شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تعاليم القرآن · حديث 1933
1933 - أخبرنا أبو حسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز ثنا محمد بن إسماعيل السلمي ( ح ) و أخبرنا أبو القاسم عبد الخالق بن علي بن عبد الخالق المؤذن ثنا أبو بكر بن خنب ثنا أبو إسماعيل الترمذي ثنا أيوب بن سليمان بن بلال حدثني أبو بكر بن أبي أويس عن سليمان بن بلال عن محمد بن عجلان عن أبي إسحق عن أبي الأحوص عن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن هذا القرآن مأدبة الله فتعلموا من مأدبته من استطعتم إن هذا القرآن هو حبل الله و النور المبين و الشفاء النافع عصمة لمن تمسك به و نجاة من تبعه و لا يعوج فيقوم و لا يزيغ فيستعتب و لا تنقضي عجائبه و لا يخلق من كثرة الرد فاتلوه فإن الله يأجركم على تلاوته بكل حرف عشر حسنات أما إني لا أقول لكم ( الم حرف و لكن ) ألف حرف و لام حرف و ميم حرف ثلاثون حسنة أبو إسحاق هذا هو إبراهيم الهجري و كذلك رواه صالح بن عمرو و يحيى بن عثمان عن إبراهيم مرفوعا و رواه جعفر بن عون و إبراهيم بن طهمان موقوفا على عبد الله بن مسعود
ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر لرزاز نے ان کو محمد بن اسماعیل سلمی نے ۔ح۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو القاسم عبدالخالق بن علی بن عبدالخالق مؤذن نے ان کو ابوبکر بن خنب نے ان کو ابو اسماعیل ترمذی نے ان کو ایوب بن سلیمان بن بلا ل نے ان کو حدیث بیان کی ابو بکر ابی اویس نے ان کو سلیمان بن بلال نے ا ن کو محمد بن عجلان نے ان کو ابو اسحا ق نے ان کو ابوالا حوص نے ان کو عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ بے شک یہ قرآن اللہ تعالیٰ کے دعوت کا دستر خوان مہمانی ہے لہذا اللہ کی دعوت سے جس قدر استطاعت رکھتے ہو سیکھ لو۔ بے شک یہ قرآن وہی اللہ کی رسی ہے ۔ واضح روشنی ہے نفع بخش شفا ہے جو اس کے ساتھ تمسک کرے ) اور جڑ جائے اس کے لئے عصمت اور بچاؤ ہے جو اس کی پیروی کرے اس کے لئے نجات ہے بشرط یہ کہ وہ کج روی نہ کرے سیدھا چلے ٹیڑھا نہ ہو پس راضی ہو جائےگا۔ اس کے عجائب ختم نہیں ہوتے بار بار دھرانے سے پرانا نہیں ہوتا پس اس کی تلاوت کرو، اللہ تمہیں اس کی تلاوت پر ہر حرف کے بدلے میں دس نیکیاں عطا کرے گا خبر دار میں تمہیں یہ نہیں کہہ رہا کہ الم ایک حرگ ہے الف ایک حر ف ہے لام ایک حرف ہے ، م ایک حرف ہے مل کر تیس حرف کی طرح ہیں اور تیس نیکیاں ہیں۔ روایت میں ابو اسحٰق کا نام آیا ہے یہ وہی ابراہیم ہجری ہیں اس کو اسی طرح روایت کیا ہے صالح بن عمرو نے اور یحییٰ بن عثمان نے ابراہیم سے مرفوع روایت کے طور پر اور اس کو روایت کیا جعفر بن عون نے اور ابراہیم بن طھمان نے موقوف روایت کے طور پر عبداللہ بن مسعود پر۔
عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَقَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ← أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ← أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ خَنْبٍ ← أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ ← و، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أبو حسين بن بشران
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the teachings of the Qur’an · Hadith 1933
