Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1981

1981 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أخبرنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا إسماعيل بن عياش عن ليث عن مجاهد عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من تلا آية من كتاب الله كانت له نورا يوم القيامة و من استمع لآية من كتاب الله كتبت له حسنة مضاعفة

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو کبر دی ہے ابو منصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے اسماعیل بن عیاش نے ان کو لیث نے مجاہد سے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ جو شخص کتاب اللہ کی ایک آیت پڑھتا ہے قیامت کے دن وہ اس کے لئے نور اور روشنی ہو گی اور جو شخص قرآن کی ایک آیت سنتا ہے اس کے لئے دوگنی نیکی لکھی جاتی ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُجَاهِدٍ ← لَيْثٌ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1981

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1982

1982 - أخبرنا أبو الحسين محمد بن القاسم الفارسي ثنا أبو بكر بن قريش ثنا الحسن بن سفيان ثنا قتيبة بن سعيد ثنا ابن لهيعة عن أبي الأسود عن عروة عن عائشة رضي الله عنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : البيت الذي يقرأ فيه القرآن يتراءى لأهل السماء كما تتراءى النجوم لأهل الأرض

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن محمد بن قاسم فارسی نے ان کو ابوبکر بن قریش نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو قتیبہ بن سعید نے ان کو ابن لہیعہ نے ان کو ابو الاسود نے ان کو عروہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ گھر جس میں قرآن پڑھا جاتا ہے اس کو اہل آسمان ایسے دیکھتے ہیں جیسے ستاروں کو اہل زمین دیکھتے ہیں ۔(یا یوتعبیر ہے ) وہ گھر اہل آسمان کے لئے ایسے چمکتا ہے جیسے ستارے اہل زمین کے لئے چمکتے ہیں۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أبو بكر بن قريش، ← أبو الحسين محمد بن القاسم الفارسي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1982

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1983

1983 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي أنا أبو بكر محمد بن أحمد بن دالويه الدقاق ثنا أحمد بن حفص بن عبد الله حدثني أبي حدثني إبراهيم بن طهمان عن موسى بن عبيدة عن محمد بن كعب القرظي عن عوف عن مالك الأصمعي أنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قرأ حرفا من القرآن كتب له به حسنة لا أقول بسم و لكن باء و سين و ميم و لا أقول ألم و لكن الألف و اللام و الميم و هذا إن صح إسناده فإنما أراد حسنة مضاعفة 1983 - مكرر فقد رواه الضحاك بن عثمان عن أيوب بن موسى عن محمد بن كعب القرظي قال : سمعت ابن مسعود يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قرأ حرفا من كتاب الله فله به حسنة و الحسنة بعشرة أمثالها أما أني لا أقول آلم حرف و لكن ألف حرف و لام حرف و ميم حرف

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسن محمد بن حسین بن داؤد علوی نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن نے دالویہ دقاق نے ان کو احمد بن حفص بن عبداللہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابراہیم بن طہمان نے ان کو موسیٰ بن عبیدہ ان کو محمد بن کعب قرظی نے ان کو عوف نے ان کو مالک اسمعی نے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرمایا کہ جو شخص قرآن مجید کا ایک حرف پڑھے اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے میں نہیں کہتا کہ بسم (ایک حرف ہے ) بلکہ با ء ، سین، میم، علیحدہ علیحدہ حرف ہیں اور میں یہ بھی نہیں کہتا کہ الم میں (ایک حرف ہے ) بلکہ الف ، لام، میم علیحدہ علیحدہ حرف ہیں ۔ یہ روایت اگر اس کی اسناد صحیح ہے تو اس سے مراد دوہری نیکی مراد ہے ۔

مالك الأصمعي أنه ← عَوْفٌ، ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← موسى بن عبيدة ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← أبو بكر محمد بن أحمد بن دالويه الدقاق ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1983

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1984

1984 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن القاسم الفارسي ثنا أبو بكر بن قريش ثنا الحسن بن سفيان ثنا هارون بن عبد الله البزار ثنا ابن أبي فديك عن الضحاك : فذكره بإسناده عنه غير أنه قال عن محمد بن كعب عن عبد الله بن مسعود أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من قرأ حرفا من القرآن و روينا في حديث ابن مسعود من وجه آخر مرفوعا و موقوفا ما دل على ذلك أما المرفوع فقد مضى ذكره و أما الموقوف

مکرر ہے اس ضحاک بن عثمان نے روایت کیا ہے ایوب بن موسیٰ سے اس نے محمد بن کعب قرظی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جو شخص کتاب میں سے ایک حرف کو پڑھے اس کے لئے ایک نیکی ہے اور نیکی اپنی جیسی دس نیکیوں کےبرابر ہے ۔ سنو میں یہ نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف علیحدہ حرف ہے لام علیحدہ حرف ہے میم علیحدہ حرف ہے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، ← الضحاك فذكره بإسناده عنه غير أنه ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← هارون بن عبد الله البزار ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أبو بكر بن قريش، ← أبو الحسن محمد بن القاسم الفارسي

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1984

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1985

1985 - ففيما أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحق أخبرنا أبو عبد الله بن يعقوب ثنا محمد بن عبد الوهاب أنا جعفر بن عون أنا إبراهيم بن الهجري ( ح ) و أخبرنا أبو الحسن العلوي أنا أبو بكر بن بالويه ثنا أحمد بن حفص ابن عبد الله حدثني أبي حدثني إبراهيم بن طهمان عن إبراهيم الهجري عن أبي الأحوص عن عبد الله بن مسعود أنه قال : إن هذا القرآن مأدبة الله فتعلموا مأدبة الله ما استطعتم إن هذا القرآن حبل الله و النور المبين النافع عصمة لمن تمسك به و نجاة لمن تبعه لا يعوج فيقوم و لا يزيغ فيستعتب و لا تنعقني عجائبه و لا يخلق عن كثرة الرد فاتلوه فإن الله يأجركم عن تلاوته بكل حرف عشر حسنات أما أني لا أقول ( ألم ) و لكن الألف و اللام و الميم و في رواية العلوي لا أعني ( ألم ) عشرا و لكن الألف عشرا و اللام عشرا و الميم عشرا

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن محمد بن قاسم فارسی نے ان کو ابو بکر بن قریش نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو ہارون بن عبداللہ بزار نے ان کو ابن ابی فدیک نے ان کو ضحاک نے پھر انہوں نے اس کو اپنی اسناد کے ساتھ ان سے ذکر کیا ہے علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ محمد بن کعب سے انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جس نے قرآن کا ایک حرف پڑھا ۔اور ہم نے ابن مسعود کی حدیث میں دوسرے طریق سے بطور مرفوع اور بطور موقوف کے روایت کیا ہے جو اسی مذکورہ مفہوم پر دلالت کرتی ہیں۔ مرفوع روایت تو وہ ہے جو پہلے گزر چکی اور موقوف وہ ہے جو ابھی درج ہوگی۔

عبد الله بن مسعود أنه ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← إبراهيم الهجري ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← أَبِي ← أحمد بن حفص ابن عبد الله ← أَبُو بكر بن ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ ← و، ← إبراهيم بن الهجري ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ ← أبو زكريا بن أبي إسحق ← ففيما

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1985

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1986

1986 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا محمد بن أبي بكر ثنا يحيى بن عمر الحنفي أنا إبراهيم الهجري : فذكره بإسناده و معناه مرفوعا و قال في أوله : إن هذا القرآن فيه مأدبة الله فتعلموا من مأدبته و قال هو القول الشافي

ان میں سے جن کی ہمیں خبر دی ہے ابو زکریان بن ابو اسحٰق نے ان کو خبر دی ہے ابو عبداللہ بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبدالوہاب نے ان کو جعفر بن عوف نے ان کو ابراہیم بن ہجری نے ۔ح۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علوی نے ان کو ابوبکر بن بالویہ نے ان کو احمد بن حفص بن عبداللہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابراہیم بن طہمان نے ان کو ابراہیم ہجری ابو الا حوص سے اس نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا ۔ یہ قرآن مجید دعوت مہمانی ہے اللہ کی مہمانی کو جانو جس قدر تم استطاعت رکھتے ہو بے شک یہ قرآن مجید اللہ کی رسی ہے ۔ واضح روشنی ہے جو کہ فائدہ پہنچاتی ہے جو اس کے ساتھ چمٹ جائے اس کےلئے تحفظ ہے جو اس کی اتباع کرے اس کے لیے نجات ہے وہ کج رو نہیں ہوگا بلکہ سیدھا رہے گا ۔ ٹیڑھا نہیں ہو گا کہ پھر آرزو کرے نہیں خاموش رہنے دیتے مجھ کو اس کے عجائبات باربار دہرانے سے پرانا نہیں ہوتا۔ اسے پڑھو اللہ تعالیٰ تمہیں اس کی تلاوت سے اجر عطا کرے گا ہر حرف کے بدلے میں دس دس نیکیاں سنو میں یہ نہیں کہتا ہوں کہ الم ہیں بلکہ الف، لام ، میم ، علیحدہ اور علوی کی ایک روایت میں ہے کہ میری مراد یہ نہیں ہے کہ الم میں دس نیکیاں ہیں بلکہ الف کی دس ہیں لام کی دس اورمیم کی دس ہیں۔

هو القول الشافي ← في أوله إن هذا القرآن فيه مأدبة الله فتعلموا من مأدبته و ← إبراهيم الهجري فذكره بإسناده و معناه مرفوعا و ← يحيى بن عمر الحنفي ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الحسن بن محمد بن إسحق ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1986

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1987

1987 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ ثنا حامد بن محمود بن حرب ثنا عبد الرحمن بن عبد الله الدشتكي ح قال و أنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي ثنا عبد الله بن عبد الرحمن بن عبد الله الدشتكي ثنا أبي ثنا عمرو بن أبي قيس عن عاصم عن أبي الأحوص عن عبد الله : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن أصفر البيوت بيتا ليس فيه من كتاب الله شيء فاقرؤا القرآن فإنكم تجزون عليه بكل حرف منه عشر حسنات أما إني لا أقول ألم و لكن أقول ألف و لام و ميم

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن ابی بکر نے ان کو یحییٰ بن عمر حنفی نے ان کو ابراہیم ہجری نے پھر انہوں نے اپنی اسناد کے ساتھ اس کو ذکر کیا ہے اورا سی کے مفہوم کو بطور مرفوع روایت کے اور روایت کے شروع میں کہا ہے کہ بے شک یہ قرآن مہمانی ہے لہذا اس مہمانی سے اور دستر خوان سے سیکھو اور فرمایا یہ قرآن شافی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← عَاصِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ← أَبِي ← عبد الله بن عبد الرحمن بن عبد الله الدشتكي ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ ← و، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الدَّشْتَكِيُّ، ← حَامِدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ حَرْبٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1987

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1988

1988 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر القطان ثنا أحمد بن يوسف السلمي ثنا عبيد الله بن موسى أنا مسعر عن عطاء عن أبي الأحوص عن ابن مسعود قال : تعلموا هذا القرآن واتلوه فإنكم تؤجرون في كل اسم عشر حسنات أما إني لا أقول ألم و لكن في كل حرف ألف و لام و ميم و روي هذا من وجه آخر عن عطاء مرفوعا

ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب حافظ نے ان کو حامد بن محمود بن حرب نے ان کو عبدالرحمٰن بن عبداللہ عبداللہ دشتکی نے ۔ ح۔ ان کو ابو سعید احمد بن یعقوب ثقفی نے ان کو عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن عبداللہ دشتکی نے ان کو ان کے والد نے ان کو عمرو بن ابو قیس نے ان کو عاصم نے ان کو ابو الاحوص نے ان کو عبداللہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ۔ بے شک خالی ترین گھر گھروں میں سے وہ ہے جس میں کتاب اللہ میں سے کوئی شے نہ ہو لہذا تم لوگ قرآن کریم کو پڑھو بے شک تم اس پر ہر حرف کے بارے میں دس نیکیوں کی جزا دئیے جاؤ گے سنو یہ نہیں کہتا کہ الم بلکہ میں یہ کہتا ہوں الف ، لام اور میم۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← عَطَاءٍ، ← مِسْعَرٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1988

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1989

1989 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو النضر محمد بن محمد بن محمش الفقيه ثنا معاذ بن نجد القرشي ح ح و أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو محمد أحمد بن إسحق بن أحمد البغدادي ثنا معاذ بن نجدة القرشي أبو سلمة ثنا خلاد بن يحيى بن صفوان الكوفي ثنا بشير بن مهاجر الغنوي ثنا عبد الله بن بريدة عن أبيه قال : كنت جالسا عند نبي الله صلى الله عليه و سلم فسمعت النبي صلى الله عليه و سلم قال : تعلموا سورة البقرة فإن أخذها بركة و تركها حسرة و لا يستطيعها البطلة ثم سكت ساعة ثم قال : تعلموا سورة البقرة و آل عمران فإنهما الزهراوان و إنهما يظلان صاحبهما يوم القيامة كأنهما غمامتان أو غيايتان أو فرقان من طير صواف و إن القرآن يلقى صاحبه يوم القيامة حين ينشق عنه قبره كالرجل الشاحب فيقول هل تعرفني فيقول ما أعرفك فيقول له القرآن أنا الذي أظمأتك في الهواجر و أسهرت ليلك و إن كل تاجر من وراء التجارة و أنا لك اليوم وراء كل تجارة فيعطى الملك بيمينه و الخلد بشماله و يوضع على رأسه تاج الوقار و يكس والده حلتين لا يقوم لهما أهل الدنيا فيقولان بما كسينا هذا فيقال لهما بأخذ ولدكما القرآن فيقال اقرأ و اصعد في درجة الجنة و غرفها فهو في صعود ما دام يقرأ هذا أو ترتيلا لفظ حديث ابن قتادة و حديث ابن عبد الله مختصرا

ہمیں خبر دی ہے ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر قطان نے ان کو احمد بن یوسف سلمی نے ان کو عبداللہ بن موسیٰ نے ان کو مسعر نے ان کوعطاء نے ان کو ابوالا حوص نے ابن حضرت مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم لوگ اس قرآن مجید کو سیکھو اور اس کی تلاوت کرو بے شک تم ہر اسم کے بارے میں دس دس نیکیوں کا اجر عطا ء کئے جاؤ گے سنو میں یہ نہیں کہہ رہا الم بلکہ ہر حرف میں الف لام میم ہے ۔ یہ دوسرے طریق سے عطا سے مرفوعاً مروی ہے ۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← بشير بن مهاجر الغنوي، ← خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ صَفْوَانَ الْكُوفِيُّ ← معاذ بن نجدة القرشي أبو سلمة ← أبو محمد أحمد بن إسحق بن أحمد البغدادي ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ← و، ← مُعَاذُ بْنُ نَجْدٍ الْقُرَشِيُّ، ← أبو النضر محمد بن محمد بن محمش الفقيه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1989

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1990

1990 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو عمرو بن مطر ثنا أبو عمر محمد بن جعفر الكوفي ثنا يعقوب ثنا بشير بن المهاجر : فذكره بإسناده و نحوه غير أنه قال : يشق على قارئ القرآن حتى يوم القيامة فيستقبله رجل شاحب اللون فيقول أما تعرفني ثم ذكره

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوالنضر محمد بن محمد بن محمش فقیہ نے ان کو معاذ بن نجد قریشی نے۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو محمد احمد بن اسحٰق بن بغدادی نے ان کو معاذ بن نجدہ قریشی نے ان کو ابو سلمہ نے ان کو خلاء بن یحییٰ بن صفوان کوفی نے ان کو بشیر بن مہاجر غنوی نے ان کو عبداللہ بن بریدہ نے ان کو ان کے والد نے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا میں نے آپ سے سنا آپ فرما رہے تھے ۔ سورۃ بقرہ سیکھو اس کو سیکھنا برکت ہے اور اس کو چھوڑنا حسر ت و ندامت ہے اہل باطل شیطان اور جادو گر اس کی استطاعت نہیں رکھتے (یہ کہہ کر ) تھوڑی سی دیر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم خاموش ہوگئے پھر فرمایا۔ سور ۃ بقرہ سیکھو اور سورۃ آل عمران یہ دونوں تروتازہ ہیں یہ دونوں اپنے پڑھنے والے پر سایہ کریں گی قیامت کے دن بادل کی طرح یا پروں کو پھیلانے والے پرندوں کی طرح یہ قرآن قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے کے سامنے آئے گا قیامت میں جب انسان کی قبر پھٹے گی ۔ ایک کمزور و پریشان حال جوان کی شکل میں آئے گا اور کہے گا کیا مجھے پہچانتے ہیں ۔ وہ کہتے گا نہیں میں تو آپ کو نہیں پہچانتا لہذا قرآن اس سے کہے گا ۔ میں وہی تو ہوں جس نے آپ کو گرمیوں میں پیاسا رکھا تھا اور میں نے ہی آپ کو راتوں کو بے آرام کیا تھا بے شک ہر تاجر اپنی تجارت کے پیچھے ہو گیا ہے اور میں آج تیرے لئے ہوں ہر تجارت کے پیچھے لہذا ایک ہاتھ میں اس کو ملک اور دوسرے ہاتھ میں ہمیشہ رہنا خلد دیا جائے گا اور اس کے سر پر عزت و وقار کا تاج رکھا جائے گا اور اس کے والدین کو دو پوشاکیں پہنائی جائیں گی ۔ جس سے اہل دنیا دنگ رہ جائیں گے وہ پوچھیں گے یہ ہمیں کس وجہ سے پہنائے گئے ہیں جواب ملے گا اس لئے کہ تمہارے بچے نے قرآن مجید کی تعلیم حاصل کی تھی پھر قرآن کے قاری سے کہا جائے گا کہ آپ پڑھتے جائیں اور جنت کے درجات اور حجروں کے لئے چڑھتے جائیں چنانچہ وہ چڑھتے جائیں گے جب تک تلاوت کرتے رہیں گے اس کی ترتیل کے ساتھ حدیث کے یہ الفاظ ابن قتادہ کی روایت کے ہیں اور ابن عبداللہ کی حدیث مختصر ہے ۔

أما تعرفني ثم ذكره ← يشق على قارئ القرآن حتى يوم القيامة فيستقبله رجل شاحب اللون ← بشير بن المهاجر فذكره بإسناده و نحوه غير أنه ← يَعْقُوبُ، ← أبو عمر محمد بن جعفر الكوفي ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1990

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1991

1991 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة ثنا أبو الفضل أحمد بن إسمعيل بن يحيى بن حازم الأزدي أنا أحمد بن إبراهيم بن عبد الله أنا يعقوب بن حميد بن كاسب عن هشام بن سليمان بن عكرمة عن إسمعيل بن رافع عن سعيد المقبري و زيد بن أسلم جميعا عن أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من قرأ القرآن فقام به آناء الليل و النهار و يحل حلاله و يحرمه حرامه خلطه الله بحلمه و دمه و جعله رفيق السفرة الكرام البررة و إذا كان يوم القيامة كان القرآن له حجيجا فقال يا رب كل عامل يعمل في الدنيا يأخذ بعمله من الدنيا إلا فلان كان يقوم بي آناء الليل و النهار فيحل حلالي و يحرم حرامي فيقول يا رب فيتوجه الله تاج الملك و يكسوه من حلل الكرامة ثم يقول هل رضيت فيقول يا رب ارغب له في أفضل من هذا فيعطيه الله عز و جل الملك بيمينه و الخلد بشماله ثم يقال له هل رضيت فيقول نعم يا رب و من أخذه بعد ما يدخل في السن فأخذه و هو يتفلت منه أعطاه الله أجره مرتين

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو عمر و بن مطر نے ان کو ابو عمر محمد بن جعفر کوفی نے ان کو یعقوب نے ان کو بشیر بن مہاجر نے پھر اس کو ذکر کیا ہے اپنی اسناد کے ساتھ اسی کی مثل علاوہ اس کے انہوں نے کہا کہ قرآن پڑھنے والے پر جب قرآن مشکل گزرتا ہے تو قیامت کے دن وہ کمزور آدمی کی صورت میں سامنے آئے گا اور کہے گا کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں پھر آگے حدیث ذکر کی ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سعيد المقبري و زيد بن أسلم جميعا ← إسمعيل بن رافع ← هشام بن سليمان بن عكرمة ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← أبو الفضل أحمد بن إسمعيل بن يحيى بن حازم الأزدي ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1991

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1992

1992 - حدثنا الإمام أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان إملاء أنا عبد الله بن محمد بن علي بن زياد العدل أنا عبد الله بن محمد بن محمد بن عبد الرحمن ثنا إسحق بن إبراهيم الحنظلي ثنا سويد بن عبد العزيز ثنا عبد الله بن عبد الرحمن بن جابر عن إسماعيل بن عبيد الله بن المهاجر عن عبد الرحمن بن عثمان عن معاذ بن جبل : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من قرأ القرآن و عمل بما فيه و مات في الجماعة بعثه الله يوم القيامة مع السفرة و المهرة و من قرأ القرآن و هو يتفلت منه آتاه الله أجره مرتين و من كان حريصا عليه و لا يستطيعه و لا يدعه بعثه الله يوم القيامة مع أشراف أهله و فضلوا على الخلائق كما فضلت النسور على سائر الطيور ثم ينادي مناد أين الذين كانوا لا تلهيهم رعاية الأنعام عن تلاوة كتابي فيقومون فيلبس أحدكم تاج الكرامة و يعطي الملك بيمينه الخلد بيساره ثم يكس أبواه إن كانا مسلمين حلة خير من الدنيا وما فيها فيقولان أنى لنا هذا و ما بلغته أعمالنا فيقال إن ولدكما كان يقرأ القرآن

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابوالفضل احمد بن اسماعیل بن یحییٰ بن حازم ازدی نے ان کو احمد بن ابراہیم بن عبداللہ نے ان کو یعقوب بن حمید کا سب نے ان کو ہشام بن سلیمان بن عکرمہ نے ان کو اسماعیل بن رافع نے ان کو سعید مقبری نے اور زید بن اسلم سب نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جو شخص قرآن مجید پڑھے اور دن رات اس کے ساتھ قیام کرے ( یعنی کثرت کے ساتھ اس کو نمازوں میں پڑھے یا رات دن اسی کی پڑھنے پڑھانے سمجھنے سمجھانے اور عمل کرنے کرانے میں لگا رہے) اور اس کے حلال کیے ہوئے کو حلال جانے اور حرام کئے ہوئے سے باز رہے اللہ تعالیٰ قرآن کو اس کے گوشت اور خون میں ملاتا ہے اور اس شخص کو قرآن رفیق بنا دے گا نیک اور مقدس کاتب فرشتوں کا اور جب قیامت کا دن ہو گا اس وقت یہ اس کی طرف سے وکالت کرے گا اور جھگڑے گا اور یہ کہے گا اے رب ہر عمل کرنے والے نے جو دنیا میں عمل کیا اس نے اس کا اجر وہاں دنیا میں پالیا تھا مگر فلاں فلاں انسان وہ رات بھی میرے ساتھ گزارتا تھا اور دن بھی میرے ساتھ گزارتا تھا میرے حلال کو حلال جانتا تھا اور میرے حرام کو حرام جان کر اجتناب کرتا تھا۔ اے رب تو اسے ابن عطا فرما پھر اللہ اس کو شاہی تاج پہنائے گا اور عزت کی پوشاکیں پہنائے گا پھر پوچھے گا کہ کیا اب راضی ہیں بندہ عرض کرے گا میں اس ے بھی زیادہ افضل شے کی رغبت کرتا ہوں چنانچہ اللہ تعالیٰ ملک اس کے دائیں ہاتھ پر اور خلد و دوام اس کے بائیں ہاتھ پر رکھیں گے پھر اس سے پوچھا جائے گا کیا ب تم راضی ہو وہ کہے گا جی ہاں یا رب اور وہ شخص جس نے قرآن مجید کو جوانی یا بڑھاپے میں سیکھا اور سیکھنے میں اس کو دشواری ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو دہر اجرعطا فرمائیں گے ۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ ← إسماعيل بن عبيد الله بن المهاجر ← عبد الله بن عبد الرحمن بن جابر ← سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ← عبد الله بن محمد بن محمد بن عبد الرحمن ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ الْعَدْلُ، ← الْإِمَامُ أَبُو الطِّيبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1992

chevron_left Previous
1…293031…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood