Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1969

1969 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا إبراهيم بن مرزوق ثنا سعيد بن عامر ثنا شعبة عن يزيد بن أبي زياد عن عيسى بن لبيط أو أياد عن رجل عن سعد بن عبادة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما من رجل تعلم القرآن ثم نسيه إلا لقى الله عز و جل يوم القيامة و هو أجذم و ما من أمير عشرة إلا أتى الله عز و جل يوم القيامة مغلولا لا يطلقه إلا العدل كذا روي عن شعبة و هو خطأ و إنما هو عن عيسى بن فائد و رواه أبو عبيد عن الحجاج عن شعبة على الصواب و كذلك و رواه غيره شعبة عن يزيد عن عيسى بن فائد

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں کو حدیث بیان کی ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن مرزوق نے ان کو سعید بن عامر نے ان کو شعبہ نے ان کو یزید بن ابو زیاد نے ان کو عیسیٰ بن لبیط نے یا ایاد نے ایک آدمی سے اس آدمی نے سعید بن عبادہ سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ کوئی آدمی بھی اگر قرآن سیکھتا ہے پھر سیکھ کر اس کو بھلا دیتا ہے قیامت کے روز جب اللہ تعالیٰ کے پاس پیش ہو گا تو اس کے منہ کو کوڑھ کر مرض لگا ہوا ہوگا۔ اور کوئی حکمران جو عیش میں پڑ گیا قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے آگے ایسے پیش ہو گا کہ اس کے ہاتھ اس کی گدی پر بندے ہوئے ہوں گے انہیں عدل و انصاف کے سوا کوئی عمل نہیں چھڑا سکے گا۔ ایسے ہی شعبہ سے روایت کیا گیا ہے اور وہ غلط ہے بلکہ وہ صحیح عیسیٰ بن فائد سے ہے ۔ اور اس کو ابو عبید نے روایت کیا حجاج سے اس نے شعبہ سے جو کہ درست ہے ۔ اور اسی طرح کے ماسوا نے بھی اس کو روایت کیا ہے ۔ شعبہ نے یزید سے اس نے عیسیٰ بن فائد سے ۔

سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، ← رَجُلٌ: ← عيسى بن لبيط أو أياد ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1969

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1970

1970 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور العباس بن الفضل النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا خالد بن عبد الله عن يزيد بن أبي زياد عن عيسى بن فائد عن رجل عن سعد بن عبادة قال : حدثه غير مرة و لا مرتين أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما من أمير عشرة إلا يؤتى به يوم القيامة مغلولا لا يفكه إلا العدل و من قرأ القرآن ثم نسيه لقي الله يوم القيامة أجذم

ہمیں خبر دی ہے ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصور عباس بن فضل نضر وی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو خالد بن عبداللہ نے ان کو یزید بن ابوزیاد نے ان کو عیسیٰ بن فائد نے ایک آدمی نے سعد بن عبادہ سے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اس کو متعدد بار بتایا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ کوئی بھی حکمران عیاش وہ قیامت کے روز جب اللہ کے پیش ہو گا تو اس کے ہاتھ بندے ہوئے ہوں گے ان کو انصاف کے سوا کوئی عمل نہیں چھڑا سکے گا اور جس نے قرآن مجید پڑھ کر پھر اس کو بھلا دیا قیامت میں اللہ تعالیٰ کے آگے جب پیش ہو گا تو اس کا منہ کورھ زدہ ہوگا۔

غير مرة و لا مرتين ← سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، ← رَجُلٌ: ← عِيسَی بْنِ فَائِدٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أبو منصور العباس بن الفضل النضروي ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1970

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1971

1971 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو محمد المزني أنا علي بن محمد بن عيسى ثنا أبو اليمان أخبرني شعيب عن الزهري ثنا سالم بن عبد الله عن عبد الله بن عمر قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لا حسد إلا على اثنتين رجل أتاه الله هذا الكتاب فقام به آناء الليل و النهار و رجل آتاه الله مالا فهو يتصدق به آناء الليل و النهار رواه البخاري في الصحيح عن أبي اليمان و أخرجه مسلم من حديث سفيان و يونس عن الزهري

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو محمد مزنی نے ان کو علی بن محمد بن عیسیٰ نے ان کو ابو الیمان نے ۔ ان کو خبر دی ہے شعیب نے ان کو زہری نے ان کو سالم بن عبداللہ نے ان کو عبداللہ بن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔۔۔ حسد دو آدمیوں کے خلاف درست ہے (یہاں حسد سے رشک مراد ہے ) وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کتاب (کا علم ) عطا کیا ہے وہ رات دن اسی کو پڑھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے آگے بحالت قیام عبادت میں مشغول رہتا ہے۔ یا قام بہ سے مراد ہے کہ وہ دن رات قرآن ہی کے معاملے میں مصروف عمل رہتا ہے پڑھنا پڑھانا سمجھنا سمجھانا عمک خود کرنا لوگوں سے کرواناوغیرہ وغیرہ ۔ اور دوسرا آدمی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے دینوی مال و متاع بہت دیا ہے وہ رات دن اس کو اللہ کی رضا کے لئے خرچ کرتا رہتا ہے ۔ اس کو بخاری نے صحیح میں ابو الیمان سے روایت کیا ہے ۔ اور مسلم نے اس کو سفیان کی اور یونس کی حدیث سے زہری سے روایت کیا ہے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1971

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1972

1972 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي أنا أبو بكر محمد بن الحسين بن الخليل القطان ثنا أبو الأزهر ثنا مروان بن محمد ثنا الهيثم بن حميد قال : حدثني زيد بن واقد عن سليمان بن موسى عن كثير بن مرة عن يزيد بن الأخنس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا تنافس بينكم إلا في إثنتين رجل أتاه الله القرآن فهو يقوم به آناء الليل و النهار و يتبع ما فيه فيقول رجل لو أن الله أعطاني مثلما أعطى لفلان فأقوم به كما يقوم به و رجل أعطاه الله مالا فهو ينفق و يتصدق قال رجل لو أن الله أعطاني مثل ما أعطى فلانا فأتصدق به قال رجل أرأيتك النجدة يكون في الرجل قال : ليس لهما بعدل أن الكلب يهم من وراء أهله

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن محمد حسین بن داؤد علوی نے ان کو ابوبکر محمد بن حسین بن خلیل قطان نے ان کو ابوالازھر نے ان کو مروان بن محمد نے ان کو ھیثم بن حمید نے انہوں نے کہا کہ مجھے حدیث بیان کی ہے زید بن واقد نے سلیمان بن موسیٰ سے اس نے کثیر بن مرہ سے اس نے یزید بن اخنس سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمہارے مابین رغبت کرنے کا مقابلہ کسی چیز میں نہیں ہونا چاہیے سوائے دو طرح کے آدمیوں میں کرنے کے ایک تو وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید عطا کیا ہے وہ رات دن اسی میں لگا رہتا ہے اور اس میں جو کچھ ہے ۔ اس پر عمل کرتا ہے ۔ لہذا اس کو دیکھ کر دوسرا آدمی یہ کہے کہ کاش اگر اللہ تعالیٰ مجھے بھی اس طرح عطا کرتا جیسے فلاں کو عطا کیا ہے تو میں بھی اپنے رات دن قرآن کے لیے ایک کر دیتا جیسے فلاں نے کر دئیے ہیں اور دوسرا وہ شخص جس کو اللہ نے مال عطا کیا ہے لہذا وہ اس کو خرچ کرتا اور صدقہ کرتا ہے کوئی آدمی اسے دیکھ کر یہ کہے گا کہ کاش اگر اللہ تعالیٰ مجھے بھی ایسے مال دیتا جیسے فلاں کو دیا ہے تو میں بھی اس کے ساتھ صدقہ کرتا ۔ ایک آدمی نے کہا کہ آپ یہ بتلائیے کہ مردانگی اور بہادری اگر کسی آدمی میں ہو تو ( کیا وہ رغبت اور رشک کی چیز نہیں ہے ) آپ نے فرمایا کہ یہ آدمی ان دو کے برابر نہیں ہو سکتا بے شک کتابھی اپنے گھر والوں کے پیچھے جاتا ہے ۔

يَزِيدَ بْنِ الْأَخْنَسِ، ← كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ← الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← أبو بكر محمد بن الحسين بن الخليل القطان ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1972

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1973

1973 - أخبرنا أبو بكر محمد بن الحسن بن فورك ثنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا همام عن قتادة عن أنس بن مالك عن أبي موسى قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مثل المؤمن الذي يقرأ القرآن كمثل الأترجة ريحها طيب و طعمها طيب و مثل المؤمن الذي لا يقرأ القرآن كمثل الثمرة طعمها طيب و لا ريح لها ومثل الفاجر الذي يقرأ القرآن كمثل الريحانة ريحها طيب و طعمها مر و مثل الفاجر الذي لا يقرأ القرآن كمثل الحنظلة طعمها خبيث و ريحها خبيث

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر محمد بن حسن بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو ھمام نے ان کو قتادہ نے ان کو انس بن مالک نے ان کو مالک نے ان کو ابو موسیٰ نے کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ مؤمن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے ترنج جیسی ہے جس کی خوشبو پاکیزہ ذائقہ پیارا ہوتا ہے اور اس مؤمن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا اس پھل جیسی ہے جس کا ذائقہ تو پاکیزہ ہے مگر اس کی کوئی خوشبو ہی نہیں ہے ۔ اور اس گنہگار کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے مثال نازبو کے ہے (بیری ) کہ اس کی خوشبو پاکیزہ ہوتی ہے اور ذائقہ کڑوا ہوتا ہے ۔ اور اس گنہگار کی مثال جو سرے سے قرآن کو پڑھتا ہی نہیں ہے اندرائن (کوڑتمہ) جیسی ہے کہ جس کا ذائقہ خبیث ہے اور بو بھی خبیث ہے ۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1973

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1974

1974 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه ثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا هدبة بن خالد ثنا همام بن يحيى : فذكره بإسناده نحوه غير أنه قال : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال في آخره كمثل الحنظلة طعمها مر و لا ريح لها روياه جميعا عن هدبة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر محمد بن احمد بن بالویہ نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے انکو حدبہ بن خالد نے ان کو ھمام بن یحییٰ نے پھر اس نے اس کو ذکر کیا ہے اپنی اسناد کے ساتھ مذکورہ کی مثل علاوہ ازیں یہ کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے اس حدیث کے آخر میں فرمایا تھا کہ مثل اندرائین کے ہے جس کا مزہ سخت کڑوا ہے اور خوشبو بالکل نہیں ہے ۔ اس کو دونوں نے پورا پورا ھدبہ سے روایت کیا ہے ۔

هُدْبَةُ ← في آخره كمثل الحنظلة طعمها مر و لا ريح لها روياه جميعا ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← همام بن يحيى فذكره بإسناده نحوه غير أنه ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1974

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1975

1975 - أخبرنا الأستاذ أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس حبيب ثنا أبو داود ثنا شعبة و هشام عن قتادة عن زرارة عن سعد بن هشام عن عائشة : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن الذي يقرأ القرآن و هو ماهر به مع السفرة الكرام البررة و الذي يقرأ القرآن قال هشام و هو عليه شديد و قال شعبة و هو عليه شاق فله أجران أخرجه البخاري في الصحيح من حديث شعبة و أخرجه مسلم من حديث هشام الدستوائي

ہمیں خبر دی استاذ ابوبکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن جیب نے ان کو داؤد نے ان کو شعبہ نے ان کو ہشام نے قتادہ سے ان کو زرارہ نے سعید بن ہشام سے انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔ بے شک وہ آدمی جو قرآن کو پڑھتا ہے اور وہ اس کا ماہر ہے اس کی ہم نشینی نیک اور مقدس کتابت کرنے والے فرشتوں کے ساتھ ہوگی۔ اور وہ شخص جو قرآن مجید پڑھتا ہے ۔ اور ہشام نے کہا کہ وہ اس پر مشکل گذرتا ہے ۔ شعبہ نے کہا کہ وہ اس پر مشکل ہوتا ہے اس شخص کے لئے دہر اجر ہے ۔ اس کو بخاری نے صحیح میں شعبہ سے اورمسلم نے حدیث ہشام دستوائی سے اس کوروایت کیا ہے ۔

عَائِشَةَ ← سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ← زُرَارَةَ ← قَتَادَةَ ← شعبة و هشام ← أَبُو دَاوُدَ، ← يونس حبيب ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← الْأُسْتَاذُ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1975

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1976

1976 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب الأصم ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا عبد الله بن نمير عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم في حديث ذكره : و من سلك طريقا يبتغي به علما سهل الله به طريقا إلى الجنة و ما جلس قوم في مسجد من مساجد الله يتلون فيه كتاب الله و يتدارسونه بينهم إلا حفتهم الملائكة و نزلت عليهم السكينة و غشيتهم الرحمة و ذكرهم الله فيمن عنده و من أبطأ به عمله لم يسرع به نسبه رواه مسلم من حديث محمد بن عبد الله بن نمير عن أبيه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب اصم نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو عبداللہ بن نمیر نے ان کو اعمش نے ان کو ابو صالح نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حدیث میں جس کو انہوں نے ذکر فرمایا تھا جو شخص ایسے راستے پر چلے جس کے ساتھ علم کی تلاش کرے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے جنت کی طرف راستہ آسان کر دیتے ہیں اور جہاں کچھ لوگ اللہ کی مساجد میں سے کسی مسجد میں بیٹھ کر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کو اس کی تعلیم دیتے ہیں تو ان لوگوں کو فرشتے گھیرے میں لے لیتے ہیں اور ان پر سکینہ نازل ہوتا ہے اور ان کو رحمت ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کا تذکرہ ان فرشتوں میں کرتے ہیں جو اس کے پاس ہیں اور جس شخص کو اس کا عمل پیچھے کردے اس کا نسب اس کو آگے نہیں لا سکے گا۔ اس کومسلم نے روایت کیا ہے محمد بن عبداللہ بن نمیر سے اس نے اپنے والد سے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أبو العباس محمد بن يعقوب الأصم، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1976

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1977

1977 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالري ثنا أبو حاتم الرازي ثنا عفان بن مسلم و موسى بن إسماعيل ( ح ) و أخبرنا أبو سعد بن أبي عثمان الزاهد إملاء ثنا أبو سعد إسماعيل بن أحمد بن الجرجاني أنا عمران بن موسى السختياني ثنا هدبة بن خالد قالوا ثنا حماد بن سلمة عن ثابت البناني عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن أسيد بن حضير قال : يا رسول الله بينما أنا أقرأ سورة إذ سمعت وجبة من خلفي فظننت أن فرسي أطلق فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم اقرأ يا أبا عتيك فالتفت فإذا مثل المصابيح تتدلى من السماء و الأرض و رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : اقرأ يا أبا عتيك فقال يا رسول الله ما استطعت أن أمضي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تلك الملائكة نزلت لقراءة القرآن أما أنك لو مضيت لرأيت العجائب لفظ أبي سعد و في رواية أبي عبد الله سورة البقرة فلما انتهيت إلى آخرها سمعت وجبة ثم ذكر معناه و هذا الحديث قد أخرجاه في هذا الكتاب من حديث أبي سعيد عن أسيد بن حضير و من ذلك الوجه أخرجاه في الصحيح

اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابوبکر اسماعیل بن محمد فقیہ نے رائے میں اور ان کو ابو حاتم رازی نے ان کو عفان بن مسلم نے اور موسیٰ بن اسماعیل نے ۔ ح۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو سعد بن ابو عثمان زاہد نے بطور املاء کے ان کو ابو سعد اسماعیل بن احمد جرجانی نے ان کو عمران بن موسیٰ سختیانی نے ان کو ہدبہ بن خالد نے انہوں نے کہ ہمیں حدیث بیان کی حماد بن سلمہ نے ان کو ثابت بنانی نے ان کو عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے ان کو اسد بن حضیر نے انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ایک سورۃ پڑھ رہا تھا کہ اچانک میں نے اپنے پیچھے سے آہٹ یا گرنے کی آواز سنی میں نے خیال کیا کہ میرا گھوڑا کھل گیا ہے (یعنی اس کے بعد میں نے تلاوت روک دی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ پڑھتے رہنا چاہیے تھا تمہیں اے ابو عتیک ، میں نے پلٹ کر دیکھا تو روشن چراغ کی مانند کوئی چیز تھی جو آسمان اور زمین کے درمیان نیچے اتر رہی تھی۔ اور یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پڑھتے رہنا چاہیے تمہیں اسے ابو عتیک۔ انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (خوف کے مارے) میں تلاوت جاری نہ رکھ سکا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ کہ وہ فرشتہ تھا جو قرآن مجید کی قرأت سننے کے لیے اترا تھا، اگر آپ تلاوت جاری رکھتے تو بہت سارے عجائبات دیکھتے ۔ روایت کے یہ الفاظ ابو سعد کے ہیں ۔ اور ابو عبداللہ کی ایک روایت میں سورۃ بقرہ کی تلاوت کا ذکر ہے اور یہ الفاظ میں جب میں ان کے آخر تک پہنچا تو میں نے کچھ گرنے کی آواز سنی اس کے بعد انہوں نے اس کا مفہوم ذکر کیا ۔ اور اس حدیث کو بخاری مسلم نے اس کتاب میں ابو سعید کی حدیث میں نقل کیا ہے اسید بن حضیر سے اسی وجہ سے اس کو ذکر کیا ہے صحیح میں۔

أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السَّخْتِيَانِيُّ، ← أبو سعد إسماعيل بن أحمد بن الجرجاني ← أبو سعد بن أبي عثمان الزاهد إملاء ← و، ← عفان بن مسلم و موسى بن إسماعيل ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1977

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1978

1978 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسمعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور الرمادي ثنا عبد الرزاق ( ح ) و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصغاني ثنا إسحق بن أبي مسلم الدبري أنا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله عن ابن عباس قال : كان أبو هريرة يحدث : أن رجلا أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إني رأيت ظلة تنظف منها السمن و العسل و أرى الناس يتكففون في أيديهم فالمستكثر و المستقل و أرى سببا واصلا من السماء إلى الأرض فأراك يا رسول الله أخذت به فعلوت ثم أخذ به رجل فعلا ثم أخذ به رجل آخر فعلى ثم أخذ به رجل آخر فانقطع به ثم وصل له فعلا فقال أبو بكر : يا رسول الله بأبي أنت و أمي أتدعني فلأعبرها قال عبرها فقال : أما الظلة فظلة الإسلام و أما التنطف و في رواية أبي إسحق و أما ما تنظف من السمن و العسل فهو القرآن لينه و حلاوته و أما المستكثر و المستقل له المستكثر من القرآن و المستقل منه و أما السبب الواصل من السماء إلى الأرض فهو الحق الذي أنت عليه تأخذ به فيعليك الله به ثم يأخذ به بعدك رجل آخر فيعلوا به ثم يأخذ به رجل آخر بعده فيعلوا به ثم يأخذ به رجل آخر به فينقطع به ثم يوصل له فيعلو به يا رسول الله أخبرني أصبت أم أخطأت قال : أصبت بعضا و أخطأت بعضا قال : أقسمت بأبي و أمي يا رسول الله لتحدثني بالذي أخطأت فقال النبي صلى الله عليه و سلم لا تقسم رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن رافع عن عبد الرزاق إلا أنه قال عن ابن عباس أو أبي هريرة

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور مادی نے ان کو عبدالرزاق نے۔ح۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن علی بن عبدالحمید صغانی نے ان کو اسحٰق بن ابو مسلم دبری نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے زہری سے ان کو عبید اللہ بن عبداللہ نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی ۔ میں نے ایک سائبان دیکھا ہے یا سایہ داردرخت جس سے گھی اور شہد بہہ رہا ہے ، اور میں نے لوگ دیکھے جو ایک دوسرے سے اپنے ہاتھ پھیلا کر مانگ رہے ہیں کوئی زیادہ کوئی کم کر رہا ہے اور میں نے ایک رسی دیکھی ہے جو آسمان سے زمین کی طرف لٹکی ہوئی ملی ہوئی ہے میں نے آپ کو بھی دیکھا ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ میں نے اس رسی کو پکڑا اور ان کے ذریعے اوپر کو چڑھ گیا ہوں ۔ پھر ایک دوسرے آدمی نے اس کوپکڑا وہ بھی اوپر کو چڑھ گیا اس کے بعد ایک اور آدمی نے اسے پکڑا وہ بھی چڑھ گیا ہے پھر ایک اور آدمی نے پکڑا تو وہ ٹوٹ گئی ہے اس کے بعد اس کے لئے وہ رسی جوڑی گئی ہے جس سے وہ بھی اوپر کو چڑھ گیا ہے اتنے میں حضرت ابوبکر صدیق بولے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا آپ مجھے اجازت دیں کہ میں اس خواب کی تعبیر بیان کروں ۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت دے دی تو ابو بکر صدیق نے فرمایا کہ سائبان یا سایہ دار درخت سے مراد اسلام کا سائبان ہے اور دو گھی شہد بہنے سے مراد ۔ اور ابو اسحٰق کی ایک روایت میں ہے ۔ بہرھال جو کچھ گھی اور شہد بہہ رہا ہے وہ قرآن ہے ۔ جس میں نرمی اور مٹھاس ہے ، کوئی کم کوئی زیادہ لے رہا ہے یعنی قرآن میں سے کوئی کم کوئی زیادہ فہم لے رہا ہے ۔ اور آسمان سے زمین تک ملی ہوئی رسی وہ حق ہے آپ جس حق پر قائم ہیں ۔ آپ اسی حق والی رسی کو پکڑتے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ آپ کو بلند کرتے ہیں ۔ پھر آپ کے بعد اس کو دوسرا آدمی پکڑتا ہے ۔ وہ اسی کے ذریعہ بلند ہو جاتا ہے ۔ اس کے بعد دوسرا آدمی اس پکڑتا ہے وہ بھی بلند ہو جاتا ہے ۔ تیسرا پکڑتا ہے اور رسی ٹوٹ جاتی ہے ۔ پھر اس کے لئے جوڑی جاتی ہے ۔ لہذا وہ بھی اوپر چلا جاتا ہے ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے بتلائیے کہ کیا میں نے درست کہا ہے یا میں غلطی کی ہے بتانے میں؟حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کچھ درست بتایا آپ نے اور کچھ غلط بتایا ۔ صدیق نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں آپ کو قسم دیتا ہوں اپنے ماں باپ کی ( یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان) مجھے وہ بتا دیجئے جو مجھ سے غلطی ہوئی ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ آپ قسم نے دیجئے ۔ اس کو مسلم نے صحیح میں روایت کیا ہے محمد بن رافع سے ان کو عبدالرزاق نے مگر یہ کہ انہوں نے کہا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یا ابوہریرہ سے ۔

أن رجلا أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إسحق بن أبي مسلم الدبري ← أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصغاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← إسمعيل بن محمد الصفار ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1978

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1979

1979 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحق ثنا أبو المثنى ثنا محمد بن كثير قال أنا سليمان بن كثير عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله عن ابن عباس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقول لأصحابه : من رأى منكم رؤيا فليقصها اعبرها له فجاء رجل فذكر الحديث إلا أنه قال فقال أبو بكر : يا رسول الله فأعبرها قال اعبرها و كان أكبر الناس رؤيا بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أما الظلة الإسلام و أما العسل و السمن فالقرآن حلاوة العسل و لين اللبن و أما الذين يتكففون فيه فمستكثر و مستقل فهم حملة القرآن رواه مسلم عن عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي عن محمد بن كثير قال البيهقي رحمه الله : و زعم بعض أهل العلم أن الخطأ في تفسيره العسل و السمن بشيء واحد و هو القرآن و هما شيئان فكان ينبغي أن يعبر أحدهما بالقرآن و الآخر بالسنة و الله أعلم

اور ہمیں خبر دی عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحاق نے ان کو متنبیٰ نے ان کو محمد بن کثیر نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے سلیمان بن کثیر نے زہری سے ، انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ سے ، انہوں نے ابن عباس سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا تم میں جو شخص کوئی خواب دیکھے تو اسے میرے سامنے بیان کر ے ۔ میں اس کی تعبیر بتادوں گا۔ چنانچہ ایک آدمی آیا (آگے راوی نے حدیث بیان کی ہے مگر اس نے کہا ہے کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اس کی تعبیر دوں گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ ہاں ضرور ، آپ ہی تعبیر دیجئے۔ اور صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سے سب سے زیادہ خوابوں والے تھے ۔ لہذا صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا سائبان تو اسلام ہے ، شہد اور گھی قرآن ہے ۔ جس میں شہد کی شیرینی ہے اور دودھ کی نرمی ہے ۔ بہرحال جو لوگ اس کو حاصل کر رہے ہیں کوئی کم لے رہا ہے تو کوئی زیادہ لے رہا ہے وہ حاملین قرآن ہیں ۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی سے وہ محمد بن کثیر سے۔ امام بیہقی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں۔ بعض اہل علم نے گمان کیا ہے کہ ( حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس غلطی کا اشارہ دیا تھا وہ غلطی شہد اور گھی کی تفسیر کے بارے میں تھی کہ انہوں نے دونوں سے دونوں مراد ایک چیز لی وہ ہے قرآن حالانکہ چیزیں دو ہیں خواب میں تو مناسب اس طرح تھا کہ ایک چیز کی تعبیر قرآن کے ساتھ دی جاتی اور دوسری کی سنت کے ساتھ دی جاتی۔ واللہ اعلم۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو الْمُثَنَّى ← أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1979

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1980

1980 - أخبرنا أبو الحسين محمد بن الفضل القطان أنا أبو سهل بن زياد القطان ثنا إسحق بن الحسن الحربي ثنا عفان ثنا أبان ثنا يحيى بن أبي كثير عن زيد عن أبي سلام عن أبي أمامة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : اقرؤا القرآن فإنه يأتى شفيعا لصاحبه يوم القيامة اقرؤا الزهراوين البقرة و آل عمران فإنهما يأتيان يوم القيامة كأنهما غمامتان أو غياتيان أو كأنهما فرقان من طير صواف تحاجان عن صاحبها اقرؤا سورة البقرة فإن أخذها بركة و تركها حسرة و لا تطيقها البطلة أخرجه مسلم في الصحيح من حديث معاوية بن سلام عن أخيه زيد

ہمیں خبر دی ہے ابوا لحسین محمد بن فضل قطان نے ان کو ابو سہل بن زیاد قطان نے ان کو اسحٰق بن حسن حربی نے ان کو عفان نے ان کو ابان نے ان کو یحییٰ بن ابو کثیر نے زید سے اس کو ابو سلام نے ان کو ابو امامہ نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ قرآن پڑھا کرو کیونکہ وہ اپنے پڑھنے والے کے لئے قیامت کے دن سفارشی بن کر آئے گا ۔ خصوصاً دو ترو تازہ سورتیں پڑھا کرو سورۃ بقرہ اور سورۃ آل عمران قیامت کے دن وہ دونوں اس طرح آئیں گی جیسے کہ وہ بادل ہیں یا گویا کہ وہ فرق کرنے والی ہیں صف باندھنے والے پرندوں میں سے جو کہ اپنے پڑھنے والے کے لیے بحث کریں گی ۔ سورۃ بقرہ پڑھو اس لئے کہ اس کو حاصل کرنا برکت ہے اور اس کو چھوڑنا حسرت و ندامت ہے اہل باطل اس کی طاقت نہیں رکھتے ۔ اس کو مسلم نے صحیح میں نقل کیا ہے معاویہ بن سلام کی حدیث سے ان نے اپنے بھائی زید سے۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← أَبِي سَلَّامٍ ← زيد1 ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ، ← عَفَّانُ، ← إسحق بن الحسن الحربي ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ← أبو الحسين محمد بن الفضل القطان

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1980

chevron_left Previous
1…282930…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood