Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة الأعراف و التوبة و النور · حديث 2436

2436 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ ثنا الحسن بن الفرج ثنا عمرو بن خالد الحراني ثنا ابن لهيعة حدثني أبو صخر عن نافع عن ابن عمر : أنه رأى رسول الله صلى الله عليه و سلم على المنبر يقول : لمن الملك اليوم ؟ فيقول لله الواحد القهار فيرمي بالسموات و الأرض ثم يرد فيها حتى لقد رأيت المنبر يهتز فأين الجبارون و أين المتكبرون فنادوه من ناحية { آذناك ما منا من شهيد } و لم يكن يدع قراءة آخر سورة الأعراف في كل جمعة

ہمیں خبر دی ابو سعد مالینی نے ان کو ابو احمد بن عدی حافظ نے ان کو حسن بن فرج نے ان کو عمرو بن خالد حرانی نے ان کو اب لھیعہ نے ان کو ابو صخر نے نافع سے اس نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے دیکھا۔ "لمن الملک الیوم؟ آج کس کی بادشاہی ہے ؟ فرمائے گا۔ للّٰلہ الواحد القھار۔ اللہ واحت زبردست کی ہے پھر آسمان و زمین پھینک دیے جائیں گے پھر لوٹا ئے جائیں گے البتہ تحقیق میں نے دیکھا تو منبر ہل رہا تھا۔ فرمایا " راین الجبارون این المتکبرون۔ اعلان ہو گا کہاں ہیں ظالم و جابر لوگ؟ کہا ں ہیں مغرور متکبر لوگ؟ پکار اس کو ایک کونے سے(اذناک مامنا من شھید ۔ ہم نے آپ سے عرض کر دیا کہ نہیں تھا ہم میں سے کوئی گواہ ) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر جمع سورۃ اعراف کی آخری آیت کی قرأت ترک نہیں کرتے تھے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَبُو صَخْرٍ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ← الحسن بن الفرج ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-A'raf, Repentance and Light · Hadith 2436

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة هود · حديث 2437

2437 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا فضيل بن عياض و هشيم و خالد بن عبد الله عن حصين بن عبد الرحمن عن أبي عطية الهمداني قال : كتب عمر بن الخطاب تعملوا سورة براءة و علموا نساءكم سورة النور و حلوهن الفضة

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو فضیل بن عیاض نے اور ھثیم اور خالد بن عبداللہ نے ان کو حصین بن عبدالرحمٰن نے ان کو ابو عطیہ ہمدانی نے انہوں نے کہا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لکھا ۔ تم لوگ سورۃ براءۃ خود سیکھو اورا پنی عورتوں کو سورۃ نور سکھلاؤ اور ان کو چاندی کے زیور استعمال کراؤ۔ ایمان داری سے سوچنے کی بات ہے کہ کیا یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حکم مردوں عورتوں کو صرف توبہ اور نور کے الفاظ رٹوانے کے لیے تھا؟ یہ باعث عبرت ہے ان تمام مسلمانوں کے لیے جو جمود کا شکار ہیں اور اپنے آپ کو اور اپنی نسلوں کو صرف الفاظ پڑھ کر عہدہ برا ہونا چاہتے ہیں۔ (مترجم)

أَبِي عَطِيَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، ← حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← فضيل بن عياض و هشيم و خالد بن عبد الله ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Surat Hood mentioned · Hadith 2437

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة هود · حديث 2438

2438 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عمرو بن السماك أنا محمد بن الفرح الأزرق ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا همام بن يحيى ثنا أبو عمران الجوني عن عبد الله بن رباح عن كعب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اقرؤا هود يوم الجمعة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عمر و بن سماک نے ان کو محمد فرح ارزق نے ان کو مسلم بن ابراہیم نے ان کو ہمام بن یحییٰ نے ان کو ابو عمران جونی نے ان کو عبداللہ بن رباح نے ان کو کعب نے انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ جمعہ کے دن سورۃ ھود پڑھ کرو۔

کَعْبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ ← أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← محمد بن الفرح الأزرق ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Surat Hood mentioned · Hadith 2438

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة هود · حديث 2439

2439 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي سمعت أبا علي السري يقول : رأيت النبي صلى الله عليه و سلم فقلت : يا رسول الله روي عنك أنك قلت شيبتني هود قال : نعم فقلت : ما الذي شيبك قصص الأنبياء و هلاك الأمم ؟ قال : لا و لكن قوله : { فاستقم كما أمرت }

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے کہ میں نے سنا تھا ابو علی سری سے وہ کہتے تھے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تھا میں نے عرض کی یارسول آپ سے بھی یہ بات نقل ہوئی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ آپ نے فرمایا تھا شیبتنی ھود کہ مجھے سورۃ ہود نے بوڑھا کر دیا ہے آپ نے فرمایا جی ہاں میں نے کہا کیا چیز ہے جس نے آپ کو بوڑھا کر دیا ہے ۔ انبیاء کے واقعات نے اور امتوں کی ہلاکت کے تذکروں نے ؟ فرمایا کہ نہیں بلکہ اللہ کے اس فرمان نے ۔ فاستقم کما امرت ۔ آپ سیدھے رہیے جیسے آپ کو حکم ہوا ہے یا ثابت رہیں اور استقامت رہیں اور استقامت اختیار کیے رہیے جیسے آپ کو حکم ہو رہے ۔

رأيت النبي صلى الله عليه و سلم فقلت ← أبا علي السري ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Surat Hood mentioned · Hadith 2439

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر الآية الجامعة الخير و الشر في سورة النحل · حديث 2440

2440 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو زكريا العنبري ثنا محمد بن عبد السلام ثنا إسحاق بن إبراهيم أنا المعتمر بن سليمان قال : سمعت منصور بن المعتمر يحدث عن عامر قال : جلس شتير بن شكل و مسروق بن الأجدع فقال أحدهما لصاحبه : حدث بما سمعت من عبد الله و أصدقك أو أحدث و تصدقني قال : سمعت عبد الله بن مسعود يقول : إن أجمع آية في القرآن للخير و الشر في سورة النحل : { إن الله يأمر بالعدل و الإحسان و إيتاء ذي القربى و ينهى عن الفحشاء و المنكر و البغي يعظكم لعلكم تذكرون } قال : صدقت

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو زکریا عنبری نے ان کومحمد بن عبدالسلام نے ان کو اسحاق بن ابراہیم نے ان کو معتمر بن سلیمان نے وہ کہتے ہیں انہوں نے سنا منصور بن معتمر سے وحدیث بیان کرتے ہیں عامر سے انہوں نے کہا ۔ شیتر بن شکل اور مسروق بن اجدع ایک ساتھ بیٹھے دو زانوں میں ایک نے دوسرے سے کہا کہ آپ نے عبداللہ سے جو کچھ حدیث سنی ہے آپ بیان کریں اور میں تیری تصدیق کروں گا یا میں حدیث بیان کروں اور تم تصدیق کرنا ۔ شیتر نے کہا کہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود سےسنا وہ فرماتے تھے۔ بے شک قرآن مجید میں خیر وشر کی جامع آیت سورۃ نحل میں ہے وہ یہ ہے ۔ " ان اللہ یامر بالعدل والا حسان وایتا ء ذی القربیٰ وینھیٰ عن الفحشاء والمنکر والبغی یعظکم لعلکم تذکرون بے شک اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو حکم دیتا ہے انصاف کرنے کا اور نیکی کرنے اور قرابت داروں کو دینے کا اور منع کرتا ہے بے حیائیوں سے اور برائی سے اور ظلم سے تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت قبول کرو۔ مسروق نے کہا کہ آپ نے سچ کہا ۔

عَامِرٍ، ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The universal verse mentioned good and evil in Surat Al-Nahl · Hadith 2440

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة الكهف · حديث 2441

2441 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن محمد بن يحيى و محمد بن عبد الوهاب الفراء و محمد بن الحجاج أبو جعفر و جعفر بن محمد قالوا : ثنا يحيى بن يحيى أنا أبو خيثمة عن أبي إسحاق عن البراء قال : كان رجل يقرأ سورة الكهف و عنده فرس مربوط بشطنين فتغشته سحابة فجعلت تدور و تدنو و جعل فرسه ينفر منها فلما أصبح أتى النبي صلى الله عليه و سلم فذكر ذلك له فقال : تلك السكينة تنزلت للقرآن رواه مسلم في الصحيح عن يحيى بن يحيى و أخرجه البخاري عن عمرو بن خالد عن أبي خيثمة زهير بن معاوية

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن محمد بن یحییٰ نے اور محمد بن عبدالوہاب فراء نے اور محمد بن حجاج ابو جعفر اور جعفر بن محمد نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے یحییٰ بیان کی ہے یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو ابو خیثمہ نے ان کو ابو اسحٰق نے براء سے انہوں نے کہا ۔ ایک آدمی سورۃ کہف پڑھ رہا تھا اور اس کے پاس ایک گھوڑا بندھا ہوا تھا دو رسیوں دو باگوں کے ساتھ ۔ اس آدمی کو ایک بادل نے ڈھانپ لیا چنانچہ بادل گھومنے لگا اور قریب آگیا اور گھوڑا اس سے ڈرنے لگا جب صبح ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور ان سے اس بات کا ذکر کیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ سکینہ تھی جو قرآن کی وجہ نازل ہوا ۔ اس مسلم نے صحیح میں یحییٰ بن یحییٰ سے روایت کیا ہے اور بخاری نے اس کو عمر و بن خالد سے اس نے ابو خیثمہ زہیر بن معاویہ سے۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Kahf · Hadith 2441

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة الكهف · حديث 2442

2442 - و أخبرنا الفقيه أبو القاسم عبيد الله بن محمد بن علي الفامي ببغداد ثنا أحمد بن سلمان النجاد ثنا جعفر الصائغ و الحسن بن سلام قالا : ثنا عفان ثنا شعبة عن أبي إسحاق قال : سمعت البراء قال : قرأ رجل سورة الكهف و له دابة مربوطة فجعلت الدابة تنفر فنظر الرجل إلى سحابة قد غشيته أو ضبابة ففزع فذهب إلى النبي صلى الله عليه و سلم قال : بينما ذاك الرجل يقرأ فذكر له فقال : اقرأ فلان فإن السكينة نزلت للقرآن أو عند القرآن أخرجاه من حديث شعبة

اور ہمیں خبر دی ہے فقیہ ابوالقاسم عبید اللہ بن محمد بن علی الفامی نے بغداد میں ان کو احمد بن سلیمان نجاد نے ان نے ان کو جعفر ضائع نے اور حسن بن سلام نے دونوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی عفان نے ان کو شعبہ نے ان کو ابواسحٰق نے انہوں نے کہا میں سنا براء سے انہوں نے کہا کہ ایک آدمی نے سورۃ کہف پڑھی اور اس کا جانور بندھا ہوا تھا۔ جانور بدکنے لگا آدمی نے ایک بادل کی طرف دیکھا جس نے اس کو چھپا لیا تھایا کہر اور دھندنے ۔ پس گھبرا گیا لہذا گھبرا کر حضور کی خدمت میں گیا اور ماجرا بتایا کہ میں پڑھ رہا تھا اور ایسے ایسے ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پڑھتے رہنا چاہیے تھا اسے فلا نے بے شک سکینہ نازل ہوئی تھی قرآن کے لیے قرآن کے پاس ۔ بخاری مسلم نے اس کو نقل کیا ہے حدیث شعبہ سے۔

الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← عَفَّانُ، ← جعفر الصائغ و الحسن بن سلام ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ ← الفقيه أبو القاسم عبيد الله بن محمد بن علي الفامي ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Kahf · Hadith 2442

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة الكهف · حديث 2443

2443 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو أحمد عبد الله بن محمد بن الحسن المهرجاني و أبو القاسم الحسن بن محمد بن حبيب من أصله قالوا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا يزيد بن هارون أنا همام بن يحيى عن قتادة عن سالم بن أبي الجعد عن معدان بن أبي طلحة عن أبي الدرداء : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من حفظ عشر آيات من أول سورة الكهف عصم من الدجال أخرجه مسلم من حديث همام و هشام و شعبة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو احمد عبداللہ بن محمد بن حسن مہر جانی نے اور ابو القاسم حسن بن محمد بن حبیب نے اپنی اصل کتاب سے انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحاق صغانی نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو ہمام بن یحییٰ نے ان کو قتادہ نے ان کو سالم بن ابوالجعد نے ان کو معدان بن ابوطلحہ نے ان کو ابو الدرداء نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کہ جو شخص سورۃ کہف کی ابتدائی دس آیات حفظ کر لے وہ دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔ اس کے مسلم نے نقل ہے ہمام اور ہشام اور شعبہ کی روایت سے۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Kahf · Hadith 2443

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة الكهف · حديث 2444

2444 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا هشيم ثنا أبو هاشم عن أبي مجلز عن قيس بن عباد عن أبي سعيد الخدري قال : من قرأ سورة الكهف يوم الجمعة أضاء له من النور ما بينه و بين البيت العتيق هذا هو المحفوظ موقوف و رواه نعيم بن حماد عن هشيم فرفعه

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کواحمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو ھشیم نے ان کو ابو ہاشم نے ان کو ابو مجلز نے ان کو قیس بن عباد نے ان کو ابو سعید خدری نے فرماتے ہیں کہ جو شخص سورۃ کہف جمعہ کے دن پڑھے گا اس کے لیے ایک نور روشنی کرے گا اس کے اور بیت اللہ کے درمیان یہی محفوظ ہے موقوف ہے اور اس کو روایت کیا ہے نعیم بن حماد نے ھشیم سے اس نے اسے مرفوع کیا ہے ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ← اَبِیْ مِجْلَزٍ، ← أبو هاشم ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Kahf · Hadith 2444

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة الكهف · حديث 2445

2445 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي و أبو نصر بن قتادة قالا : أنا أبو علي حامد بن محمد الرفا ثنا أبو منصور سليمان بن محمد بن الفضل بن جبريل البجلي بنهروان ثنا يزيد بن مخلد بن يزيد ثنا هشيم : فذكره بإسناده مثله مرفوعا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے اور ابو نصر بن قتادہ نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے ابو علی حامد بن محمد رفاء نے ان کو ابو منصور سلیمان بن محمد بن فضل بن جبریل بجلی نے نہروان میں ان کو یزید بن مخلد بن یزید نے ان کو ہثیم نے پھر اس کو ذکر اپنی اسناد کے ساتھ اس کی مثل بطور مرفوع روایت کے۔

هشيم فذكره بإسناده مثله مرفوعا ← يزيد بن مخلد بن يزيد ← أبو منصور سليمان بن محمد بن الفضل بن جبريل البجلي بنهروان ← أبو علي حامد بن محمد الرفا ← أبو عبد الرحمن السلمي و أبو نصر بن قتادة

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Kahf · Hadith 2445

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة الكهف · حديث 2446

2446 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في التاريخ ثنا عبد الله بن سعد ثنا أحمد بن النضر بن عبد الوهاب ثنا أبو قدامة ثنا يحيى بن كثير ثنا شعبة عن أبي هاشم عن أبي مجلز عن قيس بن عباد عن أبي سعيد الخدري : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من قرأ سورة الكهف كما أنزلت كان له نورا يوم القيامة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے تاریخ میں ان کو عبداللہ بن سعد نے ان کو احمد بن نضر بن عبدالوہاب نے ان کو ابو قدامۃ نے ان کو یحییٰ بن کثیر نے ان کو شعبہ نے ان کو ابو ہاشم نے ان کو ابو مجلز نے ان کو قیس بن عبادنی ان کو ابو سعید خدری نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ جو شخص سورۃ کہف ایسے پڑھے جیسے نازل ہو ئی ہے اس کے لیے قیامت کے دن روشنی ہو گی۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ← اَبِیْ مِجْلَزٍ، ← أَبِي هَاشِمٍ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ کَثِيرٍ ← أَبُو قُدَامَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ← أبو عبد الله الحافظ في التاريخ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Kahf · Hadith 2446

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة الكهف · حديث 2447

2447 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن علي بن الفضل بن محمد بن عقيل أنا أبو شعيب الحراني ثنا علي بن المديني ثنا جرير بن عبد الحميد عن المغيرة عن أم موسى قالت : كان الحسن بن علي إذا آوى إلى فراشه بالليل أتى بلوح فيه بسورة الكهف فيقرأها قالت فكان يطاف بذلك اللوح معه حيث طاف من نسائه

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو الحسن علی بن فضل بن محمد بن عقیل نے ان کو ابو شعیب حرانی نے ان کو علی بن مدینی نے ان کو جریر بن عبدالحمید نے ان کو مغیرہ نے ام موسیٰ سے وہ کہتی ہے کہ حسن بن علی جب بستر پر آتے رات کے وقت تو ایک تختی لائی جاتی جس میں سورۃ کہف تھی ۔ وہ اسے پڑھ لیتے تھے فرماتی ہیں کہ یہ لوح ان کے ساتھ گھمائی جاتی تھی وہ جہاں جہاں اپنی عورتوں کے پاس جاتے تھے ۔

أُمِّ مُوسَى، ← الْمُغِيرَةِ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِىُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُقَيْلٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned Surat Al-Kahf · Hadith 2447

chevron_left Previous
1234…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood