Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تعاليم القرآن · حديث 1933

1933 - أخبرنا أبو حسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز ثنا محمد بن إسماعيل السلمي ( ح ) و أخبرنا أبو القاسم عبد الخالق بن علي بن عبد الخالق المؤذن ثنا أبو بكر بن خنب ثنا أبو إسماعيل الترمذي ثنا أيوب بن سليمان بن بلال حدثني أبو بكر بن أبي أويس عن سليمان بن بلال عن محمد بن عجلان عن أبي إسحق عن أبي الأحوص عن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن هذا القرآن مأدبة الله فتعلموا من مأدبته من استطعتم إن هذا القرآن هو حبل الله و النور المبين و الشفاء النافع عصمة لمن تمسك به و نجاة من تبعه و لا يعوج فيقوم و لا يزيغ فيستعتب و لا تنقضي عجائبه و لا يخلق من كثرة الرد فاتلوه فإن الله يأجركم على تلاوته بكل حرف عشر حسنات أما إني لا أقول لكم ( الم حرف و لكن ) ألف حرف و لام حرف و ميم حرف ثلاثون حسنة أبو إسحاق هذا هو إبراهيم الهجري و كذلك رواه صالح بن عمرو و يحيى بن عثمان عن إبراهيم مرفوعا و رواه جعفر بن عون و إبراهيم بن طهمان موقوفا على عبد الله بن مسعود

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر لرزاز نے ان کو محمد بن اسماعیل سلمی نے ۔ح۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو القاسم عبدالخالق بن علی بن عبدالخالق مؤذن نے ان کو ابوبکر بن خنب نے ان کو ابو اسماعیل ترمذی نے ان کو ایوب بن سلیمان بن بلا ل نے ان کو حدیث بیان کی ابو بکر ابی اویس نے ان کو سلیمان بن بلال نے ا ن کو محمد بن عجلان نے ان کو ابو اسحا ق نے ان کو ابوالا حوص نے ان کو عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ بے شک یہ قرآن اللہ تعالیٰ کے دعوت کا دستر خوان مہمانی ہے لہذا اللہ کی دعوت سے جس قدر استطاعت رکھتے ہو سیکھ لو۔ بے شک یہ قرآن وہی اللہ کی رسی ہے ۔ واضح روشنی ہے نفع بخش شفا ہے جو اس کے ساتھ تمسک کرے ) اور جڑ جائے اس کے لئے عصمت اور بچاؤ ہے جو اس کی پیروی کرے اس کے لئے نجات ہے بشرط یہ کہ وہ کج روی نہ کرے سیدھا چلے ٹیڑھا نہ ہو پس راضی ہو جائےگا۔ اس کے عجائب ختم نہیں ہوتے بار بار دھرانے سے پرانا نہیں ہوتا پس اس کی تلاوت کرو، اللہ تمہیں اس کی تلاوت پر ہر حرف کے بدلے میں دس نیکیاں عطا کرے گا خبر دار میں تمہیں یہ نہیں کہہ رہا کہ الم ایک حرگ ہے الف ایک حر ف ہے لام ایک حرف ہے ، م ایک حرف ہے مل کر تیس حرف کی طرح ہیں اور تیس نیکیاں ہیں۔ روایت میں ابو اسحٰق کا نام آیا ہے یہ وہی ابراہیم ہجری ہیں اس کو اسی طرح روایت کیا ہے صالح بن عمرو نے اور یحییٰ بن عثمان نے ابراہیم سے مرفوع روایت کے طور پر اور اس کو روایت کیا جعفر بن عون نے اور ابراہیم بن طھمان نے موقوف روایت کے طور پر عبداللہ بن مسعود پر۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَقَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ← أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ← أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ خَنْبٍ ← أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ ← و، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أبو حسين بن بشران

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the teachings of the Qur’an · Hadith 1933

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تعاليم القرآن · حديث 1934

1934 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أخبرني أبو محمد عبد الله بن محمد بن إسحق المطلبي بمكة ثنا أبو يحيى بن أبي مسرة المكي ثنا عبد الله بن يزيد المقري ثنا موسى بن علي قال : سمعت علي قال : سمعت أبي يقول سمعت عقبة بن عامر يقول : خرج إلينا رسول الله صلى الله عليه و سلم يوما و نحن في الصفة فقال أيكم يحب أن يغدوا إلى بطحان أو العقيق فيأتي كل يوم بناقتين كوماوين زهراوين فيأخذهما في غير إثم بالله و لا قطع رحم قال قلنا كلنا يا رسول الله نحب ذلك قال فلأن يغدو أحدكم إلى المسجد فيتعلم آيتين من كتاب الله خير له من ناقتين كوماوين و ثلاث خير له من ثلاث و أربع خير من أربع و من أعدادهن من الإبل أخرجه مسلم من وجه آخر عن موسى بن علي

ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ہے ابو محمد عبداللہ بن محمد بن اسحٰق مطلبی نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابو یحییٰ بن ابو میسرہ مکی نے ان کو عبداللہ بن یزید مقری نے ان کو موسیٰ بن علی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا علی سے وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے والد سے سنا وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عقبہ بن عامر سے وہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہماری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ہم لوگ صفہ میں بیٹھے تھے اور فرمایا تم میں سے کون ہے جو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ وادی بطحان یا عقیق کی طرف جائے اور روزانہ دو جوان خوبصورت اونٹنیاں لے آئے، اور نہ تو ان کو اللہ کی نافرمانی میں پکڑ لائے اور نہ ہی قطع رحمی کرکے لائے ۔ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا اس چیز کو تو ہم ہر شخص چاہے گا۔ لہذا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے لوگو کوئی صبح صبح مسجد میں جا کر کتاب اللہ کی دو آیات سیکھ لے یہ اس کے لئے دو جوان اونٹنیوں سے زیادہ بہتر ہے ۔ اور تین آیات سیکھنا تین اونٹنیاں لینے سے بہتر ہے ، چار آیات سیکھنا چار اونٹنیوں سے بہتر ہے اور اسی تعداد کے اونٹوں سے بھی بہترہے۔ اس کو مسلم نے دوسری وجہ سے موسیٰ بن علی سے نقل کیا ہے ۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِي ← عَلِيٍّ، ← مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← أبو يحيى بن أبي مسرة المكي، ← أبو محمد عبد الله بن محمد بن إسحق المطلبي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the teachings of the Qur’an · Hadith 1934

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تعاليم القرآن · حديث 1935

1935 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا عبد الله بن عمر بن أحمد بن علي بن شوذب المقرئ بواسط قال : ثنا سعيد بن أبي أيوب ثنا حسين الجعفي قال : سمعت حمزة الزيات عن أبي المختار الطائي عن ابن أخي الحارث الأعور عن الحارث الأعور قال : مررت في المسجد و كان الناس يخوضون في الأحاديث فدخلت على علي بن أبي طالب رضي الله عنه فقلت يا أمير المؤمنين ألا ترى أن الناس قد خاضوا في الأحاديث قال و قد فعلوها قلت نعم قال : أما إني قد سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إنها ستكون فتنة قال : قلت فما المخرج قال : كتاب الله فيه نبأ من قبلكم و خبر ما بعدكم و حكم ما بينكم هو الفصل ليس بالهزل من تركه من جبار قصمه الله و من ابتغى الهدى أو قال العلم من غيره أضله هو حبل الله المتين و هو الذكر الحكيم و هو الصراط المستقيم و هو الذي لا تزيغ به الأهواء و لا تلتبس به الألسنة و لا يشبع منه العلماء و لا يخلق عن كثرة الرد و لا تنقضي عجائبه هو الذي تناهى الجن و في رواية غيره هو الذي لم ينته الجن إذ سمعته حتى قالوا { إنا سمعنا قرآنا عجبا * يهدي إلى الرشد } من قال به صدق و من عمل به أجر و من حكم به عدل و من دعى إليه هدي إلى صراط مستقيم

ہمیں خبر دی ہے ابو علی روذباری نے ان کو عبداللہ بن عمر بن احمد بن علی شوذب مقری سے مقام واسط میں وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ابو ایوب نے ان کو حسین جعفی نے انہوں نے سنا حمزہ زیات سے ان کو ابو المختار الطائی نے ان کو ابن اخی حارث اعور نے س نے حارث اعور سے وہ کہتے ہیں کہ میں مسجد سے گذرا اور مسجد میں لوگ باتوں میں منہمک تھے ۔ لہذا میں علی ابن ابی طالب کے پاس حاضر ہو ا میں نے عرض کی اے امیر المؤمنین کیا آپ دیکھتے نہیں ہیں کہ لوگ باتوں میں مصروف ہیں انہوں نے پوچھا کیا واقعی وہ ایسے کر رہے ہیں میں نے عرض کی کہ جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا کہ بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا آپ فرماتے تھے۔ بے شک عنقریب فتنہ ہو گا ، میں نے عرض کی تھی کہ اس فتنے سے چھٹکارا کیا ہوگا؟ آپ نے فرمایا کہ اس سے چھٹکارے کا ذریعہ کتاب اللہ ہے ۔ اس میں تم سے پہلے لوگوں کی خبریں ہیں اور تمہارے مابعد کی خبریں ہیں ۔ اور تمہارے درمیان جو کچھ ہے اس کی خبر یں ہیں ۔ وہ فیصلہ کن اور پکی بات ہے ۔ وہ مذاق نہیں ہے ، جس سرکش نے اس کو چھوڑا اللہ نے اسے توڑ دیا۔ اور جس نے ہدایت اس کے ذریعے طلب کی یا یوں فرمایا تھا کہ جس نے اس کے بغیر علم طلب کیا اللہ نے اس کو گمراہ کیا۔ وہ اللہ کی مضبوط رسی ہے ۔ وہ حکمت سے لبریز نصیحت ہے ۔ وہ صراط مستقیم ہے ۔ قرآن وہ چیز ہے جس کے ساتھ خواہش کج نہیں ہوتی اور جس کے ساتھ زبانیں گڈ مڈ نہیں کرتی ۔ جس سے علماء سیر نہیں ہوتے ۔ جو بار بار دھرانے سے پرانا نہیں ہوتا (یعنی اس کو بار بار پڑھنے سے بوریت نہیں ہوتی ۔) جس کے عجائبات ختم نہیں ہوتے وہ وہی ہے جس نے جنوں کو روک دیا تھا ۔ اس کےعلاوہ روایت میں یوں ہے۔ کہ قرآن وہ ہے جس کو سن کر جن بھی نہ رک سکے حتیٰ کہ انہوں نے کہا ۔ ہم نے حیرت ناک قرآن سنا ہے جو رشد کی ہدایت اور رہنمائی کرتا ہے جس نے قرآن کی بات کی اس نے سچ کہا ۔ جس نے اس پر عمل کیا اسے اجر ملا ۔ جس نے اس کے ساتھ فیصلہ کیا اس نے انصاف کیا جو اس کی طرف بلایا گیا اور دعوت دیا گیا وہ صراط مستقیم کی ہدایت دے دیا گیا۔

الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ ← ابن أخي الحارث الأعور ← أَبِي الْمُخْتَارِ الطَّائِيِّ ← حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، ← حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عبد الله بن عمر بن أحمد بن علي بن شوذب المقرئ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the teachings of the Qur’an · Hadith 1935

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تعاليم القرآن · حديث 1936

1936 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في الفوائد ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الحميد الحارثي ثنا حسين بن علي الجعفي : فذكره بإسناده و معناه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے فوائد میں ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالحمید حارثی نے ان کو حسین بن علی جعفی نے پھر انہوں نے اپنی اسناد کے ساتھ مذکورہ حدیث اور اس کا مفہوم ذکر کیا ہے ۔

حسين بن علي الجعفي فذكره بإسناده و معناه ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ في الفوائد

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the teachings of the Qur’an · Hadith 1936

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تعاليم القرآن · حديث 1937

1937 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا إبراهيم بن مرزوق ثنا وهب بن جرير ثنا أبي قال : سمعت قيس بن سعد يحدث عن رجل : عن النبي صلى الله عليه و سلم في حديث ذكره قال : القرآن هو النور المبين و الذكر الحكيم و الصراط المستقيم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن مرزوق نے ان کو وھب بن جریر نے ان کو ان کے والد نے انہوں نے سنا قیس بن سعد سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں ایک آدمی سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حدیث میں انہوں نے اس کو ذکر کیا اور فرمایا کہ قرآن روشنی ہے ۔ حکمت و دانائی والا ذکر ہے ۔ صراط مستقیم ہے ۔

القرآن هو النور المبين و الذكر الحكيم و الصراط المستقيم ← النبي صلى الله عليه و سلم في حديث ذكره ← رَجُلٌ: ← قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ، ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the teachings of the Qur’an · Hadith 1937

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تعاليم القرآن · حديث 1938

1938 - أخبرنا أبو حسين بن الفضل القطان ثنا أبو جعفر محمد بن يحيى بن عمر بن علي بن حرب ثنا أبو داود الحفري عن سفيان عن منصور عن أبي وائل عن عبد الله : { اهدنا الصراط المستقيم } قال : كتاب الله عز و جل قال البيهقي رحمه الله :

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو ابو جعفر بن محمد بن یحییٰ بن عمر بن علی بن حرب نے ان کو ابو داؤد جفری نے ان کو سفیان نے منصور سے ان کو ابو وائل نے عبداللہ سے "اھدنالصراط المستقیم " فرمایا اس سے مراد ہے کتاب اللہ ۔ امام بیہقی رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا۔

البيهقي ← كتاب الله عز و جل ← عبد الله اهدنا الصراط المستقيم ← أَبِي وَائِلٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حَرْبٍ، ← أبو حسين بن الفضل القطان

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the teachings of the Qur’an · Hadith 1938

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تعاليم القرآن · حديث 1939

1939 - و قد روينا في الحديث الثابت عن زيد بن أرقم : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال فيما خطب إني تارك فيكم الثقلين أولهما كتاب الله فيه الهدى و النور فتمسكوا بكتاب الله فخذوا به فحث عليه و رغب فيه

اور تحقیق ہم نے اس حدیث میں روایت کیا ہے جو زید بن ارقم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اپنے خطبے کے دوران ، میں تمہارے اندر دو بڑی بھاری چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں ایک کتاب اللہ ہے اس میں ہدایت اور روشنی ہے لہذا کتاب اللہ کو مضبوطی سے تھامے رہو اور اس کو پکڑے رکھو۔ اور آپ نے اس پر ابھارا اور اس میں رغبت دلائی ۔

النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← و قد روينا في الحديث الثابت

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the teachings of the Qur’an · Hadith 1939

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تعاليم القرآن · حديث 1940

1940 - و في رواية أخرى : كتاب الله حبل الله من اتبعه كان على الهدى ومن تركه كان على الضلالة

اور ایک روایت میں ہے کہ اللہ کی کتاب اللہ کی رسی ہے جو اس کی تابعداری کرے گا وہ راہ یاب ہو گا اور جو اس کو چھوڑ دے گا وہ گمراہ ہوگا۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the teachings of the Qur’an · Hadith 1940

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تعاليم القرآن · حديث 1941

1941 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا والدي أنا محمد بن إسحق الثقفي ثنا عثمان بن أبي شيبة ثنا جرير بن عبد الحميد عن مسعر بن كدام و سفيان الثوري عن عمرو بن مرة عن عبد الله بن الصامت عن حذيفة قال : قلت يا رسول الله أبعد هذا الخير الذي نحن فيه من شر نحذره قال : يا حذيفة عليك بكتاب الله فتعلمه و اتبع ما فيه حتى قال ذلك ثلاث مرات قلت نعم

اور ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو خبر دی ہے ان کے والد نے ان کو محمد بن اسحٰق ثقفی نے ان کو عثمان بن ابی شیبہ نے ان کو جریر بن عبدالحمید نے ان کو مسعر بن کدام نے اور سفیان ثوری نے ان کو عمرو بن مرہ نے ان کو عبداللہ بن صامت نے ان کو حذیفہ نے وہ کہتے ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا اس خیر کے بعد ہم اسوقت جس میں ہیں کوئی شر ہوگا ؟ جس سے ہم ڈریں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے حذیفہ تم کتاب اللہ کو لازم پکڑے رکھو اسی کو تم سکھلاؤ اور اس میں جو کچھ ہے اسی کی تم اتباع کرتے رہو یہاں تک کہ اس جملے کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار فرمایا۔ میں نے عرض کیا ہاں (ایسے ہی کروں گا۔)

قُلْتُ ← حُذَيْفَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← مسعر بن كدام و سفيان الثوري ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← محمد بن إسحق الثقفي ← وَالِدِي ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the teachings of the Qur’an · Hadith 1941

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تعاليم القرآن · حديث 1942

1942 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو عمرو بن مطر أنا أحمد بن الحسين بن نصر ثنا علي بن نصر ثنا علي بن المديني ثنا أبو خالد سليمان بن حبان عن عبد الحميد بن جعفر عن سعيد بن أبي سعيد عن أبي شريح الخزاعي قال : خرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : أليس تشهدون أن لا إله إلا الله و أني رسول الله قلنا نعم أو بلى قال : فإن هذا القرآن سبب طرقه بيد الله تعالى بأيديكم فتمسكوا به فإنكم لن تضلوا و لن تهلكوا بعده أبدا و رواه الليث بن سعد و سعيد المقبري عن نافع بن جبير عن النبي مرسلا قال البخاري هذا أصح

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو عمر و بن مطر نے ان کو احمد بن حسین بن نصر نے ان کو علی بن نصر نے ان کو علی بن مدینی نے ان کو ابو خالد سلیمان بن حبان نے ان کو عبدالحمید بن جعفر نے ان کو سعید بن ابی سعید نے ان کو ابو شریح خزاعی نے انہوں نے کا کہ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ہم نے کہا جی ہاں آپ نے فرمایا بے شک یہ قرآن ایک رسی ہے جس کا ایک سرا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا تمہارے ہاتھ میں ہے تم اس کو مضبوطی کے ساتھ تھام لو۔ بے شک تم ہر گز گمراہ نہیں ہو سکو گے اور اس کے بعد تم کبھی ہلاک نہیں ہو سکو گے۔ اس کو لیث بن سعد نے اور سعید مقبری نے روایت کیا ہے نافع بن جبیر سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بطور مرسل روایت کے اور امام بخاری نے کہا ہے کہ یہ زیادہ صحیح ہے ۔

أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو خَالِدٍ سُلَيْمَانُ بْنُ حِبَّانَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← عَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the teachings of the Qur’an · Hadith 1942

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تعاليم القرآن · حديث 1943

1943 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني محمد بن صالح بن هانئ ثنا أبو سعيد محمد بن شاذان ثنا قتيبة بن سعيد ثنا جرير عن قابوس بن أبي ظبيان عن أبيه عن ابن عباس : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الذي ليس في جوفه شيء من القرآن كالبيت الخرب

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور مجھے خبر دی ہے محمد بن صالح بن ھاکی نے ان کو ابو سعید محمد بن شاذان نے ان کو قتیبۃ بن سعید نے ان کو جریر نے ان کو قابوس بن ابو ظبیان نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ بے شک وہ شخص جس کے سینے میں قرآن مجید کا کوئی حصہ بھی نہیں ۃے وہ ویران گھر کی مثل ہے ۔

إن الذي ليس في جوفه شيء من القرآن كالبيت الخرب ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ ← جَرِيرٌ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو سَعِيدٍ، مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the teachings of the Qur’an · Hadith 1943

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تعاليم القرآن · حديث 1944

1944 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي ثنا أبو علاثة محمد بن عمرو بن خالد ثنا أبي ثنا المعتمر بن سليمان قال : سمعت أبي يحدث عن قتادة عن أبي الجعد عن أبي أمامة : أن رجلا جاء النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا نبي الله اشتريت مقسم بني فلان فربحت فيه كذا و كذا قال : أفلا أنبئكم بما هو أكثر ربحا قال : و هل يوجد قال : رجل تعلم عشر آيات فذهب الرجل فتعلم عشر آيات و أتى النبي صلى الله عليه و سلم فأخبره

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافط نے ان کو ابو جعفر محمد بن محمد بن عبداللہ بغدادی نے ان کو ابو علاثہ بن محمد بن عمرو بن خالد نے ان کو ان کے والد نے ان کو معتمر بن سلیمان نے ان کو ان کے والد نے ان کو قتادہ نے ان کو ابو جعد نے ان کو ابو امامہ نے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے مقسم بن فلاں کو خریدا ہے اور مجھے اس میں اتنا اتنا منافع ہوا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتادوں اس بھی زیادہ منافع والی ہے ۔ اس نے کہا کہ کیا واقعی ایسی کوئی چیز بھی ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں وہ شخص جو قرآن کی دس آیات یاد کرتا ہے چنانچہ وہ صحابی چلا گیا اور دس آیات یاد کرکے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آکر اس بات کی اطلاع دی۔

و هل يوجد ← أفلا أنبئكم بما هو أكثر ربحا ← يا نبي الله اشتريت مقسم بني فلان فربحت فيه كذا و كذا ← أبي أمامة أن رجلا جاء النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي الْجَعْدِ ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَبِي ← أَبُو عُلَاثَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَغْدَادِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter in the teachings of the Qur’an · Hadith 1944

chevron_left Previous
1…252627…65
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood