِ، ثُمَّ ← يا رب حله فيلبس تاج الكرامة ← ((يجيء القرآن يوم القيامة ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عَاصِمٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← مُحَمّؐدُ بن جَعفَرٍ و ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1997

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1998

1998 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الحسين محمد بن أحمد الحناط ببغداد من أصل كتابه ثنا أبو عبد الله محمد بن روح ثنا الحكم بن موسى ثنا شعيب بن إسحق عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة رضي الله عنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم عدد درج الجنة عدد أي القرآن فمن دخل الجنة من أهل القرآن فليس فوقه درجة قال الحاكم هذا إسناد صحيح و لم يكتب هذا المتن إلا بهذا الإسناد و هو من الشواذ

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن احمد بن بالویہ نے ان کو محمد بن غالب نے ان کو محمد بن بشار نے ان کو محمد جعفر نے اور ان کو بیان کی محمد بن غالب نے ان کو عبدالوارث بن عبدالصمد نے ان کو ان کے والد نے ان کو شعبہ نے ان کو عاصم نے ان کو ابو صالح نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ۔ قیامت کے دن قرآن مجید آئے گا اور آکر کہے گا اے رب اس کو پوشاک پہنا لہذا عزت کا تاج پہنایا جائے گا پھر کہے گا یا رب اور زیادہ عطا فرما پھر عزت کی پوشا ک پہنایا جائے گا پھر کہے گا اے رب تو اس سے راضی ہو جا اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جائے گا اس کے بعد اس کو کہا جائے گا قرآن پڑھ اور درجات جنت پر بھی چڑھ اور ہر آیت پر اضافی طور پر ایک نیکی بھی ملے گی۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَقَ ← الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ← أبو عبد الله محمد بن روح ← أبو الحسين محمد بن أحمد الحناط ببغداد من أصل كتابه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1998

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1999

1999 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسه ثنا أبو داود ثنا مسدد ثنا يحيى عن سفيان حدثني عاصم بن عبيد الله عن زر بن حبيش عن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يقال لصاحب القرآن اقرأ وارق و رتل كما كنت ترتل في الدنيا فإن منزلتك عند آخر آية تقرؤها

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافط نے ان کو ابو الحسین محمد بن احمد حناط نے بغداد میں اس کی اصل کتاب سے ان کو ابو عبداللہ محمد بن روح نے ان کو حکم بن موسیٰ نے ان کو شعیب بن اسحٰق نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ۔ جنت کے درجات کی تعداد قرآن کی آیات کی تعداد کے برابر ہے اہل قرآن میں سے جو شخص جنت میں داخل ہو گا اس کے اوپر کوئی درجہ نہیں ہوگا۔ حاکم نے کہا کہ یہ اسناد صحیح ہے یہ متن صرف اسی اسناد کے ساتھ ہی لکھا گیا ہے اور وہ شاذ روایتوں میں سے ہے ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1999

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 2000

2000 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه ثنا الفضل بن عبد الله بن مسعود ثنا أبو سعيد يحيى بن محمد الهمداني ثنا ابن المبارك عن راشد بن سعد عن الحسن بن عبيد الله عن أبي عبد الرحمن عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : من قرأ آية من القرآن كان له درجة في الجنة و مصباحا من نور

ہمیں خبر دی ہے ابو علی روذ باری نے ان کو ابوبکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو مسدد نے ان کو یحییٰ نے ان کو سفیان نے ان کو عاصم بن عبید اللہ نے ان کو زربن حبیش نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ صاحب قرآن سے کہا جائے گا کہ آپ پڑھتے جائیں اور درجات جنت چڑھتے جائیں جیسے آپ دنیا میں آرام آرام سے تلاوت کرتے تھے بے شک آپ کی منزل آخری آیت پر ہو گی جس کو آپ پڑھیں گے۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← أبو سعيد يحيى بن محمد الهمداني ← الفضل بن عبد الله بن مسعود ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 2000

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 2001

2001 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ح و أخبرنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن أبي طاهر الدقاق أخبرنا علي بن محمد القرشي قالا أنا الحسن بن عمران ثنا زيد بن الحباب ثنا صالح المري أخبرني قتادة عن زرارة بن أوفى عن ابن عباس : أن رجلا قال للنبي صلى الله عليه و سلم يا رسول الله أي الأعمال أفضل قال عليك بالحال المرتحل قالوا : يا رسول الله و ما الحال المرتحل قال : صاحب القرآن يضرب في أوله حتى يبلغ آخره و يضرب في آخره حتى يبلغ أوله كلما أحل ارتحل

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ان کو فضل بن عبداللہ بن مسعود نے ان کو ابو سعید یحییٰ بن محمد ہمدانی نے ان کو ابن مبارک نے ان کو راشد بن سعد نے ان کو حسن بن عبید اللہ نے ان کو ابو عبدالرحمٰن نے ان کو عبداللہ بن عمرو بن العاص نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جو شخص قرآن کی ایک آیت پڑھے اس کے لئے جنت میں ایک درجہ ہو گا اور چراغ اور روشنی ہوگی۔

للنبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← صالح المري ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← الْحَسَنِ بْنِ عِمْرَانَ ← علي بن محمد القرشي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ الدَّقَّاقُ، ← و، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 2001

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 2002

2002 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان ثنا أحمد بن يوسف السلمي ثنا عارم أبو النعمان من كتابه و أنا سألته ثنا الفضل بن ميمون عن منصور بن زاذان عن زاذان أبي عثمان قال : سمعت أبا سعيد و أبا هريرة يقولان : سمعنا رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ثلاثة على كثيب من مسك أسود يوم القيامة لا يهولهم الفزع و لا ينالهم الحساب رجل قرأ القرآن ابتغاء وجه الله و أم به قوما و هم به راضون و رجل أذن في مسجد دعا إلى الله ابتغاء وجه الله و رجل ابتلى بالرق في الدنيا فلم يشغله ذلك عن طلب الآخرة

ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ محمد بن احمد بن ابو طاہر دقاق نے اور ہمیں خبر دی علی بن محمد قرشی نے دونوں کہتے ہیں ۔ ہمیں خبر دی ہے حسن بن عمران نے ان کو زید بن حباب نے ان کو صالح المری نے اور ان کو خبر دی ہے قتادہ نے ان کو زرارۃ بن اوفیٰ نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہ ایک آدمی نے نبی کریم سے کہا یا رسول اللہ اعمال میں سے کون سا عمل افضل ہے آپ نے فرمایا تم حال اور مرتحل کی کیفیت کو لازم پکڑو لوگوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم حال اور مرتحمل سے کیا مراد ہے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن مجید پڑھنے والا شروع قرآن سے لگتا ہے یہاں تک کہ آخر تک پہنچتا ہے جب آخر میں پہنچتا ہے تو پھر دوبارہ اول سے شروع کر دیتا ہے یعنی جب بھی منزل پر اترتا ہے دوبارہ سفر کرنے کے لیے کوچ کر لیتا ہے ۔

أبا سعيد و أبا هريرة يقولان ← زاذان أبي عثمان ← مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، ← الفضل بن ميمون ← سَأَلْتُهُ ← عارم أبو النعمان من كتابه و ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 2002

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 2003

2003 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا أحمد بن بشر المرثدي ثنا الربيع بن ثعلب ثنا أبو إسمعيل المؤدب عن فطر عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا معشر التجار أيعجز أحدكم لو رجع من سوقه أن يقرأ عشر آيات يكتب له بكل آية حسنة و رواه ابن المبارك في الرقاق عن فطر بإسناده موقوفا على ابن عباس قال : ما منع أحدكم إذا رجع عن سوقه أو من حاجته إلى أهله أن يقرأ القرآن فيكون له بكل حرف عشر حسنات و هذا هو الصحيح

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر محمد بن حسین قطان نے ان کو احمد بن یوسف سلمی نے ان کو عازم ابو نعمان نے اپنی کتاب سے اور میں نے ان سے پوچھا اور ہمیں حدیث بیان کی ہے فضل بن میمون نے ان کو منصور زاذان نے زاذان سے یعنی ابو عثمان سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا تین شخص قیامت کے دن سیا کستوری کے ڈھیر پر اور ٹیلے پر بیٹھے ہوں گے ان کو قیامت کی گھبراہٹ خوف زدہ نہیں کرے گی اور ان کا حساب و کتاب بھی نہیں ہوگا وہ آدمی جس نے قرآن پڑھا محض اللہ کی رضا کے لئے اور قرآن کے ساتھ قوم کی امامت کی اور وہ لوگ اس سے راضی تھے ( یہاں امامت سے مراد اگر امام کبریٰ لی جائے یعنی خلافت و امارت تو امامت صغریٰ بھی اسی میں آ جائے گی اور حدیث کا مفہوم جامع ہو گا)۔ اور وہ آدمی جس نے مسجد میں اذان دی لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتا رہا محض اللہ کی رضا کے لئے ۔ تیسرا و ہ شخص جو دنیا میں غلامی میں مبتلا کیا گیا مگر غلامی نے اس کو آخرت کی طلب سے غافل نہ کیا ہو ( یعنی آقا کی فرماں برداری کے باوجود اللہ کو بھی راضی رکھا ہوگا)۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← فِطْرٍ ← أبو إسمعيل المؤدب ← الرَّبِيعُ بْنُ ثَعْلَبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ بِشْرٍ الْمَرْثَدِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 2003

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 2004

2004 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو نصر محمد بن حامد الترمذي ثنا أبو محمد عبد الله محمد بن إبراهيم البوسنجي ثنا محمد بن بحر المنقري البصري ح و أخبرنا أبو سعد الماليني ثنا أبو أحمد بن عدي الحافظ ثنا أبو يعلى ثنا محمد بن بحر البصري ثنا سعيد بن سالم المكي عن ابن جريج عن عبد الله بن أبي مليكة عن عبد الله بن الزبير قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قرأ القرآن ظاهرا أو ناظرا أعطى شجرة يوم القيامة في الجنة لو أن غرابا أفرخ تحت ورقة منها ثم أدرك ذلك الفرخ فنهض لأدركه الهرم قبل أن يقطع تلك الورقة

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو احمد بن بشر مرثدی نے ان کو ربیع بن ثعلب نے ان کو ابو اسماعیل مودب نے ان کو فطر نے ان کو حکم نے اس کو مقسم نے ان کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا ۔ اے تاجروں کی جماعت کیا تم میں سے کوئی آدمی اس بات سے عاجز ہے کہ وہ جب اپنے بازار سے واپس لوٹے تو دس آیات پڑھ لیا کرے جب کہ اس کے لئے ہر آیت کے بدلے میں ایک نیکی لکھی جائے گی۔ اور اس کو ابن مبار ک نے روایت کیا ہے رقاق میں فطر سے اپنی اسناد کے ساتھ بطور موقوف روایت کے ابن عباس پر انہوں نے فرمایا کس چیز نے روکا ہے ایک تمہارے آدمی کو کہ و ہ جب اپنے بازار سے واپس لوٹے یا فرمایا تھا کہ اپنی ضرورت سے جب اپنے گھر کو لوٹے تو قرآن پڑھ لیا کرے پس اس کے لیے ہر ایک حرف کے بدلے میں دس نیکیاں ہوں گی ۔ صحیح ہے ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سَعِيدِ بْنِ سَالِمٍ الْمَکِّيِّ ← محمد بن بحر البصري ← أَبُو يَعْلَى ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ ← و، ← محمد بن بحر المنقري البصري ← أبو محمد عبد الله محمد بن إبراهيم البوسنجي ← أبو نصر محمد بن حامد الترمذي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 2004

chevron_left Previous
1…303132…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood