Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تعاليم القرآن · حديث 1957

1957 - و أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان ثنا أبو علي محمد بن أحمد بن الحسن الصواف ثنا بشر بن موسى أبو بلال الأشعري ثنا مالك بن أنس عن نافع عن ابن عمر قال : تعلم عمر بن الخطاب رضي الله عنه البقرة في إثني عشرة سنة فلما أتمها نحر جزورا

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو ابو علی محمد بن احمد بن حسن صواف نے ان کو بشر بن موسیٰ ابو بلال اشعرنی نے ان کو مالک بن انس نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ ۔ حضرت عمر نے سورۃ بقرہ بارہ سال میں سیکھی تھی جب اسے پورا کیا تھا رتو اونٹ قربان کئے تھے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مالک بن أنس ← بشر بن موسى أبو بلال الأشعري ← أبو علي محمد بن أحمد بن الحسن الصواف، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the teachings of the Qur’an · Hadith 1957

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تعاليم القرآن · حديث 1958

1958 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا وكيع عن خالد بن دينار قال : قال لنا أبو العالية : خمس آيات خمس آيات فإن النبي صلى الله عليه و سلم كان يأخذه من جبريل خمسا خمسا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو وکیع نے ان کو خالد بن دینار نے کہتے ہیں کہ ابو العالیہ نے ہم سے کہا تھا پانچ پانچ آیات کرکے یاد کریں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو جبرائیل سے پانچ پانچ کرکے حاصل کیا تھا۔

خَالِدِ بْنِ دِينَارٍ ← وَكِيعٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the teachings of the Qur’an · Hadith 1958

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تعاليم القرآن · حديث 1959

1959 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا أحمد بن علي الخزاز ثنا مالك بن نصر بن مالك الخزاعي ثنا علي بن بكار عن أبي خلدة عن أبي العالية قال : قال عمر رضي الله عنه : تعلموا القرآن خمسا خمسا فإن جبريل عليه السلام نزل بالقرآن على النبي صلى الله عليه و سلم خمسا خمسا قال علي بن بكار قال بعض أهل العلم : من تعلم خمسا خمسا لم ينسه قال البيهقي خالف وكيعا في رفعه إلى عمر رضي الله عنه و رواية وكيع أصح

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو احمد بن علی خزاز نے ان کو مالک بن نصر بن مالک خزاعی نے ان کو علی بن بکار نے ابو خلدہ سے اس نے ابو العالیہ سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا۔ کہ قرآن مجید کو پانچ پانچ آیات کرکے سیکھو بے شک جبرائیل امین نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآن مجید کی پانچ پانچ آیات لے کر اترتے تھے۔ علی بن بکار نے کہا کہ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ ۔جو شخص پانچ پانچ آیات کرکے سیکھے وہ قرآن کو بھولے گا نہیں۔ امام بیہقی رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا حضرت عمر کی طرف روایت کو مرفوع کرنے میں وکیع کی مخالفت ہوتی ہے اور وکیع کی روایت زیادہ صحیح ہے ۔

أَبِي الْعَالِيَةِ ← أَبِي خَلْدَةَ ← عَلِيُّ بْنُ بَكَّارٍ، ← مالك بن نصر بن مالك الخزاعي ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the teachings of the Qur’an · Hadith 1959

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تعاليم القرآن · حديث 1960

1960 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور العباس بن الفضل بن زكريا الضبي النضروي بهراة ثنا أبو الفضل أحمد بن نجدة بن العريان ثنا أبو عثمان سعيد بن منصور ثنا خديج بن معاوية عن أبي إسحق عن مرة عن ابن مسعود قال : من أراد العلم فعليه بالقرآن فإن فيه خير الأولين و الآخرين و رواه شعبة عن أبي إسحق و قال فيه : فليثور القرآن فإن فيه علم الأولين و الآخرين

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ا ن کو ابو منصور عباس بن فضل بن زکریا ضبعی نضروی نے ہراۃ میں ان کو ابوالفضل احمد بن نجدہ بن عریان نے ان کو ابو عثمان سعید بن منصور نے ان کو خدیج بن معاویہ نے ان کو ابو اسحٰق نے ان کو مرہ نے ان کو ابن مسعود نے انہوں نے کہا جو شخص علم کا ارادہ کرے اسے چاہیے کہ وہ قرآن کو لازم کر لے کیونکہ اس میں پہلوں اور پچھلوں کی بھلائی جمع ہے ۔ اور اس کو شعبہ نے روایت کیا ہے ابو اسحٰق سے اور اس بارے میں کہا ہے قرآن مجید کو لازم کر لیا جائے اس لئے کہ اس میں اولین اور آخر ین کا علم ہے ۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← مُرَّۃُ ← أَبِي إِسْحَقَ ← خَدِيجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← أبو عثمان سعيد بن منصور ← أَبُو الْفَضْلِ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ بْنِ العُرْيَانَ، ← أبو منصور العباس بن الفضل بن زكريا الضبي النضروي ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the teachings of the Qur’an · Hadith 1960

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1961

1961 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ من أصل كتابه و أبو سعيد بن أبي عمرو قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الحميد الحارث ثنا أبو أسامة عن بريدة عن بريد عن أبي موسى : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : تعاهدوا القرآن فو الذي نفس محمد بيده لهو أشد تفلتا من الإبل في عقلها و قال غيره من عقلها رواه البخاري و مسلم في الصحيح عن أبي كريب عن أبي أسامة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے انپی اصل کتاب سے اور ابو سعید بن ابو عمر و نے دونوں کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالحمید حارثی نے ان کو ابو اسامہ نے برید سے اس نے ابو بردہ سے اس نے ابو موسیٰ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ قرآن مجید کو یاد کرنے کے بعد مضبوط رکھو قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے قرآن فرار ہونے اور بھول جانے میں اس اونٹ سے زیادہ تیز ہے جو پاؤں سے رسی نکل جانے سے بھاگ جاتا ہے بعض نے فی عقلھا کی جگہ عقلھا کہا ہے ۔ بخاری مسلم نے اس کو صحیح میں ابو کریب سے اس نے اسامہ سے روایت کیا ہے ۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← بُرَيْدٌ ← بُرَيْدَةَ ← أَبُو أُسَامَةَ ← أحمد بن عبد الحميد الحارث ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ من أصل كتابه و أبو سعيد بن أبي عمرو

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1961

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1962

1962 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن محمد بن داود الرزاز ثنا عثمان بن أحمد السماك ثنا عبد الملك بن محمد أبو قلابة ثنا بشر بن عمر ثنا مالك ( ح ) و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا إبراهم بن عصمة بن إبراهيم ثنا أبي ثنا يحيى قال : قرأت على مالك عن نافع عن ابن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إنما مثل صاحب القرآن كمثل صاحب الإبل المعلقلة إن عاهد عليها أمسكها و إن أطلقها ذهبت رواه البخاري في الصحيح عن عبد الله بن يوسف عن مالك و رواه مسلم عن يحيى بن يحيى

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علی احمد بن محمد بن داؤد رزا نے ان کو عثمان بن احمد سماک نے ان کو عبدالملک بن محمد ابو قلابہ نے ان کو بشیر بن عمر نے ان کو مالک ۔ح۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابراہیم بن عصمہ بن ابراہیم نے ان کو ان کے والد نے ان کو یحییٰ نے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے پڑھا مالک پر انہوں نے نافع سے اس نے ابن عمر سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ کہ بے شک صاحب قرآن کی مثال اونٹ والے جیسی ہے جس کے پیر میں رسی ڈالی ہوئی ہے اگر اسے باندھ کر رکھے ا تو وہ رکا رہے گا اور اگر اونٹ کو چھوڑ دے گا تو وہ چلا جائے گا (یعنی یاد کرتا رہے گا تو یاد رہے گا ورنہ بھول جائے گا (یعنی یاد کرتا رہے گا تو یاد رہے گا ورنہ بھول جائے گا۔ بخاری نے اس کو صحیح میں روایت کیا ہے ۔ عبداللہ بن یوسف سے اس نے مالک سے اور اس کو روایت کیا ہے مسلم نے یحییٰ بن یحییٰ سے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← على مالك، ← يَحْيَى ← أَبِي ← إبراهم بن عصمة بن إبراهيم ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← مَالِكٍ، ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ؛ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو قِلَابَةَ ← عثمان بن أحمد السماك ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1962

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1963

1963 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا محمد بن نعيم و محمد بن شاذان و أحمد بن سلمة قالوا ثنا قتيبة بن سعيد ثنا يعقوب بن عبد الرحمن عن موسى بن عقبة عن نافع عن ابن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إنما مثل القرآن مثل الإبل المعقلة إن عاهد صاحبها على عقلها أمسكها و إن أطلقها ذهبت إذا قام صاحب القرآن فقرأه بالليل و النهار ذكره و إذا لم يقرأ نسيه رواه مسلم عن قتيبة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن نعیم اور محمد بن شاذان اور احمد بن سلمہ نے انہوں نے کہا ہمیں احادیث بیان کی ہے قتیبہ بن سعید نے ان کو یعقوب بن عبدالرحمٰن نے ان کو موسیٰ بن عقبہ نے اس نے نافع سے اس نے ابن عمر سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن مجید کی مثال پاؤں میں رسی ڈالے ہوئے اونٹ کی سی ہے اگر اس کا مالک اس کی رسی کی حفاظت کرتا رہے گا تو اونٹ قبضے میں رہے گا اگر اسے چھوڑدے گا تو اونٹ چلا جائے گا۔ جب کوئی قرآن کا حافظ رات کو کھڑے ہو کر اور دن کو بھی (نمازمیں) پڑھتا تو وہ اس کو یاد کر لیتا ہے اور جس وقت اس کو نہیں پڑھتا اس طرح تو اس کو بھول جاتا ہے ۔ اس کو مسلم نے قتیبہ سے روایت کیا ہے ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← محمد بن نعيم و محمد بن شاذان و أحمد بن سلمة ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1963

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1964

1964 - أنا أبو الحسن علي بن محمد بن علي المقري ثنا الحسن بن محمد بن إسحق ثنا يوسف ين يعقوب ثنا أبو الربيع ثنا جرير ( ح ) و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحق أنا محمد بن سلمة ثنا إسحاق بن إبراهيم ثنا جرير عن منصور عن أبي وائل عن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : بئس ما لأحدكم أن يقول : نسيت آية كيت وكيت بل هو نسى استذكروا القرآن فهو أشد تفصيا من صدور الرجال من النعم في عقلها رواه البخاري عن عثمان بن أبي شيبة عن جرير و رواه مسلم عن إسحق بن إبراهيم و غيره

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علی بن محمد بن علی مقری نے ان کو حسن بن محمد بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو ابو الربیع نے ان کو جریر نے ۔ح۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر بن اسحٰق نے ان کو محمد بن سلمہ نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو جریر نے ان کو منصور نے ابو وائل سے ان کو عبداللہ نے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ تمہارے کسی ایک کے حق میں یہ بات بہت ہی بری ہے کہ وہ یہ کہے کہ میں اتنی اتنی آیات بھول گیا ہوں وہ بھلوایا گیا ہے قرآن کو خوب یاد کرو ورنہ لوگوں کے سینوں سے بڑی تیزی کے ساتھ نکلتا ہے جیسے پیر سے رسی نکلنے پر مویشی بھاگتا ہے ۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے عثمان بن ابو شیبہ سے اس نے جریر سے اور مسلم نے اس کو روایت کیا ہے اسحٰق بن ابراہیم سے ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← جَرِيرٌ ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← يوسف ين يعقوب ← الحسن بن محمد بن إسحق ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1964

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1965

1965 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو الحسن الكارزي أنا علي بن عبد العزيز عن أبي عبيد قال : ثنا ابن المبارك عن عبد العزيز بن أبي رواد قال : سمعت الضحاك بن مزاحم يقول : ما من أحد تعلم القرآن ثم نسيه إلا بذنب يحدثه لأن الله تعالى يقول : { و ما أصابكم من مصيبة فبما كسبت أيديكم } و إن نسيان القرآن من أعظم المصائب

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابوالحسن کارزی نے ان کو علی بن عبدالعزیز نے ان کو ابو عبیدہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابن مبارک نے ان کو عبدالعزیز بن ابو رواد نے انہوں نے سنا ضحاک بن مزاحم سے وہ کہتے ہیں۔ جو شخص قرآن سیکھتا ہے پھر اس کو بھول جاتا ہے مگر وہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ "وما اصابکم من مصیبۃ فیما کسبت ایدیکم" (الشوری30) جو کچھ تمہیں مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی کے سبب ہوتی ہے ۔ بے شک قرآن مجید کا بھول جانا اعظم مصائب میں سے ہے۔

الضَّحَّاكَ بْنَ مُزَاحِمٍ ← عَبْد الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← اَبِیْ عُبَیْدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1965

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1966

1966 - و روينا في حديث المطلب بن عبد الله بن حنطب عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : عرضت علي أجور أمتي حتى القذات يخرجها الرجل من المسجد و عرضت علي ذنوب أمتي فلم أر ذنبا أعظم من سورة من القرآن أو آية أوتيها رجل ثم نسيها أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسه ثنا أبو داود ثنا عبد الوهاب بن عبد الحكم الخزاز ثنا عبد المجيد بن عبد العزيز عن ابن جريج عن فذكره

اور ہم نے روایت کیا ہے مطلب بن عبداللہ بن حنطب کی حدیث سے اس نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ مجھ پر میری امت کے اجر و ثواب پیش کئے گئے یہاں تک کہ معمولی سی نجاست یا بلغم وغیرہ بھی جسے کوئی آدمی مسجد میں سے نکال دیتا ہے ۔ اور میرے اوپر میری امت کے گناہ بھی پیش کئے گئے ۔ میں نے ( ان پیش ہونے والے گناہوں میں) اس سےبڑا گناہ کوئی نہیں دیکھا کہ کوئی آدمی قرآن مجید کی کوئی سورۃ یا کوئی آیت جو کسی آدمی کو عطاء کی گئی اس کے بعد اس نے اس کو بھلا دیا تھا۔اور ہمیں خبر دی ابو علی روذ باری نے ان کو ابوبکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو عبدالوہاب بن حکم خزاز نے ان کو عبدالمجید بن عبدالعزیز نے ان کو ابن جریج (فلاں سے ) پس اسی مذکور کو انہوں نے بھی ذکر کیا ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← و روينا في حديث المطلب بن عبد الله بن حنطب

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1966

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1967

1967 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا زيد بن الحباب ثنا موسى بن علي قال : سمعت أبي يقول سمعت عقبة بن عامر يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تعلموا القرآن و تغنوا به و اقتنوه و الذي نفسي بيده لهو أشد تفصيا من المخاض في العقل

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو زید بن حباب نے ان کو موسیٰ بن علی نے کہا کہ میں نے سنا اپنے والد سے وہ کہتے تھے انہوں نے سنا عقبہ بن عامر سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرو اور اس کے ساتھ خوبصورت آواز نکالو (یعنی تجوید و سر کے ساتھ پڑھو) اور اسی کی کمائی اسی کو ذخیرہ کرو اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ قرآن مجید اس اونٹ سے زیادہ جلدی سینے سے نکل کر چلا جاتا ہے جس اونٹ کے پیروں سے رسی نکل جائے اور چلا جائے اور لفظ تغنی کا ایک یہ مفہوم بھی مراد لیا جا سکتا ہے ( کہ قرآن مجیدکی تعلیم حاصل کرو اور اس کے ساتھ غنا حاصل کرو یعنی قرآن کی تعلیم حاصل کر لی تو سارے جہاں کی دولت حاصل ہو گئی اس کے ساتھ غنی ہو جاؤ مزید دنیا کی لالچ نہ کرو اس طرح یہ حدیث زہد اور تزکیہ کی تعلیم ہوگی ) مترجم۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِي ← مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1967

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 1968

1968 - أخبرنا أبو عمرو الأديب أنا أبو بكر الإسمعيلي أخبرني الحسن بن سفيان ثنا محمد بن أبي المقدمي ثنا يحيى بن سعيد عن عوف ثنا أبو رجاء ثنا سمرة بن جندب الفزاري قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول لأصحابه : هل رأى أحد منكم رؤيا فيقص عليه من شاء الله أن يقص و أنه قال لنا ذات يوم أتاني الليلة آتيان و أنهما ابتعثاني و أنهما قالا لي انطلق و إني انطلقت معهما و أنا أتينا على رجل مضطجع و آخر قائم على رأسه بصخرة و إذا هو يهوى بالصخرة برأسه فيثلغ رأسه فيتهدهد الحجر ها هنا فيتبع الحجر فيأخذه فلا يرجع إليه حتى يصح رأسه كما كان ثم يعود فيفعل كما فعل المرة الأولى فقلت سبحان الله ما هذان قالا لي انطق فذكر الحديث ثم قال في التفسير و أما الرجل الأول الذي أتيت عليه يثلغ رأسه بالحجر فهو الرجل يأخذ القرآن فيرفضه و ينام عن الصلاة المكتوبة أخرجه البخاري في حديث

ہمیں خبر دی ابو عمر وادیب نے ا ن کو ابوبکر اسماعیلی نے ان کو خبر دی حسن بن سفیان نے ان کو محمد بن ابی بکر ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو عوف نے ان کو ابو رجاء نے ان کو سمرہ بن جندب فزاری نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ سے فرمایا کرتے تھے ۔ کیاتم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے لہذا آپ کے سامنے کوئی بھی شخص اپنا خواب بیان کرتا اللہ جس کے لئے چاہتا ۔ ایک دن آپ نے ہم لوگوں سے فرمایا آج رات میرے پاس دو آنے والے (فرشتے) آئے تھے انہوں نے مجھ اٹھایا اور بولے چلئے چنانچہ میں ان کے ساتھ چلا گیا۔ حتیٰ کہ ہم لوگ ایک ایسے ادمی پر پہنچے جو لیٹا ہوا تھا اور دوسرا اس کے سرہانے پتھر اٹھائے کھڑا تھا پس اچانک وہ جھک کر وہ پتھر لیٹے ہوئے کے سر پر دے مارتا ہے جس کی شدید ضرب سے اس کا سر مکمل کچل جاتا ہے اور وہ پتھر لڑھک کر دو ر جا گرتا ہے لہذا وہ شخص دوبارہ اس پتھر کو اٹھا لاتا ہے ، اتنے میں اس کا کچلا ہوا سر بحال ہو چکا ہوتا ہے جیسے کہ پہلے تھا پھر وہ اسی طرح اس کو مارتا ہے جیسے اس نے پہلی بار مارا تھا۔ (الغرض یہی عذاب اس کو مستقل طور پر ہو رہا ہے ) میں نے یہ دیکھ کر کہا سبحان اللہ ، اللہ کی پناہ یہ سر کچلنے والا اور جس کا سر کچلا جا رہا ہے دونوں کون ہیں ۔ دونوں فرشتوں نے مجھ سے کہا کہ یہاں سے چلئے (پھر دونوں نے آگے حدیث بیان کی ہے ) پھر تشریح میں فرمایا کہ ۔ بہرحال وہ آدمی آپ جس کے پاس گئے تھے اور اس کا سر کچلا جا رہا تھا پتھر کے ساتھ ۔ وہ ایسا آدمی تھا جو قرآن سیکھتا تھا پھر اس کو چھوڑ دیتا تھا اور فرض نماز کو چھوڑ کر سو جاتا تھا۔ اس کو بخاری نے ایک حدیث میں نقل کیا ہے ۔

سمرةَ بنِ جندبٍ الفزاريِّ، ← أَبُو رَجَاءٍ، ← عَوْفٌ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← محمد بن أبي المقدمي ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أبو بكر الإسمعيلي ← أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 1968

chevron_left Previous
1…272829…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood